لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو - بشارت حمید

کیا زمانہ آ گیا ہے کہ رات سے ایس ایم ایس، واٹس ایپ اور فیس بک میسنجر میں مسلسل بمباری ہو رہی ہے اور 90 فیصد پیغامات کاپی پیسٹ والے ہیں۔ پتہ نہیں کیوں یہ سب ایک مشینی سا لگتا ہے جس میں رسم زیادہ اور خلوص کم محسوس ہوتا ہے۔

کیا وقت تھا وہ جب رشتوں اور تعلقات کے بیچ موبائل فون اور انٹرنیٹ حائل نہیں ہوئے تھے۔ عید سے کئی دن پہلے بازار رنگ برنگے عید کارڈز سے سج جاتے تھے لوگ اپنے پیاروں کے لیے بڑی چاہت سے کارڈز خرید کر اس پر اپنے ہاتھ سے لکھتے اور حوالہ ڈاک کر دیا کرتے تھے۔ جب کسی کا عید کارڈ ملتا تو بھیجنے والے سے کتنی انسیت اور محبت محسوس ہوتی تھی جس کا عشر عشیر بھی اب باقی نہیں رہا۔

پھر عید کی نماز کے بعد لوگ اپنے عزیز و اقارب کو ملنے جایا کرتے تھے۔ تب مادّہ پرستی کم اور خلوص زیادہ ہوتا تھا۔ اب تو عید والا دن سو کر گزارنا فیشن بن چکا ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ نے جہاں دنیا کو گلوبل ولیج بنا دیا ہے وہیں اپنے قریبی لوگوں سے بہت دور بھی کر دیا ہے۔ کوئی عزیز رشتہ دار ملنے آ جائے تو پاس بیٹھے سب اپنے اپنے موبائل میں گھسے رہتے ہیں، اور جو اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر ملنے آیا ہے وہ بیٹھا شرمندگی محسوس کرتا ہے کہ میں کس سے بات کروں؟

گھروں میں تصاویر کے چند البم ہوا کرتے تھےجن میں خاص مواقع پر کھینچی ہوئی تصویریں محفوظ ہوتی تھیں۔ گھر والے کسی وقت بیٹھ کر ان تصاویر کو دیکھ کر پرانی یادیں تازہ کیا کرتے تھے۔ کیمرہ بہت کم گھروں میں ہوتا تھا یا پھر کرایہ پر لیا جاتا تھا۔ اگفا اور فیوجی کی فلم استعمال ہوتی تھی جس میں چالیس کے قریب تصویریں بن سکتی تھیں۔ اس محدودیت کی وجہ سے بہت خاص موقع پر ہی تصویر بنائی جاتی تھی۔ چھوٹے بچوں کو کیمرے کے خالی فلیش سے ہی بہلا دیا جاتا تھا۔ کئی دن بعد جب فلم میں تصاویر کھینچ لی جاتیں تو اسے نکال کر ڈیویلپنگ کے لیے لیب میں بھیج دیا جاتا۔ اس کا رزلٹ آنے میں ایک دو دن بہت شدید انتظار میں گزرتے اور تصاویر سامنے آ جانے پر ہی معلوم ہوتا کہ کتنی صحیح آئی ہیں اور کتنی خراب ہو گئی ہیں۔

اب تو موبائل فون کیمرے نے لوگوں کی مت ہی مار رکھی ہے۔ سیلفی کریز ایک بیماری کی طرح لگ چکا ہے۔ ایک دن میں بیسیوں تصاویر بنانا اور میموری میں سیو کرتے جانا ایک نفسیاتی مسئلہ بن چکا ہے خواہ وہ تصاویر دوبارہ دیکھنے کو دل بھی نہ کرے لیکن بنانی ضرور ہیں۔ کسی دن غلطی سے منہ اچھی طرح دھو لیا تو مختلف زاویوں سے اپنی سینکڑوں تصویریں بنا لی جاتی ہیں، کیا مقصد ان کا؟ ہر کام اعتدال میں رہے تو ٹھیک رہتا ہے کسی بھی شے کی زیادتی اس کی کشش کو زائل کر دیتی ہے۔ اس لئے درمیانہ راستہ ہی بہترین راستہ ہے جو ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں اپنانا چاہیے۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.