امریکی ڈاکٹرائن بمقابلہ چینی ڈاکٹرائن - حسیب عماد صدیقی

دنیا میں جن لوگوں نے بے گناہ انسانوں کا خون بہایا ہے ان میں زیادہ "شہرت" تو ہٹلر، اسٹالن، مسولینی، چنگیز خان اور ماؤ زے تنگ وغیرہ کے حصے میں آئی لیکن درحقیقت امریکہ میں جا بسنے والی سفید فام نسل ہے، جن کے آباؤ اجداد نے یورپ کے مختلف ملکوں برطانیہ، سپین، آئر لینڈ، فرانس، جرمنی، ہالینڈ، اٹلی، پولینڈ، ناروے اور دیگر یورپی ممالک سے ہجرت کی اور پھر بے گناہ انسانوں کے خون کی ندیاں بہا دیں اور ان کے وسائل اور علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ ان ریڈ انڈینز کے علاوہ کروڑوں افریقی، کوریائی، ویتنامی، جاپانی، جنوبی امریکی، عرب، افغانی اور دیگر بے شمار چھوٹی اقوام بھی زیر عتاب آئیں۔ افریقیوں کو غلام بنا کر امریکہ لے جایا گیا، انسانیت کی ایسی تذلیل شاید تاریخِ انسانی میں کہیں نہ ملے۔

پھر یورپی اقوام نے آپس میں بھی پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران ایک دوسرے کا بے دریغ خون بہایا، اس میں ہلاکتوں کی تعداد کروڑوں میں رہی۔ پھر دنیا میں امریکا اور روس دو عظیم طاقتیں بن کر ابھرے، جنہوں نے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ دونوں نے دوسری قوموں کے وسائل اور علاقوں پر اپنا اثرو رسوخ اورلوٹ ماربرقرار رکھنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ یورپ نے صنعتی انقلاب سے حاصل ہونے والی خوشحالی اور طاقت کو دوسری اقوام کے علاقے اور وسائل پر قبضے کے لیے استعمال کیا اور دوسرے ملکوں کو اپنی کالونیوں میں تبدیل کیا، جس کا مقصد وہاں کے وسائل لوٹ کر اپنے ملکوں میں منتقل کرناتھا۔ یہ پالیسی جو کہ جنگ و جدل، قتل وغارت، وسائل پر قبضے اور لوٹ مارپر مبنی تھی اسے مغربی ڈاکٹرائن کہہ سکتے ہیں، چاہے یہ برطانوی امپیریلزم ہو، امریکی کیپٹل ازم یا روسی کمیونزم۔ یہ گزشتہ کئی صدیوں سے ان طاقتور اقوام کا فلسفہ رہا ہے۔

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسانوں کا خون بہائے بغیر امن، ترقی اور خوشحالی ممکن ہے؟یہ چین نے ثابت کیا ہے کہ دنیا میں خون بہائے بغیر بھی ترقی ممکن ہے۔ ہانگ کانگ چین کا حصہ تھا جس پر برطانیہ نے قبضہ کر رکھا تھا۔ تین دہائی قبل ہی چین اتنا طاقتور ہو گیا تھا کہ جب چاہتا ہانگ کانگ پر بزورِ طاقت قبضہ کر سکتا تھا لیکن اس نے برطانیہ سے مزاکرات کیے اور پرامن طریقے سے ہانگ کانگ کو واپس چین کے زیرِ انتظام کر لیا اسی طرح تائیوان بھی چین کا حصہ ہے لیکن اس وقت وہ امریکہ کے زیرِ اثر ایک الگ ملک کے طور پر موجود ہے لیکن چین نے تائیوان کا مسلہ حل کرنے کے لیے بھی ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا۔ چین اپنی پر امن پالیسی کی بدولت نہایت تیز رفتاری سے ترقی کر کے دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن چکا ہے اور اب مزید پیش قدمی کرتے ہوئے ون بیلٹ ون روڈ پراجیکٹ کے زریعے پوری دنیا میں تجارت برائے ترقی و امن کے زیرِ عنوان چار ہزار ارب ڈالر کا عظیم الشان منصوبہ شروع کر چکا ہےجس کا بنیادی مقصد چین سے باقی دنیا کو بذریعہ روڈ اور ریلوے نیٹ ورک ملانا ہےتاکہ باہمی تجارت بڑھے۔

روس نے پاکستان کی گرم پانی کی بندرگاہ پر قبضے کے لیے افغانستان پر حملہ کیا اس کا اگلا نشانہ پاکستان تھا۔ سینکڑوں ارب ڈالر اور ہزاروں روسی فوجی اور لاکھوں معصوم افغانوں کا خون بہا کر بھی اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکا جبکہ چین کو بھی پاکستان کی بندرگاہ گوادر کی ضرورت تھی اس نے ایک گولی چلائے بغیر 56 ارب ڈالر کے پاکستان میں انفرا اسٹرکچر اور توانائی کی ترقی کے منصوبے کے عوض گوادر پورٹ کے استعمال کا 30 سالہ معاہدہ کر لیا۔یہ منصوبہ ناصرف چین اور پاکستان بلکہ دوسری قوموں کے لیے بھی تجارت، ترقی اور خوشحالی کا باعث بنے گا۔

کیا امریکہ افغانستان میں مزید خونریزی کرنے کے بجائے چین کی پالیسی اختیار نہیں کر سکتا ؟ اگر افغانستان کے تمام متحارب گروہوں کے درمیان، علاقائی ملکوں کی مدد سے ایک عظیم مذاکرے کا اہتمام کیا جائے اور انہیں امن، ترقی، خوشحالی کے ثمرات سے آشنا کیا جائے اور افغانستان پر فوج کشی پر خرچ ہونے والی رقم کا صرف دس فیصد تکّلم، تعلیم، تعمیر، تجارت اور ترقی پر خرچ کیا جائے اور انصاف کے ادارے، اسپتال، تعلیمی ادارے، روزگار اور آمد و رفت کے ذرائع تعمیر کیے جائیں تو شاید بغیر کسی خونریزی کے افغانستان کا دہائیوں پرانا سالہ مسئلہ بہت خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکتا ہے۔ بد قسمتی سے ہندوستان بھی امریکن ڈاکٹرائن کی نقل کررہا ہے اور امریکہ کا پارٹنر بن کر جنگ و جدل اور قتل وغارت کے زریعے اس علاقے کا پولیس مین بننا چاہتا ہے۔ بھارت کو پتہ ہونا چاہیے کہ اس علاقے کے بڑے ممالک روس، چین، ایران اور پاکستان سب امریکی توسیع پسندی کے خلاف ہیں۔ بھارت کی مثال جنگل کی اس کہانی کی طرح ہے جس میں ایک بندر شیر کی خدمت پر معمور تھا اور اس کے عوض شیر اپنا بچا کچا کھانا بندر کو دے دیا کرتا تھا۔ بندر اپنی قوم کا سردار تھا۔ ایک دن بندرجاتی نے اس سے کہا کہ تم نے شیر کی اتنی خدمت کی ہے اگرشیر تمہیں شکار کرنا سکھا دے تو ہم بھی جھوٹا کھانے سے بچ جائیں گے اور عزت سے شکار کرکے زندگی گزاریں گے۔ بندر نے شیر سے فرمائش کی کہ میں نے ساری زندگی آپ کی خدمت کی ہے اور اب اگر آپ مجھے شکار کے گر سکھا دیں تو میں بھی باقی زندگی عزت سے بسر کرونگا۔ شیر نے اس کی بات مان لی اور کہا کہ کل شام آنا میں تمہیں شکار کے گر سکھا دونگا اگلی شام شیر اسے اپنے ساتھ جنگل میں لے گیا وہاں ایک موٹا تازہ بھینسا گھاس چر رہا تھا۔ شیر نے بتایا کہ شکار کا پہلا اصول یہ ہے کہ صحیح وقت کا انتخاب کرو یعنی جب سورج غروب ہو رہا ہو اس وقت شکار کا جانور تھکا ہوا ہوتا ہے دوسرا یہ کہ شکار کے قریب ترین پہنچو لیکن اسے پتہ نہ چلے۔ تیسرا دیکھو کہ میری آنکھیں سرخ ہو گئی ہیں اورمیرے جسم اور دم کے بال کھڑے ہو گئے ہیں اور چوتھا یہ کہ حملہ کر دو۔ یہ کہہ کر شیر نے چھلانگ لگائی اور بھینسے پر حملہ کر دیا اس کی گردن دبوچ لی اور شکار کو زمین پر گرا دیا۔

یہ دیکھ کر بندر نے کہا کہ یہ تو بہت آسان کام ہے اور میں خواہ مخواہ ساری زندگی جھوٹا کھاتا رہا۔ اس نے اگلے دن ساری بندر جاتی کو جمع کیا اور کہا کہ ہم ذلت آمیز زندگی گزارتے رہے اور جھوٹا کھاتے رہے، یہ تو بہت آسان کام ہے، کل سے خود شکار کریں گے اور عزت کی زندگی گزاریں گے۔ اگلی شام بندر اپنی تمام بندر جاتی کو لے کر جنگل میں گیا اور مغرب کے وقت کا انتخاب کیا۔ وہاں بھی ایک موٹا تازہ بھینسا گھاس چر رہا تھا۔ وہ اس کے قریب پہنچا اور بندر جاتی سے کہا کہ دیکھو کیا میری آنکھیں سرخ ہو گئی ہیں اور دُم کے بال کھڑے ہو گئے ہیں ؟ سب نے کہا ہاں اور پھر بندر جھاڑی کے پیچھے سے نکلا اور بھینسے پر حملہ کر دیا۔ بھینسے نے ایک زوردار ٹکر ماری اور بندر کو دن میں تارے نظر آ گئے۔ سارے بندر بھاگ کھڑے ہوئے اور اس نے بڑی مشکل سے درخت پر چڑھ کر اپنی جان بچائی۔ اگلے دن سارے بندر جمع ہوئے اور کہا کہ شیر نے ہم سے چیٹنگ کی ہے اور شکار کا اصل گُر نہیں بتایا۔ بندروں کا سردار شیر کے پاس گیا اور کہا کہ شاید آپ آخری گر بتانا بھول گئے۔ شیر نے کہا کہ ہاں سوری میں یہ بتانا بھول گیا کہ شکاری شیر ہونا چاہیے۔

بھارت تاریخ کے غلط رخ پر کھڑا ہے اسے یہ پالیسی بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔ اسے بھی چاہیے کہ پڑوسیوں سے اپنے اختلافات مذاکرات سے حل کرے اور چین کی پالیسی یعنی تکّلم، تعلیم، تعمیر، تجارت اور ترقی اپنائے۔ دوسروں کی شہہ پر اپنے قد سے بڑی بات گلے پڑ سکتی ہے۔ پاکستان کو بھی اس موقع پر بہت پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہے۔ پاکستانی سیاسی لیڈرشپ،وزارت خارجہ اور قومی سلامتی کے ادارے امریکہ کی موجودہ افغان پالیسی اور پاکستان کے خلاف اس کے ممکنہ فوجی اور معاشی رد عمل کا بہت گہرائ سے جائزہ لیں۔ امریکہ کی شکایات پر سنجیدگی سے غور کریں اور ان کو دُور کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے تحفظات خصوصاً افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور افغان سرزمین پر بھارتی سفارتخانوں کا دہشت گردی کے لیے استعمال سے آگاہ کریں۔ پاکستانی لیڈرشپ کی کامیابی یہ ہوگی کہ وہ بغیر کسی تنازع یا تصادم میں الجھے ٹرمپ کی افغان پالیسی سے پیدا شدہ بحران سےپاکستان کو باہر نکالے اور مسائل کو مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کرےکیونکہ نئی صدی میں تکلم، تعلیم، تعمیر، تجارت اور ترقی ہی امن و خوشحالی کی راہ ہے۔