قُربانی کے اہم مسائل – عادل سہیل ظفر

قُربانی کرنے کی فضیلت کے بارے میں کوئی صحیح حدیث نہیں ملتی، جو احادیث اِس بارے میں روایت کی گئی ہیں، ضعیف یعنی کمزور یا اُس سے بھی کم تر درجے میں آتی ہیں۔

قُربانی کی شرعی حیثیت

مسئلہ (1) قُربانی کرنا، سُنّت ہے یا فرض ؟

جواب: اِس میں عُلماء کی رائے مختلف رہی ہے، جمہور عُلماء، اور اِمام مالک، اِمام الشافعی، کا کہنا ہے کہ قُربانی کرنا سُنّت ہے فرض نہیں، اور اِمام ربعیہ، اِمام الاوزاعی، اِمام ابو حنیفہ، اِمام النخعي، اور اِمام اللیث کا کہنا ہے کہ جِس کے پاس مالی گُنجائش ہو اُس کے لیے قُربانی کرنا فرض ہے، اور یہ دُوسری بات زیادہ درست ہے۔

دلیل (1) مِخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کویہ اِرشاد فرماتے ہوئے سُنا کہ یا اَیُّھَا الناسُ اِنَّ عَلٰی کُلِّ اَھَلِ بَیتٍ فِی کُلِّ عَامٍ اُضحِیَّۃً اے لوگو گھر کے ہر فرد پر ہر سال ایک قُربانی فرض ہے (سنن ابن ماجہ /حدیث 2788/ اول کتاب الضحایا / باب1، صحیح سنن ابی داؤد/حدیث2487، صحیح سنن ابن ماجہ/حدیث 2533)

دلیل (2) ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا مَن وَجَدَ سَعَۃً فلم یُضَحِّ فَلاَ یَقرَبَنَّ مُصَلَّانَا جس کے پاس قُربانی کرنے کی گُنجائش ہو اور وہ قُربانی نہ کرے تو وہ ہمارے مُصلے کے پاس بھی نہ آئے(المستدرک الحاکم / حدیث 7565، 7566 /کتاب الاضاحی، مُسند احمد / حدیث 8256، حدیث حسن، تخریج احادیث مشکلۃ الفقر /ص67/حدیث 102، حدیث حسن، صحیح الترغیب و الترھیب /حدیث1087)

مسئلہ (2) ایک شخص اور اُس کے گھر والوں (زیر کفالت افراد) کی طرف سے ایک بکری کافی

دلیل: ابو ایوب الانصاری رضی اللہ عنہ ُ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے زمانے میں آپ لوگ کیسے قُربانی کیا کرتے تھے تو فرمایا کان الرَّجُلُ فی عَھدِ النَّبِی صَلَّی اللَّہ ُ عَلِیہِ و علی آلہ وسلم یُضَحِّی بِالشَّاۃِ عَنہ ُ وَعَن اَھَلِ بَیتِہِ فَیَاکُلُونَ وَیُطعِمُونَ ثُمَّ تَبَاھَی النَّاسُ فَصَارَ کما تَرَی نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قُربان کیا کرتا تھا اور(اُس میں سے) وہ خود بھی کھاتے تھے اور (دوسروں کو بھی) کِھلاتے تھے، اُس کے بعدلوگ دِکھاوے اور فخر میں مُبتلا ہو گئے اور وہ ہونے لگا جو تُم دیکھ رہے ہو(سنن ابن ماجہ / دیث3147/کتاب الاضاحی /باب10، حدیث صحیح ہے، الاِرواءُ الغلیل / حدیث 1142)

دِکھاوے اور فخر کے لیے اب مسلم معاشرے میں کیا کیا ہوتا ہے اِس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ معاشرہ کا ہر فرد اپنے بارے میں تو خوب اچھی طرح جانتا ہی ہے اور دوسروں کے بارے میں بھی کافی حد تک اندازہ کر ہی سکتا ہے کہ ایسے موقعوں پر کون، کیا، کیوں کرتا ہے ؟ اور دِلوں کے حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

مسئلہ (3) کون کون سے جانور قُربان کرنا جائز ہیں ؟

جواب تمام اِقسام کے بکرے، اُونٹ، اور گائے، اِن تین کے عِلاوہ کوئی اور جانور قُربانی کے طور پر ذبح نہیں کیا جائے گا۔

دلیل : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلنَا مَنسَکاً لِیَذکُرُوا اسمَ اللَّہِ عَلَی مَا رَزَقَھُم مِّن بھِیمَۃِ الاَنعَامِ فَاِلَھُکُم اِلَہٌ وَاحِدٌ فَلَہُ اَسلِمُوا وَبَشِّرِ المُخبِتِینَ اور ہم نے ہر اُمت کے لیے قُربانی کرنے کے طریقے (وقت و جگہ وغیرہ) بنا رکھے ہیں تا کہ وہ اُن چوپایے جانورجو اللہ نے اُنہیں دیے ہیں، اُن جانوروںپر اللہ کا نام لیں(یعنی اللہ کا نام لے کر اُنہیں قُربان کریں) پس جان رکھو کہ تُم سب کا (سچا حقیقی)معبود ایک (اللہ) ہی ہے لہذا اپنے آپ کواُس کی تابع فرمانی میں دے دو اور(اے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سُنا دیجیے(سورت الحج /آیت 34)

مسئلہ (4) کون کون سے جانور قُربان کرنا جائز نہیں ؟

جواب عُبید بن فیروز رحمہُ اللہ نے البراء بن عازب رضی اللہ عنہ ُ سے کہا "مجھے بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم قُربانی کے جانوروں میں سے کیا نا پسند فرماتے تھے اور کِس قِسم کے جانور کو قُربان کرنے سے منع فرماتے تھے ؟ " تو البراء بن عازب رضی اللہ عنہ ُ اپنے ہاتھ سے اِشارہ کرتے ہوئے کہا میرا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ہاتھ سے چھوٹا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِس طرح اپنے ہاتھ سے اِشارہ فرماتے ہوئے کہا اَربَعٌ لَا تُجزِءُ فی الاَضَاحِیِّ العَورَاء ُ البَیِّنُ عَوَرُھَا وَالمَرِیضَۃُ البَیِّنُ مَرَضُھَا وَالعَرجَاء ُ البَیِّنُ ظَلعُھَا وَالکَسِیرَۃُ التی لَا تُنقِیٍقُربانی میں چار قِسم کے جانور(مذکر یا مؤنث) قُبُول نہیں ہوتے، (1) جِس کی آنکھ میں خرابی نظر آتی ہو (کانا جانور، یا آنکھ کسی بھی اور نُقص والا) ،اور (2) جِس کی بیماری صاف نظر آ جائے، اور (3)لنگڑا جانور جِس کا لنگڑا پن نظر آتا ہو، اور (4)اورایسا کمزور جانور جِس کی ہڈیوں میں گُودا خشک ہو گیا ہو

تو عُبید بن فیروز رحمہُ اللہ نے کہا "مجھے یہ بھی اچھا نہیں لگتا کہ قُربانی والے جانور کے کان میں کوئی نُقص ہو "،

تو البراء بن عازب رضی اللہ عنہ ُ نے کہا "قُربانی کے جانور وں میں سے جو تُمہیں پسند نہ آئے اپسے چھوڑ دو لیکن (اپنی پسند نا پسند کی بُنیاد پر) اُسے کِسی پر حرام نہ کرو "۔(سنن ابن ماجہ/حدیث3144/کتاب الاُضاحی /باب 8، سنن ابی داؤد /حدیث2802 /کتاب الضحایا /باب 6، صحیح ابن خزیمہ/کتاب الاضحیۃ /باب 21، اور دیگر کتابوں میں بھی یہ حدیث روایت کی گئی ہے، اِمام الالبانی رحمہ ُ اللہ نے کہا حدیث صحیح ہے، صحیح سنن ابن ماجہ 2544)

ایک اہم فائدہ البراءبن عازب رضی اللہ عنہ ُ کا اُسی طرح اِشارہ کر کے بتانا اور ساتھ یہ بھی کہنا کہ "میرا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ہاتھ سے چھوٹا ہے"، صحابہ رضی اللہ عنہم کی امانت اوراحتیاط کی مثالوں میں سے ایک ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بات کو آگے بیان فرماتے ہوئے وہ اِشاروں اور حرکات کوبھی بیان فرماتے اور اگر کوئی فرق ہوتا تو وہ بھی واضح کرتے، اللہ اُن لوگوں کو ہدایت دے جو صحابہ رضی اللہ عنہم سے بغض و عناد رکھتے ہیں، اورجب تک اللہ کی مشیئت میں اُن کے لیے ہدایت نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ سب مُسلمانوں کو اُن کے شر ّسے محفوظ رکھے، اور اگر اللہ تبارک و تعالیٰ کی مشیئت میں اُن کے لیے ہدایت ہے ہی نہیں تو اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق کو اُن کے شرّ سے ہمیشہ کے لیے محفوظ فرما دے۔

جِس جانور کا کان کٹا، یا سوراخ والا، یا ٹوٹا ہوا ہو، یا سینگ ٹوٹا ہو، یا دُم کٹی ہو، اُس سے ممانعت کی کوئی صحیح حدیث مّیسر نہیں، عُلماء کے مختلف اقوال پائے جاتے ہیں، بہتر یہی ہے کہ قُربانی کے لیے جانور اختیار کرتے ہوئے اِس بات کی احتیاط کرنی چاہیے کہ جانور میں کوئی عیب یعنی نُقص نہ ہو، اور اِس احتیاط کا حُکم حدیث میں ملتا ہے، جیسا کہ علی رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ اَمَرَنَا رسول اللَّہِ صَلَّی اللَّہ ُ عَلِیہِ و علی آلہ وسلم اَن نَستَشرِفَ العَینَ وَالاُذُنَینِ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ہمیں حُکم دِیا کہ ہم (قُربانی کے جانور کے) آنکھ اور کان کا بغور معائینہ کریں(سُنن ابن ماجہ /حدیث 4143/کتاب الاضاحی /باب8، صحیح سُنن ابن ماجہ / حدیث 2544)

مسئلہ (5) کتنی عُمر تک کا جانور ذبح کرنا چاہیے ؟

جواب احادیث میں یہ بات کثرت سے ملتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ایسا جانور اِختیار کرتے جو "مُسِنُّنٌ(مُذکر)، مُسِنَّۃٌ (مؤنث)" ہوتا، یعنی، ہر وہ جانور جِس کے دانت تبدیل ہو چکے ہوں، اور کہا گیا جِس کے سامنے والے دو مضبوط دانت نکل آئے ہوں (نیل الاوطار) اور اگر ایسا جانور مُیسر نہ ہو، تو اُس کی جگہ "جذعٌ (مُذکر)، جذعۃٌ (مؤنث) " قُربان کیا جا سکتا ہے، جذعٌ کتنی عُمر کا ہوتا ہے اِس بارے میں مُختلف باتیں ملتی ہیں، جیسا کہ جِس کی کم ازکم عُمر دو سال ہو چکی ہو، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تین سال ہو چکی ہو اور چھوتھے سال کا آغازہو (مشارق الانوار فی صحاح الآثار)،اور کہا گیا جِس کی عمر ایک سال ہو جائے، اور کہا گیا، چھ ماہ، اور کہا گیا، سات ماہ، اور کہا گیا آٹھ ماہ، خلاصہ کلام یہ کہ "جذعٌ" وہ جانور جِس کی کم از کم عُمر چھ ماہ ہو، اور زیادہ سے زیادہ تین سوا تین سال۔

یہ بھی پڑھیں:   عظیم المیہ - صائمہ وحید

لہذا ایسا جانورقُربان نہیں کرنا چاہیے جو "مُسِنُّنٌ" نہ ہو، یعنی، جِس کے کم سے کم سامنے والے دو دانت تبدیل نہ ہو چکے ہوں، خواہ اُس کی عُمر دو سال سے کم ہی رہی ہو، وہ "مُسِنُّنٌ" کے حکم میں ہی آئے گا۔ اگر ایسا جانور مُیسر نہ ہو تو پھر جذعٌ میں سے قُربانی دی جا سکتی ہے۔

دلیل عاصم ابن کلیب اپنے والد کُلیب سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دو فعہ وہ لوگ سفر میں تھے اور عید الاضحیٰ کا دِن آ گیا، اور (مُسِنّن جانور کی قیمت اتنی زیادہ تھی کہ)ہمیں دو یا تین جذع(جانوروں) کے بدلے میں ایک مُسِنَّہ (جانور)خریدنا پڑتا۔ تو ہم میں سے قبیلہ مُزینہ کے ایک آدمی (مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ ُ نے کہا "ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے اور یہی دِن آ گیا اور (اِسی طرح) ایک ایک شخص کو دو دو یا تین تین جذع دے کر ایک مُسِنّن لینا پڑتاتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا اِنَّ الجَذَعَ یُوفِی مِمَّا یُوفِی منہ الثَّنِی (قُربانی میں) جذع بھی وہ کام کر دے گا جو کام ثنی (سامنے کے دو مضبوط دانتوں والا جانور) کرتا ہے(المستدرک الحاکم / حدیث 7538،7539/کتاب الاضاحی، سنن النسائی / حدیث 4395/کتاب الضحایا /باب13، سنن ابو داؤد /حدیث 4599/اول کتاب الضحایا/باب5، اوراِمام الحاکم رحمہُ اللہ نے کہا حدیث صحیح ہے اور اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے بھی اُن کی تائید کی۔ )

یہاں خاص طور پر خیال دینے اور یاد رکھنے کی بات یہ کہ " مُسِنُّنٌ " کی جگہ "جذعٌ " قُربان کرنے کی اجازت مالی تنگی، اور مہنگائی کے سبب سے دی گئی اور مہنگائی والے معاملے کا ایک اور حل بھی دِیا گیا ہے، جِس کا بیان اِن شاء اللہ ابھی پیش کروں گا۔

مسئلہ (6) قُربانی کے لیے سب سے بہترین جانور کون سا ہے؟

جواب زُبانی کے لیے سب سے بہترین جانور مینڈھا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے دیگر جانوروں میں سے مینڈھے اختیارکیے اور قُربان فرمائے۔

دلیل (1) انس ابن مالک رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ وَذَبَحَ رَسولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہ ُ عَلِیہِ و علی آلہ وسلم بِالمَدِینَۃِ کَبشَینِ اَملَحَینِ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے مدینہ میں (عید الاضحی والے دِن) دو املح مینڈھے ذبح فرمائے(صحیح البخاری /حدیث1476/کتاب الحج/باب 26، اور صحیح مُسلم /حدیث 1679/کتاب القسامہ والمحاربین والقصاص و الدیات/باب9، میں حج کے موقع پر مِنیٰ میں اِسی طرح دو املح مینڈھے قُربان کرنے کا ذِکر ہے)

دلیل : انس ابن مالک رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ کان یُضَحِّی بِکَبشَینِ اَملَحَینِ اَقرَنَینِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم دو املح اور سینگوں والے مینڈھے قُربان کیا کرتے تھے(صحیح البخاری / حدیث2244 /کتاب الاضاحی/باب 13، صحیح مُسلم /حدیث 1966/کتاب الاضاحی /باب3)

پس واضح ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم قُربانی کے لیے املح اور سینگوں والے مینڈھے پسند فرماتے تھے، اور یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی پسند سے بہتر اور افضل کوئی پسند نہیں ہو سکتی۔

املح مینڈھے سے مُراد وہ مینڈھا ہے جو سُفید و سیاہ رنگ کا ہو، اور اِس طرح کہ پاؤں اور آنکھوں کے آس پاس اور پیٹ کے نچلے حصے میں سیاہی ہو اور باقی ساری جلد کی رنگت سُفید ہو، جِسے عام طور پر " کاجلی" کہا جاتا ہے۔

مسئلہ (7) قُربانی کے جانور کو بہترین طور پر پال کر خوب موٹا بنانا چاہیے

دلیل ابی اُمامہ بن سھل رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کُنَا نُسَمِّنُ الاُضحِیَّۃَ بِالمَدِینَۃِ وکان المُسلِمُونَ یُسَمِّنُونَ ہم لوگ مدینہ (المنورہ) میں اپنے قُربانی کے جانورں کو خوب موٹا کیا کرتے تھے اور (سب)مُسلمان (اپنے قُربانی کے جانوروں کو) خوب موٹا کیا کرتے تھے (صحیح البُخاری /کتاب الاضاحی/باب 7۔)

مسئلہ (8) قُربانی کا گوشت کِس طرح تقسیم کیا جانا چاہیے ؟

دلیل سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ و علی آلہ وسلم نے (قُربانی کے گوشت کی تقسیم کے بارے میں) فرمایا کُلُوا وَاَطعِمُوا وَادَّخِرُوا کھاؤ اور کِھلاؤ اور محفوظ کر لو(صحیح البخاری / حدیث 5249 /کتاب الاضاحی /باب 16) اور صحیح مُسلم میں اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنھا کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا فَکُلُوا وَادَّخِرُوا وَتَصَدَّقُوا پس کھاؤ اور محفوظ کرو اور صدقہ کرو (حدیث1971 /کتاب الاضاحی /باب 5)

اِن احادیث کی شرح میں مختلف اقوال نظرآتے ہیں، کچھ کا کہنا ہے کہ بہتر یہ ہے کہ قُربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم کیا جائے، ایک حصہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے، ایک حصہ غریبوں مسکینوں میں صدقہ کرنے کے لیے، اور ایک حصہ رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کرنے کے لیے، کیونکہ اِس طرح اللہ کی راہ میں تقسیم زیادہ ہوگا، اور اِن شاء اللہ ثواب بھی زیادہ ہوگا، اور کچھ نے کہا، کہ، ایک حصہ کھائے اور محفوظ کرے اور ایک حصہ صدقہ کرے، اور یہ بھی کہا گیا کہ تمام گوشت کو صدقہ کرے یا کھائے اورمحفوظ کرے کوئی حرج نہیں، اور یہ قول سب سے زیادہ کمزور ہے۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے، شرح النووی علی صحیح مُسلم، نیل الاوطار /کتاب المناسک/ابواب الضحایا و الھدایا /باب 18)

اور میں تو وہی کہتا ہوں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا کیونکہ وہ حق اور سچ ہے اور سب سے بہتر بات ہے کہ خیر الھُدیٰ ھُدیٰ مُحمدٍ صَلَی اللَّہ ُ عَلِیہِ و علی آلہ وَسلم سب سے بہترین اور خیروالی راہنمائی وہ ہے جو محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمائی ہے اور اُوپر ذِکر کی گئی احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ و علی آلہ وسلم نے اپنے کھانے اور محفوظ کرنے، اور صدقہ کرنے کا حُکم تو فرمایا ہے لیکن حصے اور مقدار مقرر نہیں فرمائی، پس قُربانی کرنے والا جتنا چاہے صدقہ کرے اور جتنا چاہے کھائے اور محفوظ کرے، یہ معاملات اُس کے تقوے اور اللہ سے محبت پر چھوڑے گئے ہیں، و اللہ اعلم۔

مسئلہ (9) ایک بڑے جانور کی قُربانی میں کتنے شخص شریک ہو سکتے ہیں ؟

جواب ایک بڑے جانور کی قُربانی میں سات شخص شریک ہو سکتے ہیں

دلیل : جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے نَحَرنَا مع رسولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہ ُ عَلِیہِ و علی آلہ وسلم عَامَ الحُدَیبِیَۃِ البَدَنَۃَ عن سَبعَۃٍ وَالبَقَرَۃَ عن سَبعَۃٍ ہم نے صلح حدیبیہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ساتھ ایک ایک اونٹ اور ایک ایک گائے سات سات آدمیوں کی طرف سے قُربان کی(صحیح مُسلم /حدیث1318 /کتاب الحج/باب 62)

یہ حدیث گو کہ حج کی قُربانی کے متعلق ہے، لیکن عُلماء نے اِس پر قیاس کر کے بغیر حج والی قُربانی کے بارے میں بھی یہ کہا کہ اُونٹ اور گائے میں سات لوگ حصہ دار بن سکتے ہیں اور اُن کا ایک گھر یا خاندان کا فرد ہونا بھی ضروری نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عظیم المیہ - صائمہ وحید

مسئلہ (10) قُربانی کِس وقت کی جانی چاہیے ؟

جواب قُربانی کرنے کا وقت نمازِ عید کے بعد ہے، پہلے نہیں، اگر کِسی نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا تو وہ قُربانی شُمار نہیں ہوگا۔

دلیل (1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا مَن کَانَ ذَبَحَ قَبلَ الصَّلَاۃِ فَلیُعِد جِس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو وہ دوبارہ (دوسرا جانور) ذبح کرے(صحیح البُخاری /حدیث5229٩ / کتاب الاضاحی /باب 1، صحیح مُسلم /حدیث1962 /کتاب الاضاحی / باب اول 1)

دلیل (2) جُندب ابن جُنادہ رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ اُنہوں نے عید الاضحی کے دِن دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے نماز پڑھی اور خُطبہ فرمایا اور اُس میں فرمایا مَن ذَبَحَ قبل اَن یُصَلِّیَ فَلیَذبَح مَکَانَھَا اُخرَی وَمَن لم یَذبَح فَلیَذبَح بِاسمِ اللَّہِ جس نے (عید کی) نماز پڑھنے سے پہلے (قُربانی کا جانور) ذبح کر دیا وہ اُس کی جگہ دوسرا ذبح کرے اور جس نے اب تک ذبح نہیں کیا وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے(صحیح البُخاری / حدیث 6965/کتاب التوحید /باب 14)

دلیل (3) البراء بن عازب رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ عید الاضحی کے دِن، عید کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا مَن صَلَّی صَلَاتَنَا وَنَسَکَ نُسُکَنَا فَقَد اَصَابَ النُّسُکَ وَمَن نَسَکَ قَبلَ الصَّلَاۃِ فَانَّہ ُ قَبلَ الصَّلَاۃِ ولا نُسُکَ لہ ُ جِس نے ہماری (عید کی یہ)نماز پڑھی اور (پھر)ہماری(طرح)قُربانی کی تو اُس کی قُربانی ٹھیک ہے اور جِس نے نماز سے پہلے قُربانی کی، اُس کی قُربانی نہیں ہے۔

تو البراء کے ماموں ابو بُردہ بن نِیار رضی اللہ عنہما نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول میں نے تو اپنی بکری نماز سے پہلے قُربان کر دی تھی کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ آج کا دِن کھانے پینے کا دِن ہے اور مجھے یہ اچھا لگا تھا کہ میرے گھر میں ہونے والی قُربانیوں میں سب سے پہلے میری بکری قُربان ہو، لہذا میں نے اُسے ذبح کر دِیا، اور نماز کی طرف آنے سے پہلے کھا بھی لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا شَاتُکَ شَاۃُ لَحمٍ تُمہاری بکری گوشت ہی ہے (قُربانی نہیں)۔

ابو بُردہ رضی اللہ عنہ ُ نے عرض کیا "اے اللہ کے رسول ہمارے پاس ایک جذعہ اونٹنی ہے جو مجھے دو بکریوں سے زیادہ پسند ہے (یعنی جِس کا گوشت دو بکریوں سے زیادہ ہے) کیا وہ میری قُربانی (کے طور پر) قابل قُبُول ہو گی ؟"

تو رسول اللہ صلی علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا نعَم، وَلَن تَجزِیَ عن اَحَدٍ بَعدَکَ جی ہاں، لیکن تُمہارے بعد کِسی بھی اور کے لیے ہر گِز ایسا کرنا قابل قُبُول نہیں ہو گا (صحیح البُخاری /حدیث912 /کتاب العیدین /باب 5)

مسئلہ (11) قُربانی کا جانور کِس طرح ذبح کیا جانا چاہیے ؟

جواب (1) جانورکو کروٹ کے بل لِٹا کر قبلہ رُخ کیا جائے "بسم اللہ" کہا جائے، "اللہ اکبر"کہا جائے اور کہا جائے " اے اللہ اِسے میری طرف سے (اورجِس کو اجر و ثواب میں شامل کروانے کی نیت ہو اُس کا ذِکر کیا جائے(قُبول فرما) "۔

جواب (2) ذبح کرتے ہوئے اِس بات بھی کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ جانور کو کم سے کم تکلیف ہو۔

دلیل (1) انس ابن مالک رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے ضَحَّی النبی صَلَّی اللَّہ ُ عَلِیہِ و علی آلہ وسلم بِکَبشَینِ اَملَحَینِ اَقرَنَینِ ذَبَحَھُمَا بِیدہِ وَسَمَّی وَکَبَّرَ وَوَضَعَ رِجلَہُ علی صِفَاحِھِمَا نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے دو سینگوں والے سفید و سیاہ مینڈھے اپنے ہاتھ(مُبارک) سے قُربان کیے (اور اِس طرح کہ)اپنا پاؤں(مُبارک) اُن کی گردنوں کے ایک طرف رکھا اور اللہ کا نام لیا (بِسم اللہ کہا) اور تکبیر(اللہ اکبر)کہی (صحیح مُسلم / حدیث 1966/کتاب الاضاحی/باب3)

دلیل (2) اِیمان والوں کی والدہ ماجدہ عائشہ رضی اللہ عنہا و ارضاھا سے روایت ہے اَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہ ُ عَلِیہِ و علی آلہ وسلم اَمَرَ بِکَبشٍ اَقرَنَ یَطَاُ فی سَوَادٍ وَیَبرُکُ فی سَوَادٍ، وَیَنظُرُ فی سَوَادٍ، فأُتِیَ بِہِ لیضحی بِہِ فقال لھا یا عَائِشَۃُ ھَلُمِّی المُدیَۃَ، ثُمَّ قال اشحَذِیھَا بِحَجَرٍ، فَفَعَلَت، ثُمَّ اَخَذَھَا وَاَخَذَ الکَبشَ فَاَضجَعَہُ ثُمَّ ذَبَحَہُ ثُمَّ قال بِاسمِ اللَّہِ اللَّھُمَّ تَقَبَّل مِن مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِن اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ ثُمَّ ضَحَّی بِہِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے قُربانی کرنے کے لیے سینگ دار مینڈھا جِس کے پاؤں کے سیاہی (کالا رنگ) ہو اور پیٹ کے نیچے سیاہی ہو اور آنکھوں کے پاس سیاہی ہو، لانے کا حُکم دِیا اور مجھ سے فرمایا، عائشہ چُھری لاؤ اور اُسے پتھر پر رگڑ کر تیز کرو، (تا کہ چُھری کُند ہونے کی وجہ سے جانور کو زیادہ تکلیف نہ ہو) میں نے حُکم کی تعمیل کی، پھر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے چھری لی اور مینڈھے کو کروٹ کے بل لِٹا کر ذبح کِیا اور فرمایا، بِاسم اللہ، اے اللہ (یہ قُربانی)محمد، اور محمد کے گھر والو، اور محمد کی اُمت کی طرف سے قُبُول فرما (حدیث 1967،سابقہ حوالہ)

دلیل (3) شداد بن اوس رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے دو باتیں حفظ کی ہیں کہ اُنہوں نے فرمایا اِنَّ اللَّہَ کَتَبَ الْاِحْسَانَ علی کل شَیْء ٍ فاِذا قَتَلْتُمْ فَاَحْسِنُوا الْقِتْلَۃَ واِذا ذَبَحْتُمْ فَاَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْیُحِدَّ اَحدکم شَفْرَتَہُ فَلْیُرِحْ ذَبِیحَتَہُ یقینا اللہ تعالیٰ نے تُم لوگوں پر مہربانی کرنا فرض کر دِیا ہے، لہذا جب تُم قتل کرو تو قتل کیے جانے والے پر مہربانی کرتے ہوئے قتل کرو، اور جب تُم لوگ ذبح کرو تو ذبح کیے جانے والے پر مہربانی کرتے ہوئے ذبح کرو، اور (وہ اِس طرح کہ) ذبح کرنے والا اپنی چُھری (چاقو وغیرہ)تیز کر لے تا کہ ذبح ہونے والے (جانور) کے لیے آسانی رہے(صحیح مُسلم / حدیث 1955/کتاب الصید و الذبائح و مایؤکل من الحیوان /باب 11)

اللہ تعالیٰ کی بے شُمار رحمتیں اور برکتیں ہوں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر، اور میرا سب کچھ قُربان ہو اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر، اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر طرح طرح کے الزام لگانے والے بد بختوں کو یقینا یہ نظر نہیں آتا کہ جو روؤف و رحیم قتل و ذبح کرنے میں جانوروں تک پر احسان کرنے کی تعلیم دے وہ ظالم اور تلوار کے زور پر اطاعت کروانے والا کیسے ؟

مسئلہ (12) اپنی قُربانی کا جانور خود ذبح کرنے، یا کِسی اور سے ذبح کروانے کا کیا حُکم ہے ؟

جواب بہتر اور افضل یہ ہی ہے کہ اپنی طرف سے قُربانی خود کی جائے یعنی اپنی قُربانی کا جانور خود ہی ذبح کیا جائے، کیوں کہ رسول اللہ صلی علیہ و علی آلہ وسلم نے تقریباً ہمیشہ ایسا ہی کِیا ہے، جیسا کہ ابھی ذِکر کی گئی احادیث میں ہے، اور مزید بھی بہت سی صحیح احادیث ملتی ہیں، لیکن اگر کوئی اپنی قُربانی کا جانور کِسی اور سے ذبح کروائے تو کوئی ممانعت نہیں۔

دلیل جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے حج کا سارا واقعہ بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں ثُمَّ انصَرَفَ اِلی المَنحَرِ فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّینَ بیدہ ثُمَّ اَعطَی عَلِیًّا فَنَحَرَ ما غَبَرَ پھر رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم قُربانی والی جگہ (مِنیٰ) کی طرف تشریف لے گئے اور اپنے ہاتھ (مُبارک)سے63جانور ذبح کیے اور پھر (ذبح کرنے والا ہتھیار) علی (رضی اللہ عنہ ُ)کو دے دیا اور باقی جانور علی رضی اللہ عنہ ُ نے ذبح کیے(صحیح مُسلم/حدیث 1216 /کتاب الحج /باب19)

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.