عیدِ قرباں کے رنگ، گائے کے سنگ - ڈاکٹر ساجدہ نعمان

ابھی ابھی تو سب پرچم کو ہاتھ میں اٹھائے دوڑ بھاگ رہے تھے اور اب گائے کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ اوّل الذکر قومی جذبہ کا اظہار اور آخرالذکر مذہبی فریضے کی تکمیل۔ اگست شاندار رہا، دو Celebrations پھر بارش وقتاً فوقتاًاپنے ہونے کا احساس دلاتی رہی۔ اللہ تعالٰی تمام ہم وطنوں کو اسی طرح خوشی کے مواقع فراہم کرتا رہے اور ہم سب یونہی اپنے روایتوں کے امین بنے رہیں۔

کسی نے کہا، لڑکوں کا آجکل یہ کہتے وقت گزر رہا ہوگا کہ" باجی، آگے بڑھیں,ڈریں مت، بکرا کچھ نہیں کرے گا،اوئے جگہ بناؤ ان کے لئے۔" یہ ٹرینڈ بھی اِن ہے، "بھائی کتنے کا لیا؟ تم لوگوں کا بکرا کتنے کا آیا؟ واہ بھئی گائے کہاں سے لی؟" اورپھر جوابی ردّ ِعمل "یار، تم نے تو میدان مار لیا! قیمت بھی ٹھیک اور جانور بھی ٹاپ کا، چار من گوشت تو نکلے گا، یار تم کو چُونالگا گیا، بہت مہنگا پڑ گیا۔ خیر کوئی بات نہیں جانور ہےپیارا" غرض جتنےلوگ اتنی باتیں اور بچّوں کے بارےمیں نہ پوچھیں، نہ وقت پر سو رہے ہیں، نہ کھا رہے ہیں، اسکول بھی نہ جانے کس دل سے جا رہے ہیں وہ وہی جانیں۔

اس اگست میں " پوں پوں باجے" کا بھی بڑا چرچا رہا۔ میرے خیال سے یہ سوئی ہوئی قوم کو جگانے کی ادنٰی سی کوشش تھی۔ بہت شاندار طریقے سے، ہر خاص و عام جگہو ں اور طبقات نےجشن منایا۔ اردگرد تھوڑے بہت جانور موجود تو تھے لیکن کسی نے کو ئی خاص توجہ نہ دیالیکن جونہی قوم 14 اگست کی جشن سے فارغ ہوئی گائے اور بکرے منتظر بیٹھے ہوئے تھےاور اِدھر سب نے پرچم کا ڈ نڈا چھوڑ ا اورگائے کی رسّی پکڑ ی۔

صبح سےشام ہر بات کی تان گائےاور بکرے سے شروع اور ختم۔ کچھ بچے تو رسّی لے کر ایک دوسرے کو گائے بنا کر گھاس کِھلاتے، دوڑاتےاور بیوپاری کے طرح خریدوفروخت بھی کرتے رہتے ہیں۔ یہ آجکل ان کا پسندیدہ کھیل بنا ہوا ہے۔ گائے کب بیٹھ رہی ہے؟ کتنا کھانا کھارہی ہے؟ سب حساب کتا ب پکّا۔ ایک صاحب کی وہ درخواست بھی خبروں کی زینت بنی رہی کہ برائے مہربانی مجھے چھٹی عنایت کر دیجیے، عید آنے میں صرف چند دن باقی ہے اور مجھے اپنے گائے کے ساتھ وقت گزارنا ہے۔ افسرِ بالا کا جواب ملاحظہ فرمائے کہ کیا آپ نے گائے سے پوچھا کہ وہ آپ کے ساتھ وقت گزارنا پسند کرے گی؟

کچھ تو عجزوانکساری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور کچھ گردن میں سریا ڈال کر اَکڑتے ہیں، لیکن نیت خالص کریں، اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اور شعائرِاسلام کو زندہ رکھنے کے لیے جانور خریدے جاتے ہیں ناکہ بڑائی دکھانے کے لیے جو کہ ہمیں زیب بھی نہیں دیتی۔ بڑائی صرف پروردگار کے لیے ہے۔ اللہ ہمارے دلوں میں اخلاص بھر دیں اور ہم یہ اہم فریضہ کی تکمیل صرف اور صرف اس رب کی رضااور محبت کے لیے کریں۔

اب قربانی کے دوسرے مرحلے میں بھی بڑی کہانیاں، گائے ذبح ہونے کے بعدجلد از جلد کلیجی سے ناشتہ کرنے کی بے تابی۔ مرد حضرات یعنی بھائی ملکر کھال اتارنے سے لے کر حصّے بنانے میں مصروف اور بھابھی ، بہن کچن میں فرمائشی ڈش بنانے میں مشغول۔ قصائی سے زیادہ مزہ آتاہے جب گھر کے سارے افراد ملکر گائے بناتے ہیں۔ کسی نے کہا یہ عید تو صرف لڑ کیوں کے لیے ہوتی ہے، ہم لڑکے تو قصائی بن جاتے ہیں لیکن میں کہتی ہوں گوشت کیا آپ کچّا کھاتے ہیں ؟ مختلف مزے مزے کی ڈش لڑکیاں ہی بناتی ہیں۔ کسی منچلے کا پیغام بھی پڑھیے"دروازہ تم ہی کھولنے آنا، میں گوشت دینے آؤں گا" ہائے حسرت ِ دید۔ پھر دوست واحباب کے ساتھ باربی کیو پارٹی، وہ ہر طرف پھیلی خوشبو، وہ یادیں، ہنسنا ہنسانا اور بھر پور لطف اندوز ہونا۔ یارسلامت..محفل آباد!

قربانی کے جانور کی خدمت کرنا، پیار و محبت سےرکھنا، اچھے سے اچھا کھلانا یہ سب اللہ کو بھی پسند ہے کہ میرے بندے اپنی محبوب چیز میری خوشنودی کے خاطر قربان کر رہے ہیں۔

سلامت رہے یہ جذبہ ، زندہ رہیں شعائرِ اسلام، برقرار رہے روایتِ اسلاف، یہ دعا ہے رب ِ کائنات سے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com