اسلام اور مسلمانوں کی امتیازی خوبیاں - خطبہ عید قربان مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے10-ذوالحجہ-1438 کا خطبہ عید قربان "اسلام اور مسلمانوں کی امتیازی خوبیاں" کے عنوان پر مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ بعثت نبوی سے قبل لوگ حجر و شجر کے پجاری تھے، بد شگونی اور توہم پرستی کا راج تھا، شراب، زنا، خونریزی اور خواتین کی بے قدری عام تھی، اہل کتاب سمیت سب لوگ آخر الزمان ﷺ کی بعثت کے منتظر تھے، پھر اللہ تعالی نے آپ کو مبعوث فرمایا اور انسانیت کو امن و سلامتی سے بھر پور اسلام جیسا پسندیدہ دین عطا کیا، یہ دین تنگیوں اور شرک سے پاک ہے، ایک دن آئے گا جب کافر بھی مسلمان ہونے کی تمنا کریں گے لیکن انہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، کتاب اللہ میں تمام لوگوں کیلیے ہر زمانے کے ہر معاملے کے متعلق رہنمائی موجود ہے، یہ دین سراپا رحمت ہے؛ کیونکہ اسلام میں مسلمان کو کوئی بھی حکم استطاعت سے بڑھ کر نہیں دیا جاتا، اس دین میں بھول چوک اور جبراً کروائے گئے کام معاف ہیں، نیز توبہ آسانی سے کسی بھی وقت ممکن ہے، اسلام فطرت ، حقائق اور عقل سلیم سے مکمل ہم آہنگ احکامات والا دین ہے، اس دین کے احکام مثلاً نماز، روزہ، حج اور زکاۃ سب باہمی شفقت اور رحمت چھلکتی ہے، اسلام میں رہبانیت کا کوئی تصور نہیں، اسلام مایوسی سے روکتا ہے، اور کسی بھی کام سے اسی وقت منع کرتا ہے جب اس میں نقصان کا پہلو وزنی ہو، نیز صرف بلند اخلاقی اقدار اپنانے کی تلقین کرتا ہے، اسلام میں حلال اور حرام واضح بیان کر دئیے گئے ہیں، اسلام نے عقل، جان، عزت آبرو، مال و دولت اور دین کے تحفظ کیلیے خصوصی اور ٹھوس اقدامات کئے ہیں نیز سماجی ترقی کیلیے اعلی تعلیمات دیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسلام دنیا و آخرت میں کامیابی کا راز ہے اور اسلام کے خلاف وہی بولتا ہے جو اسلامی تعلیمات سے شناسا نہیں ، آخر میں انہوں نے عید الاضحی کے مختصر احکام ذکر کرنے کے بعد دعا کروائی ۔

عربی خطبہ کی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں

پہلا خطبہ:

اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ.

عید کی صبح روشن ہونے پر ہم اَللهُ اَكْبَرُ کہتے ہیں۔

جب تک لا الہ الا اللہ اور تکبیرات کا ورد چلتا رہے ہم اَللهُ اَكْبَرُ کہتے رہیں گے۔

قاصدین بیت اللہ الحرام پر جب تک سعادت مندی کا نور پڑتا رہے ہم اَللهُ اَكْبَرُ کہتے رہیں گے۔

مشاعر مقدسہ میں ذکر کرنے والوں کی طرح ہم اَللهُ اَكْبَرُ کہتے رہیں گے۔

محبت سے معمور سواریاں جب تک عرفات کی جانب رواں دواں ہو گی ہم اَللهُ اَكْبَرُ کہتے رہیں گے۔

میدانِ عرفات میں جب تک گڑگڑا کر دعائیں ہوں اور لوگوں کے گناہ معاف کیے جائیں ہم اَللهُ اَكْبَرُ کہتے رہیں گے۔

خشوع و خضوع کے ساتھ بیتِ عتیق کا طواف کرنے والوں کی تعداد کے برابر ہم اَللهُ اَكْبَرُ کہتے ہیں۔

جتنی تعداد میں قربِ الہی کی تلاش کیلیے قربانیاں کی جاتی ہیں ان کے برابر ہم اَللهُ اَكْبَرُ کہتے ہیں۔

جب تک تلبیہ ، طواف اور قربانیاں کرنے والے اپنے کام سر انجام دیتے رہیں گے ہم تکبیرات کہتے رہیں گے۔

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جسے وہ اونچا کر دے اسے کوئی نیچا نہیں کر سکتا اور جسے وہ ابتر کر دے اسے کوئی برتر نہیں کر سکتا، اس کی نوازش کیلیے کوئی بندش نہیں اور اس کی جانب سے بندش پر کسی کی نوازش نہیں، وہ اپنے تسلط ، قدرت اور ذات ہر اعتبار سے تمام مخلوقات سے بلند و بالا ہے، اس نے چیزوں کو جیسے چاہا بہترین انداز میں پیدا کیا ، اسی سے فضل کی امید کی جاتی ہے اور کرم تلاش کیا جاتا ہے، میں اسی پاکیزہ ذات کی ڈھیروں نعمتوں اور وافر فضل پر حمد و شکر بجا لاتا ہوں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی نے عید کے تہوار کو اطاعت گزاروں کیلیے خوشی کا دن بنایا، عبادت گزاروں کیلیے مسرت کا باعث بنایا، میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اس کے بندے اور رسول ہیں آپ رحمت و ہدایت والے نبی ہیں، آپ سب سے عظیم، معزز نبی اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور اندھیروں کیلیے ماہتاب کامل اور رہبرِ ہدایت صحابہ کرام پر درود و سلام نازل فرمائے۔

مسلمانو!

لوگ نبی ﷺ کی بعثت سے قبل جاہلیت اور گمراہی میں زندگی بسر کر رہے تھے، حجر و شجر کی پرستش کرتے تھے، اللہ تعالی کو چھوڑ کر ان کو پکارتے تھے جو انہیں نفع یا نقصان کچھ بھی نہیں پہنچا سکتے تھے، انہوں نے شیطانوں کو اپنا ولی بنایا ہوتا تھا {اتَّخَذُوا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ} انہوں نے شیاطین کو اللہ کے سوا اپنا ولی بنا لیا اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں![الأعراف: 30] حتی کہ دینی اثرات مندمل ہو چکے تھے، ان کی فطرتیں ہی الٹ ہو چکی تھیں، اسی بارے میں ابو رجاء عطاردی رحمہ اللہ کہتے ہیں: " ہم پتھروں کی پوجا کرتے تھے، جب ہم اس سے بھی اچھا پتھر مل جاتا تو پہلے والے کو پھینک کر نیا اٹھا لیتے، اور اگر کوئی پتھر نہ بھی ملتا تو مٹی کی ڈھیری جمع کر کے اس پر بکری کا دودھ دوہتے اور پھر اس کا طواف شروع کر دیتے" بخاری

اسلام سے پہلے عورت کی یکسر کوئی قدر و قیمت نہیں تھی، عورت کو طلاق نہ دے کر لٹکائے رکھتے، شادی کرنے سے روکتے تھے، عورت کو مال وراثت سمجھتے اور اسے وراثت میں سے کچھ نہ دیتے بلکہ بسا اوقات ہمیشہ کی نیند سلا دیتے تھے

اپنے تمام تر معاملات میں حیران و پریشان پھرتے تھے ان کی زندگی پر بد شگونی اور بد فالی کا راج تھا، ان کا کوئی قابل ذکر ہدف نہ تھا، سب ایک دوسرے کو قتل کرنے میں مگن تھے، محض ایک اونٹنی یا گھوڑے کی وجہ سے جنگیں بپا ہو جاتیں تھی، ان کے معاشرے میں کوئی قانون نہیں تھا، مردار تک کھا جاتے تھے، زنا کاری عام تھی، خون اور شراب خوری کرتے تھے، بیت اللہ کا طواف بھی کرتے تو عریاں ہو کر، غربت کے خوف سے اپنی اولاد قتل کر دیتے اور رسوائی کے نام پر بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے: {وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثَى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ} اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری دی جاتی تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا اور وہ غصہ پینے والا ہوتا ہے۔[النحل: 58]

ان کے ہاں عورت کی یکسر کوئی قدر و قیمت نہیں تھی، عورت کو طلاق نہ دے کر لٹکائے رکھتے، شادی کرنے سے روکتے تھے، عورت کو مال وراثت سمجھتے اور اسے وراثت میں سے کچھ نہ دیتے بلکہ بسا اوقات ہمیشہ کی نیند سلا دیتے تھے، ظلم اور جہالت ان کی علامت اور گھٹی میں شامل تھا: {وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا} اور جس وقت وہ فحش کام کر لیں تو کہتے ہیں: ہم نے اپنے آباء کو ایسے ہی کرتے پایا، اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے![الأعراف: 28]

وہ اندھیرے کا زمانہ تھا، صحیح سلامت دین اہل کتاب میں سے باقی ماندہ انتہائی معمولی لوگوں میں موجود تھا بسا اوقات انہیں تلاش کرنا بھی مشکل ہو جاتا تھا، ایک بار زید بن عمرو بن نفیل شام کی جانب تلاشِ حق کیلیے روانہ ہوئے اور کہنے لگے: " یا اللہ! اگر مجھے تیرے ہاں عبادت کے محبوب ترین طریقے کا علم ہوتا تو میں اسی انداز سے تیری بندگی کرتا، لیکن مجھے اس طریقے کا علم نہیں ہے" یہ کہتے ہوئے وہ اپنی سواری پر سجدہ ریز ہو جاتے"

اس وقت کے اہل کتاب؛ اسلام کے نبی کی بعثت کے ذریعے مشرکین اور کفار کے خلاف اپنی فتح کے امیدوار تھے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ } اور وہ اس سے پہلے کفر کرنے والوں کے خلاف فتح مانگتے تھے، پھر جب ان کے پاس وہ [نبی ] آگیا جس کو وہ پہچانتے تھے تو انہوں نے اس کے ساتھ کفر کیا [البقرة: 89] آپ ﷺ کا فرمان ہے: (اللہ تعالی نے تمام اہل زمین کی جانب دیکھا تو باقی ماندہ اہل کتاب میں سے چند کے علاوہ سب عرب و عجم کو سخت ناپسند قرار دیا) مسلم

اس دور کی جاہلیت نے ساری دھرتی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا تو اللہ تعالی نے اپنے نبی محمد ﷺ کو رسولوں کی بعثت میں طویل وقفے کے بعد مبعوث فرمایا جس سے اسلام کی روشنی پھیلی ، اندھیرے چھٹ گئے، نورِ ہدایت اور نشانیوں کی روشنیوں سے زمین ٹمٹا اٹھی ، فرمانِ باری تعالی ہے: {قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ} یقیناً تمہارے پاس اللہ کی جانب سے نور اور واضح کتاب آ گئی ہے۔[المائدة: 15] اسلام کی وجہ سے ہی لوگ اندھیروں سے روشنی میں آئے، فرمانِ باری تعالی ہے: {كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ} یہ کتاب ہم نے تیری طرف اس لیے نازل کی ہے کہ تو لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی جانب نکالے۔ [إبراهيم: 1]

اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.

اسلام اللہ تعالی کی بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے؛ کیونکہ یہ ایک ایسا دین ہے کہ اس جیسا پہلے کوئی تھا اور نہ ہی کوئی ہو گا، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: " جسے جاہلیت کا علم نہیں ہے وہ اسلام کی معرفت نہیں پا سکتا"

بلکہ اس دھرتی پر اس کے علاوہ اللہ کا کوئی سچا دین نہیں ، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ} یقیناً اللہ تعالی کے ہاں دین اسلام ہی ہے۔[آل عمران: 19] اسلام ہی اللہ تعالی کا راستہ اور صراط مستقیم ہے، اسی دین کو اللہ تعالی نے اپنے بندوں کیلیے پسند کرتے ہوئے فرمایا: {وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا} اور میں نے تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا ہے۔[المائدة: 3] نیز اللہ تعالی اس دین کے علاوہ کوئی دین قبول بھی نہیں فرمائے گا: {وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ} اور جو بھی اسلام کے علاوہ کوئی دین تلاش کرے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ [آل عمران: 85] بلکہ اللہ تعالی کو اسلام کے علاوہ کوئی دین پسند بھی نہیں ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے: (اللہ تعالی کے ہاں محبوب ترین دین : تنگیوں سے پاک دین ِ حنیف ہے) بخاری

دین اسلام کامل ترین دین ہے اس میں کسی اعتبار سے کوئی نقص نہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي} آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے۔[المائدة: 3]

بلکہ جنت میں وہی جائے گا جو مسلمان ہو گا، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَقَالُوا لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَى تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (111) بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ} اور انہوں نے کہا: جنت میں صرف وہی جائے گا جو یہودی یا عیسائی ہے، یہ ان کی آرزوئیں ہیں، آپ کہہ دیں: تم اپنی دلیل پیش کرو اگر تم سچے ہو [111] ہاں جو شخص اپنا چہرہ اللہ کے تابع کر دے [البقرة: 111، 112]

دین اسلام کامل ترین دین ہے اس میں کسی اعتبار سے کوئی نقص نہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي} آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے۔[المائدة: 3]

جیسے اسلام احسن ترین دین ہے اسلام کے پیروکار بھی دینی اعتبار سے تمام لوگوں سے ممتاز ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ} اور اس شخص سے اعلی دیندار کون ہے جو اپنا چہرہ اللہ کے سپرد کر دے اور وہ محسن بھی ہو۔[النساء: 125] اسلام کی خوبیوں کے باعث ہی ایک وقت کافر بھی تمنا کریں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے، فرمانِ باری تعالی ہے: {رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ} وہ وقت بھی ہوگا کہ کافر اپنے مسلمان ہونے کی آرزو کریں گے [الحجر: 2]

اسلام کی اساس اور نبراس ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ} اس کتاب کی آیات محکم ہیں، پھر ان کی تفصیل دانا اور باخبر کی جانب سے بیان کی جا چکی ہے۔ [هود: 1] اس کتاب میں دین و دنیا کے تمام گوشوں کیلیے رہنمائی موجود ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ} ہم نے کتاب میں کسی چیز کو نہیں چھوڑا۔[الأنعام: 38] اس کتاب میں انسانیت کی ضرورت بننے والی ہر چیز کا بیان موجود ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ} اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جو کہ ہر چیز کھول کھول کر بتلاتی ہے۔ [النحل: 89]

یہ دین ساری خلقت کیلیے رہنما ہے، تمام نسلوں کیلیے موزوں اور سب لوگوں کیلیے اس پر عمل کرنا آسان ہے، یہ دین کسی خاص رنگت، جنس، وقت، یا جگہ کیلیے نہیں ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {قُلْ يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا} آپ کہہ دیں: اے لوگو! میں تم سب کی جانب اللہ کا رسول ہوں۔[الأعراف: 158]، اللہ تعالی نے اس دین کو رہتی دنیا تک تمام انسانوں کیلیے رحمت بنایا، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ} اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں پر رحمت کرتے ہوئے بھیجا ہے۔[الأنبياء: 107]

یہ دین عقائد، عبادات، معاملات اور اخلاقیات میں بہترین دین ہے؛ چنانچہ اس دین میں افراط یا تفریط نہیں ہے، اس میں غلو اور سختی نہیں ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا} اور اسی طرح ہم نے تمہیں بہترین امت بنایا۔[البقرة: 143] اس دین کی بنیاد آسانی اور فراخی پر ہے، اس دین میں تنگی اور دشواری کی کوئی گنجائش نہیں فرمانِ باری تعالی ہے: {يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ} اللہ تعالی تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے وہ تمہارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔[البقرة: 185]

اللہ تعالی نے اس دین کے ذریعے امت سے تنگیوں اور سختیوں کا خاتمہ فرما دیا اور دین میں کوئی دشواری باقی نہیں رکھی؛ کیونکہ اسلام کے تمام احکامات اہلیت اور استطاعت کے ساتھ منسلک ہیں اور اللہ تعالی کسی کو اس کی استطاعت سے بڑھ کر حکم نہیں دیتا، اس لیے عاجز ہونے پر واجب ساقط ہو جاتا ہے اور ضرورت کی بنا پر حرمت ختم ہو جاتی ہے، جتنی تنگی پیدا ہو دین اسلام میں اتنی ہی فراخی آ جاتی ہے۔

اس امت سے خطاؤں ، بھول چوک اور جبر کی حالت میں کئے ہوئے اعمال معاف کر دئیے گئے ہیں، اللہ تعالی نے اس امت کے دل میں آنے والے خیالات کردار یا گفتار سے عیاں نہ ہونے کی صورت میں معاف کر دئیے ہیں ، نیز اسلام میں توبہ کا دروازہ ہمیشہ کیلیے کھلا ہے ، نیز اسلام میں توبہ کرنا انتہائی آسان بھی ہے۔

اسلام کے ماخذ اور اہداف بالکل عیاں ہیں، اسلامی شعائر اور احکامات دونوں ہی واضح ہیں ان میں کسی قسم کا الجھاؤ یا پیچیدگی نہیں ہے، اسلام سعادت مندی کی جانب رہنمائی کرتا ہے اور بد بختی مٹاتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى} ہم نے آپ پر قرآن اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں [طہ: 2]

دین اسلام فطرت اور عقل سلیم کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ} کیا جس نے پیدا کیا وہ نہیں جانتا ہے ؟ حالانکہ وہ نہایت باریک بین اور پوری طرح خبردار ہے [الملك: 14] اسلام کے تمام احکامات بھی یکجہتی رکھتے ہیں ان میں اختلاف نہیں ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا} اور اگر یہ غیر اللہ کی جانب سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔[النساء: 82]

اللہ تعالی نے اس دین کو دھرتی کیلیے دائمی اور سرمدی بنا دیا ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (روئے زمین پر کوئی مکان یا جھونپڑی باقی نہیں رہے گی مگر اس میں اللہ تعالی اسلام کا پیغام پہنچا دے گا چاہے اس کی وجہ سے کسی کو عزت ملے یا ذلت) احمد

اللہ تعالی نے دین اسلام میں عدل، رحمت، اصلاح اور عمدہ کارکردگی کو یکجا کر دیا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ} بیشک اللہ تعالی عدل و احسان کا حکم دیتا ہے۔[النحل: 90] اللہ تعالی نے ہمیشہ اسی چیز کا حکم دیا ہے جس میں سراپا خیر ہو یا خیر کا پہلو وزنی ہو، اسی طرح ہمیشہ اسی چیز سے روکا ہے جو مکمل شر ہو یا جس میں شر کا پہلو زیادہ ہو۔

دین اسلام دینی اصول وضع کرتے ہوئے عقلی اور فطری حقائق کو پس پشت نہیں ڈالتا، دین اسلام نے روح اور جسم دونوں سمیت عقل اور علم سب کو یکساں مد نظر رکھا ہے ، اسلام ترقی اور دھرتی کی آباد کاری کی دعوت دیتا ہے، سلامتی ہی اسلام کی ابتدا اور انتہا ہے، بلکہ امن و شانتی اسلام کا نعرہ اور تحفہ ہے۔

یہ دین علم اور عمل کا مرقع ہے، صرف انہی کاموں کی رہنمائی کرتا ہے جو کہ ٹھوس بنیادوں پر قائم ہوں، فرمانِ باری تعالی ہے: {هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ} وہی ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت [یعنی علم نافع]اور دین حق [یعنی عمل صالح]کے ساتھ بھیجا تا کہ وہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے۔[التوبہ: 33]

دین اسلام انسان کو کمال درجہ اور قوت حاصل کرنے کی دعوت دیتا ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (طاقتور مومن اللہ تعالی کے ہاں کمزور مومن سے زیادہ بہتر اور محبوب ہے) مسلم

دین اسلام دینی اصول وضع کرتے ہوئے عقلی اور فطری حقائق کو پس پشت نہیں ڈالتا، دین اسلام نے روح اور جسم دونوں سمیت عقل اور علم سب کو یکساں مد نظر رکھا ہے ، اسلام ترقی اور دھرتی کی آباد کاری کی دعوت دیتا ہے، سلامتی ہی اسلام کی ابتدا اور انتہا ہے، بلکہ امن و شانتی اسلام کا نعرہ اور تحفہ ہے۔

اسلام ہی دنیا و آخرت میں کامیابی کا راز ہے، اسلام کے احکامات اور مقاصد حکمت بھرے ہیں، اسلام کے احکامات اور تعلیمات میں حقیقت پسندی عیاں ہے، اسلام امید اور نیک شگون کے دروازے کھولتا ہے، ناامیدی اور مایوسی سے روکتا ہے، اسلام سچائی اور خیر خواہی پر قائم ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (دین خیر خواہی کا نام ہے) مسلم

اسلام نے ہمہ قسم کے اچھے کام کی دعوت دی اور ہر قسم کے شر سے خبردار کیا آپ ﷺ کا فرمان ہے: (مجھ سے پہلے ہر نبی پر یہ لازم تھا کہ اپنی امت کو ان کی بہتری کا ہر وہ طریقہ بتلائے جو اسے معلوم ہے، نیز ہر قسم کی برائی سے روکے جسے وہ جانتا ہے) مسلم

اسلام میں تمام کے تمام محاسن اور خوبیاں یکجا ہیں جو کہ اس بات کی گواہ ہیں کہ اللہ تعالی کا علم اور حکمت کامل ہے، نیز اس کا نبی سچا ہے اور آپ کی رسالت آفاقی ہے۔

اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.

عقائد اور شرعی احکام کے اعتبار سے دین اسلام تمام ادیان سے اعلی دین ہے، اس میں خلقت اور خالق دونوں کے حقوق کی پاسداری کی گئی ہے، شرعی امور کی اساس تین درجہ بندیوں پر مشتمل ہے: اسلام، ایمان اور احسان۔ ان میں سے ہر درجے کے الگ الگ مرتبے اور ارکان ہیں، ان تمام کے ملنے سے ظاہر اور باطن کی بہتری ممکن ہے، چنانچہ شہادتین اسلام کا سب سے بڑا رکن ہیں یہ کسی کے مسلمان ہونے کی دلیل اور برہان ہیں، شہادتین میں اللہ کیلیے اخلاص اور نبی ﷺ کیلیے اتباع کا اقرار ہے۔

ظاہری طور پر اسلامی تعلیمات کی پابندی باطنی پابندی کی عکاس ہوتی ہے

نماز دین کا ستون ہے، نیز یہ بندے اور پروردگار کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے، زکاۃ کی وجہ سے مال اور جان پاک ہوتی ہے، معاشرے میں محبت اور رحمت پھیلتی ہے، روزہ نفس کا تزکیہ کر کے اسے پاک صاف بناتا ہے، اور حج زندگی میں ایک بار فرض ہے، اس سے انسان اپنی عبدیت اور اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کا اظہار کرتا ہے۔

ظاہری طور پر اسلامی تعلیمات کی پابندی باطنی پابندی کی عکاس ہوتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ} نیکی یہی نہیں کہ تم اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف پھیر لو۔ بلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر، روز قیامت پر، فرشتوں پر، کتابوں پر اور نبیوں پر ایمان لائے۔ [البقرة: 177]

ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ: مکمل یقین کے ساتھ غیبی امور کی تصدیق ایسے کریں کہ ہمارے قول اور کردار اس کی تصدیق بن جائیں۔

احسان یہ ہے کہ : انسان کمال درجے کے اخلاص کے ساتھ ایسے عبادت کرے کہ گویا اللہ اس کی نگرانی کر رہا ہے۔

دینِ اسلام کی اصل بنیاد یہ ہے کہ اللہ کی بندگی کی جائے اور اسے ایک جانیں، اللہ تعالی نے اسی دعوت کے ساتھ اپنے انبیاء اور رسولوں کو مبعوث فرمایا: {وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ} ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔ [النحل: 36]

اسلام کی انتہا یہ ہے کہ اللہ تعالی کی محبوب اور تمام پسندیدہ چیزوں کیلیے بھر پور کوشش کریں، اللہ کے نبیوں اور رسولوں میں تفریق مت کی جائے؛ کیونکہ تمام انبیاء اور رسول سچے اور تصدیق یافتہ ہیں۔

اسلام کے نظریات اور عقائد صحیح ترین اور سہل ترین ہیں، لوگوں کیلیے موزوں اور مضبوط ترین ہیں، عقل اور فطرت دونوں کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں نیز انسان کے کردار اور گفتار پر مثبت اثر ڈالتے ہیں، ان عقائد میں پیچیدگیاں اور خرافات شامل نہیں ہیں، کسی بھی قسم کی ناممکنات یا تصادم سے پاک ہیں، ذہنی استعداد معمولی یا غیر معمولی تمام کیلیے یکساں مناسب ہیں۔

اسلامی احکام سے اچھے کسی کے احکامات نہیں ہیں، انہیں کی بدولت ملک و قوم کی ترقی ممکن ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ} یقین کرنے والی قوم کیلیے اللہ تعالی سے بہتر حکم دینے والا کون ہو سکتا ہے؟![المائدة: 50]

اسلامی عبادات میں رہبانیت یا مشقت نہیں ہے، اسلام ہمیں اچھے کام کرنے اور سچ، سخاوت، ایفائے عہد جیسی بلند اخلاقی اقدار اپنانے کا حکم دیتا ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (مجھے حسن اخلاق کی تکمیل کیلیے ہی مبعوث کیا گیا ہے) احمد

اسلام میں حلال اور حرام واضح ہیں، اچھی چیزوں کو اللہ نے حلال قرار دیا اور خبیث چیزوں کو حرام قرار دیا، نیز اگر کسی چیز کو حرام قرار بھی دیا تو خیر کے اس سے کئی گنا زیادہ دروازے کھول دئیے۔

اسلام میں معاملات کی بنیاد سچ، درگزر، محبت، بھائی چارے اور سب کی خیر خواہی پر ہوتی ہے۔

اسلام کے اہداف اور مقاصد اس بات میں محصور ہیں کہ لوگوں کی ضروریات اور روزمرہ کے مفادات حسن و خوبی کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچیں۔

اسلامی شریعت میں دین اور اصولِ دین کو مکمل تحفظ حاصل ہے چنانچہ ان میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی ممانعت ہے؛ یہی وجہ ہے کہ اسلام سے مرتد ہونے والوں اور بدعات ایجاد کرنے والوں پر سختی کی، ایسے ہی کسی بھی ایسی خرافات سے یکسر منع کر دیا جو مسلمانوں کے دین کو نقصان پہنچائیں، مثلاً: شعبدے باز، نجومی اور اسی طرح کے دیگر شیطانی ہتھکنڈوں سے روکا۔

اسلام نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو نجات کا ذریعہ قرار دیا، اسی پر امت کی کامیابی اور افضلیت کی بنیاد ہے۔

جانوں کے تحفظ کیلیے بھی احکامات صادر کئے چنانچہ نکاح کرنے کی ترغیب دلائی پھر افزائش نسل کا شوق پیدا کیا اور بچوں کی پرورش کی رغبت دلائی۔

اسی طرح قتل اور اسباب قتل کو حرام قرار دیا اور فرمایا: {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا} اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ تعالی کا غضب اور اللہ تعالی کی لعنت ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ [النساء: 93]

آپ ﷺ نے فرمایا: (جو شخص کسی معاہد کو قتل کرے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا) بخاری

اسلام ایسی تعلیمات لے کر آیا ہے جو عقل کو بھی تحفظ دیتی ہیں ، نیز عقل کو کمزور کر دینے والی چیزوں سے بھی دور کیا ؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ عقل کو تحفظ دینا شرعی مقصد ہے ، چنانچہ جاہلیت پر مبنی خرافات اور باطل باتوں سے انسانی عقل کو محفوظ بنایا اور کسی بھی ایسی چیز کو حرام قرار دے دیا جس کے انسانی عقل پر منفی اثرات پڑ سکتے ہوں، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ! یقیناً شراب ، جوا، آستانے اور فال نکالنا شیطان کے گندے کاموں سے ہیں اس سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ [المائدة: 90]

اسلام میں مال و دولت کو بھی تحفظ فراہم کیا گیا ہے چنانچہ خرید و فروخت کو حلال قرار دیا گیا جبکہ سود، ملاوٹ، ڈاکہ زنی، اور چوری جیسے باطل ذرائع آمدن کو حرام قرار دیا، ایسے ہی اپنی ذات پر کھلے دل سے خرچ کرنے کو جائز قرار دیا جبکہ فضول خرچی اور اسراف سے منع کیا۔

لوگوں کی عزت آبرو اور نسب بھی اسلام نے محفوظ بنائے چنانچہ : غیبت، چغلی، آنکھو ں یا دیگر اعضا کے زہریلے اشارے بھی منع فرمائے، حسب نسب میں قدغن لگانے سے روکا، تہمت حرام قرار دی اور تہمت لگانے والوں کو ملعون کہا، زنا کی سخت ترین سزا رکھی اور زنا کے قریب جانے سے بھی روکا، مرد و زن کے اختلاط، بے پردگی، حرام بینی، حیا باختہ گفتگو اور آلات موسیقی سننے کو حرام قرار دیا۔

اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.

اسلام نے انسان کو عزت اور شرف بخشا جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ} اور یقیناً ہم نے اولاد آدم کی تکریم کی ۔[الإسراء: 70]نیز پورے حقوق مستحقین تک بھی پہنچائے، اس کیلیے ایسے احکامات لوگوں میں جاری فرمائے جس سے ان کی معاشی اور اخروی بہتری ممکن ہو، لہذا انہیں والدین کے ساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی، اولاد کی تعلیم و تربیت، پڑوسیوں کا خیال، کمزوروں کی مدد، بڑوں کا احترام، اور چھوٹوں پر شفقت کرنے کا حکم دیا، اسی طرح عورت کو عزت بخشی اور اسے محفوظ بنایا، عورت کے حقوق مقرر فرمائے اور عورت سے جاہلیت کے ظلم کو روکا۔

اسلام میں وفا کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اس دین کو ہم تک پہنچانے والے صحابہ کرام اور ان کے بعد آنے والے تابعین عظام سے محبت کریں، اسلام کی یہ بھی ایک خوبی ہے کہ بڑوں کو ان کا مقام و مرتبہ دیا، اس لیے علمائے کرام کا ان کے مقام و مرتبے کے مطابق احترام کرنے کی دعوت دی ، حکمرانوں کی خیر خواہی کا حکم دیا ، نیکی کے کاموں میں ان کی اطاعت اور ان کیلیے دعا کا حکم جاری کیا، اسی طرح اسلام دین کے محافظوں اور دینی مقدس مقامات کی حفاظت کرنے والوں کا احترام بھی کرتا ہے۔

اسلام میں سب لوگ برابر ہیں، لہذا کسی عربی کو عجمی پر تقوی کے بغیر کوئی فوقیت حاصل نہیں، اسلام دوسروں کے ساتھ نیکی، نرمی، باہمی شفقت ،کفالت، محبت اور الفت کا دین ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (یقیناً اللہ تعالی رحم کرنے والے بندوں پر رحم فرماتا ہے) متفق علیہ

اسلام ہر ایسے کام کا حکم دیتا ہے جو دلوں کو جوڑنے کا باعث بنے، لوگوں کے اتحاد و اتفاق کی دعوت دیتا ہے، ہر قسم کے فساد، لڑائی جھگڑے، اور اختلاف سے خبردار کرتا ہے، بلکہ اختلاف کی جڑوں اور بنیادی اسباب کو ہی مسترد کرتا ہے چنانچہ فرمایا: (خود کو نقصان پہنچاؤ اور نہ ہی دوسروں کو نقصان پہنچاؤ) اسلام انسانی فطرت کو آلودہ کرنے والی دوسروں کی مشابہت، گناہوں اور بد اخلاقیوں سے بھی محفوظ کرتا ہے۔

اسلام نے معاہدوں اور وعدوں کو پورا کرنے اور ان کی پاسداری کرنے کی دعوت دی ہے۔

اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.

اسلام اپنے ماننے والوں پر خیر و بھلائی کے دروازے کھول دیتا ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (عرب یا عجم میں سے کسی بھی گھرانے کے ساتھ اللہ تعالی خیر کا ارادہ فرمائے تو انہیں مشرف بہ اسلام فرما دیتا ہے) احمد

اسلام خوشحال زندگی کا باعث ہے اور دنیا و آخرت میں سعادت مندی کا ذریعہ ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً} جو بھی مرد یا عورت ایمان کی حالت میں نیک کام کرے تو ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کروائیں گے۔[النحل: 97] اسی دین میں امن اور دلی اطمینان ہے: {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ} جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو انہوں نے ظلم سے گدلا نہیں کیا تو انہی کیلیے امن ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔[الأنعام: 82]

اسی دین کے ذریعے شرح صدر ہوتی ہے فرمانِ باری تعالی ہے: {فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ} جسے اللہ ہدایت دینے کا ارادہ فرمائے تو اس کی اسلام کیلیے شرح صدر فرما دیتا ہے۔[الأنعام: 125] بلکہ یہی دین اپنے ماننے والوں کیلیے نور اور روشنی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {أَفَمَنْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَى نُورٍ مِنْ رَبِّهِ} ۔۔۔جس کی اللہ تعالی نے اسلام کیلیے شرح صدر فرما دی ہے پس وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہے۔[الزمر: 22] اللہ تعالی مسلمانوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لا کھڑا فرماتا ہے، چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے: {اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ} اللہ تعالی ایمان والوں کا دوست ہے وہی انہیں اندھیروں سے روشنی کی جانب نکالتا ہے۔[البقرة: 257] اسلام میں ہی لوگوں کی دینی، دنیاوی، عقدی ،سلوکی اور لین دین کے مسائل کا مکمل حل ہے۔

دین اسلام پاکیزگی اور کامیابی کا راستہ ہے آپ ﷺ کا فرمان ہے: (وہ کامیاب ہو گیا جو اسلام قبول کر لے، جسے کفایت شعاری عنایت ہو اور اللہ کی طرف سے جتنا مل جائے اس پر قناعت اختیار کرے) مسلم، اسی طرح اللہ تعالی کا فرمان ہے: {قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا} جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا وہ کامیاب ہو گیا۔[الشمس: 9]

اسلام کا ذائقہ اور مٹھاس بھی ہے ، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا جو اللہ کو اپنا پروردگار ، اسلام کو اپنا دین اور محمد -ﷺ- کو اپنا رسول ماننے پر راضی ہو جائے) مسلم

اسلام اپنے ماننے والوں کیلیے تحفظ اور امان کا باعث بھی ہے: (اللہ تعالی کے ہاں پوری دنیا کی تباہی ایک مسلمان کے قتل سے کہیں ابتر ہے) نسائی

اسلام عزت اور قوت کا باعث ہے؛ کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ} اللہ کیلیے ، اس کے رسول اور مومنوں کیلیے ہی عزت ہے۔ [المنافقون: 8] بلکہ اللہ تعالی مسلمانوں کا مدد گار ہے اور اللہ کی مدد ان کے ساتھ شامل حال رہتی ہے: {إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا} بیشک اللہ تعالی ایمان لانے والوں کا دفاع فرماتا ہے۔[الحج: 38] یہی وجہ ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: " ہم ایسی قوم ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اسلام کے ذریعے معزز بنایا، لہذا اگر ہم اسلام کے علاوہ کسی اور چیز میں عزت تلاش کریں گے تو اللہ ہمیں ذلیل و رسوا فرما دے گا"

اسلام کے ذریعے گناہوں سے خلاصی ممکن ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَنْتَهُوا يُغْفَرْ لَهُمْ مَا قَدْ سَلَفَ} آپ کفر کرنے والوں کو کہہ دیں: اگر وہ باز آ جائیں تو گزشتہ تمام گناہ ان کے معاف کر دئیے جائیں گے۔[الأنفال: 38] اور ایک حدیث میں ہے کہ: (اسلام سابقہ تمام گناہوں کو منہدم کر دیتا ہے) مسلم۔ اس لیے اگر کوئی شخص اسلام قبول کرنے کے بعد اچھے عمل کرے تو دورِ جاہلیت میں کیے ہوئے اعمال پر اس کا مواخذہ نہیں ہو گا۔

اسلام میں اجر و ثواب بھی بہتر اور وافر ملتا ہے؛ چنانچہ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا سے لیکر سات سو گنا تک بڑھا کر دیا جاتا ہے، مسلمانوں کو سابقہ امتوں کی بہ نسبت زیادہ ثواب ملتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ} اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ اللہ تمہیں اپنی رحمت سے دگنا اجر عطا کرے گا [الحديد: 28] اور آپ ﷺ کا فرمان ہے: (بیشک اللہ تعالی کسی بھی مومن پر ایک نیکی کا بھی ظلم نہیں فرماتا، اللہ تعالی اسے ایک نیکی کا عوض دنیا میں بھی دیتا ہے اور آخرت میں بھی اجر دے گا) مسلم

اسلام کی وجہ سے ہی جنت میں داخلہ اور جہنم سے نجات ممکن ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (بیشک جنت میں مسلمان جان کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہو گا) متفق علیہ

ان تمام تر تفصیلات کے بعد: مسلمانو!

اسلام ہی لوگوں کیلیے سعادت مندی کا باعث ہے اور لوگوں کا اسلام کے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں، لوگوں کے حالات اسلام کے بغیر سنور نہیں سکتے، اسلام ہی لوگوں کیلیے فتنوں، مصیبتوں، آزمائشوں اور تکالیف سے نکلنے کا ذریعہ ہے۔ اسلام سے دوری ، اسلام کی تنقیص، اسلام اور مسلمانوں کا استہزا اسلام کی حقیقی روح سے لا علمی کی بنا پر ہوتا ہے۔

کسی بھی مسلمان کیلیے شرف کی بات ہے کہ اسلام پر کار بند رہے، اسے اپنے لیے اعزاز سمجھے، اسلامی تعلیمات پر ڈٹ جائے، لوگوں کو اسلام کی دعوت دے، انہیں ترغیب دلائے، اسلام کی خوبیاں قولی، فعلی، عملی اور منہجی اعتبار سے سب کے سامنے عیاں کرے؛ کیونکہ اللہ تعالی جب کسی بندے سے خیر کا ارادہ فرما لے تو اسے اچھے کاموں کی کنجی بنا دیتا ہے۔

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ} ایمان والو اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ [البقرة: 208]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ

مسلمانو!

اللہ بہت بڑا ہے کہ اس نے مخلوقات کو پیدا کیا اور کائنات کو نئے سرے سے بنایا۔

اللہ بہت بڑا ہے کہ دین کو شریعت بنایا اور تشریعی احکام کو ٹھوس بنایا۔

جب بھی رحمت الہی کی جستجو میں آوازیں بلند ہوں ہم اَللهُ اَكْبَرُ کہتے ہیں۔

حجاج کی آنکھیں جب بھی اشکبار ہوں ہم اَللهُ اَكْبَرُ کہتے ہیں۔

مسلمانو!

اسلام مسلمانوں کے دلوں میں خوشی اور مسرت جا گزین کرنے کیلیے آیا ہے اور عید کے دن اسی چیز کی تجدید ہوتی ہے، اس لیے اللہ کے فضل اور اس کی نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرو، اللہ کی ناراضی اور غضب کا موجب بننے والے اعمال سے بچو۔

عید الاضحی اور اس کے بعد کا دن دونوں ہی اللہ تعالی کے ہاں افضل ایام ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (بیشک اللہ تعالی کے ہاں عظیم ترین دن قربانی کا دن اور پھر ٹرو کا دن ہے) ابو داود

اس دن میں اپنے آپ اور اہل خانہ پر کھلے دل سے مباح چیزوں کے ذریعے خرچ کرنا مستحب ہے، عید کے دن قربانی اس دن کی سب سے افضل عبادت ہے، قربانی کا وقت عید کے دن نماز عید کے بعد سے لیکر آخری یوم تشریق کا سورج غروب ہونے تک جاری رہتا ہے۔

ایک بکری ایک شخص سمیت اس کے اہل خانہ کی طرف سے کافی ہے، جبکہ گائے اور اونٹ سات افراد کی طرف سے قربان ہو سکتے ہیں، قربانی کیلیے نفیس اور قیمتی جانور افضل ہیں، نیز سنت یہ ہے کہ انسان اپنے ہاتھ سے قربانی کرے، نیز قصاب کو بطور اجرت اس میں سے کچھ دنیا جائز نہیں ہے ۔

ایسا جانور قربانی کیلیے کفایت نہیں کرے گا جو واضح طور پر بیمار ہو، یا واضح طور پر کانا ہو، یا اتنا لنگڑا ہو کہ صحیح جانور کے ساتھ چل نہ سکے ، یا اتنا لاغر ہو کی جس کی ہڈیوں میں گودا بالکل نہ ہو۔

اور اگر جمعہ اور عید اکٹھے ہو جائیں جیسے کہ آج ہوئے ہیں تو عید کی نماز ادا کرنے والے کیلیے جمعہ یا ظہر کی نماز دونوں میں سے ایک پر اکتفا کرنا جائز ہے۔ تاہم افضل یہی ہے کہ جمعہ کی نماز باجماعت ادا کرے، نیز امام جمعہ کیلیے مسجد میں آنے والوں کو خطبہ کے بعد جمعے کی نماز پڑھائے، اور اگر مسجد میں صرف دو آدمی ہی آئیں تو پھر وہ ظہر کی نماز پڑھ لیں گے۔

عید کے دنوں میں فرض نمازوں کے بعد اور ہر وقت تکبیرات کہنا شرعی عمل ہے۔

اور اگر جمعہ اور عید اکٹھے ہو جائیں جیسے کہ آج ہوئے ہیں تو عید کی نماز ادا کرنے والے کیلیے جمعہ یا ظہر کی نماز دونوں میں سے ایک پر اکتفا کرنا جائز ہے۔ تاہم افضل یہی ہے کہ جمعہ کی نماز باجماعت ادا کرے، نیز امام جمعہ کیلیے مسجد میں آنے والوں کو خطبہ کے بعد جمعے کی نماز پڑھائے، اور اگر مسجد میں صرف دو آدمی ہی آئیں تو پھر وہ ظہر کی نماز پڑھ لیں گے۔

یہ بات جان لو کہ اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد، یا اللہ! حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے والے خلفائے راشدین: ابو بکر ، عمر، عثمان، علی سمیت بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم اور جو د و سخا کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الاکرمین!

یا اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، یا اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما، یا اللہ! اس ملک کو اور دیگر تمام اسلامی ممالک کو امن و استحکام کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات سنوار دے، یا اللہ! اس عید کو پوری دنیا میں کسی بھی خطے کے مسلمانوں کیلیے سعادت مندی والی عید بنا دے، یا قوی! یا عزیز!

یا اللہ! حجاج اور عمرہ کرنے والوں کو سلامت رکھ اور انہیں ان کے گھروں تک صحیح سلامت اور ڈھیروں اجر و ثواب کے ساتھ واپس لوٹا، یا ذو الجلال والاکرام!

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیری رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما، اور ان کے سارے اعمال تیری رضا کیلیے مختص فرما، یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو تیری کتاب پر عمل کرنے اور نفاذِ شریعت کی توفیق عطا فرما، ا ذو الجلال والاکرام!

{سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ (180) وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ (181) وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} تیرا پروردگار اور رب العزت ان کی باتوں سے پاک اور مبرّا ہے [180] سلامتی ہو رسولوں پر [181] اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کیلیے ہیں۔[الصافات: 180 - 182]

 

پی ڈی ایف فارمیٹ سے پرنٹ یا ڈاؤنلوڈ کرنے کیلیے کلک کریں

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے بی ایس حدیث کے بعد ایم ایس تفسیر مکمل کر چکے ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.