تیرے معصوم سوالوں سے پریشان ہوں - شمسہ ارشد

فرض کرو کہ اس ملک کا ایک روپیہ بھی نا کھایا ہو

فرض کرو پورے ملک نے مل کر الزام لگایا ہو

فرض کرو مریم کی لائف میں کوئی قطری نہ آیا ہو

فرض کرو مریم بی بی نا رکهتی کچھ سرمایا ہو

فرض کرو بائی پاس کا تم نے کوئی ڈھونگ رچایا ہو

فرض کرو کوئی تہوار تم نے لندن میں نہ منایا ہو

فرض کرو بیگم کا کینسر بس معصوم سا ناٹک ہو

فرض کرو کہ اس کے سوا کچھ اور نہ ذہن میں آیا ہو

فرض کرو پاناما میں تمہیں کسی سازش نے پھنسایا ہو

فرض کرو کہ بے چارے کی بے جا پلٹی کایا ہو

فرض کرو کہ اس پر کوئی بھوت بلا کا سایہ ہو

فرض کرو کپتان کے سر میں اک خنّاس سمایا ہو

فرض کرو کہ ساری دنیا جھوٹی ہو ہرجائی ہو

تو تھوک دے ساری دنیا پر کیا رکھا ہے اس شہرت میں

بس اللہ اللہ کر پیارے اور اللہ ہی سے ڈر پیارے

تو کیا تھا، کیا ہے، کیا ہوگا

ایک مٹی کا دھیلا ہوگا

"کیوں نکالا "پوچھ کے کیا ہوگا

مانا دل تیرا دکھا ہوگا

بس بہت کمایا نام و دھن

اب ایک اچھا انسان بھی بن

چل چھوڑ دے ساری ٹینشن کو

اور بھول جا اگلے الیکشن کو

سب چھوڑ کے دنیاداری کو بس انشاء جی کو پڑھتا جا

اور کہتا جا بس کہتا جا تو جھوم جھوم کے کہتا جا

سب مایا ہے ... سب مایا ہے ..!