غم کو روگ مت بنائیے – روبینہ شاہین

مولانا رومی لکھتے ہیں کہ زخم کا سوراخ وہ دروازہ ہے جہاں سے روشنی آپ کےاندر داخل ہوتی ہے۔ دُکھ وہ ایندھن ہے جو انسان کو مالک کے قریب کرتا ہے۔ اللہ ٹوٹے ہوئے دلوں میں رہتا ہے۔ دکھ اس کے قرب کا ذریعہ ہے۔ غم وہ ٹانک ہے جو انسان کو دنیا اور اس کی تکلیفوں سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ بقول غالب


رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑی اتنی کہ آساں ہو گئیں

ایک جگہ اور فرماتے ہیں


درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

دنیا میں سب سے زیادہ دکھ جس جذبے کے ہاتھوں انسان نے کھائے ہیں وہ "جذبہ محبت"ہے۔ محبت میں ناکامی کا دکھ انسان کو پاگل کر دیتا ہے۔ پاگل خانوں میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو محبت میں ناکام ہوئے۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو ایسے لوگ بھی نظر آتے ہیں جنہوں نے محبت کوروگ نہیں بنایا بلکہ اس جذبے کو ایندھن کو اس توانائی کو، اس پٹرول کو، چینلائز کر لیا۔ وارث شاہ کو اگر بھاگ بھری سے جدائی نہ سہنی پڑتی تو وہ کبھی ہیر وارث شاہ جیسا شاہکار نہ لکھتے۔ ہیروارث شاہ کے بغیر پنجابی ادب ناکارہ ہے۔ مادام کیوری کو جس لڑکے سے محبت تھی اس کی ماں نے اسے دھکے دے کر گھر سے باہر نکال دیا۔ مادام کیوری نے اسے دل کا روگ نہیں بنایا بلکہ اسے آگ کی بھٹی میں جھونک دیا پھر دنیا کو تابکاری کا تحفہ دیا۔ فاطمتہ الزہرا فیس بک رائٹر ہیں بقول ان کے میلکم ایکس یاد آتے ہیں کہ انہوں نے 'کالوں سے نفرت کے غم کو'،کیسے کمال انداز میں ڈیل کیا کہ ان کے لہجے کی گرج آج بھی دنیا کے دل پگھلاتی ہے۔ علیجہ محمد کے کام کی اصلیت سمجھ آئی تو حج سے واپس آنے کہ بعد بھی 'بریک نہیں لی' بلکہ کام کی رفتار اور بھی تیز کر دی۔

مارٹن لوتھر کنگ اپنے خواب کو حسرت بنا کہ نہیں بیٹھ گئے بلکہ ایسی خوبصورت تقریر کی سب کو ہلا کے رکھ دیا۔

ایدھی صاحب نے کچرے سے ملنے والے بچوں کا غم لے کہ ایک غزل نہیں کہہ ڈالی بلکہ انہوں نے اپنے غم کو ایک آئیڈیا میں چینلائز کیا اور عملی طور پر کر کے دکھایا۔

سینکڑوں نام ہیں جہاں اسی 'درد' نے دنیائیں تسخیر کرا دیں۔

تو ثابت ہوا جذبہ عشق دو دھاری تلوار کی طرح ہے اگر آپ اس سے مثبت کام نہیں لیں گے تو یہ آپ کو کاٹ کے رکھ دے گا۔ محبت انسان کے لیے نقصان دہ کب بنتی ہے جب انسان اسے کمزوری بنا لیتا ہے۔ خدارا اسے کمزوری نہیں اپنی طاقت بنائیے۔

کہتے ہیں کہ بچپن کے دکھ کبھی نہیں جاتے۔ ماں باپ سے محروم بچوں کی زندگی کیسی ہوگی؟ابنارمل ہاں۔۔ مگر ایک مثال تاریخ کے ماتھے کا آج بھی جھومر ہے نبی کریمﷺ کی ذات گرامی نے یہ دکھ سہا۔ آپ ﷺ سے مکمل زندگی کس کی ہوسکتی ہے؟ ہمارے سامنے عیاں ہیں۔ انہوںﷺ نے اپنے ہر دکھ، ہر غم کی دوا اللہ کی یاد میں ڈھونڈ لی۔ فرمایا نماز میری آنکھوں ٹھنڈک ہے۔ جب پریشان ہو تو سر سجدے میں رکھ دو, ساری پریشانیاں ختم


وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کونجات

غربت تنگدستی جس سے پریشان ہوکر لوگ خود سوزیاں کر رہے ہیں، کبھی سوچا لوگ جنگلوں غاروں میں بھی آسودہ حال کیوں رہتے ہیں کیونکہ انہوں نے خوش رہنے کا فن سیکھ لیا ہے۔ نبی کریمﷺ کی حدیث ہے کہ میانہ رو کبھی تنگدست نہیں ہوتا۔ انسان کو مال و دولت آسودہ نہیں کرتا بلکہ اصل امیری دل کی امیری ہے۔ غربت چلی جائے مگر احساس غربت نہ جائے تو سمجھ لیں آپ ڈیولپ نہیں ہوئے۔ اصل غم یہ نہیں کہ آپ غریب ہیں اصل غم یہ کہ آپ کو یقین ہو چکا کہ رزق دینے والی ذات کے نعوذباللہ رزق کے خزانے ختم ہو چکے ہیں۔ ورنہ وہ تو پتھر میں کیڑے کو بھی پالتا ہے۔ ان گنت مخلوق ہے جو کبھی بھوکی نہیں سوئی تو آپ کیسے بھوکے سو سکتے ہیں کہ جسے وہ اپنی مخلوقات میں سب سے احسن گردانتا ہے؟ یاد رکھیں شکوہ شکایت کرنے والوں کی بھوک کبھی نہیں مرتی۔ شکر کی عادت اپنائیں اللہ اور دے گا۔ قاسم علی شاہ کہتے ہیں کہ غم میٹھی چاشنی ہے، سویٹ ڈش ہے، اگر اس کو روگ نہ بنائیں اور شکر گزار بن جائیں۔

بقول فاطمہ "زندگی کے غم تو ایندھن ہیں، گاڑی میں پیٹرول کی طرح ہیں۔ اب پیٹرول اپنا ہو اور فری بہہ رہا ہو تو میں اُس کو اکٹھا کروں یا بہنے دوں؟ اِن غموں کو اعصاب پر حاوی ہونے دیں تو یہ ایندھن استعمال کے قابل نہیں رہتا۔ پھر یہ باسی ہو جاتا ہے۔ غم کے ایندھن کو وقت پر چینلائز کرنا ہوتا ہے کیونکہ پھر اس سے سونا بنایا جا سکتا ہے۔ ایلکیمی کی طرح! "

مومن تو غم زدہ ہو ہی نہیں سکتا اگر وہ صحیح معنوں میں مومن ہے۔ اللہ اکبر، اللہ سب سے بڑا ہے کی صدا لگانے والے پریشان کیسے رہ سکتا ہے؟ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ "مومن نہ خوف زدہ ہوتے ہیں نہ غمگین"ایک اور جگہ فرمایا "اور تم سب سے بلند ہو اگر تم مومن ہو"

ڈاکٹر شگفتہ نقوی اپنی کتاب "سکون دل"میں لکھتی ہیں "صبر کی چادر اوڑھ کر بغیر کسی صلے کے دوسروں کو خوشی دینا شروع کر دیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے آپ خود خوشی کا خزانہ بن جائیں گے۔ کیونکہ"ہماری نوے فیصد پریشانیاں ہماری دس فیصد سستی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ "

گوتم بدھ ہر مصیبت کی جڑ خواہشات کو گردانتا ہے۔ اس کے بقول خواہش ختم کردو، دکھ ختم ہو جائیں گے۔ اسلام خواہشات کی بیخ کنی نہیں کرتا۔ جائز خواہشات کا حامی بھی ہے۔ فرق یہ ہے کہ زندگی ایک امتحان ہے۔ اس لیے زندگی سے کم سے کم توقعات رکھیں۔ آپ پریشان نہیں ہوں گے۔ اشتہاروں اور میڈیا نے ہماری "اشتہا"بڑھا دی ہیں، جس سے خاطرخواہ پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

صابر چودھری اپنی کتاب ابنارمل کی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ کبھی کبھی خود سے یہ مثبت الفاظ بولیں مجھے خود پر یقین ہے۔ میں لوگوں میں ہمیشہ اچھائی تلاش کرتا ہوں۔ میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان نہیں ہوتا۔ میں ہر حال میں پر امید رہتا ہوں میں ایک بہادر انسان ہوں جو ہر طرح کے حالات کا آسانی سے مقابلہ کر سکتا ہوں۔

ڈاکٹر غزالہ موسیٰ لکھتی ہیں کہ دن میں دو تین بار یہ الفاظ دہرائیں "کوشش دعا اور اچھے ساتھی یقینی کامیابی کاراز ہیں۔ "مزید لکھتی ہیں کہ "ہم شکر کرتے ہیں، فکر نہیں کرتے"الفاظ بدل کر انسان اپنے آپ کو بدل سکتا ہے۔ آزمائش شرط ہے۔ پڑھے لکھے اور باشعور لوگوں کو صابر چودھری کے اس امید ماڈل کو اپنا موٹو بنانا ہوگا

مایوس لوگوں کی مدد کرنی ہے۔ ان میں امید جگانی ہے۔ جیساکہ زندگی سے مایوس لوگوں کو زندگی کی طرف لانا جو خودکشی کی خواہش رکھتے ہیں۔ تعلیم سے محروم لوگوں کو "علم کی دولت سے مستفیض ہونے میں مدد کرنا"جو تعلیم چھوڑ چکے یا چھوڑنا چاہتے۔ محبت سے مایوس لوگ جنہوں نے۔ اپنے سب دروازے بند کر رکھے ہیں۔

Comments

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین کا تعلق زندہ دلانِ لاہور سے ہے۔ اسلامک اسٹڈیز میں ایم فِل کیا ہے۔ فکشن کم اور نان-فکشن زیادہ لکھتی ہیں۔ پھول، کتابیں، سادہ مزاج اور سادہ لوگوں کو پسند کرتی ہیں اور علامہ اقبالؒ سے بہت متاثر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.