قربانی، سنت یا ماڈلنگ - خدیجہ افضل مبشرہ

جس معاشرے میں بھوک کا راج ہو، وہاں ہوس کھلے عام ننگی ناچتی پھرتی ہے اور کوئی اسے نکیل بھی نہیں ڈال سکتا، کیونکہ بھوکے کو روٹی کی ضرورت ہے، نصیحت کی نہیں۔ اس صورت حال میں شہروں اور گردونواح میں آویزاں خوبرو خواتین سے سجے یہ بڑے بڑے بل بورڈز نام نہاد معاشی اور اخلاقی ترقی کے منہ پر طمانچے سے کم نہیں ہیں۔ اب تو ہمارے اخلاقی پستی کا یہ عالم ہے کہ سگریٹ اور شیونگ کے سامان کی خالص مردانہ چیز تک ہم عورت کو دکھائے بنا نہیں بیچ سکتے۔ ٹوتھ پیسٹ ہو یا واشنگ پاوڈر، چائے کی پتی ہو یا گھی اور تیل، جب تک اس میں صنف نازک اور ہلکے پھلکے سے لے کر زوردار تک کے ڈانس کا تڑکا نہ لگے، اس سے ہونے والی آمدنی حلال ہی نہیں ہوتی۔ اب اس سال ایک نیا ٹرینڈ متعارف ہو گیا ہے۔ قربانی کے جانور کی نمائش کے ساتھ ساتھ بنت حوا کی نمائش !

ان لڑکیوں کو تو کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کے لیے اصول ہے جو دِکھتا ہے وہ بکتا ہے۔ بھوکے کو تو روٹی چاہیے، بھلے دفتر میں بیٹھ کر کام کر کے ملے یا مزدوری کر کے۔ ان لڑکیوں کو تو نجانے کتنوں کے پیٹ کا جہنم بھرنا ہوتا ہو گا، بھلے کسی وحشی درندے کے ساتھ رات گزار کر یا ایک بے زبان حیوان کی رسی پکڑ کر اپنے جسم کی نمائش کر کے کرنا پڑے۔ ان کے نزدیک تو یہ پھر بھی ایک بہتر چوائس ہو گی۔ مگر ان مردوں کی "غیرت" کہاں مر گئی ہے جو اس فحاشی کو عام کر رہے ہیں ؟

ہم اپنے ماضی کو کیوں نہیں دیکھتے ؟ ہم اپنی تاریخ کیوں نہیں پڑھتے ؟ ہم کیوں نہیں سمجھتے سیکھتے ؟ ایک وہ عورت۔۔ جو اپنے پیاسے بچے کے لیے پانی کی تلاش میں سنگلاخ پہاڑوں پر دیوانہ وار دوڑی تو خدا کو اس کی مامتا پر اس قدر پیار آیا کہ اس کی اس دوڑ کو تمام مردوں کے لیے حج و عمرہ کا لازمی رکن قرار دے ڈالا۔

یہ بھی پڑھیں:   عظیم المیہ - صائمہ وحید

اور ایک یہ عورت، جو پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے آج بیل کی رسی تھامے موسیقی کی گونج پر تھرک رہی ہے۔

ایک وہ بیٹا، جس کی ایڑیاں زمین پر پڑیں تو خدا نے زمزم کا چشمہ جاری کر دیا، ایک یہ آج کی نسل کے بیٹے؟ جو مجمع میں بکرے اور بیل نہیں، اس تھرکتی ناچتی عورت کے رقص سے اپنی آنکھیں سینکنے آئے ہیں۔

کچھ تو لحاظ کیا ہوتا؟ جس نبی ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کرنے کے لیے یہ سب کیا جا رہا ہے، ان کی زندگی اور اہل خانہ سے ہی کچھ سیکھ لیا ہوتا، ان کی تعلیمات کی ہی کچھ لاج رکھی ہوتی؟

کیا کریں گے کل اگر روز قیامت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہم سب کے گریبان پکڑ کر اپنی سنت کی اس بے حرمتی کے بارے سوال کر ڈالا تو ؟

کیا روز محشر جب جانوروں کو زبان عطا کی جائے گی تو یہ معصوم بے زبان جانور ہماری حیوانیت کی داستان نہیں سنائیں گے؟

کس کام کی یہ قربانی ؟ کیسے ثواب کی امید ہو سکتی ہے اس سے ؟

اگر ان منڈی انتظامیہ اور جانوروں کے مالکان کی شرم نے خود کشی کر لی ہے تو ارباب اختیار سے استدعا ہے کہ اس کھلم کھلی بے حیائی کا نوٹس لیا جائے اور ایسا کرنے پر بھاری جرمانہ اور سزا کا اطلاق یقینی بنایا جائے۔ وگرنہ وہ وقت دور نہیں جب قربانی کے وقت مجروں کی محفلیں منعقد ہونے لگیں گی۔