ہم اور ہماری ترجیحات - تنزیلہ یوسف

" ابو جی! آپ نے قائد اعظم کو دیکھا تھا؟" پراشتیاق انداز میں ہم بہن بھائی ابو سے پوچھتے

" نہیں میرے بچوں میرے نصیب میں ان کی ایک جھلک بھی نہیں تھی۔" ابو ہر بار کے اس پوچھے گئے سوال کے جواب میں یہی دہراتے

ایسا ہر اہم دن کے موقع پر ہی ہوتا یا جب کبھی باتوں کا رخ آزادی کی تحریک کی طرف مڑ جاتا۔ جب تھوڑے بڑے ہوئے تو ابو سے یہ سوال کرنا چھوڑ دیا۔ اس سوال پر ابو اداس ہو جاتے تھے اور ہم ابو سے بے حد محبت کرتے تھے، یہ نہیں چاہتے تھے کہ قیام پاکستان کے حوالے سے کوئی بات ہو اور ابو قائد اعظم کو نہ دیکھنے پر دُکھی ہوں۔

میرے ابو پڑھے لکھے نہیں تھے مگر وطن کی محبت اس کی مٹی سے عشق مثالی تھا۔ میں اکثر یاد کرتی ہوں تو سوچ میں پڑ جاتی ہوں کہ کیا حب الوطنی کے لیے پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے؟ مگر اس سوال کا میرے پاس کوئی بھی جواب نہیں ہوتا۔ 14 اگست ہوتی یا 23 مارچ یا پھر 6 ستمبر، گھر میں ان یادوں کے پھول باتوں سے مہک اٹھتے۔ ٹی وی پر نشریات جو اہم دن کے حوالے سے ہوتی، ہم سب کوشش کرتے کہ دیکھنے سے رہ نہ جائیں۔ 14 اگست کو اسلام آباد سے براہ راست نشریات دیکھنے کے لیے ابو کے دفتر میں موجود 24 انچ کا ٹی وی بڑے سے احاطے میں رکھا جاتا۔ پورے دفتر میں جھنڈیاں لگائیں جاتی۔ ابو خاص طور پر ہم بہنوں اور بھائی کو دفتر وقت پر آنے کو کہتے۔ قومی ترانے کے احترام میں سب لوگ کھڑے ہوتے۔ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کی نشریات دیکھی جاتی اور یوں ایک اور 14 اگست ہمارے حافظوں میں محفوظ ہوجاتی۔

گھر پر بھی ابو کا یہ معمول تھا کہ ٹی وی پر قومی ترانہ پیش ہوتا تو احتراماً کھڑے ہوجاتے، کبھی بڑھ کر ٹی وی بند نہیں کیا۔ ہمیں بھی احتراماً کھڑے ہونے کو کہتے۔ اب اگر کبھی اس کا خیال آتا ہے تو میں یہی سوچتی ہوں کہ ابو جیسے سادہ دل لوگ اب کہاں ہیں؟ کیا ہمارے اندر کھوٹ رچ بس گیا ہے؟ مہمانوں کی آمد پر بھاگ بھاگ کر اپنی خریداری چھپا رہے ہوتے ہیں مبادا نظر نہ لگ جائے۔ بہن بہن سے نالاں، بھائی، بھائی سے کنّی کترا کر نکلنا چاہتا ہے۔ قومی معاملات پر بات ہو تو سیاستدانوں کی کرپشن کو لے کر بیٹھ جاتے ہیں لیکن اپنے گریبان سے اٹھتے بدبو کے بھبھکوں کی طرف دھیان نہیں کرتے۔ دوسروں کو کٹہرے میں کھڑا کرکے فرد جرم عائد کرنے میں ذرا نہیں جھجکتے، الزام تراشی سے خوفزدہ نہیں ہوتے۔ فکر ہے تو بس یہی کہ کسی طرح معیار زندگی بلند کرلیں، بچے مہنگے سکول میں تعلیم حاصل کریں، جہاں تعلیم تو اعلیٰ معیار کی دی جاتی ہے مگر تربیت کے نام پر ایک نصیحت ...... نہیں جناب تربیت کیوں ہو ان اونچی دکانوں میں؟

مجھے یاد ہے پہلے سکولوں میں پرنسپل، اساتذہ سب ہی اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ بچوں کی تربیت کا پہلو بھی مدنظر رہے۔ موقع کی مناسبت سے ہر اہم دن کا پس منظر کیا ہے؟ کیوں فلاں دن اہم ہے؟ یہ سب ٹیچر کلاس میں کچھ دیر کے لیے پڑھائی پس پشت ڈال کر بچوں کو ضرور بتاتے تھے، مگر آج ہمارے ہمارے بچے اس گدھے کی مانند ہوگئے ہیں جس کا کام صرف بوجھ اٹھانا ہے۔ گھروں میں بھی ان پہلوؤں کو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ سکول میں اگر ٹیچر کسی بچے سے پوچھتی ہیں کہ دس محرم کو کیا ہوا تھا؟ بہت ہی کم بچوں کو اس کی تاریخ معلوم ہوتی ہے۔ انسان تعلیم یافتہ ہوتا جارہا ہے مگر انسانیت کہیں دم توڑتی جارہی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com