آئیں نفرتیں بانٹیں کہ - رانا اورنگزیب رنگا

میرا معاشرہ جو کہ اسلام کے نام پر وجود میں آیا۔ وہی اسلام جس میں بڑوں کے احترام کا درس ہے جس میں چھوٹوں سے پیار کا درس ہے۔ جس میں نسلی تفاخر کو برا سمجھا گیا۔ جس میں غیروں کو اپنا سمجھا گیا۔ جس میں حکم ہے کہ سب مسلمان آپس میں بھائی ہیں۔ پھر اس سے زیادہ محبت کا اظہار آیا کہ امت مسلمہ ایک جسم کی مانند ہے۔ اگر جسم کے کسی ایک حصے کو چوٹ لگے تو سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔ پھر اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ حسن سلوک کا حکم آیا۔ پھر ساری انسانیت کے لیے احترام کا حکم آیا۔ میرا معاشرہ تو حسن اخلاق کا مرقع تھا۔ تہذیب وتمدن کا گہوارا کہ جس سے اقوام عالم نے رہنمائی حاصل کی اور دنیا میں سرفراز ہوئے.
بقول حالی
لیے علم وفن ان سے نصرانیوں نے
کیا کسب اخلاق روحانیوں نے
ادب ان سے سیکھا اصفہانیوں نے
کہا بڑھ کے لبیک یزدانیوں نے
ہر اک دل سے رشتہ جہالت کا توڑا
کوئی گھر نہ دنیا میں تاریک چھوڑا

مگر جب میں اپنے گریبان میں جھانکتا ہوں تو دل و دماغ کو حسرت و یاس کے بچھو ڈنک مارتے ہیں۔ ہمیں جس طرح ٹکڑے کیا گیا، اتنے ٹکڑوں میں تو مٹی کا برتن بھی تقسیم نہیں ہوتا۔ پہلے فرقے بنے پھر فرقوں میں بھی فرقے بنے۔ کوئی ایک نفرت ہو تو انسان کوشش کر کے اس سے پیچھا چھڑا بھی لے۔ یہاں تو نفرت در نفرت ہے، اور اس نفرت کو دن رات پروان چڑھایا جارہا ہے۔ اس معاشرے میں بہت سی انجمنیں بنی ہیں۔ بہت سی جماعتیں بنی ہیں۔ کہیں راجپوت کا تحفظ، کہیں آرائیں کا تحفظ، کہیں جاٹ گجر کا تحفظ، کہیں مغل کا تحفظ۔ کوئی سنی کا تحفظ کر رہا ہے تو کوئی شیعہ کا۔

کیا کہیں اسلام کا تحفظ بھی ہے؟ مسلمان کا تحفظ بھی ہے؟ پنجاب کی بات ہوتی ہے، سندھ کی بات ہوتی ہے، پختونخواہ کی، بلوچستان کی بات ہوتی ہے۔ کہیں پاکستان کی بات بھی ہوتی ہے؟

میں راجپوت ہوں تو مجھے ملنے والا اور مجھ سے ملنے والا سبق نفرت ہے، حقارت ہے، دوسری برادیوں کے لیے۔ آرائیں اپنے علاوہ کسی اور کو چوہدری نہیں سمجھتا۔گجر کا احساس تفاخر جٹ سے بڑھ کے ہے، جٹ کہتا ہے کہ میرےجیسا دلیر بہادر روئے زمین میں اور کوئی نہیں۔ سنی شیعہ جھگڑے میں ایک دوسرے کو جہنم کے تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ فراہم کیے جاتے ہیں۔ شیعہ میں پھر سے فرقے ہیں اور ہر فرقہ جنتی۔ نفرت یہاں بھی عروج پر۔ سنی میں سے تین نکلے۔ اہلحدیث، دیوبندی، بریلوی۔ ان میں پھر نفرت نے انڈے بچے نکالے۔
کبھی وقت تھا کہ سنی شیعہ کی نفرت تھی۔گالی سنی کو شیعہ دیتا اور شیعہ کو سنی۔ پھرچشم فلک نے نظارہ دیکھا کہ سنی آپس میں دست و گریباں ہیں اور شیعہ آپس میں۔ کچھ دیر پہلے دیوبندی بریلوی کے لیے گستاخ تھا، بریلوی دیوبندی کے لیے مشرک۔ اہلحدیث نہ دیوبندی کو قابل قبول تھا نہ بریلوی کے لیے۔ اہلحدیث کے لیے دیوبندی بریلوی دونوں قابل نفرت۔ مگر آج کی تاریخ میں دیوبندی دیوبندی سے نفرت کر رہا ہے، بریلوی بریلوی سے، اور اہلحدیث میں تین دھڑے ایک دوسرے پر تبرا کر رہے ہیں۔ یہ تو مسلک کا حال ہے۔ علاقائی نفرتیں بھی اپنے عروج پر ہیں، سندھی پنجابی کو گالی دے رہا ہے، پنجابی پشتون کے لطیفے گھڑ رہا ہے، بلوچ اپنے علاقے میں دوسرے صوبے کے لوگوں کو برداشت نہیں کرتا۔ اردو اور سندھی کا جھگڑا۔ پشتو بلوچی کا جھگڑا۔

اس کے بعد سیاسی نفرت عروج پر ہے، ن لیگ تحریک انصاف کی نفرت، پی پی پی ایم کیو ایم کی نفرت، اے این پی جماعت اسلامی کی نفرت۔ آگے چلیں راجپوت قبیلوں میں راؤ رانے کا جھگڑا، جٹ میں لکھن سندھو کا جھگڑا، گجر پسوال کا جھگڑا، ککے زئی یوسف زئی کا جھگڑا، مہر آرائیں کا جھگڑا، وٹو دلو سے بہتر ٹوانہ کھرل سے اوپر۔ بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کو سمجھانا شروع کر دیا جاتا ہے کہ دیکھ ہم سنی ہیں، ہم ہی ہدایت یافتہ، باقی سب گمراہ۔ ہم اہلحدیث ہیں، ہم ہی جنتی، باقی سب جہنمی۔ ہم دیوبندی ہیں، اسلام کی عمارت ہمارے سہارے کھڑی ہے، باقی سب اس عمارت کو گرانے والے۔ ہم شیعہ ہیں، اہل بیت سے ہماری محبت سند یافتہ، باقی سب اہل بیت کے دشمن۔ پھر سمجھایا جاتا ہے ہم راجپوت، جٹ، گجر، جسوال پسوال، مہر، آرائیں، ٹوانے، کھرل، جھمٹ، وٹو دُلو، شیخ، بٹ، بس ہم ہی انسان باقی سب دو نمبر گھٹیا مال۔ پھر بتایا جاتا ہے کہ ہم پنجابی، ہم سارے ملک کو خوراک فراہم کرتے ہیں، دوسری آواز اٹھی گیس ہماری کھاتے دوسرے ہیں، تیسری آواز دریا ہمارے پانی دوسروں کو، بندرگاہ ہماری تجارت دوسروں کی۔ کبھی کسی نے کہا کہ ہم پاکستانی ہیں، ہم مسلمان ہیں۔ کسی مسجد پر لکھا دیکھا کہ جامع مسجد اللہ والی، مسلمان مسلک اسلام؟ اب تو قرآن بھی سنی وہابی ہے۔ ذخیرہء حدیث بھی سنی شیعہ اہلحدیث ہیں۔

اس معاشرے کو تقسیم در تقسیم میں ایسا پھنسایا گیا کہ الامین والحفیظ۔ اب حاصل تقسیم بھی ٠00000001 تک پہنچ چکا۔ کیا ابھی اور بھی تقسیم کیا جاسکتا ہے اس معاشرے کو۔ اب تو جو اتفاق و اتحاد کی بات کرے وہ کھسکا ہوا لگتا ہے۔
آئیں نفرتیں بانٹیں کہ اس میں بقا ہے تیری بھی میری بھی