پاک مٹی - تحریم خورشید

یہ وہی مٹی ہے جس نے مسلمانوں کو مرتے دیکھا،سسکتے دیکھا،انگریز سامراج کے پیروں تلے پستے دیکھا،سانس لیتے خوابوں اور امیدوں کو مٹتے دیکھا۔اسی مٹی نے بیواؤں کی سونی کلائیوں پر آنسو گرتے دیکھے،اسی مٹی نے نوجوان بیٹے لاش پر ماں کو سسکتے دیکھا۔اس مٹی نے وہ وقت بھی دیکھاجب نا خداؤں نے حقیقی خدا کو فراموش کیا اور مسلمانوں پر مظالم کی انتہا کردی۔

لیکن یزیدیت ہمیشہ حسینیت سے ہی مات کھاتی ہے۔یہی دستور ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ اسی لیے اس مٹی سے جناح اور اقبال جیسی شخصیت رونما ہوئیں جو کھڑی ہوئیں ناخداؤں کے خلاف، سامراج کے خلاف، ظلم کے خلاف۔

پھر اس مٹی نے وہ منظر بھی دیکھا جب قائد اعظم کے حکم پرتمام مسلمانوں نے لبیک کہا،دو قومی نظریے تلے ہر سوچ مجتمع ہوگئی۔ پھر اس مٹی نے ہی نہیں اس دنیا بھر نے دیکھا کہ وہی مسلمان آزاد سرزمین کے مالک بن گئے۔اپنی فضا کے رکھوالے،اپنی مٹی پر جان قربان کر دینے والے سچے اور محب وطن پاکستانی!

آج تم جس مٹی پر سر اٹھا کر چلتے ہو،یہ تمہاری داستان ہے۔یہ تمہارے اجداد کے لہو کی امین ہے،تمہارے بزرگوں کا خواب ہے اور آج یہ مٹی منتظر ہے کہ تم اسے اپنا سمجھو۔اپنے اجداد کے خواب کی جو تعبیر تمہیں ملی ہے، اسے اپنے تخیل اور جدو جہد سے کامیابی کی اس منزل تک لے جاؤ جو اس کا حق ہے۔اس سرزمین نے تمہیں ذرہ سے فولاد بنایا ہے۔اس مٹی کے لیے نہیں جیو گے تو خود خاک ہوجاؤگے۔

تم جو دیکھو توتمہاری نگاہوں کی کرنوں سے سورج بھی جلنے لگے

تم چلو تو سہی

تم بڑھو تو سہی

میری دھرتی کے منظر بدل جائیں گے

ہم سفر ساتھیو، بے خبر ساتھیو!

تم مسیحا ہو،تم تو رگ جان ہو

تم محمد علی،تم لیاقت علی

تم ہو قائد، تم ہی تو نگہبان ہو