قُربانی کرنے اور کروانے والوں کے بارے میں چند اہم مسائل – عادل سہیل ظفر

قُربانی کے مسائل کے بعد یہاں قُربانی کرنے اور کروانے والوں کے بارے میں چند اہم مسائل کا ذِکر کرتا ہوں،

(1) جِس شخص نے قُربانی کرنے کا اِرادہ کیا ہو، قُربانی کرنے سے پہلے اُس شخص کا بغیر ضرورت کے اپنے جِسم سے کوئی بال کاٹنا یا اُکھیڑنا، یا ناخن کاٹنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکم کی خِلاف ورزی ہے۔

اِیمان والوں کی والدہ محترمہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اِذَا دَخَلتِ العَشرُ وَ اَرادَ اَحَدُکُم اَن یُضَحِّیَ، فَلا یَمَسَّ مِن شَعرِہِ وَ مِن بَشَرِہِ شَیئًا جب دس دِن (یعنی ذی الحج کے پہلے دِس دِن ) آ جائیں اور تُم میں کوئی قُربانی کرنے کا اِرادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بالوں اور جِسم کو مت چھوئے (صحیح مُسلم /حدیث 1977 /کتاب الاضاحی /باب 7)

بالوں اور جِسم کو مت چھوئے کا کیا مطلب ہے ؟

اِسی حدیث کی دُوسری دو روایات جو اِس کے بعد ہی اِمام مُسلم نے نقل کی ہیں، اِن دو روایات میں اِس حُکم کی تفصیل ملتی ہے، یہ بھی اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں ایک روایت کے الفاظ ہیں اِذا دخل العَشرُ وَعِندَہُ اُضحِیَّۃٌ یُرِیدُ اَن یُضَحِّیَ فلا یَاخُذَنَّ شَعرًا ولا یَقلِمَنَّ ظُفُرًا جب دس دِن (یعنی ذی الحج کے پہلے دِس دِن ) آ جائیں اور کِسی کے پاس قُربانی کے لئیے جانور ہو اور وہ اُسے قُربان کرنے کا اِرادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بالوں میں سے بالکل کُچھ نہ لے (یعنی کوئی بال نہ کاٹے )اور ہر گِز اپنے ناخُن نہ کاٹے

دُوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ اِذا رَاَیتُم ھِلَالَ ذِی الحِجَّۃِ وَاَرَادَ اَحدُکُم اَن یُضَحِّیَ فَلیُمسِک عن شَعرِہِ وَاَظفَارِہِ جب تُم لوگ ذی الحج کا چاند دیکھ لو اور تُم میں سے کوئی قُربانی کا اِرادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بالوں اورناخُنوں سے باز رہے۔ اِن احکا م میں مرد اور عورت کا کوئی فرق نہیں۔

اِن تمام احکام کی موجودگی میں قُربانی کرنے والےکے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ قُربانی کرنے سے پہلے بغیر ضرورت کے اپنے جِسم سے کوئی بال یا ناخُن کاٹے، ہاں کِسی ضرورت کی صُورت میں ایسا کیا جا سکتا ہے۔

یُوں بھی اِس مسئلے کے بارے میں فقہا ء کرام میں سے کچھ نے عام اجازت ہونے، اور کچھ نے اسے صِرف استحباب کے درجے پر ہونے کا فتویٰ دیا ہے اور اُن کے پاس بھی ایک معقول دلیل ہے، لہذا میانہ روی کے مُطابق یہی کہا جا سکتا ہے کہ قربانی کرنے والے کے بہتر یہی ہے کہ وہی جان بوجھ کر، کِسی ضرورت کے بغیر ہی اپنے جسم سے کوئی بال نہ کاٹے نہ نوچے، اور نہ ہی ناخن کاٹے یا تراشے۔

اِس معاملے میں اور قُربانی کرنے کروانے والوں کے بارے میں چند بے بنیادباتیں، چند عجیب و غریب اور بلا دلیل یا غلط فہمیوں پر مبنی فتوے عام طور پر سنائی دیتے ہیں، اور کچھ ایسے کام کیے اور کروائے جاتے ہیں، جِن کی شریعت میں کوئی دلیل نہیں، آئیے ذرا مختصراً اُن کا مطالعہ کرتے چلیں، کہ اِس مطالعے کو اللہ تعالیٰ اُن غلطیوں کی پہچان، اور اُن کی اِصلاح کا سبب بنا دے۔

( 1 ) اگر کوئی شخص کسی ضرورت یا بھول یا غلطی کی وجہ سے، حتی ٰ کہ اگر جان بوجھ کر بھی اپنے جِسم کا کوئی بال کاٹ لے یا اکھیڑ لے، یا ناخن کاٹ لے تو اُس پر فدیہ یا جُرمانہ ہونے کا فتویٰ بلا دلیل ہے۔ اِیسے فتوے کی کوئی دلیل نہیں ہے، نہ اللہ کی کتاب میں نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سُنّت میں۔

جی ہاں،اگر کِسی سے ایسا ہو گیا یا اُس نے ایسا کر لیا تو وہ توبہ کرے اور زیادہ سے زیادہ استغفار کرے اور اپنے معمول سے بڑھ کر جسمانی اور مالی طور پر نیکیاں کرے، کیونکہ فَاِنَّ الحَسَنَاتِ یُذھَبنَ السِّیاتِ بے شک نیکیاں بُرائیوں کو دُور کر دیتی ہیں (سورت ھود / آیت 114 ) یعنی اُن کے کفارے کا سبب بن کر یا نامہ اعمال میں زیادہ ہو جانے کی وجہ سے بُرائیوں پر غالب آ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عظیم المیہ - صائمہ وحید

(2) کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص حج کے مہینے کے دُوسرے تیسرے یاپہلے دس دِنوں میں سے کِسی بھی دِن قُربانی کا اِرادہ کرتا ہے، اور اِس ارادے سے پہلے وہ اپنے بال یا ناخن کاٹ چُکا ہوتا ہے، تو اُسے یہ کہا یا سمجھایا جاتا ہے کہ اب تُم قُربانی نہیں کر سکتے کیونکہ تُم نے چاند نکلنے کے بعد بال یا ناخن کاٹ لیے ہیں لہذا اب تُم قُربانی نہیں کر سکتے، یہ بھی اُوپر درج کئی گئی احادیث کے خِلاف ہے، کیونکہ قُربانی کا ارادہ کرنے والا شخص اِس حُکم کا پابند اُس کے ارادے کے بعد ہو گا پہلے نہیں۔

(3) کُچھ لوگ اپنی قُربانی کرنے کے لیے کِسی کو اپنا وکیل بنا دیتے ہیں یا وصیت کر دیتے ہیں، اور پھر یہ خیال کرتے ہیں کہ اب بال یا ناخن نہ کاٹنے کے حُکم کی پابندی وہ کرے گا ہم نہیں، اور بڑے آرام سے بال ناخن اور داڑھی وغیرہ کاٹتے یا تراشتے ہیں، اور ایسا کرنا بالکل غلط ہے کیونکہ بال یا ناخن وغیرہ نہ کاٹنے کا حُکم اُس کے لیے جو قُربانی کر رہا ہے نہ کہ اُس کے لیے جو اُس کی طرف سے جانور ذبح کر رہا یا اُس کا گوشت وغیرہ تقسیم کر رہا ہے، یہ اسی طرح کا ایک حیلہ ہے، جیسا کہ بنی اسرائیل مچھلیاں پکڑنے کےلیےکیا کرتے تھے۔

رہا معاملہ داڑھی مونڈھنے کا یا جائز حد سے بڑھ کر چھوٹی کرنے کا، یا اُس میں خط وغیرہ نکالنے کا، تو یہ کام یا اِن سے ملتے جلتے دیگر کام گناہ کے ز ُمرے میں آتے ہیں کیونکہ رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکام اور فعلی سُنّت مُبارکہ کے خلاف ہیں۔ یہ بات طے شدہ حق ہے کہ رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکام پر عمل کرنا ہر مُسلمان پر اللہ کی طرف سے فرض ہے، اور داڑھی کو اُس کی قدرتی حالت پر برقرار رکھنا بھی اُنہی احکام میں سے ایک ہے۔

(4) کِسی خاندان کا بڑا جب قُربانی کا ارادہ کرے تو باقی گھر والوں کو بال یا ناخن کاٹنے یا تراشنے سے روک دینا، یہ خیال کرتے ہوئے کہ گھر والے ہونے کی وجہ سے یہ لوگ بھی قُربانی میں شامل ہیں، یا یہ سوچ کر کہ یہ لوگ بھی قُربانی کے کاموں میں شامل ہوں گے لہذا یہ بھی اپنے بال اور ناخن نہیں کاٹیں گے، یہ بھی ایسا فتویٰ ہے جِس کے لیے دین میں کوئی دلیل نہیں۔

(5) قُربانی کے جانور کو کِسی میت کے ایصالِ ثواب کے لیے خاص کرنا، یہ کام بھی لوگوں کے اپنے خود ساختہ کاموں میں سے ہے، اِس کی کوئی دلیل کوئی تائید اِسلامی تعلیم میں نہیں ملتی۔

(6) قُربانی کرتے ہوئے جانور کی پیٹھ پر یا جِسم کے کِسی حصے پر ہاتھ رکھ کر یا اِس کے بغیر ہی کہنا کہ یہ قُربانی فُلاں کے نام کی ہے، اے اللہ اِس کا ثواب فُلاں کو پہنچا دے، اور بسا اوقات تو چُھری چلانے والا صِرف اِس بات کا ہی اعلان کرتا ہے اور جانور اللہ کے نام پر ذبح کرنے کی بجائے غیر اللہ کے نام پر کاٹ دِیا جاتا ہے۔ اگر بھول سے ایسا ہو تو اِن شاءَ اللہ کوئی حرج نہیں، لیکن یہ بات آ سانی سے مانی جانی والی نہیں کہ ذبح سے پہلے بڑے اہتمام کے ساتھ اپنی نیت کا اعلان کرنا یا کروانا تو یاد رہتا ہے مگر اللہ کا نام لینا یاد نہیں رہتا۔

محترم قارئین کرام، خوب اچھی طرح سے یاد رکھنے اور یقین رکھنے کی بات ہے کہ کسی کو ثواب اور اجر دینا، اور اس ثواب اور اجر میں کسی کو شامل کرنا، اوروہ ثواب اور اجر کسی تک پُہنچانا، صِرف اور صِرف اللہ تبارک وتعالیٰ کی مرضی ہے، اور وہ کِسی کے حُکم یا اِرادے کا پابند نہیں، سُبحانہُ و تعالی۔

(7) حرام مال میں سے قُربانی کرنا، کیونکہ اللہ تعالیٰ حرام مال سے دی گئی چیز کو قبول نہیں کرتا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اِنَّ اللَّہَ طیِّبٌ لا یُقبلُ اِلَّا طیِّباً اللہ پاک ہے اور پاکیزہ کے علاوہ قبول نہیں کرتا(صحیح مُسلم /حدیث 1015 /کتاب الزکاۃ /باب 19)

یہ بھی پڑھیں:   عظیم المیہ - صائمہ وحید

اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے حرام مال کے استعمال کو صِرف غلطی نہیں کہا جا سکتا، بلکہ معاملہ اِس سے بڑھ کر ہو جاتا ہے، خاص طور پر جب حرام مال سے قربانی کرنے والا یا حرام مال کو کسی اور بھی ذریعے سے اللہ کے راہ میں خرچ کرنے والا یہ جانتا ہو کہ اللہ تبارک و تعالی حرام مال قبول نہیں کرتا۔

کچھ لوگ حرام مال سے جان چھڑانے کے لیے اُسے اللہ کی راہ میں، کسی نیک کام میں خرچ کرتے ہیں تو انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ عُلماء کرام کی طرف سے ایسا کرنے کا فتویٰ اِس لیے دیا گیا کہ اِس طرح یہ اُمید ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس شخص کے حرام کمانے کے گناہ کو معاف فرما دے، اور وہ حرام مال کسی اور حرام کام کا سبب نہ ہو، واللہ أعلم۔

(8) قُربانی کرنے کی مالی استطاعت ہونے کے باوجود بھی قُربانی نہ کرنا۔

(9) پیسے بچانے کی خاطر یا نام کرنے کے لیے کہ فُلاں نے بھی قُربانی کی ہے جیسا تیسا جانور بھی ملے، لے کر قُربان کر دینا۔

(10) سارا گوشت بانٹ دینا، یا سارا ہی اپنے لیے رکھ لینا، یا صِرف اپنے خاص لوگوں میں بانٹنا خاص طور پر ایسے لوگوں میں جِنہوں نے خود بھی قُربانی کی ہوتی ہے اور غریبوں کا خیال نہ رکھنا۔

(11) جانور قُربان کرنے کی بجائے اُس کی قیمت ادا کرنا۔

(12) عید کی نماز سے پہلے قُربانی کرنا۔

(13) بغیر کِسی شرعی عُذر کے اپنا جانور کِسی اور سے ذبح کروانا۔

(14) قُربانی کرنے والے کا(ذبح کرنے والے کا نہیں )عید کی نماز پڑھنے سے پہلے کھانا پینا۔

(15) عید ملتے ہوئے جو الفاظ صحابہ رضی اللہ عنہم ادا کیا کرتے تھے اُن کو چھوڑ کر ایسے الفاظ ادا کرنا جِن کا نہ سُنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم میں کوئی ثبوت ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی سُنّت میں نہ أئمہ کے أقوال و أفعال میں۔

(16) اِس دِن کو یا اِن دِنوں میں کِسی اور دِن کو (یا اِن کے علاوہ سال کے کِسی بھی دِن کو )قبرستان یا کِسی خاص قبر کی زیارت کے خاص کرنا۔

(17) عید ملنے کے نام پر حلال و حرام کی تمیز ختم کر کے، محرم نا محرم کا فرق مٹا کر، شرم و حیا کو رُخصت کر کے، غیرت و حمیت کا جنازہ نکال کر، عید ملن أجتماع کرنا، ایسی ملن پارٹیاں جِن میں سب بھائی، بہہنیں، دیور، بھابھبیاں، انکل، آنٹیاں اور کزنز موجود ہوتے ہیں اور کِسی شرعی حد کا خیال اور لحاظ کیے بغیر ہوتے ہیں، اور کہتے ہیں "پردہ تو نظروں کا ہوتا ہے" گویا اِن کی نظریں پاک ہیں اور جِن پر سب سے پہلے پردہ کا حُکم نازل ہوا تھا اُن کی نظریں پاک نہ تھیں، کُچھ اِن سے بھی زیادہ مضبوط دلیل رکھتے ہیں اور یہ کہتے ہوئے سُنائی دیتے ہیں کہ "دِل صاف ہونے چا ہئیں" گویا اِن کے دِل تو صاف ہیں اور جِن پر سب سے پہلے پردہ کا حُکم نازل ہوا تھا اُن کے دِل صاف نہ تھے، اِنِّا لِلِّہِ و اِنَّا اِلیہِ راجِعُونَ، و اللَّہُ المُستعَانُ

قارئینِ محترم، مندرجہ بالا غلطیاں بہت میں سے چند ہیں صرف اِن کا ذِکر اِس لیے کیا گیا ہے یہ بہت عام نظر آتی ہیں، اِن کو سمجھ کر اِن کی اصلاح کیجیے اگر کِسی کو اِن باتوں کے بارے میں کوئی مزید وضاحت درکار ہو تو بِلا تردد طلب فرمائیے، مُجھے کِسی بھی مُسلمان کی راہنمائی کر کے بہت خوشی ہوتی ہے، اور بہت کُچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے، اور یہ سب اللہ تبارک و تعالیٰ کی عطاءَ کردہ توفیق سے ہے، اللہ تعالیٰ ہمارے نیک أعمال قبول فرمائے اور ہمارے گُناہ معاف فرمائے۔

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.