عید الاضحیٰ یا عید المقابلہ- کفیل احمد صدیقی

آج کل سب سے زیادہ مشہور سوال جو ہر چھوٹے بڑے، جوان بوڑھے، عورتوں اور مردوں کی زبانوں پر ہے وہ ہے "بھائی! کتنے کا لیا؟"

بظاہر یہ ایک مزاحیہ بات لگتی ہے، اور اس کو عادتاً کیا جاتا ہے، لیکن در حقیقت یہ ایک ایسا ناسور ہے جو آہستہ آہستہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اب لوگوں کو اس کی قباحت کا احساس تک نہیں ہوتا۔ راہ چلتے، گزرتے ہوئے کہیں کوئی جانور نظر کیا آیا چھٹ سے پوچھتے ہیں" بھائی کِتّے کا لیا؟" اور صاحبِ مال بھی اس کو بڑے فخریہ انداز میں بتاتے ہیں کہ ہم اتنے کا لائے۔ کبھی تو سوال کیے بغیر کی جواب مل جاتا ہے۔

ارے بھائی! جب قربانی الله کے لیے کرنی ہے اور اس میں مقصود صرف اسی کی رضاء کا حصول ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ جانور لاکھ کا ہو یا دس لاکھ کا؟ جس کی رضاء مقصود ہے اس نے تو واضح الفاظ میں قبولیت کا معیار بتا دیا ہے"لن ینال الله لحومھا ولا دمائھا ولکن یناله التقویٰ منکم" کہ الله تک نہ تو تمہاری قربانیوں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ہی اس کا خون، تو اب چاہے جانور دس ہزار کا ہو یا دس لاکھ کا قبولیت کا معیار تو قربانی کرنے والے کی نیت پر ہے، نہ کسی کم قیمت جانور پر۔ ہمارا کوئی تجزیہ بنتا ہے کہ "اتنا کمزور کیوں لے آئے؟ قربانی کرنی تھی تو کچھ اچھا جانور لاتے" اور نہ لاکھوں کے جانور دیکھ کر ہم اس کے عند الله مقبولیت کی دلیل دے سکتے ہیں۔

اگر واقعی آپ خدا کے راستے میں اپنے پسندیدہ مال کی قربانی میں اخلاصِ نیت کے ساتھ خوب خرچ کرنا چاہتے ہیں تو دس لاکھ کے ایک جانور کے بجائے لاکھ لاکھ کے دس جانور قربان کردیں، یقیناً زیادہ ثواب اور کم دکھلاوے میں معین ہوگا۔ پھر شریعت بھی اس مال کے خرچ کو زیادہ پسند کرتی ہے جو أنفع للفقراء ہو۔ آپ کا لاکھوں کا وزنی ترین جانور بھی گلے پر چُھری پھیرے جانے کے بعد دنیا کی نظر میں بے معنی ہو جائے گا۔ اگر اس میں نیت صحیح تھی تو باعث اجر، وگرنہ صرف گوشت سے افادہ کے سواء آپ کے لیے وہ کوئی اجر ذخیرہ نہیں کر سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   عظیم المیہ - صائمہ وحید

عید کو عید الاضحیٰ (قربانی کی عید) ہی رہنے دیں، جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے بیابان میں اپنے جگر کے ٹکڑے کو قربانی کے لیے حاضر کیا تھا۔ جانوروں کی تشہیر کر کے اور باقاعدہ ٹینٹ لگا کر نمائش کے لیے ان کو پیش کرنا اور کیٹ واک کروا کر لوگوں سے داد اور تعریفیں سمٹ کرنا اور پھر اس کوشش میں رہنا کہ محلے اور رشتداروں میں سب سے بڑا اور مہنگا جانور ہمارا ہو۔ یہ عید کے معنی کو بگاڑنا ہے۔ اس سوچ کے ساتھ عید "عید المقابلہ" معلوم ہوتی ہےنہ کہ عیدِ قرباں۔

دوسری بات یہ دیکھی جاتی ہے کہ قربانی کرنے والے یہ سمجھ بیٹھتے ہی کہ ہم اگر قربانی کر رہے ہیں تو یہ ہمارے تمام گناہوں کا کفارہ ہے، اور جانور کی خدمت ہی تمام فرائض اور اجتناب عن المحرمات کی طرف سے کافی۔ چنانچہ ہر گلی کوچہ میں ایک گائے کے قیام کی خاطر دس دس جانوروں کے حساب سے جگہوں پر قصبہ کر لیا جاتا ہے، آنے جانے والوں کے لیے جو بے پناہ مشکلات اور ان کے لیے تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔ اگر کسی کو سمجھانے کی کوشش کی جائے تو کہتے ہیں بھائی قربانی کا جانور ہے تھوڑا سا برداشت کریں، اب چاہے کسی کے گھر ایمرجنسی میں ایمبولینس ہی کیوں نہ آنی وہ مریض جانور کا خیال کرے۔

خدا کے لیے کچھ خیال کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی اتنی مالی قربانی کسی کے لیے ایذاء رسانی کا سبب بن کر اکارت نہ چلی۔ الله تعالیٰ ہم سب کی قربانیوں میں اخلاص نصیب فرمائے، اور سب کی قربانیاں قبول فرمائے، آمین!