یوم عرفات کا روزہ کِس دِن رکھا جانا چاہیے؟ - عادل سہیل ظفر

نو9 ذِی الحج وہ دِن ہے جس دِن سب حاجی میدان عرفات میں جمع ہو کر اللہ جلّ جلالہُ کی عبادت کرتے ہیں، لحظہ بہ لحظہ کی خبر ہونے کے باوجود جغرافیائی اِختلاف کی بِناء پر چاند کی تاریخوں میں اِختلاف کی بِناء پر مُسلمانوں کی عیدیں تو ایک نہیں ہو پاتیں، لیکن "یوم عرفات" ایسا دِن ہے جس کو کِسی دُوسری جگہ دُوسری تاریخ میں نہیں مانا جا سکتا ہے کیونکہ دِنیا میں ایک ہی مُقام ایسا ہے جِسے ہم مُسلمان عرفات کے نام سے جانتے اور مانتے ہیں، اور صِرف اُسی مُقام پر، اُسی جگہ میں، اور وہیں کی مُقامی تاریخ کے مُطابق ہی، نو9 ذِی الحج کو سارے حاجی وہاں یعنی میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں، قیام کرتے ہیں، حج کا ایک منسک ادا کرتے ہیں۔ پس کِسی منطق و فلسفے میں گھسے بغیر صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ وہ دِن جِس دِن حاجی صاحبان میدان عرفات میں قیام کرتے ہیں وہ ہی دِن ساری دِنیا کے مُسلمانوں کے لیے"یوم عرفات " ہے، اور یہ ہی وہ دِن ہے کہ جِس دِن کا روزہ رکھنے والا غیر حاجی مُسلمان کے لیے بہت بڑے اجر و ثواب کی خُوشخبری عطاء فرمائی گئی ہے، ملاحظہ فرمائیے اِس با برکت دِن میں عرفات میں قیام کرنے والوں کو اللہ کی طرف سے مغفرت کی خوشخبری دی گئی، اور جو وہاں نہیں ہوتے لیکن اُس دِن اللہ کی رضا حاصل کرنے کی نیّت سے روزہ رکھیں تو اُنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ز ُبانِ مُبارک سے یہ خوشخبری سُنائی گئی صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِى قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِى بَعْدَهُ عرفات کے دِن کے روزے کےبارے میں مجھے اللہ سے یقین ہے کہ اُس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ایک گذرے ہوئے سال اور ایک "یوم عرفات" کے بعد والے سال کے گناہ معاف فرما دیتا ہے(صحیح مُسلم/کتاب الصیام/باب36) اور دُوسری روایت کے الفاظ ہیں یُکَفِّرُ السَّنَۃَ المَاضِیَۃَ وَالبَاقِیَۃَ پچھلے ایک سال اور اگلے ایک سال کے گُناہ معاف کرواتا ہے(صحیح مُسلم/کتاب الصیام/باب36)

ایک بہت ہی اہم بات

دو سال کے صغیرہ (چھوٹے) گُناہ معاف ہونا، عرفات کے دِن کے روزے کے نتیجے میں ہے، یعنی وہ دِن جِس دِن حاجی میدانِ عرفات میں قیام کرتے ہیں، نہ کہ اپنے اپنے مُلکوں، عِلاقوں میں اپنے اپنے مذاہب و مسالک کی پابندتاریخوں کے مُطابق آنے والے نو ذِی الحج کے دِن کے روزے کے نتیجے میں، پس اِس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ روزہ قیام عرفات والے دِن کا رکھنا ہے۔

اِس سلسلے کو واضح کرنے کے لیے کوئی لمبی چوڑی بات یا بحث کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن کچھ مُسلمان بھائیوں کی طرف سے ہر مُقام کی الگ الگ رویت ھلا ل کے مُطابق وہاں کے نو ذِی الحج کو "یوم عرفات" کا روزہ رکھے جانے کو ہی دُرُست ثابت کرنے کے لیے طرح طرح کے کلام کا اظہار ہوتا ہے، اِس لیے چند باتیں مختصر طور پر عرض کرتا ہوں لیکن اُس سے پہلے یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ"منطقی اور فلسفیانہ محاکمہ آرائی، اور قیاسات و خیالات پر مبنی مناقاشات کا سلسلہ عموماً لا متناہی ہوتا ہے، اور عموماً حق بات کو دُھندلانے کا، اور سیدھی صاف بات کو الجھانے کا سبب ہوتا ہے " لہذا خود ساختہ سوال و جواب، امکانیات اور قیاسات کہ یُوں ہے تو یُوں بھی ہو سکتا ہے، یُوں ہوتا تو کیا ہوتا، وغیرہ سے صِرف نظر کرتے ہوئے میں نصوص کی روشنی میں بات کروں گا، اِن شاء اللہ۔

عنوان میں مذکور، سوال، یا مسئلے کو سمجھنے کے لیے پچھلے کچھ سالوں سے کئی بھائی بہنوں سے مراسلات ہوتی رہی، اور اس سال (1437ہجری) کے ذِی الحج میں، اُس مراسلات میں کچھ کمی بیشی کر کے ایک مضمون کی صُورت میں ارسال کیا۔ مضمون کے نشر ہونے کے بعد کئی محترم عالِم بھائیوں کی طرف سے کچھ مُلاحظات، اعتراضات اور سوالات موصول ہوئے، جن میں ایک محترم بھائی کے ایک مضمون کی نشاندہی کی گئی، جس میں انہوں نے میرے مضمون میں بیان کردہ موقف کے نا دُرُست ہونے کے بارے میں کافی معلومات جمع فرمائِیں۔

مُلاحظات، اعتراضات اور سوالات کرنے والے بھائیوں نے چونکہ اُس مضمون کو ہی دُوسرے موقف کی عُمدہ ترین بات سمجھا، اِس لیے میں نے اُس مضمون کو خوب اچھی طرح سے پڑھا، ا ور کئی دفعہ پڑھا، اُس کے بعد اپنے مضمون کو بارھا پڑھا، اور مجھے یہ احساس ہوا کہ میں نے جو بات کو مختصر رکھنے اور صرف نصوص تک رکنے کی کوشش کی تھی وہ کچھ خاص فائدہ مند نہیں ہوئی، کیونکہ قارئین کرام عموماً نصوص کو سمجھنے کی بجائے مختلف منطقی اور فلسفیانہ باتوں کا اثر جلد قُبول کر لیتے ہیں لہذا اُس مضمون میں کچھ اضافے کرنے کے بعد اُسے پھر سے تیار کر رہا ہوں۔ آگے چلنے سے پہلے یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں اِس مضمون میں جو کچھ پیش کر رہا ہوں وہ کِسی سے کِسی بھی شخصی ضِد یا تعصب کی وجہ سے نہیں، اور نہ ہی اپنی کِسی ذاتی رائے کو ہی دُرُست دِکھانے کے لیے ہے بلکہ مقصد یہ کہ اِس مسئلے کو جِس طرح میں نے سمجھا ہے وہ کچھ دُوسروں کے سامنے پیش کر دِیا جائے، اُس کے بعد قارئین کا دِل جِس بات پر مطمئن ہو وہ اُس کو اپنا لیں۔ ہر کِسی کو اُس کے فعل کا بدلہ اللہ تبارک و تعالیٰ سے مل کر ہی رہنا ہے۔ اللہ عزّ و جلّ مجھے، اور ہم سب کو ہی ہر ناحق ضِد، تعصب اور انا پرستی سے محفوظ رکھے، اِس مسئلے کے بارے میں، اِس سوال کے جواب میں، دو رائے سامنے آتی ہیں۔

پہلی رائے، جو دُرُست ہے

(1) کِسی بھی جگہ پر مُسلمان اُسی دِن یوم عرفات کا روزہ رکھیں گے، جو دِن حقیقی طور پر یوم عرفات ہو گا، یعنی، جِس دِن حاجی عرفات کے میدان میں جمع ہوں گے، میں اِس دُوسری رائے کو دُرُست سمجھتا ہوں۔ کیونکہ، احادیث شریفہ میں، جِس دِن کا روزہ رکھنے کی فضیلت، اور جس دِن دُعاء کی قبولیت ہونے کی خبر، اور جِس دِن میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے زمین کے قریب تشریف لانے کی خبر، اور جِس دِن میں کِسی بھی اور دِن کی نسبت سب سے زیادہ بندوں کی بخشش کرنے کی خبر ملتی ہے، وہ سب کی سب احادیث "یوم عرفات " کا ذِکر لیے ہوئے ہیں، نہ کہ"نو ذِی الحج" کی تاریخ والے دِن کا۔ اور یہ سب کی سب فضلیتیں حجاج (حاجیوں) کے عرفات کے میدان میں جمع ہونے کی نِسبت سے ہیں، اُن کے وہاں آنے کے سبب سے اللہ کی یہ رحمتیں اُس دِن میں عطاء ہوتی ہیں، نہ کہ نو ذِی الحج کی تاریخ کی نِسبت سے لہذا، ساری دُنیا کے مُسلمانوں کے لیے یوم عرفات اُسی دِن کو سمجھا جانا دُرُست ہے جِس دِن حاجی صاحبان میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں، نہ کہ اپنی اپنی جگہوں پر دیکھے گئے چاند کے مُطابق شروع کردہ ذِی الحج کی نو تاریخ کو، جیسا کہ اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء کا فتوی ہے کہ

السؤال الأول من الفتوى رقم ( 4052 )

فتاویٰ اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء،الجزء رقم : 10، الصفحة رقم: 394

ترجمہ

سوال : کیا ہم یہاں (سعودیہ سے باہر ) یوم عرفات کے روزے کے لیے دو دِن کا روزہ رکھ سکتے ہیں، کیونکہ ہم نے یہاں کے ریڈیو میں سُنا ہے کہ یہاں ہماری ذِی الحج کی تاریخ کے مُطابق کل آٹھ ذِی الحج ہے، لیکن کل ہی (سعودیہ میں ) یوم عرفات بھی ہے ؟

جواب یوم عرفات وہی دِن ہے جِس دِن میں لوگ میدان عرفات میں کھڑے ہوتے ہیں، اور اِس دِن روزہ رکھنا اُس شخص کے لیے جائز ہے (مشروع ہے)،جِس شخص نے حج کا احرام نہ کیا ہو، اگر آپ نے روزہ رکھنے کا اِرداہ کیا ہو تو پھر آپ اُسی دِن کا روزہ رکھیے (جِس دِن حاجی میدان ء عرفات میں جمع ہوتے ہیں )اور اگر آپ نے اُس دِن سے پہلے والے دِن بھی روزہ رکھا، تو کوئی حرج نہیں، اور اگر آپ نے ذِی الحج کے پہلے نو دِنوں کے روزے رکھے تو بھی یہ بہتر ہے، کیونکہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے درج ذیل فرمان مُطابق یہ بزرگی والے دِن ہیں اور اِن دِنوں میں روزہ رکھنا مُستحب ہے (عبداللہ ابنِ عبَّاس رضی اللہ عنہما سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا) مَا الْعَمَلُ فِى أَيَّامِ الْعَشْرِ أَفْضَلَ مِنَ الْعَمَلِ فِى هَذِهِاِن دس دِنوں میں کیے جانے والوں کاموں(یعنی نیک کاموں )سے زیادہ بہتر کام اور کوئی نہیں

صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا "کیا جِہاد بھی نہیں ؟ "

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا وَلاَ الْجِهَادُ، إِلاَّ رَجُلٌ خَرَجَ يُخَاطِرُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ بِشَىْءٍ جِہاد بھی نہیں، سوائے اِس کے کہ کوئی اپنا مال اور جان لے کر نکلے اور اُس میں سے کوئی چیز بھی واپس نہ آئے یعنی، صِرف وہ جِہاد اِن دس دِنوں کے عمل سے زیادہ بہتر ہے جِس میں مُجاہد کی جان اور مال دونوں ہی اللہ کی راہ میں کام آ جائیں (صحیح البُخاری /حدیث 929 /کتاب العیدین /باب 11)

لہذا، ساری دُنیا کے مُسلمانوں کے لیے یوم عرفات اُسی دِن کو سمجھا جانا دُرُست ہے جِس دِن حاجی صاحبان میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں، نہ کہ اپنی اپنی جگہوں پر دیکھے گئے چاند کے مُطابق شروع کردہ ذِی الحج کی نو تاریخ کو۔

لجنہ دائمہ کا فتویٰ مکہ کے عِلاوہ کِسی اور مُقام کی تاریخ ایک دِن پیچھے ہونے کی صُورت میں دو دِن کا روزہ رکھنے کی تجویز بھی لیے ہوئے ہے۔ لہذا، یہ مسئلہ بھی حل ہوا کہ اگر کِسی مُقام کی رویت ہلال کے مُطابق حقیقی یوم عرفات آٹھ ذِی الحج کو آئے تو وہاں کے مُسلمان کیا کریں؟

اِس کے عِلاوہ یہ مسئلہ رہ جاتا ہے کہ، اگر کِسی مُقام کی رویت ہلال کے مُطابق حقیقی یوم عرفات، دس ذِی الحج، یعنی، عید والے دِن آ جائےتو کیا کیا جائے ؟

اور کچھ دیگر سوالات بھی ہیں، اِن کے جوابات اِن شاء اللہ آگے آئیں گے، فی الحال ہم دُوسری
رائے، دُوسرے جواب کی طرف چلتے ہیں، اور پھر اِن شاء اللہ دُوسری رائے کے دلائل کا جائزہ لیتے ہیں۔

دُوسری رائے، دُوسرا جواب

(2) ہر جگہ کے لوگ اپنی اپنی رویت ہلال، یعنی، چاند دیکھنے کے مُطابق، اپنے ہاں آنے والی نو ذِی الحج کو ہی یوم عرفات کا روزہ رکھیں گے

اور اپنی اِس بات کے دلائل کے طور پر وہ "رویت ہلال، یعنی، چاند دیکھنے کا مسئلہ"، اور "اِختلافء مطالع، یعنی چاند دیکھنے میں مختلف جگہوں میں ہونے والا اختلاف" اور ام المؤمنین اُم سلمہ رضی اللہ عنہا، اور ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا، کی روایات ذِکر کرتے ہیں، جِن روایات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ذِی الحج کے پہلے نو دِنوں کے روزے رکھا کرتے تھے۔

اِس کے جواب میں مختصراً گزارش یہ ہے کہ مجھے "رویت ہلال، یعنی، چاند دیکھنے " کے مسئلے میں اِس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ، ہمارے قمری نظام تاریخ کے مُطابق، کِسی نئے مہینے کا آغاز کرنے کے لیے کِسی آلے کی مدد کے بغیر، صحیح صحت مند بصارت والے دو مُسلمانوں کا چاند کو دیکھنا لازمی ہے اور اُن کی گواہی پر دیگر مُسلمان اپنے نئے مہینے کا آغاز کر لیں گے اور اگر کِسی وجہ سے چاند نہ دکھائی دے تو پھر رواں مہینے کے تیس دِن پورے کیے جائیں گے۔

اس کے بعد، رویت ہلال میں سے اگلا مرحلہ، "اِختلاف مطالع، یعنی چاند دیکھنے میں مختلف جگہوں میں ہونے والا اختلاف " کے بارے میں، میری گزارش یہ ہے کہ :قدیم سے ہی ہمارے عُلماء کرام رحمہم اللہ کے ہاں "اِختلافء مطالع " کے معتبر ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہے، میں یہاں، اِس مُقام پر، اِس اختلاف کی تفصیل اور پھر اِس میں راجع اور مرجوح کی بحث کو شامل نہیں کروں گا، لیکن اِن شاء اللہ تفصیل والے حصے میں اِس کا کچھ ضروری ذِکر کروں گا۔ لہذا، "اِختلافء مطالع " کے معتبر ہونے یا نہ ہونے کی بحث میں داخل ہوئے بغیر، ہمارے زیر تفہیم مسئلے تک محدود رہنے کے لیے، مذکورہ بالا دُوسری رائے والے محترمین کے ساتھ ہی شامل ہوتا ہوں کہ ہمارے قمری نظام تاریخ میں نئے مہینے کا آغاز کرنے لیے "اِختلاف مطالع " معتبر ہے۔ لہذا، ہر جگہ کے مُسلمان اپنی اپنی جگہ سے ہی چاند دیکھنے کے مُطابق اپنا نیا مہینہ شروع کریں گے، اور اُسی تاریخ کے مُطابق اپنی عِبادات کے دِن اور رات مقرر کریں گے، جو تاریخ اُن کی رویت ہلال کے مُطابق ہو گی۔

تو، اِس کے بعد، اِختلاف صِرف اور صِرف اُنہی چند معاملات کو سمجھنے میں رہ جاتا ہے، جِن کا ذِکر میں نے ابتداء میں کیا کہ "احادیث شریفہ میں، جِس دِن کا روزہ رکھنے کی فضیلت، اور جس دِن دُعاء کی قبولیت ہونے کی خبر، اور جِس دِن میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے زمین کے قریب تشریف لانے کی خبر، اور جِس دِن میں کِسی بھی اور دِن کی نسبت سب سے زیادہ بندوں کی بخشش کرنے کی خبر ملتی ہے، وہ سب کی سب احادیث "یوم عرفات " کا ذِکر لیے ہوئے ہیں، نہ کہ"نو ذِی الحج" کی تاریخ والے دِن کا "

یہاں تک معاملہ بالکل واضح ہے، یا یُوں کہے لیتے ہیں کہ میرے لیے تو بالکل واضح ہے کہ "یوم عرفات کا روزہ مخصوص سبب سے فضیلت والا ہوا، اور یوم عرفات کی دیگر فضیلتیوں کا بھی مخصوص سبب ہے، پس جِس دِن یہ سبب موجود ہوگا وہی دِن یوم عرفات ہوگا، اور جِس دِن یہ سبب غائب ہو گا، مفقود ہو گا وہ دِن مکہ المکرمہ میں رویت ہلال کے خِلاف کِسی بھی اور جگہ کی رویت ہلال کے مُطابق، وہاں کے لیے تاریخ کے اعتبار سے نو ذِی الحج تو ہو سکتا ہے، یوم عرفات نہیں "

یہ بھی پڑھیں:   خانہ کعبہ اور مقام ِ ابراہیم ؑ - پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

لہذا، دُنیا بھر میں جہاں کہیں بھی، جِس کِسی بھی مُسلمان کو حقیقی یوم عرفات، یعنی، جِس دِن حاجی میدان عرفات میں قیام کرتے ہیں، اُس دِن کی خبر مُیسر ہو جاتی ہے وہ اُسی دِن کے مُطابق یوم عرفات کا روزہ رکھے، اِن شاء اللہ یہ زیادہ دُرُست ہے۔

یہاں تک تو مسئلے کو مختصر طور پر بیان کیا ہے، اب اِس کے بعد آتا ہوں اِن شاء اللہ، کچھ تفصیلات کی طرف، یہ تفصیلات مجھ جیسے طالب عِلموں کے لیے ہیں، اور اُن بھائی بہنوں کے لیے جو مسئلے کو دونوں طرف کے دلائل کی روشنی میں سمجھنا چاہتے ہیں، صِرف آراء اور خیالات کے مُطابق نہیں۔

دُوسری رائے، جواب، دلائل، اور اُن کا جائزہ

(1) رویت ہلال کے مسئلے کو دلیل بنانا، اور اِس کا جائزہ :

میرے کچھ بھائی، رویت ہلال، یعنی، چاند دیکھنے کے اعلان کے ایک جگہ سے دُوسری جگہ پہنچانے کے لیے جدید وسائل کے استعمال کے بارے میں چیں بہ جبیں ہوتے ہیں، کہ نہیں صاحب صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ چاند دیکھ کر روزے رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار رہو، کے مُطابق ہر ایک جگہ سے چاند دیکھا جانا چاہیے اور اُسی کےمُطابق وہاں کے لوگوں کو یہ یوم عرفات کا روزہ، اُن کی رویت ہلال کے مُطابق، اُن کے نو ذِی الحج کو رکھنا ہوگا۔

اِدھر اُدھر کی رویت کی خبر کا نفاذ نہیں ہوسکتا، کیونکہ ایسا کرنا اِس مذکورہ حدیث شریف کے خِلاف ہے، اور اِس حدیث شریف میں بیان کردہ حکم پر عمل کرنے کی اُسی صُورت کی تائید میں میرے جو بھائی کچھ یُوں فرماتے ہیں کہ "ہر ایک جگہ سے چاند دیکھا جانا چاہیے اور اُسی کےمُطابق وہاں کے لوگوں کو یہ یوم عرفات کا روزہ، اُن کی مُقامی رویت ہلال کے مُطابق، اُن کے نو ذِی الحج کو رکھنا ہوگا "

(2) رویت ہلال کے مسئلے کی تائید میں کریب رحمہُ اللہ اور عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا واقعہ، اور اِس کا جائزہ :

رویت ہلال والی مذکورہ بالا حدیث شریف کی تائید میں، میرے دُوسری رائے والے بھائی، اپنی بات، اپنے فہم کی تائید کے طور پر، کریب رحمہُ اللہ، اور عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے درمیان پیش آنے والے درج ذیل واقعہ بھی پیش کرتے ہیں

ترجمہ: کریب (بن ابی مسلم، ابو رشدین )رحمہُ اللہ سے روایت ہے کہ اُم الفضل (لُبابہ) بنت الحارث (رضی اللہ عنہا ) نے مجھے معاویہ(رضی اللہ عنہ ُ ) کی طرف شام بھیجا، میں شام پہنچا، ام الفضل کا کام مکمل کیا، میں شام میں ہی تھا کہ مجھ پر رمضان کا مہینہ شروع ہو گیا، میں نے (وہاں شام میں، رمضان کا )چاند جمعہ کی رات میں دیکھا،

اور پھر میں رمضان کے آخر میں مدینہ پہنچا، تو عبداللہ ابن عباس (رضی اللہ عنہ ُ )نے مجھ سے (وہاں کے احوال کےبارے میں ) دریافت کیا، اور پھر چاند کے بارے میں پوچھا، کہ، تُم لوگوں نے وہاں چاند کب دیکھاتھا ؟

تو میں نے کہا، کہ، ہم نے جمعہ کی رات میں چاند دیکھا تھا،

عبداللہ ابن عباس (رضی اللہ عنہ ُ ) نے مجھ سے (پھر) کہا، کیا تم نے دیکھا تھا؟

میں نے کہا، جی ہاں، میں نے دیکھاتھا اور لوگوں نے بھی دیکھاتھا،اور سب نے روزہ رکھا اور معاویہ (رضی اللہ عنہ ُ )نے بھی روزہ رکھا،

تو عبداللہ ابن عباس (رضی اللہ عنہ ُ ) نے کہا، لیکن ہم نے تو ہفتے کی رات میں دیکھا تھا، اور ہم اُس وقت تک روزہ رکھیں گے جب تک تیس روزے مکمل نہیں ہو جاتے، یا، ہم (شوال کا )چاند نہیں دیکھ لیتے،

تو میں نے کہا کہ، کیا آپ کے لیے معاویہ (رضی اللہ عنہ ُ )کا چاند دیکھنا اور اُن (رضی اللہ عنہ ُ )کا روزہ رکھنا (مہینے کے آغاز کا تعین کرنے کے لیے )کافی نہیں،

تو عبداللہ ابن عباس (رضی اللہ عنہ ُ ) نے کہا، نہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِسی طرح کرنے کا حکم دِیا ہے۔ (صحیح مُسلم /حدیث /2580کتاب الصیام /باب 5بَيَانِ أَنَّ لِكُلِّ بَلَدٍ رُؤْيَتَهُمْ وَأَنَّهُمْ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ بِبَلَدٍ لاَ يَثْبُتُ حُكْمُهُ لِمَا بَعُدَ عَنْهُمْ)

اور اِس واقعہ کو نقل کرنے والے محدثین کرام رحمہم اللہ کے بنائے ہوئے ابواب کے عناوین کو بھی بطور دلیل ذِکر کیا جاتا ہے،

قارئین کرام، اب اِن شاء اللہ ہم مذکورہ بالا دونوں روایات کو، دیگر روایات کی روشنی میں سمجھتے ہیں، لیکن اُس سے پہلے بہت اچھی طرح سے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ، "یوم عرفات " کے روزے پر، اپنے اپنے علاقوں میں رویت ہلال، یعنی، چاند دیکھنے کے مُطابق مُقامی تاریخوں والا معاملہ لاگو نہیں ہوتا۔ اپنے اُن بھائیوں کی اِ س مذکورہ بالا بات کے بہت سے جوابات دیے جا سکتے ہیں، لیکن جیسا کہ ابھی کہہ گزرا ہوں کہ "منطقی اور فلسفیانہ محاکمہ آرائی، اور قیاسات و خیالات پر مبنی مناقاشات کا سلسلہ عموماً لا متناہی ہوتا ہے، اور عموماً حق بات کو دُھندلانے کا، اور سیدھی صاف بات کو الجھانے کا سبب ہوتا ہے"۔

دُوسری رائے، کا جواب

رویت ہلال، چاند دیکھ کر تاریخ ماننے کا مُعاملہ، اور کِسی خاص سبب سے کِسی دِن کی فضیلت

جیسا کہ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ چاند دیکھ کر روزے رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار رہو، کے بارے میں ابھی ابھی ذِکر کیا گیا کہ "رمضان شریف کے عِلاوہ ہر قمری مہینے کے آغاز و اختتام کے بارے میں ایک قاعدہ قانون مانا جائے، تو بھی، اِس میں، اِس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ چاند دیکھے بغیر نئے مہینے کا آغاز نہیں کیا جائے گا۔

ایسا تو نہیں ہے کہ ہر ایک جگہ، ہر ایک شخص یا گروہ کے لیے یہ لازم قرار دِیا گیا ہے کہ وہ صِرف اپنی ہی دیکھے ہوئے چاند کے مُطابق ہی قمری مہینے کا آغاز و اختتام کرنا ہے اور نہ ہی یہ ہے کہ صِرف اپنی اپنی جگہ، یا صِرف اپنی ہی بستی، گاؤں یا شہر میں چاند دیکھنے کی صُورت میں ہی نئے مہینے کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ اور اِس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ "یہ حدیث شریف، اِس میں بیان کردہ رویت ہلال کے مُطابق کِسی قمری مہینے کا آغاز یا اختتام کرنا، اور، کِسی خاص مخصوص سبب کی وجہ سے رکھے جانے والے روزے کو، محض قمری تاریخ کی بِنا ء پر، بغیر اُس سبب والے دِن میں لے آنے کی دلیل نہیں ہے" کیونکہ، "یوم عرفات"کا روزہ رکھنے کی فضیلت ”یوم عرفات " میں ادا کیے جانے والے حج کے ایک منسک کی نسبت سے ہے۔

ایک مخصوص مُقام پر ادا کی جانے والی ایک مخصوص عِبادت کے سبب سے ہے، نہ کہ محض نو ذِی الحج کی تاریخ ہونے کی وجہ سے، لہذا "یوم عرفات" کا روزہ اپنی اپنی جگہوں میں دیکھے جانے والے چاند کے مُطابق نو ذِی الحج کو رکھے جانے کا مُعاملہ ہے ہی نہیں، بلکہ بڑی وضاحت سے اُس دِن روزہ رکھنے کی فضیلت ہے جِس دِن حاجی عرفات میں قیام کرتے ہیں، اور اُسی دِن کو یوم عرفات کہا جاتا ہے اورحاجیوں کے اُسی قیام کی وجہ سے اُس قیام والے دِن کو فضیلت عطاء ہوئی، اور اُسی قیام کی وجہ سے وہ قیام والا دِن اللہ پاک کی طرف سے خصوصی بخشش عطاء کیے جانے والا ہوا،۔

جی ہاں، یہ یوم عرفہ (یوم عرفات) مکہ مکرمہ اور اُس کی متابعت میں تاریخ اختیار کرنے والوں کے لیے تو نو ذِی الحج ہی"یوم عرفات" ہوتا ہے، اِسی دِن میں حاجی عرفات کے میدان میں جمع ہوتے ہیں، قیام کرتے ہیں۔ کِسی اور مُقام کی رویت ہلال کے مُطابق، جو مکہ کی رویت ہلال کے موافق نہ ہو، نو ذِی الحج"یوم عرفات " نہیں ہوتا، کیونکہ اُس دِن کوئی حاجی میدان عرفات میں قیام نہیں کرتا۔

توجہ فرمائیے، اور تحمل سے تدبّر فرمائیے کہ، اُوپر ذِکر کردہ دونوں احادیث مُبارکہ میں "یوم عرفات " کا ہی ذِکر ہے، نو ذِی الحج کا نہیں۔ فقہا کرام، اور شارحین حدیث کے کلام میں بھی تقریباً سارا ہی کلام "یوم عرفات " کے نام و نِسبت سے ملتا ہے۔

اِس مذکورہ بالا حدیث مُبارک کے علاوہ کئی دیگرصحیح احادیث مُبارکہ میں "یوم عرفات " کی ہی فضیلت مذکور ہے، اُن میں بھی اِس دِن کو عرفات کی نسبت سے ذِکر کیا گیا ہے، نہ نو ذِی الحج کی نسبت سے، اور عرفات میں حاجیوں کے اجتماع اور قیام کو ہی اُن کی مغفرت کا سبب بتایا گیا ہے، نہ کہ نو ذِی الحج کی تاریخ ہونے کو۔

جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے خبر فرمائی ہے کہ مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهُ لَيَدِنو ثُمَّ يُبَاهِى بِهِمُ الْمَلاَئِكَةَ فَيَقُولُ مَا أَرَادَ هَؤُلاَءِ؟ اللہ، عرفات والے دِن کِسی بھی اور دِن کی نسبت، سب سے زیادہ بندوں کو جہنم سے نجات دیتا ہے، اور اُس دِن اللہ قریب تشریف لاتا ہے، پھر عرفات میں موجود حاجیوں کے بارے میں فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار فرماتے ہوئے اِرشاد فرماتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاھتے ہیں؟ (صحیح مُسلم/کتاب الحج/باب79)

اور اِرشادفرمایا إِنَّ اللَّهَ يُبَاهِي بِأَهْلِ عَرَفَاتٍ مَلَائِكَةَ أَهْلِ السَّمَاءِ فَيَقُولُ: انْظُرُوا إلى عبادي هؤلاء جاءوني شُعثاً غُبراً اللہ عرفات (میں جمع ہونے) والوں کے بارے میں آسمان والے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار فرماتا ہے اور اِرشاد فرماتا ہے کہ، دیکھو میرے اِن بندوں کی طرف، یہ اِس حال میں میری طرف آئے ہیں کہ اِن کے بال اور چہرے مٹی سے بھر چکے ہیں (تعلیقات الحسان علی صحیح ابن حبان /کتاب الحج/باب11)

واضح نصوص کے صریح مفہوم کے مُطابق یہ ہی دُرُست ہے کہ پس کِسی شک کی گنجائش نہیں کہ فضیلت اُسی دِن کی ہی ہے جِس دِن حاجی اپنے اللہ کی رحمت، برکت اور مغفرت کے طالب ہو کر عرفات میں جمع ہوتے ہیں، تاریخ کے اعتبار سے نو ذِی الحج نہیں۔ اب یہ دِن مکہ مکرمہ کے عِلاوہ کِسی اور مُقام پر رویت ہلال کے مُطابق آٹھ ذِی الحج بنے یا دس ذِی الحج، ہوگا یہ ہی "یوم عرفات"، وہ دِن جِس دِن حاجی میدان عرفات میں قیام کرتے ہیں۔ حج کے تمام مناسک مکہ مکرمہ کی رویت ہلال کے مُطابق ادا کیے جاتے ہیں، قیام عرفات بھی اُن میں سے ایک ہے۔

کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اگر حج مکہ کے علاوہ کسی اور شہر یا ملک میں ہوتا، تو پھر بھی تو " یوم عرفات" وہاں کی رویت ہلال کے مُطابق نو ذِی الحج کے مُطابق ہوتا۔ جی ہاں، ایسا ہی ہوتا، لیکن پھر بھی بات وہیں کی وہیں رہتی، کہ باقی تمام جگہوں پر موجود مُسلمان اُسی قیام کی نِسبت سے، اُسی قیام والے دِن روزہ رکھتے، کیونکہ اُس روزے کی فضیلت، اجر و ثواب کا سبب حاجیوں کے ا ُس قیام کو بنایا گیا ہے، نہ کہ اپنی اپنی رویت ہلال کے مُطابق نو ذِی الحج کے دِن کو۔

اِس فلسفے کو یہ کہہ کر بھی رد کیا جا سکتا ہے کہ اگر قیام عرفات نو ذِی الحج کے عِلاوہ کِسی اور دِن ہوتا، تو اِن مذکورہ بالا احادیث شریفہ کی روشنی میں روزہ کِس دِن رکھا جاتا، اور رکھا جانا چاہیے ؟ ظاہر ہے، اُسی دِن جِس دِن حاجی قیام عرفات کرتے، کیونکہ اِس روزے کی فضیلت، اجر و ثواب کا سبب حاجیوں کا قیام ہے، نہ کہ ایک مخصوص تاریخ۔

رویت ہلال، چاند دیکھ کر اُس کے مُطابق یوم عرفات کا روزہ نو 9 ذِی الحج کو ہی رکھنے کی بات کی دلیل، اور جواب

منصوص دلائل کے مُطابق کِسی بھی جگہ کی رویت ہلال کے مُطابق وہاں آنے والی تاریخ نو ذِی الحج کو وہاں کے لوگوں کے لیے "یوم عرفات" سمجھنے کے لیے، اور اُس دِن "یوم عرفات " کا روزہ رکھنے کا کہنے والے میرے بھائی صاحبان کو صِرف ایک حدیث ملتی ہے، جِس کا سہارا لے کر وہ اپنی بات پر اصرار کرتے ہیں، لیکن افسوس کہ وہ سہارا بہت کمزور اور اُس روایت کو دلیل بنانا بعید از حقیقت ہے۔

وہ حدیث درج ذِیل ہے

اُم المؤمنین اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحِجَّةِ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ذِی الحج میں سے نو دِن روزہ رکھتے تھے، اور اوریوم عاشوراء( دس محرم )کا روزہ رکھتے تھے، اور ہر مہینے میں سے تین دِن کے روزے رکھتے تھے (سُنن الترمذِی /حدیث/2439کتاب الصوم/باب62، إِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا)

اب ہم اِسی حدیث کی دیگر صحیح روایات کو دیکھتے ہیں، جو اِسی سند سے منقول ہیں :

اُم المؤمنین اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَصُومُ تِسْعًا مِنْ ذِى الْحِجَّةِ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ وَثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَخَمِيسَيْنِ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ذِی الحج میں سے نو دِن روزہ رکھتے تھے، اوریوم عاشوراء( دس محرم )کا روزہ رکھتے تھے، اور ہر مہینے میں سے تین دِن کے روزے رکھتے تھے، (اور وہ تین تھے)ہر مہینے کا پہلا سوموار (پیر کا دِن)اور دو جمعرات کے دِن (سُنن الترمذِی /حدیث/2417کتاب الصیام/باب83، إِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا)

قارئین کرام، توجہ فرمائیے، میں نے مذکورہ بالا دونوں روایات میں سے بالترتیب، حدیث شریف کے ترجمے میں "تِسْع ذِى الْحِجَّةِ" اور "تِسْعًا مِنْ ذِى الْحِجَّةِ" کا ترجمہ "ذِی الحج میں سے نو دِن روزہ " لکھا ہے، "نو ذِی الحج کا روزہ " نہیں لکھا اور ایسا اِس لیے کہ اِن دونوں روایات میں "تِسْع ذِى الْحِجَّةِ" اور "تِسْعًا مِنْ ذِى الْحِجَّةِ" کا دُرُست مفہوم "ذِی الحج میں سے نو دِن روزہ "ہی بنتا ہے، نہ کہ "نو ذِی الحج کا روزہ "، کیونکہ، "تِسع، و، تِسْعًا"عدد نہیں، بلکہ جُزء ہے، اگر عدد کا ذِکر ہو تا تو "تاسْع" کہا جاتا، اور اِس کی تائید بھی اِسی سُنن الترمذِی میں، اِسی مذکورہ بالا حدیث شریف کے بعد اِنہی اُم المؤمنین اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت بھی مذکور ہے کہ كَانَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يَصُومُ الْعَشْرَ وَثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم، ذِی الحج کے پہلے) دس دِن روزہ رکھتے تھے، اور ہر مہینے میں سے تین دِن کے روزے رکھتے تھے، (اور وہ تین تھےہر مہینے کا پہلا) سوموار (پیر کا دِن)اور (دو) جمعرات (کے دِن)۔

یہ بھی پڑھیں:   خانہ کعبہ اور مقام ِ ابراہیم ؑ - پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

یہ دونوں روایات ایک دُوسری کی تفصیل بیان کرنے والی ہیں، پس واضح ہوتا ہے کہ "تِسْعًا مِنْ ذِى الْحِجَّةِ" کا دُرُست مفہوم "ذِی الحج میں سے نو دِن روزہ "ہی بنتا ہے، نہ کہ "نو ذِی الحج کا روزہ "، کیونکہ دسواں دِن تو عید کا ہوتا ہے، اور عید سے روزہ رکھنے کی مُمانعت فرمائی گئی ہے، اور کہیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِس دِن روزہ رکھا ہو، لہذا، "الْعَشْرَ "کی تشریح، اور تفصیل "تِسْعًا مِنْ ذِى الْحِجَّةِ"یعنی "ذِی الحج میں سے نو دِن روزہ "ہے۔

یہ جو کچھ میں نے عرض کیا ہے، وہ میری ذاتی سوچ یا خود فہمی نہیں ہے، علامہ محمد عبدالرحمن مُبارک پوری رحمہُ اللہ نے "تحفۃ الاحوذی بشرح جامع الترمذی/ابواب الصوم /باب مَا جَاءَ فِي صِيَامِ الْعَشْرِ" میں، اور، علامہ عبید اللہ مبارک پوری رحمہُ اللہ نے "مرعاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح" میں، اور علامہ عبدالمحسن العباد حفظہُ اللہ نے "شرح سُنن ابی داؤد"میں تقریبا ً یہی کچھ بیان فرمایا ہے، تفصیل کے متمنی اِن کتب کا مطالعہ فرما سکتے ہیں۔ تو مُعاملہ صاف ہوا کہ، اُم المؤمنین اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت کردہ اِس حدیث شریف میں "نو ذِی الحج کا روزہ"رکھنے کا ذِکر نہیں، بلکہ "ذِی الحج کے پہلے نو دِن کے سارے روزے "رکھنے کا ذِکر ہے۔

لہذا یہ روایت کِسی بھی مُقام کی رویت ہلال کے مُطابق "نو ذِی الحج "کو "یوم عرفات "مان کر، اُس دِن روزہ رکھنے کی کوئی دلیل نہیں بنتی۔

کچھ سوال و جواب

سوال: 100 یا 200 سال پہلے لوگ کس دِن یوم عرفہ کا روزہ رکھتے تھے جب باہمی روابط اور خبر رسانی کا کوئی آج جیسا نظام اور وسیلہ نہ تھا، ایک مُقام کی خبر دُوسرے مقام تک دِنوں، ہفتوں یا مہینوں بعد پہنچتی تھی ؟

جواب: لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا اللہ کِسی جان کو اُس کی اِستطاعت سے زیادہ کا پابند نہیں کرتا، پس مُعاملہ بہت سادہ اور واضح ہے کہ جِن کی اِستطاعت میں یوم عرفات کی خبر پانا نہ تھا، اُنہوں نے اپنی رویت ہلال کے مُطابق ہی نو ذی الحج کو یوم عرفات مان کر روزہ رکھا، اِن شاء اللہ قبول ہو گا۔ لیکن اب جب کہ بے خبری کی عِلت رفع ہو چکی، ساری دُنیا کے مُسلمان یوم عرفات کو نو دِن پہلے ہی جان جاتے ہیں، تو پھر عذر کیسا ؟

سوال: جن ممالک کا سعودی عرب سے وقت میں زیادہ فرق نہیں ہے وہ تو یوم عرفات کا روزہ یوم عرفات کے مُطابق رکھ سکتے ہیں مگر جہاں وقت میں کافی فرق ہے جیسے امریکہ یا دُوسرے مغربی ممالک وہ تو پھر اِس روزے سے محروم رہ جائینگے کیونکہ جب عرفات کا دِن ہوگا تو وہاں رات اور جب وہاں دِن ہو گا تو مکہ میں رات، اِس طرح تو اُن لوگوں کے لیے حقیقی یوم عرفات کے مُطابق روزہ رکھنا ممکن ہی نہ رہا، اور یوم عرفات کے مُطابق روزہ صرف اُن ممالک کے لیے مفید ہوا جہاں کم از کم دِن کے اوقات میں زیادہ فرق نہیں، جیسے پاکستان یا انڈیا وغیرہ چاہے وہاں تاریخ میں فرق ہو؟

جواب: دُنیا کے جِن ممالک میں دِن اور رات کا فرق آ جاتا ہے، اُن کے لیے مُناسب ترین مُعاملہ یہ ہے کہ وہ قیام عرفات والےدِن کے بعد اُن کے ہاں آنے والے دِن روزہ رکھ لیں، خواہ وہ دِن اُن کے ہاں اُن کی رویت ہلال کے مُطابق آٹھ ذِی الحج ہو یا سات ذِی الحج، دس ذِی الحج کو عید ہوتی ہے اور اُس دِن روزہ رکھنا ممنوع ہے، اِس کے بارے میں بات ہو چکی ہے۔

اگر معاملہ نو ذِی الحج پر منحصر ہوتا تو احادیث شریفہ میں نو ذِی الحج کا ذِکر فرمایا جاتا، نہ کہ یوم عرفات کا، رویت ہلال، اور مطالع ء ھلال کا فرق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے عِلم میں بھی تو تھا، اور اللہ عزّ و جلّ جو ہلال و قمر کا خالق ہے جِس نے اُس کا مدار مقرر فرما رکھا ہے، وہ بھی تو جانتا تھا کہ مختلف مُقامات سے چاند دیکھنے کا فرق رہے گا، اور تاریخیں مختلف ہوجائیں گی، تاریخیں ہی کیا دِن اور رات کا فرق بھی رہے گا، لہذا تاریخ کے مُطابق فضیلت عطاء فرما کر اُسی کا اعلان کروایا جاتا، لیکن رب العزت نے ایسا نہیں کیا، نو ذی الحج کو سبب ء فضیلت نہیں بنایا، بلکہ اپنے حج کرنے والے بندوں کے عرفات میں جمع ہونے کو بنایا۔

اب یہ اُس کی مشئیت ہے کہ اُس نے حاجیوں کے عرفات میں جمع ہونے کا دِن مکہ المکرمہ کی قمری تاریخوں کے مُطابق نو ذِی الحج کروایا، اگر وہ اِسے آٹھ، دس پندرہ کوئی اور دِن مقرر فرماتا تو وہی دِن تو یوم عرفات ہوتا۔

جب اللہ عزّ و جلّ نے اپنے خلیل محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ز ُبان مُبارک سے حاجیوں کے قیام عرفات کے مُقابل غیر حاجیوں کے لیے اُسی قیام والے دِن روزے کے اجر و ثواب کا اعلان کروایا تھا، تو بلا شک و شبہ اللہ پاک کے علم میں تھا کہ میرے مُسلمان بندوں میں کئی ایک ایسے ہوں گے جو اُس قیام والے دِن رات میں ہوں گے اور یہ ایک ایسا مُعاملہ ہے جِس میں تبدیلی اللہ تبارک و تعالیٰ کے عِلاوہ کِسی کے اختیار میں نہیں، اور لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا اللہ کِسی جان کو اُس کی استطاعت سے زیادہ کا پابند نہیں کرتا، اور لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا اللہ کِسی جان کو اُس سے زیادہ کا پابند نہیں کرتا جتنا اللہ نے اُسے دِیا ہے، یہ مُعاملہ تو فرائض و واجبات کا ہے، نفلی عِبادات میں تو کوئی پابندی ہے ہی نہیں۔

پس یہ اللہ پاک کی مشئیت پر منحصر ہے کہ وہ اپنے ایسے بندوں کا قیام عرفات کے بعد، اُن بندوں کے ہاں آنے والے دِن کا روزہ قیام عرفات والے دِن کے روزے کے طور پر قُبول فرما لے، کیونکہ اللہ پاک کے ہی بنائے ہوئے نظام کے مُطابق وہ دِن تو اُن کے ہاں رات ہوتا ہے۔

رہا مُعاملہ اِس سوچ کا کہ دِن اور رات کے اِس فرق کی بِناء پر اپنی اپنی رویت ہلال کے مُطابق نو ذِی الحج کو یوم عرفات مان لیا جائے تو یہ حقیقت کے منافی ہے، کیونکہ یوم عرفات صِرف وہی ہوتا ہے جِس دِن حاجی میدان عرفات میں قیام کرتے ہیں، اور وہ قیام غیر حاجیوں کے اُس دِن روزہ رکھنے کے اُس اجر و ثواب کا سبب ہے جِس کا ذِکر احادیث شریفہ میں آیا ہے۔

سوال: اگر کہیں کی رؤیت ھلال کے مُطابق دس ذی الحج مکہ میں یوم عرفات ہو تو دس ذی الحج والےدِن مُسلمانوں کو یوم عرفات کے روزے کے بارے میں کیا کرنا چاہیے ؟

جواب : آپ کے سوال کے جواب میں، اپنی ایک زیر تیاری کتاب "ہفتے کے دِن نفلی روزہ رکھنے کا حکم "میں سے ایک اقتباس پیش کرتا ہوں، جو آپ کے اِس سوال کا جواب ہے، اِن شاء اللہ

"اب ہم اِس موضوع کی طرف آتے ہیں کہ اگر کِسی کام کے بارے میں جواز اور مُمانعت دونوں ہی حُکم صحیح سندوں کے ساتھ ملتے ہوں تو اِس صورت میں جواز اور مُمانعت میں سے کِس کو أختیار کیا جائے گا اور اُس پر عمل کیا جائے گا،

فقہ کے قواعد و أصول میں یہ مقرر ہے کہ "اِذا تعارض الحاظرُ المبیح فلیؤخذ الحاظر و یُترَک المبیح" یعنی "اگر مُمانعت کا حُکم اور جواز کا حُکم ایک دُوسرے سے ٹکراتے ہوں تو مُمانعت والے حُکم پر عمل کیا جائے گا اور جواز والے کو ترک کر دیا جائے گا "۔ اِس أصول کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ایک حدیث مبارک ہے، جِس کا ذِکر ابھی چند سطر کے بعد کِیا جائے گا اِن شاء اللہ

چونکہ (اُم المؤمنین)جویریہ بنت الحارث (رضی اللہ عنہا )اور أبو ہُریرہ (رضی اللہ عنہ ُ )والی دونوں أحادیث میں زیادہ سے زیادہ ہفتے کو نفلی روزہ رکھنے کا جواز ہی ملتا ہے، تو ایسی صورت میں جواز پر عمل نہیں کیا جائے گا بلکہ مُمانعت پر عمل کیا جائے گیا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے حُکم دِیا ہے کہ إِذا أمرتُکُم بِأمرٍ فأتوا مِنہ ُ ما أستطعتُم، و إِذا نھیتُکُم عَن أمر فأنتھوا جب میں تمہیں کوئی کام کرنے کا حُکم دوں تو اپنی طاقت و قدرت کے مُطابق اُس پر عمل کرو اور جب میں تمہیں کِسی کام کے کرنے سے منع کروں تو اُسے کرنے سے باز آ جاؤ (عن أبی ہُریرہ رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہ ُ، صحیح البخاری، حدیث 7288، صحیح مُسلم، حدیث1377)

اِس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ألفاظ ہمیں صاف صاف سمجھا رہے ہیں کہ مُمانعت کے حُکم (نہی)میں کوئی أختیار نہیں۔ اُس پر عمل کرنا ہی کرنا ہے اور منع شدہ کام سے باز آنا ہی ہے اِس میں اپنی اِستطاعت (طاقت و قدرت )کے مُطابق عمل کرنے کی بھی گنجائش نہیں جیسا کہ کِسی کام کو کرنے کے حُکم (أمر )پر عمل کرنے میں اپنی اِستطاعت کے مُطابق کرنے کی نرمی دی گئی ہے۔

تو کیا صاف صریح مُمانعت مشروط جواز اور أختیار کے خلاف ہوتی ہے ؟ ہر گِز نہیں، اِختلاف أحادیث میں نہیں بلکہ اپنے فہم میں ہے یا یہ کہیے کہ اپنے محدود فہم میں ہے، اور جب کوئی اِختلاف نہیں تو پھر ناسخ اور منسوخ کی طرف دوڑ لگانے کی قطعا ً کوئی ضرورت نہیں جیسا کہ علم الاصول میں مقرر ہے۔

مُمانعت کے حُکم (نہی) کو کام کرنے کے حُکم ( أمر )پر فوقیت دِینا صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی ثابت ہے، إمام الطیالسی اپنی مُسنَد میں روایت کرتے ہیں کہ "عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے کِسی نے پوچھا کہ اگر کوئی جمعہ کو روزہ رکھنے کی منّت (نذر )مان لے تو اُسکا کیا حُکم ہے ؟

تو عبد اللہ رضی اللہ عنہ ُ نے جواب دِیا ہمیں منّت (نذر ) پوری کرنے کا حُکم دِیا گیا ہے اور جمعہ کا روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے "۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اِس جواب سے صاف ظاہر ہے کہ وہ مُمانعت کے حُکم (نہی)کو کام کرنے کے حُکم(أمر )پر فوقیت دے رہے ہیں کیونکہ نہی میں کوئی أختیار نہیں "۔

مذکورہ بالا معلومات کی روشنی میں اِن شاء اللہ آپ پر واضح ہو چکا ہو گا کہ مُمانعت والے کام سے باز ہی رہنا ہے، اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ، عید والے دِن روزہ نہ رکھنا، نہی ہے، یعنی مُمانعت والا حکم ہے، کام نہ کرنے کا حکم ہے۔

اب اگر اِس کے مُقابلے میں کہیں کی رویت ہلال کے مُطابق یہ عید والا دِن حقیقی فعلی یوم عرفات ہو، تو اُس دِن غیر حاجیوں کا روزہ رکھنے کا مُعاملہ، جو کہ ایک ترغیبی مُعاملہ ہے، یعنی اُس کا تو کوئی حکم بھی نہیں دِیا گیا، صِرف ترغیب دلائی گئی ہے، ایسا ترغیبی معاملہ ایک صریح حکم کی خِلاف ورزی کے بغیر مکمل نہ ہو رہا ہو تو، بلا شک و بلا تردد حکم پر عمل کیا جائے گا، اور روزہ نہیں رکھا جائے گا اور اگر ایسی صُورت میں روزہ نہ رکھنے والے اللہ اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت کی نیت سے روزہ نہ رکھیں گے تو اِن شاء اللہ، اُنہیں اُس روزے کے اجر سے زیادہ اجر ملے گا کیونکہ إِنَّكَ لَنْ تَدَعَ شَيْئاً لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلاَّ بَدَّلَكَ اللَّهُ بِهِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكَ مِنْهُ تُم جب بھی کوئی چیز اللہ عزّ و جلّ کی خاطر چھوڑو گے تو وہ یقیناً تمہیں اس کے بدلے میں وہ کچھ عطاء کرے گا جوتمہارے لیے اُس چھوڑے جانے والی چیز سے زیادہ خیر والا ہو گا (مُسند احمد /حدیث /23124 احاديث رجال من اصحاب النبي صلى الله عليه و سلم میں سے حدیث رقم 13، شیخ شعیب الارنؤوط رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا)

اور کچھ دیگر اسناد کے حوالےسے اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا، سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ/حدیث رقم 5کے ضمن میں۔

کچھ لوگ اس بحث کو بھی، اِس مسئلے میں شامل کر لیتے ہیں کہ عرفات کا نام عرفۃ، عرفات کیوں ہے؟ جمعے کا دِن جمعہ کیوں رکھا گیا ؟

جبکہ اِن سوالات کا، اِس موضوع کا، ہمارے زیر مطالعہ و زیر تفہیم مسئلے سے کچھ تعلق نہیں بنتا، بلکہ دِین کے کِسی بھی مُعاملے کا اِس سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ ہمارے لیے اتنا جاننا کافی ہے کہ کِس جگہ، کِس مُقام کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے عرفات فرمایا ہے، اور اُس مقام سے متعلق کون کون سے عمل ذِکر فرمائے ہیں، اور اُن اعمال میں سے کِس کِس کا کیا نتیجہ بتایا ہے، لہذا ہمیں اللہ عزّ و جلّ اور اُس کے خلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکام اور فرامین کے مُطابق عقائد و اعمال اپنانے اور مکمل کرنا ہیں۔

اللہ تقدس أسماوہُ، ہمیں توفیق عطاء فرمائے کہ ہم اُس کے دِین کو اُس کی مُراد، اور رضا کے مُطابق سمجھیں، اپنائیں، اور اُسی پر عمل پیرا رہتے ہوئے اللہ کے سامنے حاضر ہو سکیں

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں