اِس دُنیا میں بہت سی دُنیائیں - سلیم رضوی

ویسے تو پوری کائنات ہی دُنیا قرار دی جا سکتی ہے، جس کے بارے میں اِقبالؒ نے فیصلہ سُنا دِیا تھا کہ


یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کُن فیکُوں

لیکن اِسے چھیڑا گیا تو موضوع وُسعت اورہمہ گیری کے اعتبار سے تنگیٔ داماں سے کہیں آگے نکل جائے گا، اِس قدر آگے کہ ہزاروں صفحات پر مشتمل ایک ضخیم کتاب بھی اس کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ لہٰذا ہماری مُراد اِس کرۂ ارض پر بسنے والے انسانوں کی دُنیا سے ہے جس کے اندر اپنے اپنے دائرے میں سینکڑوں ہزاروں نہیں، لاکھوں کروڑوں دُنیائیں معانی کا الگ جہان آباد کِیے ہُوئے ہیں، جس کی پرتیں اُدھیڑنے سے حیرتوں اور استعجابات کے نئے نئے باب سامنے آنے لگتے ہیں، گویا ایک طلسم کدہ ہے جس پر غور و فکر سے آدمی دم بخود رہ جاتا ہے۔

کیا آپ نے اِس پہلو پر کبھی غور کِیا ہے کہ آپ کے علاوہ ایک اندھا، ایک لوہار، ایک امیر، ایک غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والا، ایک صدر اور وزیرِ اعظم اور ایک کال کوٹھڑی کا باسی جو کہ دُنیا کی ہر اچھی بُری شے سے یکسر بے گانہ ہو کر صرف اور صرف مَوت کا منتظر ہے، اپنی اپنی الگ دُنیا میں بسیرا کِیے ہُوئے ہے، جس کا اُس دُنیا سے مُطلق تعلق نہیں جِس میں آپ رہ رہے ہیں۔ ان سب کے نزدیک دُنیا کا مفہوم اور مطلب یکسر الگ ہے، ہر ایک اپنے حیطۂ خیال میں مست ہے جسے اس خاص حصار کے اندر رہتے ہُوئے وہ "دُنیا" قرار دے رہا ہے۔

ایک اندھا جس کی کھوٹی قسمت نے اِس دُنیا کی رنگینیوں کو دیکھا اور پرکھا ہی نہیں ہے، اُس محدود سی دُنیا میں رہنے پر مجبور ہے جسے قدرت نے ایک دیوار کی صورت اُس کے اِرد گرد کھڑا کر دِیا ہے، جس سے باہر وہ قدم نہیں رکھ سکتا۔ بس وہ سانس لے رہا ہے، کھا پی رہا ہے اور اپنے شب و روز کے معمولات جاری رکھتے ہُوئے اِسی پر شاکر اور قانع ہے۔ آپ اسے دیکھتے ہیں لیکن اس کے احساسات سے قطعی بیگانہ ہیں اور لمحہ بھر کے لِیے خود کو اُس کی جگہ رکھ کر سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے کیونکہ وہ آپ کی دُنیا سے بہت پرے رہ رہا ہے۔ یہی حال ایک پیدائشی گونگے کا ہے جس کی سماعت آواز جیسی نعمت سے ناآشنا ہے اور وہ زبان رکھنے کے باوجود بول نہیں سکتا حالانکہ اس کی زبان میں کوئی نقص نہیں ہے، ایک نعمت (سماعت) سے محرومی نے دوسری نعمت (گویائی) کو بھی مفلوج کر رکھا ہے لیکن چونکہ قدرت نے اُسے اِس جہانِ رنگ و بُو میں بھیج دِیا ہے، لِہٰذا وہ دوسروں کے ساتھ اپنی زندگی کے دِن پورے کر رہا ہے لیکن اپنی بالکل الگ دُنیا میں رہتے ہُوئے، جس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔

ایک لوہار جس کے شب وروز بھٹّی کے آگے بیٹھ کر لوہے کو غیر معمولی تپش سے نرماتے ہُوئے مختلف شکلوں میں ڈھالنے تک محدود ہیں، تپتے کوئلوں کو ہوا دے کر بھڑکانے والی دھونکنی کے چکر کی طرح خود اس کی زندگی کے ایام ایک گردش کی صورت تمام ہو رہے ہیں۔ اُسے کچھ احساس نہیں ہو رہا کہ کس طرح وہ لڑکپن سے جوانی کی حد کے اندر داخل ہُوا اور کس طرح یہ حد عبور کرتے ہُوئے وہ بڑھاپے کی دہلیز تک آن پہنچا ہے۔ معمولات کی پابندی نے اس طرف توجہ ہی نہیں جانے دی۔ لوہار کی زندگی بس اِسی دنیا میں بسر ہو رہی ہے، اُسے میری اور آپ کی دُنیا سے کچھ سروکار نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خود ترسی کے نشے سے چھٹکارا کیسے؟ میاں جمشید

ایک امیر جو بڑے ٹھاٹھ باٹھ سے رہ رہا ہے، دولت کی ریل پیل اور نوکروں چاکروں کی قطاریں ہیں، مُنہ سے نکالا جانے والا ہر لفظ عمل میں ڈھلنے کا منتظر رہتا ہے، ایک ذرا سی سرتابی اس کے مزاج کو بگاڑ دینے کے لِیے کافی ہوتی ہے۔ غور فرمائیے کیا اُس کی دُنیا اور آپ کی دُنیا کا ایک رائی کے دانے برابر بھی کوئی تعلق ہے؟ بلکہ سچ یہ ہے کہ دُنیا کی تمام نعمتوں سے اُسی کی ذات لُطف اندوز ہو رہی ہے، آپ جائیں بھاڑ میں۔ اُس کے دِل میں اُبھرنے والی تمام تمنائیں محض ایک اِشارۂ ابرو پر پوری ہو رہی ہیں اور وہ خدا کی اِس خدائی میں خود خدا بنا بیٹھا ہے، تا آنکہ مَوت کا خونی پنجہ اُسے آ دبوچتا ہے۔ یہی ایک غربت کے مارے شخص اور اُس امیر کی دُنیا کا اصل فرق ہے۔

اب آئیے افلاس اور ناداری کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے، روزمرہ کی کلفتوں اور پریشانیوں کے انبار میں گھرے ہُوئے ایک ایسے شخص کی طرف جو اپنے سانس گِن گِن کر پُورے کر رہا ہے اور کبھی نہ ختم ہونے والے تسلسل کے ساتھ نو بہ نو محرومیوں کے جہنم میں جل رہا ہے۔ یہ دُنیا اُس کے لِیے کِتنی اندوہناک سزا کی حیثیت رکھتی ہے؟ وہ ہر لحظہ دو وقت کی روٹی کی سوچوں میں ہلکان رہتا ہے، اکثر رات کو حرماں نصیب بیوی بچوں کے ساتھ بھُوکا پڑ رہتا ہے اور گاہے اپنے آپ کو اہل وعیال سمیت ختم کر ڈالنے کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ کیا اُس کی دُنیا اور اُوپر ذکر کِیے جانے والے امیر کی دُنیا سے ایک ادنیٰ سا بھی موازنہ کِیا جا سکتا ہے؟

ایک صدر اور وزیرِ اعظم کی محلّاتی دُنیا کا کیا تذکرہ؟ صرف موجودہ وزیرِ اعظم اور صدر کے معمولات ملاحظہ کر لیجیے، آپ کو فیصلہ کرنے اور ایک حتمی نتیجے تک پہنچنے میں دِقت پیش نہیں آئے گی۔

اور اب وہ کال کوٹھڑی کا بد قسمت مکین، جسے کردہ یا ناکردہ گناہ کی پاداش میں لا کر یہاں ڈال دِیا گیا ہے، اُس کے محسوسات کیا ہیں اور وہ کون سے طوفان ہیں جو اُس کے اندر ہلچل مچائے ہُوئے ہیں؟ وہ باہر کی دُنیا سے یکسر کٹ کر رہ گیا ہے اور اب اس کی اصل دُنیا یہی تنگ وتاریک گھٹن زدہ کمرہ ہے جس نے اُسے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ اُسے باہر کی دُنیا میں مگن اپنے یارباش، ماں باپ، بہن بھائی اور اپنا گزرا ہُوا بچپن اور جوانی کے ایام بھی گاہ بگاہ ضرور یاد آتے ہیں لیکن ان سب سے فزوں تر اپنی جانب لحظہ بلحظہ کھسکتی مَوت کا خوف اُس کا خون خشک کِیے دے رہا ہے، پچھتاوے کا احساس اُسے کھائے جا رہا ہے۔ بس ہر اُلجھے ہُوئے خیال کے ساتھ دُنیا کا ایک نیا مفہوم سامنے آ رہا ہے۔ ہوتے ہوتے وہ وقت بھی آن پہنچا کہ اُس کی مُشکیں کس کر ٹکٹکی کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ وہ نیم جان ہو کر لڑکھڑاتے قدموں سے آگے بڑھ رہا ہے، پھانسی گھاٹ کے ہرکارے دونوں بازوؤں سے تھامے تقریباً گھسیٹتے ہُوئے اُسے لے جا رہے ہیں… اور پھر وقت بالکل تھم گیا۔ اُس کے حواسِ خمسہ جواب دے گئے ہیں جب اُس کا سر پھندے کے دائرے سے گزارتے ہُوئے اسے گردن کے گرد کس دِیا گیا ہے۔ وہ تقریباً بے ہوشی اور نیم مُردہ حالت میں ہے جس کی دُنیا کا خاتمہ اُسے تختۂ دار پر باقاعدہ لٹکا دینے سے پہلے ہی ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بدلو سوچ بدلو زندگی - ناصر محمود بیگ

یہ محض چند مثالیں ہیں۔ اب دُنیا کی پرکھ ایک اور زاویۂ نگاہ سے کیجیے جس پر آپ نے شاذ ہی کبھی دھیان دِیا ہوگا۔

درحقیقت یہ دُنیا اور اِس میں زندگی کا ظہور اِنسان کو تادیر اچنبھے میں ڈال دینے کے لِیے بہت ہے۔ یہ تمام کی تمام دُنیا پھر بھی ایک بہت بڑا دھوکا اور سراب ہے جو اِنسان کے اُوپر تلے ایک دامِ فریب بِچھائے ہُوئے ہے اور آدمی اِس میں اِس حد تک گرفتار ہے کہ اِس کی زندگی کا بیشتر حصہ بے اصل مغالطوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ مَوت وہ بے رحم حقیقت ہے، جس سے ہمکنار ہو کر اِنسان نے بالآخر دُنیا سے معدوم ہو جانا ہے۔ اِبتدائے آفرینش سے اَب تک جتنے بھی لوگ دُنیا میں آئے، اُن میں کچھ بہت برگزیدہ اور نیک ہستیاں تھیں، کچھ نہایت بدفطرت اور اِنسانیت سے یکسر عاری اور کچھ اِن دونوں کے بین بین رہے ہیں۔ ان میں سے اوّل الذکر نے دُنیا سے کبھی بھی رغبت نہیں رکھی۔ دُنیا کو وقعت نہ دینے والوں نے دمِ آخریں اپنے کامیاب ہونے کی خود گواہی دی، کیونکہ اُن کے ضمیر پر پچھتاوے کا کوئی داغ نہ تھا۔ دوسری قسم کے لوگ شرفِ اِنسانی ہی سے خارج ہیں اور مؤخرالذکر آخری لمحات میں کفِ افسوس مَلتے پائے گئے۔ وہ دُنیا کے بہکاوے میں پڑ کراِس کی طلب اور ہوا و ہوس میںزیادہ تر اپنا آپ گنواتے رہے۔ اِس کا احساس اُنھیں تب ہُوا جب اجل اُن کے سرہانے آن کھڑی ہُوئی۔ گزشتہ زندگی میں کی جانے والی زیادتیوں اور کوتاہیوں نے حالت ِ نزع کو دردناک بنا دِیا اور پچھتاوے کے بوجھ تلے سسکتے بلکتے یہاں سے رُخصت ہُوئے۔

اِنسان کی اوقات اِسی قدر ہے کہ دُنیا سے اُٹھ جانے کے محض چند ہی سال میں وہ اپنے اعِزّہ کے حافظوں سے قریب قریب محو ہو چکا ہوتا ہے۔ اس کے پیارے، جن کے بغیر اس کا ایک بھی پل گزرنامحال تھا، اسے بھول بھال کر اپنے دھندوں میں مگن ہو چکے ہیں۔

بقول مِیر انیس :


پہنچا کے لحد تلک پھِر آئے سب لوگ
ہمراہ اگر گئے تو اعمال گئے

اکبر الہ آبادی نے ایک اور انداز میں دُنیا کی حقیقت واضح کی ہے:


بتاؤں مَیں تمھیں مرنے کے بعد کیا ہوگا
پلاؤ کھائیں گے احباب، فاتحہ ہو گا

اور کچھ میر تقی میر کی بھی سُنئے، جو دُنیا کی اصلیت ایک اور رنگ میں کہہ گئے ہیں:


کل پاؤں مِرا اِک کاسۂ سر پر جو پڑ گیا
یکسر وہ اُستخوان شکستوں سے چُور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کر چل راہ بے خبر
مَیں بھی کبھو کسی کا سرِ پُرغرور تھا

یہی ہے دُنیا اور یہی ہے اِس کی حقیقت، لہٰذا اِس پر اکڑ کر چلنے والے مستقل خسارے میں ہیں۔

اِنسان کا اپنے بعد آنے والوں کے حافظوں میں نام و نشان عمومی حالت میں چار یا پانچ پشتوں تک ہی باقی رہتا ہے، پھر اس کے اپنے خاندان میں بھی کوئی اس کا نام لیوا نہیں ہوتا۔ ہم میں سے اپنے دادا کے دادا کا نام کِتنوں کو معلوم ہے؟… اِس سوال کا جواب اپنے آپ سے یا دوستوں سے دریافت کر کے دیکھیے، دُنیا کی حقیقت آپ پر مزید واضح ہو جائے گی۔