ابّا مارے گا - عبداللہ لیاقت

ہو سکتا ہے آپ کو میری کہانی سنی سنی لگے۔ دراصل یہ میرے ابّا کی کہانی ہے جو پنڈ کا چوہدری ہے۔ 1947 میں بزرگوں کی کوششوں اور دعاؤں سے پاکستان بنتے ہی پیدا ہوا۔ ماں باپ نے اس کا نام بڑے شوق سے عسکری رکھا۔ بچپن سے ہی اس میں چوہدری بننے کی تمام خصوصیات تھیں۔ ہر وقت گھر کے مسئلوں میں ٹانگ اڑانے سے ماں باپ بہت تنگ تھے۔ سوچتے تھے کہ اسے کیوں پیدا کیا جو سہارا بننے کی بجائے ہمیں کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔ ساری جائيداد اور زمینوں پر قبضہ کر کے بیٹھ گیا ہے۔ انہوں نے سوچا اس کی شادی کردی جائے، بہت منتوں کے بعد شادی کے لیے راضی کیا گیا۔

شادی کی بعد ابّا کی تین اولادیں ہوئیں۔ دو جڑواں بھائی جن کا نام سیاستدان رکھا گیا اور ان کے بعد میں سب سے چھوٹا اور شریف پیدا ہوا، جس کا نام ابّا نے بہت شوق سے غریب رکھا۔ ابا کہتا ہے کے بھائیوں میں کوئی نظر وٹّو بھی تو ہونا چاہیے۔ دونوں بھائی تو بڑے ہوتے ہی ایک دوسرے سے الگ ہو گئے اور ہم سے دور رہنے لگے۔ ان کی لڑائی میں ابا کا بہت ہاتھ تھا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ میرا جانشین کون بنے گا ؟

میں تو کسی کھاتے میں ہی نہیں آتا تھا۔ اسی لڑائی جھگڑے میں ابّا کبھی کسی بھائی کا ساتھ دیتا، کبھی کسی کا۔ اس طرح کرتے کرتے ابا کی ساری زمینیں اجڑ گئیں، کاروبار تباہ ہو گیا۔ اب پنڈ کا چوہدری کبھی برداشت نہیں کرتا کہ وہ عیش و عشرت کی زندگی چھوڑ دے۔ اس لیے ابا نے باہر سے امداد لینے کا فیصلہ کیا اور اس کے حکم کے مطابق بھائی جو کہ نکمے تھے ان سے کام لینے کی بجائے اس نے میرا سہارا لیا اور مجھے نوکری کرنے پر مجبور کیا تا کہ وہ امداد کے پیسے واپس کر سکے اور گھر بھی چل سکے۔ میں کچھ پڑھا لکھا تھا، ڈھنگ کی نوکری کیا ملی بھائی اور ابّا مجھ سے خوش ہو گئے۔ انہوں نے پہلے بہت تعریفیں کی اور بعد میں سارے پیسے ہڑپ کرنے شروع کر دیے۔

یہ بھی پڑھیں:   نوعمر بچے بات کیوں نہیں سنتے؟ حنا تحسین طالب

میری تنخواہ 100 روپے تھی، 30ابّا لے لیتا، 20 بھائی اور 50 سے قرضہ اتارا جاتا اور مجھے پھوٹی کوڑی بھی نہ ملتی۔ میرا چہرہ دن بدن محنت کر کے کمزور ہوتا جا رہا تھا اور ابا اور بھائی عیاشی کرتے رہتے تھے۔ کبھی تو دل کرتا تھا بھاگ جاؤں یہاں سے، مگر گھر چھوڑ کے اپنا خون چھوڑ کے کہا جاتا میں؟ میں نے اور محنت کی اور انہوں نے اور محنت سے مجھے لوٹنا شروع کر دیا اور گھر میں میری ایک نہ چلتی۔ ابا کبھی ایک بھائی اپنا مہرہ بنا کے استعمال کرتا کبھی دوسرے کو۔ اصل میں پنڈ کا چوہدری ابا ہی تھا۔ اس نے اپنی عیاشی کے لیے اور قرضے لینے شروع کیے اور لوگوں کی زمینوں پر بھی قبضہ کر لیا۔ پیسے آ جانے کے باوجود میرے پاس ایک روپیہ بھی نہ رہنے دیتا۔ اکثر کہتا تھا "بیٹا! میرا تو سب توں بیبا پتر اے،" اور میری ہی گردن پر چھری پھیرتا تھا۔ میں نہ تو ابا کے مرنے کی دعا کر سکتا تھا نہ بھائیوں کے مرنے کی۔

ایک دن میں نے جوش میں آ کر بغاوت کا فیصلہ کیا۔ سوچا سب کو ابا کی اصلیت بتاؤں گا اور پیسے بھی نہیں دوں گا۔ میں ابّا کے پاس گیا اور کہا کہ میں آپ کی اصلیت سب کو بتا دوں گا اور اب اپنی حلال کی کمائی آپ کو نہیں دوں گا۔ پھر ابّا نے لتر اتارا اور مارنا شروع کردیا۔ اتنا مارا کہ میرے پنڈ والوں نے مجھے پہچانے سے انکار کر دیا۔ بھائیوں نے ابا کے ڈر کی وجہ سے مجھے ہاتھ بھی نہ لگایا، نہ خیریت دریافت کی۔ پھر مجھے ابّا سے معافی پر مجبور کیا گیا۔ پنڈ میں رہنے کے لیے مجھے یہ کام کرنا پڑا۔ پھر میں نے نوکری دوبارہ شروع کر دی ۔ ابّا اسی طرح مجھ سے پیسے لیتا ہے اور بھائی بھی مجھ اپنا حصہ بٹورتے ہیں۔ اب میں اسی حال میں خوش ہوں۔ آپ یہ کہانی میرے ابّا کو مت سنائیے گا، ورنہ پھر مارے گا!

ٹیگز