قربانی پر ٹھمکے - احسان کوہاٹی

سیلانی آپ کا زیادہ وقت نہیں لے گا، بس تین مناظر آپ کے سامنے رکھے گا۔ جانتاہے کہ کل عید ہے، بہت سارے کام ادھورے پڑے ہیں، عید کی تیاری کرنی ہے، مویشی نہیں لیا تو لینا ہوگا، لے لیا ہے تواس کے کھل چارے کا انتظام کرنا ہوگا، قصاب سے بھی بات کرنا ہوگی، بہتیرے کام باقی ہیں۔ سیلانی آپ کو پہلا منظر دکھانے کے لیے زندہ دلوں کے شہر لاہورلیے چلتا ہے یہ وہاں کے کسی فارم ہاؤس کا منظر ہے جہاں خوبصورت وسیع شامیانہ کسی خاص تقریب کے اہتمام کا حصہ ہے۔ اس قسم کے شامیانے کبھی سرکس کے لیے لگا کرتے تھے، آجکل امراء اور متمول افراد اپنی تقریبات کے لیے یہ وی آئی پی شامیانے لگواتے ہیں۔ یہ عام شامیانوں سے تقریباً دگنے اونچے اور ہزار دو ہزار مہمانوں کو آرام سے سمو لیتے ہیں۔ لاہور کے فارم ہاؤس میں یہی وی آئی پی شامیانہ لگا ہوا تھا جس کے نیچے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی ان سب کی نظریں سامنے لگی ہوئی تھیں جہاں منفرد "کیٹ واک " ہونی تھی۔ کیٹ واک ایک خاص قسم کا فیشن شو ہوتا ہے جس میں سپاٹ چہروں والی پتلی دبلی ماڈلز نئے موسموں کے پہناوے پہن کر لوگوں کے سامنے مخصوص چال چلتی ہوئی آتی ہیں اور ان پر ایک نظر ڈال کر واپس لوٹ جاتی ہیں۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہونا تھالیکن یہاں یہ چال چوپایوں نے چلنی تھی بلکہ ان گائے بیل بچھڑوں سے چلوانی تھی، جنہیں ہم سرکار دو عالم ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ناقابل یقین قربانی کی یاد میں ذبح کرکے حکم اللہ کی تعمیل کرتے ہیں۔

لیجیے پروگرام شروع ہوا، تیز موسیقی میں ایک سرخی مائل اور جسیم گائے برآمد ہوئی، اس کی رسی ایک لہراتی بل کھاتی خاتون نے تھام رکھی تھی۔ میک اپ کی دبیز تہہ چہرے پر جمائے وہ خاتون اس سرخ گائے کی نمائش کرنے لگیں۔ لوگ اپنی نشستوں سے اٹھ کر آگئے، ہیجان انگیز تیز موسیقی میں تیز روشنیاں ماحول کو الگ ہی رنگ دے رہی تھیں۔ یہ خاتون ماڈل اور فنکارہ کہلاتی ہیں، ان کو فن دیکھنا ہو تو لاہور کے الحمراء ہال تک جانے کی زحمت کرنا ہوگی، جہاں اگلی نشستوں پر بیٹھے حرام کمائی پر پلے جسم ہزار ہزار کے نوٹوں پر اپنا سیل نمبر لکھ کر ان پر نچھاور کرتے ہیں۔

موسیقی کی تیز لے پر یہ خاتون زیادہ بے قابو نہیں ہوئیں، لہرا کر بل کھا کرجھوم جھام کر گائے کی اور اپنے جسم کے خدوخال کی نمائش کرکے واپس لوٹ گئیں ۔ اس کے بعد دوسری اور تیسری "فن کارہ" آئیں اور تماش بینوں کو ادائیں دکھا کر لوٹ گئیں۔ ان کے بعد سیاہ ریشمی لباس میں آنے والی مسماۃ نے تو حد ہی کردی، اس نے گائے کی رسی تھام کر اس کے آگے باقاعدہ ناچنا شروع کر دیا۔ ہیجان انگیزموسیقی پرکولہے مٹکا مٹکا کر، ٹھمکے لگا لگا اور زلفیں جھٹک جھٹک کر تماش بینو ں کے جذبات برانگیختہ کیے اور پوری قوم کے لیے ایک نیا سوال چھوڑ کر چلی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   عظیم المیہ - صائمہ وحید

یہ دوسرا منظر کراچی گلشن اقبال کا ہے۔ یہاں ایک صاحب کو اللہ رب العالمین نے خوب دے رکھا ہے۔ وہ ہر بقر عید پر کئی کروڑ روپے کے مویشی ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کردیتے ہیں لیکن اس سارے عمل سے پہلے وہ اس کی بھرپور نمائش کرنا نہیں بھولتے۔ گلشن اقبال میں ان مویشیوں کے لیے شامیانے لگائے جاتے ہیں، انہیں سجایا جاتا ہے روشنیوں کا خصوصی انتطام کیا جاتا ہے۔ ان مویشیوں کے لیے پنکھے لگائے جاتے ہیں۔ کئی ٹرک نرم بالو مٹی منگوائی جاتی ہے اور پھر وہاں ملازمین کی ایک فوج تعینات کر دی جاتی ہے۔ ان میں سے ایک ٹولی کا کام مویشیوں کی دیکھ بھال کا ہوتا ہے تو دوسری کا کام چارہ لانے کھلانے کا، تیسری کا کام اس نمائش گھر میں آنے والے لوگوں کو مویشیوں سے دوررکھنے کا۔ یہ صاحب بکرے دنبوں بھیڑ سے لے کر ساہیوال، چولستانی، آسٹریلین گائے بیل بچھڑوں اور اونٹ تک کا ذبیحہ کرتے ہیں۔ ان کی اس مشہور قربانی کے چرچے دور دور تک ہوتے ہیں اور اب تو علاقے کیا شہر سے بھی نکل چکے ہیں، یوٹیوب پر اس قربانی کی وڈیوز موجود ہیں۔

سیلانی نے ٹیلی ویژن پر لاہور کے فارم ہاؤس میں قربانی کے مویشیوں کے ساتھ بازاری عورتوں کا رقص بھی دیکھا اورگلشن اقبال میں اللہ کے حکم کی تعمیل کی نمائش بھی۔ وہ اتنا کچھ دیکھ چکا ہے کہ اب اسے زیادہ حیرت نہیں ہوتی لیکن کبھی کبھار کچھ انوکھا ہو جائے تو وہ چونک ضرور جاتا ہے ۔ یہاں بھی سیلانی ذرا چونک سا گیا۔ جب اس نے لاہور میں ہونے والے اس بھونڈی کاؤ واک کی نیوز چینلز پر رپورٹس دیکھیں۔ اس نے رینکنگ میں چھ بڑے نیوز چینلز میں سے ایک چینل پر اس کی رپورٹ چلتی دیکھی تھی، دیگر نیوز چینلز نے بھی اسے رپورٹ کیا ان رپورٹوں میں اس نے اس رقاصہ کو بیل کی رسی پکڑ کر تماش بینوں کے سامنے تھرکتے ٹھمکتے اور ناچتے دیکھا۔ سیلانی نیوز روم میں کوئی کام کررہا تھا جب اس کی نظر ٹیلی ویژن اسکرین پر پڑی اور پھر وہیں چپک کر رہ گئی۔ وہ جانتا تو تھا کہ اب قربانی کے مویشیوں کو بھی سجاسنوار کر ان کی نمائش کی جاتی ہے، باقاعدہ کیٹ واک کرائی جاتی ہے، نیوز چینلز کے دعوت نامے بھیجے جاتے ہیں اور نیوز چینلز اپنے رپورٹروں کیمرامینوں سے اس تقریب با سعید کی عکس بندی کروا کر گانوں کے ساتھ نیوزرپورٹس بنواتے ہیں اور خبرناموں کی ہیڈلائنز میں چلاتے ہیں، کئی کئی بار چلاتے ہیں لیکن لاہور میں تو اخیر ہی ہو گئی۔ جو ہوا سو ہوا لیکن ان نیوز چینل کے اسائمنٹ ایڈیٹر نے کچھ سوچا نہ run down producerنے کو خیال آیا، کسی نیوز پروڈیوسر کو حیاء آئی نہ کنٹرولر نیوز کے دل میں خیال آیا کہ اس کے چینل کی اسکرین پر کیا چلنے جا رہا ہے؟ دکھ تو اس بات پر کہ جن نیوز چینلز کے مالکان مذہبی پس منظر رکھتے ہیں، زمانہ طالب علمی میں کالجوں یونی ورسٹیوں میں دینی تنظیموں سے منسلک رہے ہیں، یہ بدبو دار قے ان کے نیوز چینل نے بھی کی کہ جنگ اور محبت کی طرح ریٹنگ کے چکر میں بہت کچھ جائز ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عظیم المیہ - صائمہ وحید

نیوز چینل ۲۴ کے پروگرام اختلاف رائے کے میزبان نے دینی غیرت کامظاہرہ کیا اور اس لچر پروگرام میں شریک رقاصہ میگھا کو بھی بلا لیا۔ پہلے انہیں ان کا وڈیو کلپ دکھایا پھر ان کی ساتھی رقاصہ کا رقص دکھایا اور پوچھا اب آپ کیا فرماتی ہیں ؟پھر انہوں نے جو جو فرمایا وہ سننے اور اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کے لیے بہت کافی ہے۔ پہلے تو انہوں نے وضاحت کی کہ انہوں نے رقص نہیں کیا۔ میزبان نے اس پر ان کے جھومنے جھامنے کا وڈیو دوبارہ دکھا کر فیصلہ ناظرین پر چھوڑ دیا۔ میگھا کا کہنا تھا کہ یہ اس پروگرام کے خلاف سازش کی گئی ہے، ناچنے والی خاتون کو گائے کی رسی تھما کر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نچایا گیا تاکہ اسے میڈیا میں لا کر اچھالا جائے۔ میگھا نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ پکی مسلمان ہیں اور انہوں نے اس بار کئی صحافیوں کو حجاز مقدس بھیجا ہے۔ یقیناً جائے نمازیں سی سی کر اور مسجدوں کے سامنے مسواکیں بیچ بیچ کرانہوں نے یہ کار خیر کیا ہوگا، اللہ اسے قبول کرے۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ ایک خالص دینی فریضے کے مذاق کا وہ حصہ کیوں بنیں؟کیا غریب صحافیوں کو مکہ مدینہ بھجوانے سے خالص دینے شرعی فرض کا مذاق جائز ہو جاتا ہے ؟ان کی قلانچیں بھرنے کے لیے لاہور کا الحمراء ہال کافی نہیں کہ اب وہ قربانی کے مویشیوں کی رسیاں پکڑ کر تھرکنے آگئیں؟

پروگرام میں میگھا کو متنازع شہرت کے حامل مفتی قوی سے الجھتا چھوڑ کرسیلانی سوچنے لگاکہ اس ٹھرک پن کو لگام نہ ڈالی گئی تو اگلا مجراحاجیوں کی واپسی پر ان کا احرام لہرا لہرا کر ہو رہا ہوگا۔ ناچنے گانے کے لیے اور تہوار، دن، مواقع کیا کم ہیں اب جو ہم نے دینی فرائض کو اس لچر پن قریب کر لیا ہے؟ قربانی کا تعلق دو جلیل القدر انبیاء سے ہے اللہ کی رضا کے لیے ایک باپ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہا ہے اورہم اس فریضے سے اخلاص، للہیت کو ذبح کر رہے ہیں۔ ہم نے رمضان کو تو میڈیا کی مدد سے میلہ بنا دیا، اب اس دینی فریضے کو بھی میلے کی شکل دے رہے ہیں یقیناً قوم کے نام پر پاکستانیوں کا ہجوم مراثی نہیں تو پھر اس مراثی پن پر سب کی زبانیں تالوؤں سے کیوں لگی ہوئی ہیں ؟سیاسی لیڈروں کے لیے زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگالگا کر گلے بٹھانے والے اس نمائش پر کہاں جا بیٹھے ہیں؟ سیلانی یہ سوچتے ہوئے غریب صحافیوں کو حجاز مقدس کے مبارک سفر پر بھیجنے والی نیک دل رقاصہ کو عقیدت بھری نظروں سے دیکھنے لگا اور دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.