براہیم کا ایماں پیدا - بنت حریم

عراق کے شہر اُر میں وسیع و عریض میدان میں لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اور اُس مجمعے کے بیچ و بیچ ایک شخص بطور مجرم کھڑا ہے گویا اُس نے کوئی انہونی بات کہی یا انہونا کام کیا ہے۔ مگر اس کا چہرہ خوش، مطمئن، جیسے ہر آزمائش کو عبور کرنے کے لیے تیار ہے نہ کسی بادشاہ کا خوف نہ ہی لوگوں کا خوف۔

دوسری طرف بادشاہ اپنے تخت پر پورے شان و شوکت سے براجمان ہے، اس کا غرور اُس کے چہرے سے عیاں ہے۔ طویل خاموشی کا سحر یکایک بادشاہ کی کرخت آواز سے ٹوٹ جاتا ہے۔

"ڈال دو اِس شخص کو آگ میں "۔بادشاہ کی طرف سے فیصلہ سُنا دِیا گیا

"آخر اِس کا قصور کیا ہے ؟" مجمع میں چہ مگوئیاں شروع ہو جاتی ہیں۔

بتانے والا بتلاتا ہے کہ یہ شخص باغی ہے، اپنے دین کا منکر ہے اور ہمارے معبدوں سے بے زاری اختیار کیے ہوئے ہے۔

کہتاہے کہ رب کوئی اورہے۔ کوئی اِس سے پوچھے تو سہی۔ کیا اِس کے آبا و اجداد اِسی دین کے مقلّد نہیں تھے ؟

پہلاشخص: کیا کہتا ہے ہمارے خداؤں کے متعلق؟

دوسراشخص: کہتا ہے کہ کیوں عبادت کرتے ہو اُن کی جو نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں؟ نفع و نقصان دینے پر بھی قادر نہیں۔میری پیروی اختیارکرومیں سیدھے راستے کی طرف تمہاری رہنمائی کروں گا۔

پہلاشخص : تم لوگ اس کو کوئی جواب نہیں دیتے؟

دوسراشخص : کیوں نہیں دیتے ہم کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آبا و اجدادکو ایسا کرتے ہوئے پایا ہے۔

کہتا ہے کہ پھر تو تم اور تمہارے آبا و اجداد کھلی گمراہی میں ہو۔اگر تم لوگوں نے میری بات نہ مانی تو میں تمہیں رحمان کے عذاب سے ڈراتا ہوں۔ ہم دیکھتے ہیں عذاب ہم پر آتا ہے یا اِس پر؟

پہلاشخص : اچھا، بغاوت کی سزا دی جا رہی ہے اِسے ؟

صرف لفظی بغاوت نہیں۔ تیسرے شخص نے اچانک سے گفتگو میں مداخلت کی۔ اِس نے ہمارے خداؤں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دِیے ہیں۔

پہلاشخص : مگر تم لوگوں کے پاس کیا ثبوت ہے کہ اس نے ہی ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ فعل کیاہے۔ کوئی اور بھی تو کر سکتا ہے ناں؟

اِس "مجرم" کے چہرے پر جو اطمینان تھا اُسے دِیکھ کرکوئی بھی یہ ماننے کو تیار نہ تھا کہ یہ معصوم صفت ایسا بھی کر سکتا ہے اگر گناہ کیا بھی ہے تو اس کا چہرہ اِتنا مطمئن کیوں ہے؟

دوسراشخص : ہم نے اِس کو بہت دفعہ اپنے خداؤں کے خلاف بولتے سنا ہے۔ کہتاہے ہمارے خدابالکل بے بس ہیں اور ہم اِن سے کسی قسم کے خیر کی توقع نہ رکھیں۔

جب اِس سے پوچھا کہ تم نے یہ حرکت کیوں کی ؟ تو کہتا ہے میں نے کچھ نہیں کیا۔یہ سب بڑے خدا نے کیا ہے یقین نہیں آتاتو اِسی سے پوچھ لو۔

پہلاشخص : کیا کہہ رہے ہو؟ پھر تو اِس نے خدا کا غضب مول لیا ہے۔خداکہیں ہم سے بھی ناراض نہ ہو جائے کہیں ہم بھی اُس کے عتاب کا شکار نہ ہو جائیں۔ جلدی سزا دواِس کو!

ہاں ہاں جلدی کرو!! بہت سی آوازیں بلند ہوتی ہیں۔

اِس شخص کو آگ میں ڈالا دِیاجاتا ہے۔ مجمع میں شریک ہر فرد کے چہرے پرطمانیت بکھر جاتی ہے۔ جیسے بہت بڑی بلا ٹل گئی ہواُن کے سر سے۔

مگر یہ کیا؟ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں۔ ایسا معجزہ نہ تو کبھی کانوں نے سنا اور نہ انکھوں نے دِیکھا۔

وہ شخص صحیح و سالم اگ سے نکل آیا۔یہ کیسی ہستی ہے جس کے لیے اگ ا پنی فطرت سے بغاوت کرنے پر مجبور ہو گئی ہے؟ قلناینار کونی برداً وسلماًعلی ابراہیم

اِس غیر فطری عمل کو دیکھ کر لوگ اپنے اپنے ضمیر کی طرف پلٹے یہ شخص سچا ہے اور ہم ہی ظالم ہیں مگر پھر اِن کی سوچ پلٹ گئی اور سب اِس شخص کو برا بھلا کہنے لگے۔

مگر بغیر کچھ کہے وہ شخص اپنے دو ہم خیال ساتھیوں کے ہمراہ اُس علاقے سے کوچ کر گیا۔اُس کی خاموشی گویا یہ پیغام دے رہی ہوکہ میں نے تم پراپنی حجت تمام کر دی۔


یہ محترم، بزرگ و برتر ہستی جن کی پوری زندگی اطاعت، قربانیوں اور جہد مسلسل میں گزری ، جن کو اللہ نے پرہیزگاروں کا امام اور خلیل اللہ کے لقب سے نوازایہ ہستی حضرت ابراہیم ؑکی ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ نہ صرف مسلمانوں بلکہ یہودو نصاریٰ کے نزدیک بھی بزرگ، قابل احترام وقابل ِ تقلید ہستی ہیں۔ الہامی کتابوں میں حضرت نوح ؑ کے بعد حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت محمدﷺ کا تذکرہ کثرت سے ہواہے۔ تورات میں آپؑ کا کا نام ابراہام اور ابراہیم ؑ ہے۔ سریانی زبان میں ابراہیم کے معنی مہربان باپ کے ہیں جسے عربی میں اَب رحیم کہا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کا سن ولادت محقق سرچارلس مارٹن کے مطابق۲۱۲۰ق م ہے۔ آپ ؑ کے والد کا نام تارخ عربی زبان میں جس کا تلفظ ازر ہے۔ آپ ؑ کا ابائی وطن بابل یا کلدانیہ ہے جدید جغرافیہ میں اِسی کو عراق کہتے ہیں۔ جس شہر میں آپ ؑ کی ولادت ہوئی تورات میں اُسے اُر بتلایا گیا۔ آپؑ کا گھرانہ بت پرست تھا۔ آپؑ کے والد بتوں کو تراشتے تھے مگر حضرت ابراہیم ؑکو شروع ہی سے بتوں سے سخت نفرت تھی۔ آپؑ بچپن میں بتوں پر گھڑسواری کرتے اِن سے طرح طرح کے سوالات کرتے۔ مگر پتھر کے تراشیدہ بت بولنے کی سکت کہاں رکھتے ہیں؟ لہذاٰحضرت ابراہیم ؑ کو اپنے باپ داد ا کے دین نے شک میں مبتلا کر دِیا۔ پھر اللہ رب العالمین نے اپنی رحمت سے ابراہیمؑ کو جوانی میں ہی رشد وہدایت، خود شناسی اور خداشناسی کی دولت سے مالا مال کر دِیا۔ آپؑ نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی پرستش کی دعوت دِی۔ آپؑ نے تبلیغ کا آغازاپنے گھرانے سے کیا۔ قران اِس واقعے کو اِس طرح بیان کرتا ہے کہ " اِس کتاب میں ابراہیم ؑ کاقصہ یاد کرو جب ابراہیم ؑ نے اپنے والد سے کہا کہ اے اباجان !آپ کیوں اُن کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں ا ور آپ کو کچھ نفع ونقصان نہیں دیتے۔ اے میرے ابا جان میرے پاس علم آیا ہے جو کہ آپ کے پاس نہیں۔ میری پیروی کریں میں آپ کو سیدھا راستہ بتاؤں گا اباجان آپ شیطان کی بندگی نہ کریں۔شیطان تو رحمان کا نافرمان ہے۔ اباجان مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمان کے عذاب میں مبتلا نہ ہو جائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر نہ رہیں۔

باپ نے کہاا براہیم تو میرے معبودوں سے پھر گیا ہے ؟ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔ بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہو جا۔ ابراہیم ؑ نے کہا سلا م ہے آپ پر۔ آپ کے لیے میں اپنے رب سے دعا کروں گا کہ میرا رب آپ کو معاف کردے جوبڑا مہربان ہے۔ (سورۃ مریم)

اپنے والد کو دعوت دینے کے بعد شرک میں مبتلا اپنی قوم کی طرف متوجہ ہوئے اور اُن کو خدائے واحد و لاشریک کی بندگی کی ترغیب دِی۔ مگر عرصہ ہائے دراز سے شرک و نجاست میں مبتلا یہ قوم کس طرح اپنے آبا و اجداد کے دِین کو چھوڑ کر ایک نوجوان کی آواز پر لبیک کہہ سکتی تھی۔ آپؑ کی مخالفت پر دشمن اول روز سے ہی کمر بستہ تھامگر اپ نے قل امنت باللہ ثم استقم کی روش ختیار کی اور بے خطر آتش نمرود میں کود پڑے۔

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشائے لبِ بام ابھی

آپؑ کو اپنے مشن کی تکمیل کے لیے نوّے سال کی عمر میں اللہ رب العزت نے اولادنرینہ سے نوازا۔ حضرت اسماعیل ؑ،حضرت ہاجرہ ؓ کے بطن سے پیدا ہوئے۔ ابھی شیرخوراگی کی عمر میں تھے کہ اللہ نے اِس نعمت عظیم کے ذریعے آپؑ کو آزمایا۔ حکم دِیا کہ اپنی بیوی و بچے کو بیابان جنگل میں چھوڑ دو۔آپ ؑ نے اللہ رب العزت کے حکم پر لبیک کہا۔یہ آزمائش آپؑ کی روحانی و اخلاقی ترقی کا ذریعہ بنی۔ حضرت ہاجرہ نے بھی اطاعت کی بہترین مثال قائم کی، کہااگر اپ ہمیں اللہ کے حکم پر چھوڑے جا رہے ہیں تو مجھے اُمید ہے کہ اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ حقیقتاً جو شخص اللہ پر توکل رکھے تواللہ اُس کی قدر کرتا ہے۔اللہ نے صفاء و مروہ کی صورت میں حضرت ہاجرہ کی قربانی کو رہتی دنیا تک محفوظ کردِیا۔ کچھ عرصے بعد اللہ ربی نے حضرت ابراہیم ؑکی دوبارہ آزمائش کی ان کو خواب میں بیٹے کی قربانی دکھائی۔ آپؑ نے اِس خواب کو سچ کر دکھایا

یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی

سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی

اللہ نے اس عظیم قربانی کو قبول کیااور ابراہیم ؑ کی سنت کو قیامت تک کے لیے جاری و ساری کر دِیا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العالمین کا عملی ثبوت پیش کیا۔ اب اِس عہدکاعملی تقاضا ہم سے ہے۔ حضرت ابراہیم ؑنے ہر آزمائش میں سو فیصدکامیابی حاصل کی مگر احیائے دین کے لیے ہم میں سے ہر فرد کی آزمائش جاری ہے کثرت مال، کثرت اولاد،جاہ و حشم کے ذریعے۔ہمارے اِر دگر د بہت سے بت موجود ہیں فرقہ پرستی ونسل پرستی کابت، سیاسی اجارہ داری کابت، طاغوتی طاقت کا بت، لا دینیت و لبرل پسندی کا بت۔ہمیں اِن تما م بتوں کو پاش پاش کرنا ہے۔ عید الاضحیٰ دراصل حضرت ابراہیم ؑ کی سنت کو زندہ کرنے کے لیے منائی جاتی ہے کہ ہر طاقت کے سامنے بے زاری اختیار کرو اور حق پر ڈٹ جاؤ۔بقو ل اقبالؒ:

آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا

آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا