فلاحی ادارے وڈیروں کو بچاتے ہوئے؟ - عادل فیاض

ایک صاحب کی فلاحی اداروں اور فلاحی کاموں کے حوالے سے ایک منفرد رائے ہے جس سے مجھے کافی حد تک اتفاق ہو چکا ہے۔ وہ صاحب کہتے ہیں کہ "فرد کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے اور عوام کو یہ حق حاصل ہے وہ پوچھے کہ ان کو ان کا حق کیوں نہیں دیا جارہا؟ لیکن یہاں ریاست سے یہ امید رکھنا کہ یہ عوام کی فلاح کے لیے کام کرے گی اپنے آپ کو دھوکے دینے کے مترادف ہے۔ ریاست کی عدم موجودگی میں سارے خیر اور بھلائی کے کام فلاحی ادارے ہی کر رہے ہیں اور عوام ریاست سے نہیں پوچھ رہی کہ ہمیں ہمارا حق دو۔ کیوں؟ کیونکہ ان کی ضرورت ریاست کے بجائے فلاحی ادارے کر دیتے ہیں۔ "

مثلاً تھر میں غذا کی قلت ہوئی لوگ مرنا شروع ہوگئے ریاست ہمیشہ کی طرح اپنی موج مستی میں رہی، بات میڈیا تک پہنچی فلاحی اداروں نے اپنے کارکنوں کو تھپکی دی اور تھر جا پہنچے وہاں جاکر لوگوں کی مدد کی۔ عوام کی ضرورت پوری ہوئی پھر زندگی اپنی پٹری پر چل پڑی، الیکشن کے اسٹیشن پر ذرارکے، ووٹ کسی وڈیرے یا چوہدری کو دیا اور آگے چل دیے۔

پھر زلزلہ یا سیلاب آیا، فلاحی ادارے پھر مدد کو پہنچے ، عوام کی مدد کی اور وڈیرے چوہدری کو بھی زحمت سے بچا لیا۔ وڈیرہ کیسے زحمت سے بچا؟ وہ سمندر کنارے اپنی گرل فرینڈ کی دوری کی زحمت سے بچا، کسی کوٹھے پر طوائف کی قربت سے بھی محروم نہ رہا اور عوامی نمائندے کی حیثیت سے جو عوامی دباؤ اس پر آنا چاہیے تھا، اس سے بھی بچ گیا

فرض کریں کہ معاملہ اس کے برعکس ہو۔ تھر میں غذائی قلت ہو، میڈیا کے نیوز رومز میں طوفان برپا ہو، فلاحی ادارے بھی ریاست کی طرح ستو پی کر دفاتر میں پڑے رہیں، تو عوام کیا کریں گے؟ وہ تنگ آ کر اپنے رکن قومی و صوبائی اسمبلی اور وزیر اعلیٰ کا گریبان پکڑیں گے اور اپنا مطلوبہ اس سے کام کروا کر دم لیں گے جس کو انہوں نے ووٹ دیا۔ ورنہ اگلے انتخابات میں ووٹ کی بجائے انہیں جوتے پڑیں گے۔

Comments

عادل فیاض

عادل فیاض

عادل فیاض اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے میڈیا سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیاست، مذہب، کرکٹ، بحث و مباحثہ سے شغف رکھتے ہیں. مستقبل میں میڈیا کو اسلامائز کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.