اسلامی ریاست: امکانات، خدشات، اور ضرورت - عمر ابراہیم

مغرب اسلامی ریاست کے امکان سے خائف ہے۔ اسلامی ریاست کا یہ امکان بہرصورت خدشات سے دوچار کیا جا رہا ہے، اسے بہرقیمت مجروح کیا جا رہا ہے۔ مصر میں یہ امکان زنداں کی نذر کیا جاچکا، ترکی میں یہ سازشوں کی زد میں ہے اور تیونس میں داخلی انحراف سےدوچار ہے۔ یہ تینوں اور دیگر امکانات کس نوعیت کے ہیں؟ ان امکانات میں حقیقی اسلامی ریاست کے نفاذ کا تناسب کیا ہے؟ مغرب اسلامی ریاست سے خائف کیوں ہے؟ دنیا کواسلامی ریاست کی ضرورت آخر کیوں ہے؟ سب سے پہلےمصر، ترکی، اور تیونس میں سیاسی اسلام کی اقسام کا مغربی نقطہ نظر سے جائزہ لیتے ہیں۔

دی اکانومسٹ جریدے کے سرورق مضمون Can political Islam make it in the modern world? کا موضوع یہی ہے۔ خلاصہ یوں ہے، عرب بہار کے بعد 2011ء میں معروف اسلامی جماعت اخوان المسلمون نے مصر کے پہلے آزادانہ انتخابات میں فتح حاصل کی۔ مگر حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت سے جنرل سیسی کی قیادت میں فوج نے شب خون مارا۔ رابعہ العدویہ پر اخوان کی قوت کچل دی گئی۔ اب جو اخوان ہلاک یا قید ہونے سے بچ رہے، وہ فرار یا روپوش ہو چکے۔ تاہم اخوان کی تحریک خطے کی بادشاہتوں کے لیے اب بھی خوف کا سبب ہے۔ قطر بطور ثبوت سامنے ہے۔ جہاں ترکی کا فوجی اڈہ فعال ہے۔ ترکی، وہ ملک جہاں اخوان سے متاثر سیاسی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی حکومت قائم ہے۔ اخوان المسلمون سے برآمد ایک سیاسی جماعت تیونس کی النہضہ بھی ہے۔ یہ پارلیمنٹ کی اکثریت رکھتی ہے۔ آج اخوان المسلمون اور اتحادی تنظیمیں دوحصوں میں بٹ چکی ہیں۔ ایک تصادم کی چالیں چل رہے ہیں جبکہ دوسرے مصالحتی راہ اپنا رہے ہیں۔

دی اکانومسٹ اعتراف کرتا ہے کہ اسلام ایک حوالے سے بے مثال ہے۔ حضرت موسٰی علیہ السلام اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کسی سیاسی یا ریاستی نظام کے داعی نہ تھے جبکہ محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم سیاسی رہنما تھے۔ انہوں نے ریاست قائم کی اور قوانین نافذ کیے۔ وراثت تک کے قوانین پر عملدرآمد ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اخوان المسلمون قرآن کو اپنا آئین قرار دیتی ہے۔ جمہوریت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیاسی نسخہ نہیں تھی، اس لیے حسن البناء نے اسے درآمد شدہ سیاسی نظریہ قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔ مگراخوان نے بتدریج جمہوریت کو سیاسی اسلام تک جانے والی شاہراہ قراردے دیا۔ اکانومسٹ نے ترکی کے تذکرے میں کہا کہ طیب اردوان نے اے کے پارٹی کی بنیاد اسلام پسندی پر رکھی۔ یہ قسم Islamism-lite کہلائی، جس میں آزادی اور آزاد منڈیوں پرتوجہ مرکوز کی گئی، بتدریج جمہوری اصلاحات ہوئیں، ترک آرمی کو جمہوریت کے تابع کیا گیا، یہاں تک کہ 2016ء کی ناکام بغاوت کے بعد لبرل عناصر منظر سے ہٹادیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیر اعظم کی عالمی برادری سے مایوسی - مفتی منیب الرحمن

ترکی اعتدال پسند مسلمانوں کے خلاف مقدمہ B کا اظہار ہے، جبکہ مصرکی اخوان حکومت نمونہ A ہے۔ مصر اور ترکی کی صورتحال پربہت سے نقاد کہتے ہیں کہ Illiberal عناصر کی ترکی میں کامیابی اور مصر میں ناکامی صاف نظر آ رہی تھی۔ اس کا سیاق و سباق سمجھنا بےفائدہ نہ ہوگا۔ ترکی میں اے کے کی آمد سے پہلے چار اسلامی حکومتیں فوجی شب خون یا عدالتی فیصلوں کی نذر کی جاچکی تھیں۔ اے کے کی حکومت پربھی شب خون کی کوشش کی گئی، جسے عوامی انقلاب نے ناکام بنا دیا جبکہ مصرمیں مرسی حکومت کا پہلا جمہوری تجربہ تھا، جو چل نہ سکا۔ دیگر کئی ریاستوں میں بھی اسلامی جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ اردن اور کویت میں طویل دباؤ کے بعد، اخوان نے پارلیمنٹ میں خاطرخواہ جگہ بنائی ہے۔ مراکش میں اخوان سے متاثرسیاسی جماعت پارٹی آف جسٹس اینڈ ڈیموکریسی نے پارلیمانی انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کی، اور حکومت قائم کی۔ اس کے علاوہ اسلامی جماعتیں انڈونیشیا، ملائیشیا اور پاکستان میں سرگرم ہیں۔ تاہم مذکورہ تمام ریاستوں میں اسلامی جماعتوں کی سیاسی پاور پر Checks کا نظام مستحکم ہے۔ مراکش، اردن، اور کویت میں اصل حاکمیت بادشاہتوں کی گرفت میں ہیں۔ واضح رہے کہ مسلمان معاشرے پر Illiberal اثرات مرتب کرنے کے لیے انتخابات جیتنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انڈونیشیا میں کسی اسلامی جماعت نے کبھی آٹھ فیصد سے زائد ووٹ حاصل نہیں کیے، مگربلدیاتی انتخابات میں منتخب اسلام پسند افراد نے اسلامی قانون پر مبنی چار سو آرڈیننس منظور کیے ہیں۔ انڈونیشیا کی اس صورتحال سے ظاہر ہے کہ جمہوری کارگزاریاں Illiberal اقلیت کو بھی بااثر بنا سکتی ہیں، یہ تشویشناک بات ہے۔ مسلمان ملکوں میں اسلامی قوانین کے لیے حمایت پائی جاتی ہے۔ مصر کے ایک سروے میں سامنے آیا کہ اکثریت قانون شریعت کا نفاذ چاہتی ہے۔

آخرمیں اکانومسٹ کا مضمون سیاسی اسلام کا نیا نمونہ پیش کرتا ہے۔ یہ لکھتا ہے تونس میں اسلامی جماعت النہضہ نے اعتدال پسندی کا مظاہرہ کیا۔ النہضہ نے دہائیوں تک سیکولرآمریت کا دباؤ برداشت کیا، پابندی کا سامنا کیا۔ آمربن علی کی بیدخلی کے بعد، النہضہ نے آزادانہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ مگر اپوزیشن کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا دباؤ برداشت نہ کرسکی، اورآئین میں لبرل سفارشات کی شمولیت پرآمادگی ظاہر کی۔ 2014ء میں النہضہ نے اقتدار ٹیکنوکریٹک حکومت کے حوالے کردیا۔ النہضہ نے پارلیمان میں اکثریت کے باوجود بتدریج معاملات سیکولرقوتوں کے حوالے کردیے۔ نداء تونس کے رہنما سیکولریوسف شاہد وزیراعظم بن گئے۔ النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ النہضہ اسلامی جماعت نہیں بلکہ مسلمان ڈیموکریٹس کی پارٹی ہے۔ اس جماعت نے سیاسی ونگ اور مذہبی تنظیم کی تقسیم بھی پیدا کرلی ہے(ریاست اور چرچ کی علیحدگی)۔ سیاستدان مساجد میں خطبات نہیں دے سکتے اورعلماء سیاسی جماعت نہیں چلاسکتے۔ سیکولراور لبرل طویل عرصے سے یہ امید کررہے ہیں کہ مرکزی دھارے کے اسلام پسند تونس نمونے کی پیروی اختیارکریں گے، اورطاقت (عالمی نظام) سے تصادم میں احتیاط برتیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   باد نسیم کا ہلکا سا جھونکا - مولانا یحیی نعمانی

دی اکانومسٹ کے مضمون کا مغز یہ ہے کہ جمہوریت کے راستے اسلامی ریاست کی منزل تک پہنچنا ممکن نہیں۔ لہٰذا، اسلامی جماعتیں تونس کی النہضہ کا نمونہ اپنائیں، دین اور سیاست کوعلیحدہ کریں، جمہوری فتح کے باوجود لبرل اورسیکولرطاقتوں کے آگے سرنگوں کریں، لبرل اور سیکولرطاقتوں سے تصادم اختیارنہ کریں، ورنہ جنرل السیسی جیسے فرعون مسلط کیے جائیں گے۔ اسلامی ریاست کے قیام کا راستہ بہرصورت روکا جائے گا۔

مغرب اسلامی ریاست سے خائف کیوں ہے؟ مذکورہ مضمون اس بات کا بین ثبوت ہے کہ مغرب اسلامی ریاست کی تشکیل کسی صورت برداشت نہیں کرسکتا۔ بالخصوص جبکہ اس کام کے لیے اسلامی جماعتیں جمہوریت جیسی مغربی قدرکا سہارا لیں۔ مغربی دانشورکہتے ہیں اسلامی جماعتوں کی جانب سے جمہوریت کے استعمال پراعتراضات اور تحفظات ہیں۔ جسے جمہوری راستہ اپنانا ہے وہ سیکولراقدار رد نہیں کرسکتا۔ باالفاظ دیگر، اسلام پسند اگر اسلامی ریاست کا قیام چاہتے ہیں، تواسلامی سیاست کے ذریعے اسلامی اقدارکا قابل قبول تعارف پیش کریں، اسے مقبول بنائیں جبکہ مسلمان دنیا کا حال یہ ہے کہ اسلامی اقدارکے حوالے سے معذرت خواہانہ اور دفاعی لب ولہجہ اور بیانیہ عام ہے۔

اسلامی ریاست کی ضرورت آخر کیوں ہے؟ اگراسلامی ریاست تشکیل پاجائے، اگراسلامی اخلاقیات اور قوانین کا نفاذکسی خطہ زمین پرعملاً ممکن ہوجائے، اگرمسلمان معاشرہ بندی ممکن ہوجائے، اگربلا سود معیشت اورزکوة کے ثمرات سامنے آجائیں، اگر فلاحی ریاست کا بہترین اظہار ہوجائے، اگربلا تفریق انصاف کا نظام مثال بن جائے، اگرسرمایہ دارانہ نظام کا متبادل دنیا کو مل جائے، اگرعدل اجتماعی معاشروں کی زندگی میں جاری و ساری ہوجائے، اگریہ اسلامی ریاست بتدریج کئی ریاستوں کا نظام بن جائے، اگرکئی ریاستوں میں اسلامی نظام کا نفاذ مقبول ہوجائے، اگریہ مقبولیت اسلام کا عالمی معاشی نظام متعارف کردے، اگراسلام کا یہ نظام انصاف سب قبول کرلیں؟

یہ سب 'اگر' ہی مغرب کا 'خوف' ہے۔ اس 'خوف' کی شدت ہی 'اگر' کا روشن امکان ظاہرکررہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی ریاست کا امکان خدشات سے دوچارہے۔ مگر اسلامی ریاست انسانوں کی فطری ضرورت ہے۔ جس کا اظہارمذکورہ اکانومسٹ رپورٹ میں نمایاں ہے۔