خدارا! اس تماشے کو روکیں - محمد اشفاق

ٹوئٹر پر گھومتے ہوئے اس ویڈیو کے لنک پر نگاہ پڑی مگر یہ سوچ کر نظرانداز کر دیا کہ جعلی ہوگا۔ کچھ دیر قبل دوست کی کال آئی تو انہوں نے بھی اس وڈیو کا ذکر کیا۔ چند سیکنڈ دیکھنے کا حوصلہ کیا اور اب کرب، غم و غصے اور بے بسی کی عجیب و غریب سی کیفیت میں یہ سطور لکھ رہا ہوں۔

جانے وہ اللہ ہم پر اتنا مہربان کیوں ہے کہ اس نے اب تک ہماری شکلیں مسخ کر کے ہمیں بندر اور خنزیر نہیں بنا دیا۔ ہماری ہر ہر حرکت ورنہ اس سے بھی بدتر سزا کی مستحق ہے۔ بتقاضائے بشریت کسی گناہ میں مبتلا ہو جانا ایک الگ معاملہ ہے، فرائض اور واجبات میں کوتاہی بھی سنگین جرم سہی مگر قابل فہم ہے۔ مگر جس طرح اب کھلّم کھلّا مذہبی عبادات کا مذاق اڑانے کا، انہیں پیسہ کمانے کا ذریعہ سمجھنے کا اور اپنی فطری خباثت کو مذہب کا لبادہ اوڑھانے کا جو چلن عام ہو چلا ہے، بخدا ڈر لگتا ہے کہ من حیث القوم ہم کسی بڑے عذاب میں نہ آ جائیں۔

ابتدا رمضان سے کی گئی، پہلے پہل کچھ ایسے کمرشل سامنے آئے جو رمضان کے روحانی پہلو کو اجاگر کرنے کی بجائے اسے ایک تفریح اور کھیل تماشا بنا کر دکھاتے رہے۔ پھر کچھ بدبختوں کو ایک نیا آئیڈیا سوجھا اور انہوں نے سچ مچ رمضان اور افطاری کو کھیل تماشا بنا کر رکھ دیا، میری مراد رمضان شوز سے ہے۔ جسے دیکھو ان بیہودہ پروگراموں کی مذمت کرتا دکھائی دیتا ہے، اور جسے دیکھو اسی کے گھر میں یہ رمضان شو چل رہے ہوتے ہیں۔ یہ ہے ہمارا اجتماعی کردار!

کچھ سالوں سے ہر بار قربانی کو متنازع بنانے کی کوشش بھی اب عام ہو کر، ناکام ہو کر بے توقیر ہو چکی ہے۔ مگر ہر سال کچھ حلقے کسی نہ کسی نئے زاویے سے قربانی کے مقاصد اور افادیت پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ یہ علمی اور فکری بحثیں ہیں جن کا علماء تسلی بخش جواب بھی دیتے رہتے ہیں۔ مگر جو منظر اس وڈیو میں دکھائی دیا ہے، بلاشبہ رونگٹے کھڑے کر دینے لائق ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عظیم المیہ - صائمہ وحید

ایک طویل القامت، خوبصورت، تنومند قربانی کا بیل ہے جس کی رسی ایک دوپٹے سے عاری خاتون نے تھام رکھی ہے، پس منظر میں ایک بیہودہ پنجابی گانا چل رہا ہے اور وہ خاتون اچانک اس گانے پر رقص کرنا شروع کر دیتی ہے۔ مجھ میں مزید دیکھنے کی تاب نہ رہی، ورنہ وڈیو ابھی باقی ہے۔

جس سوچ نے دل بوجھل کر کے رکھ دیا ہے وہ یہ کہ اس جانور کو اس مکروہ طریقے سے بیچنے کی کوشش کرنے والا بھی یقیناً مسلمان ہے۔ اس جانور کی رسی تھام کر اس کے اردگرد ناچنے والی عورت بھی یقیناً ہماری دینی بہن ہے اور تماش بینوں کا وہ بےتحاشا ہجوم بھی ہم مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ وہ کیا مجبوری ہے جس نے اس شخص کو پیسہ کمانے کے لیے یہ گھناؤنا ہتھکنڈا اختیار کروایا۔ اس عورت کے دل میں کیا ایک لمحے کو بھی یہ خیال آیا کہ ناچنے گانے کے تو ہزاروں مواقع اور بھی مل جائیں گے، کیا لازمی ہے کہ اللہ کے نبی کی سنت کا میں یوں مذاق اڑاؤں؟ وہاں موجود سینکڑوں تماشائیوں میں سے کسی ایک نے بھی یہ ہمت کیوں نہ کی کہ وہ سنتِ ابراہیمی کی اس بدترین توہین پر سراپا احتجاج بنتا۔ میں نہیں جانتا وہ پنجاب کا کون سا شہر ہے، جس کا یہ غلیظ منظر مجھے دیکھنے کو ملا، کیا وہاں کی منڈی کی انتظامیہ میں، وہاں سکیورٹی کی ذمہ داریاں انجام دیتے پولیس والوں میں، وہاں کی قریبی مسجد کے امام میں، اس شہر کی کسی مذہبی یا سیاسی تنظیم میں، وہاں کے بلدیاتی نمائندوں میں، وہاں کے ایم پی اے، ایم این اے میں، کیا کسی میں بھی اتنی جرات باقی نہیں رہی کہ یہ مکروہ دھندا بند کروا سکے؟ جو شخص یہ جانور اس خاتون کے مجرے سے متاثر ہو کر خریدے گا، وہ آخر کس دل کے ساتھ اس کی قربانی کرے گا اور اس پر اللہ کریم سے کس صلے کی توقع رکھے گا؟

یہ بھی پڑھیں:   عظیم المیہ - صائمہ وحید

اس کریہہ منظر کی وڈیو بنانے والے کی نیت بھی یقیناًاچھی ہوگی۔ وہ برائی کو بے نقاب کرنا چاہتا ہوگا، اسے پھیلانے والوں کے مقاصد بھی یقیناً نیک ہوں گے، میں بھی اس پر لکھ کر شاید اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر رہا ہوں۔ مگر ایک بار، خدارا ایک بار سوچیے گا ضرور کہ ہم سب میں سے کسی ایک کو بھی یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ زبان سے، یا زورِ بازو سے اس قبیح تماشے کو روکنے کی کوشش کرے۔ آج ابتدا ہے اس لیے شاید ہم اسے دل میں برا سمجھ کر اپنے ایمان کو شک کا فائدہ دے رہے ہیں، مگر یہی منظر ہر سال دہرایا جاتا رہا تو بہت جلد ہم اسے برا سمجھنا بھی چھوڑ دیں گے۔ بے غیرتی سے مہلک 'سلو پوائزن' اور کوئی نہیں۔ شاید اسے آج نہ روکا گیا تو چند سال بعد یہی عام ٹرینڈ بن جائے اور رمضان شوز کی طرح قربانی کی عید کا ایک عام نظارہ۔

ہمارے دل سخت ہوتے جا رہے ہیں، پتھروں سے بھی زیادہ سخت کہ پتھروں میں تو ایسے بھی ہیں جو خوفِ خدا سے شق ہو جایا کرتے ہیں۔

میری دلیل کے قارئین سے گزارش ہے کہ خدارا، اگر آپ کے شہر میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو اسے روکنے کی کوشش کیجیے، اگر آپ کے علم میں ہے کہ یہ فحش منڈی کہاں سجائی گئی ہے تو کمنٹس میں آگاہ فرمائیں تاکہ وہاں کی انتظامیہ سے شکایت کی جاسکے۔ میری مذہبی تنظیموں کے کرتا دھرتاؤں سے اور علمائے کرام سے اگر یہ تحریر ان کی نگاہوں سے گزرے تو دست بستہ درخواست ہے خدارا! لوگوں کو روکیے۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، اس سے پہلے کہ ہم پہ توبہ کا دروازہ بھی بند ہو جائے۔