یہ اندھیرا کسی کا مقدّر نہ بنے - ڈاکٹر عزیزہ انجم

معروف گلوکار جان لینن کے گانے 'no religion' کے حوالے سے بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر جو وضاحتی بیان شائع ہوا، اس میں یہ بات کہی گئی کہ اس گانے میں خدا کی نفی نہیں کی گئی بلکہ شاعر یہ کہنا چاہتا تھا کہ میرا خدا تمہارے خدا سے بہتر نہیں۔

بظاہر یہ ایک معصومانہ بات ہے لیکن درحقیقت اتنی ہے نہیں۔ مغرب میں اگر یہ گانا مقبول ہوا یا بہت زیادہ پسند کیا گیا، کنسرٹس میں سینکڑوں بار گایا گیا، تو عرض ہے کہ مغرب میں اس گانے کے پس منظر کی، اس کے مطلب کی گہرائی کی کوئی اہمیت نہیں۔ مغربی ذہن کےلیے عموماً خدا کا، پیغمبر کا، دین کا وہ تصور ہی نہیں، خدا سے اس طرح کا تعلق اور محبت اس طرح کی نہیں جیسی مسلمانوں میں پائی جاتی ہے ۔ مغرب کے انسان کے نہ دل میں خدا اور اس کا رسول ہیں نہ ان کی زندگی میں۔ نبیوں کے بارے میں تو ان کا تصور ایک اچھے انسان کا بھی نہیں جس کی گواہی ان کی تحریف شدہ بائبل اور دیگر کتب دیتی ہیں۔ مغرب نے نبیوں کو اللہ کا مخلص اور با اعتماد نمائندہ نہیں مانا اور ان کے تقدس کی نفی کی۔ ان کی شان سے گری ہوئی باتیں کی اور مذاق بنایا۔

پھر خدا کا تصور تو پوری سیکولر تہذیب میں ایسا ہے کہ وہ انسان کو پیدا کرنے والا، اس سے محبت کرنے والے، رہنمائی دینے والا، مدد کرنے والا اور دعائیں سننے والا ہے ہی نہیں۔ اللہ کے احکام کی پیروی کا ذکر تو خیر بہت دور کی بات ہے۔ ذاتی زندگی اپنی مرضی کی، اجتماعی زندگی اپنے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق، نہ معاشرتی زندگی میں اللہ کی ہدایت پر عمل ہے، نہ سیاسی اور معاشی زندگی میں۔ یوں دیکھیں تو اگر یورپ کے اسکولوں میں یہ گانا گایا گیا تو یہ ان کی سوچ اور ان کے مزاج سے میل کھاتا ہے۔

لیکن، الحمدللہ، مسلمانوں کا معاملہ اب تک ایسا نہیں ہے۔ مسلمان شریعت پر عمل جیسا بھی کرے، جس درجہ عمل کرے، نہ کرے، پیغمبرﷺ کی بتائی ہوی راہوں سے اِدھر اُدھر ہو جائے، اللہ سے لاڈلے گستاخ بچوں کی طرح باتیں بھی کرلے، پھر بھی اللہ اور اس کے رسولوں کی محبت مسلمان کا سرمایۂ حیات ہے، اس کی آخرت کی گٹھڑی کی متاع ہے، اس کا جذباتی خزانہ ہے۔غالب ہو یا میر، ۔بلھے شاہ ہوں یا عابدہ پروین، جس نے اللہ اور اس کے دین کے حوالے سے غلط کہا، وہ غلط ہے لیکن اس میں محبت بھری گستاخی ضرور ہے، اس کی ذات کا انکار نہیں۔ خدا کے وجود کا انکار اس کے تصور اور تعلق سے خالی زندگی کتنی دردناک ہوتی ہے، ہمارے ناسمجھ دوست اس کا اندازہ نہیں کر سکتے ۔

پچھلے تیس سالوں میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمان مختلف مغربی ممالک میں منتقل ہوئے ہیں۔ وہاں کی ساری آسائشیں، اصول و قوانین اور تمدنی سہولتوں کے باوجود مسلمانوں کی غالب اکثریت کو اندازہ ہو گیا کہ زندگی کی سب سے قیمتی متاع اللہ اور اس کا دیا ہوا دین ہے۔مسلمانوں نے اپنے دین کی مذہب کی حفاظت کی، اپنی زندگی کو حتی الامکان دین پر قائم رکھنے کی کوشش کی اور یہی وجہ ہے کہ آج وہاں بھی مسجد اور حجاب مسلمانوں کی قابلِ فخر پہچان ہیں۔ وہ ڈاکٹر دوستیں جو برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ میں میڈیکل پریکٹس کرتی ہیں وہ اس کرب سے واقف ہیں، جس میں وہاں کاانسان بغیر خدا کے تصور ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔

ڈاکٹر سبیتہ، جو لندن کے کینسر اسپتال میں کام کرتی ہیں، کہتی ہیں ان کی زندگی میں نہ محبت کرنے والا خدا ہے، نہ امید دلانے والی آخرت۔ نہ بیماری اور تکلیف پر کسی اجر کا یقین، نہ دعائیں تسبیحات اور مغفرت کی طلب۔ ایک بے چینی اضطراب اور خالی پن جس نے ان کی زندگی کو بےمعنی بنادیا ہے۔

یہ ہے وہ زندگی جو ' no religion' پر یقین رکھنے والوں کو ملتی ہے اور یہی وہ زندگی ہے جو بےچارے گئے گزرے مسلمانوں کو دینے کی تیاری ہے۔ یہ تو صرف ابتدا ہے اس سوچ کی آبیاری کی، جہاں آگے چل کر فرد کسی بھی تصور خدا سے بےنیاز ہو۔ وہ جو جی چاہے کرے، جس طرح کی زندگی گزارے، اس پر اسے کوئی پریشانی کوئی پشیمانی نہ ہو اور دل کے طاق میں رکھا چراغ جو حبّ الہٰی اور معرفت الٰہی سے جگمگاتا ہے گل ہوجائے، اللہ نہ کرے یہ اندھیرا ہم میں سے کسی کا مقدر ہو!

Comments

Avatar

ڈاکٹر عزیزہ انجم

ڈاکٹر عزیزہ انجم 30 سال سے بطور فیملی فزیشن پریکٹس کر رہی ہیں۔ شاعری کا مجموعہ زیرِ طباعت ہے۔ سماجی اور معاشرتی موضوعات پر طویل عرصے سے لکھ رہی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */