لکھنے سے پہلے دماغ کی پروگرامنگ کیجیے - روبینہ شاہین

لکھنا ایک آرٹ ہے جو پریکٹس اور مہارت سے بہتر سے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ایک ماہر لکھاری بننے کے لیے ضروری ہے کہ آپ لکھنے کے تمام رموز سے آگاہ ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی جانتے ہوں کہ لکھنے سے پہلے اپنے دماغ کی پروگرامنگ کیسے کرنی ہے۔

ہمارا دماغ برقی لہروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر ہم ان لہروں کو مثبت پیغام دیں گے تو یہ لہریں ان مثبت پیغامات کو ڈبل کر کے ہم تک لائیں گی اور اگر منفی سوچیں گے تو منفی خیالات۔ لہٰذا اپنی تحریر کو لکھنے سے پہلے سوچیں کہ میں نے بہت اچھی تحریر لکھی ہےاور تصور کی آنکھ سے دیکھیں کہ وہ فلاں میگزین جہاں آپ پبلش کروانا چاہتے، اس میں پبلش بھی ہو گئی ہے۔ ڈاکٹر غزالہ موسیٰ جو پاکستان کی مشہور سائکالوجسٹ اور کئی کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔ وہ پروگرامنگ پر بہت زور دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب میں کسی کتاب کو لکھنا شروع کرتی ہوں تو اپنے تخیّل سے کام لے کر اس کتاب کو محسوس کرتی ہوں۔ کتاب کا ٹائیٹل، رنگ اور ڈیزائن تک سوچتی ہوں حتیٰ کہ یہ بھی کہ میری کتاب ایمازون پر دھڑا دھڑ سیل ہو رہی ہے اور واقعتاً ایسا ہو جاتا ہے۔

پروگرامنگ آپ کے اندر کے لکھاری کو نہ صرف جگائے گی بلکہ امید، حوصلہ اور ولولہ بھی پیدا کرے گی۔

جس موضوع پر آپ لکھنا چاہتے ہیں دو تین پہلے اپنے دماغ کو بتائیں کہ مجھے اس موضوع پر معلومات چاہیے۔ آپ کا دماغ جو کہ ایک کمپیوٹر کی طرح کام کرتا ہے، آپ کے لیے معلومات اکھٹی کرنا شروع کر دے گا۔

یہ آپ کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے کہ جو بھی لکھیں بامقصد لکھیں۔ چاہے ایک لائن ہی کیوں نہ ہو۔ جب ہمیں پتہ ہوتا ہےکہ ہماری ترجیح کیا ہے تو بہت سی فضول اور بے معنی چیزیں خود ہی زندگی سے نکل جاتی ہیں۔ پاکستان کے معروف سپیکر قاسم علی شاہ سے کسی نے پوچھا کہ آپ اتنے کم وقت میں پاکستان کے ٹاپ ٹین میں کیسے آگئے؟ تو وہ کہنے لگے کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ مجھے کیا کرنا ہے؟اس سوچ نے مجھے 'فوکسڈ' رہنا سکھایا یوں میں ترقی کی منازل طے کرتا چلا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   میں کیوں لکھوں؟ عبدالباسط ذوالفقار 

پہلے سے لکھی ہوئی تحریریں بھی کافی سود مند ثابت ہو سکتی ہیں۔ کرداروں اور حالات و واقعات کو الٹ پلٹ کرتے جائیں۔ ایک نئی تحریر آپ کے سامنے ہوگی۔

پہلی بار کوئی آئیڈیا آپ کے مائنڈ پر جیسے آیا اس کو بغیر کانٹ چھانٹ کے ویسے ہی صفحات پر منتقل کریں۔ بہت سے اچھوتے اور نادر خیالات ہماری کانٹ چھانٹ کی نظر ہو کر اپنی انفرادیت کھو دیتے ہیں۔ لہٰذا لکھتے ہوئے یہ پوائنٹ ضرور ذہن میں رکھیں۔

انسان اپنے تخیل سے کام لے کر انوکھے تجربے کر سکتا ہے اور جہاں تک فکشن کی بات ہے وہ تو ہے ہی تخیّل کی پیداوار، جتنا مضبوط آپ کا تخیّل ہوگا اتنا ہی بہترآپ لکھ سکے گے۔ تخیّل کو بہتر کرنے کے لیے بوٹس اپ ایکسرسائزز کیجیے، اچھی اچھی کتابیں پڑھیے۔ یاد رکھیں! کتابیں اِن پٹ ہیں اور تحریر آؤٹ پٹ، جب آپ پڑھیں گے نہیں تو لکھے گے کیسے؟

فکشن لکھتے ہوئے اگر آپ اپنے کرداروں کو دماغ کی سکرین پر چلتا پھرتا دیکھے گے، ان کو محسوس کریں گےتو ان کرداروں سے نہ صرف آپ کی شناسائی بڑھے گی بلکہ ان کو لکھنا بھی مزید آسان ہو جائے گا۔

بڑے کاموں کے لیے بڑے خواب چاہیے ہوتے ہیں، بڑے وسائل نہیں۔ اگر آپ بڑے اور ماہر لکھاری بننا چاہتے ہیں تو بڑے خواب دیکھیے، وہ بھی جاگتی آنکھوں سے۔ اپنے خوابوں کی تکمیل پر یقین اور اللہ پر بھروسہ رکھیں، آپ ضرور کامیاب ہوں گے۔

Comments

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین کا تعلق زندہ دلانِ لاہور سے ہے۔ اسلامک اسٹڈیز میں ایم فِل کیا ہے۔ فکشن کم اور نان-فکشن زیادہ لکھتی ہیں۔ پھول، کتابیں، سادہ مزاج اور سادہ لوگوں کو پسند کرتی ہیں اور علامہ اقبالؒ سے بہت متاثر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.