حج سے ملنے والے تربیتِ نفس کے عملی اسباق - عادل سہیل ظفر

انسانی تاریخ میں حج سے بڑھ کر کوئی اجتماع ایسا نہیں جِس میں ایک ہی وقت میں لاکھوں انسانوں کی عملی طور پر دُرُست رُوحانی تربیت کا عملی انتظام ہوتا ہو۔ صدیوں سے جاری اور اِن شاء اللہ تا قیامت جاری رہنے والے اِس ٹرینگ کورس کا اثر نہ صرف اِس میں شامل مُسلمانوں پر ہوتا ہے بلکہ دُور سے اس کا مشاہدہ کرنے والے مُسلمانوں پر بھی ہوتا ہے اور اکثر غیر مُسلموں پر بھی، کہ مُسلمانوں میں اِیمان جوش پکڑتا ہے اور غیر مُسلمان بھی اِسلام کی یک جہتی اور مساوات کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔ ذرا غور کیجیے کہ جب دُنیا کے مختلف گوشوں سے، مختلف ز ُبانوں والے، مختلف رنگوں والے، مختلف نسلوں والے، مختلف عادات والے، مختلف افکار والے، سب ہی اکیلے لا شریک خالق و مالک اللہ تبارک و تعالیٰ کی توحید کا واشگاف اعلان کرتے ہیں، اُس کی تعریف کرتے ہیں، اُس کی نعمتوں کا اِقرار کرتے ہیں، اُس کا شُکر ادا کرتے ہیں، اور تلبیہ کی صُورت میں باآواز بُلند یہ اعرتافات کرتے ہوئے سُنائی دیتے ہیں کہ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ حاضر ہوں اے میرے اللہ حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، حاضر ہوں، بے شک خالص سچی تعریف اور تمام تر نعمتیں اور حقیقی بادشاہی تیری ہی ہیں، تیرا کوئی شریک نہیں۔

کیا ہی بھلا ہو کہ یہ سب حجاج کرام اور اُن کو یہ سب کہتے ہوئے سننے والے مُسلمان یہ بھی سیکھ لیں کہ حج کے موقع پر اللہ کی اس خالص توحید، اللہ کی نعمتوں کے اعتراف اور ان پر شکر اور اللہ کی حقیقی بادشاہی کے اعتراف پر عمل کرنا حج کے عملی اسباق میں سے پہلا بنیادی سبق ہے، ز ُبان سے جاری ہونے والے اِن حقائق کو رُوح میں بھی جاگزین کرنا مطلوب ہے اور پھر اپنی زندگی کے ہر شعبے میں عملی طور پر ظاہر کرتے رہنا مطلوب ہے۔ کیا ہی بھلا ہو کہ ہم سب ہی اس عملی تربیت کا درس سیکھ لیں اور اللہ کی توحید کے عملی پیغامبر ہو جائیں۔

حج کے اِس بنیادی رُوحانی سبق کے علاوہ حجاج کرام اور ساری ہی اُمت کے لیے حج میں درج ذیل اہم اسباق بھی پائے جاتے ہیں

(1) اللہ واحدہ ُ لا شریک لہُ کی توحید کے ذریعے اخلاص کی نمود و افزائش

جی ہاں، اللہ کی توحید کے اس متکرر اقرار سے، اقرار کرنے اور سننےو الوں میں اللہ کے اخلاص بڑھتا ہے، اخلاص جو کہ کسی بھی نیک عمل کی قبولیت کی پہلی شرط ہے، جس کی عدم موجودگی کسی بھی نیک عمل کے قبول نہ ہونے کی ضمانت ہے، اس مذکورہ بالا تلبیے یعنی لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، کے ساتھ ساتھ حج سے متعلق آیات مبارکہ پر ہی غور کیجیے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِخلاص کے ساتھ ہی یہ عِبادت کرنے کی کس قدر تاکید فرمائی ہے وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ اور حج اور عُمرہ اللہ کے لیے مکمل کرو (سُورت البقرہ/آیت 196)

(2) اللہ کی توحید کی متابعت میں اتباع رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تربیت

جی ہاں، اتباع رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہی اللہ کی توحید کی مُتابعت ہے، اِسے رسالت کی توحید بھی کہا جا سکتا ہے، کیونکہ اس توحید کا اقرار کرنے والا اپنے عمل سے یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ سوائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے کسی بھی دُوسرے کو قولی، فعلی ظاہری یا باطنی غرضیکہ کسی بھی طور پر اللہ کا آخری رسول نہیں مانتا، اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کے احکام کے مخالف کسی بھی حکم کو نہیں مانتا، اور ان صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں کے علاوہ کسی بھی اور کے طریقے کے مُطابق کوئی عِبادت عِبادت نہیں کرتا۔

عام مشاہدے میں یہ آتا ہے کہ حج کرنے والوں کی اکثریت حج کے ماحول میں پینچنے کے بعد اپنے اپنے مسلکوں اور مذہبوں کے اختلاف کو مد نظر رکھنے کی بجائے یہ کوشش کرتے ہیں کہ اُن کے حج کے تمام تر مناسک سُنّت مُبارکہ کے مُطابق ادا ہوں، اُن کی یہ کوشش حج کے تربیتی پھلوں میں اِس دُوسرے أہم پھل یعنی اتباع رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بیج بوئے جانے، اورحج کے روحانی ماحول کی آبیاری میسر ہو کر اُس کے پنپنے کی علامت ہوتی ہے، سوائے ایسے لوگوں کے جن کے دِلوں پر مہریں لگی ہوں اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے علاوہ صِرف اُنہی کے پابند رہیں جن کے پابند انہیں کر دیا گیا ہو، اللہ تعالیٰ ہر کلمہ گو کو ایسی اور ہر گمراہی سے محفوظ رکھے۔

(3) شِرک اور مُشرکین سے برأت اور بیزاری

شِرک سے برأت اور بیزاری کی تربیت کے بارے میں ابھی بات کی گئی ہے، رہا معاملہ مُشرکین اور اُن کے اعمال سے عملی طور پر برأت اور بیزاری کا معاملہ تو اس کی تربیت ہمیں حج کے تقریباً ہر منسک میں ملتی ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اشھر الحج، یعنی حج کے مہینوں میں عُمرے کے لیے اھلال فرمایا، تلبیہ جس کے بیان سے میری بات کا آغاز ہوا، حج تمتع کا حکم، عرفات میں قیام، مزدلفہ سے نکلنا، غرض یہ کہ حج کے تقریباً ہر منسک میں مُشرکین کی مُخالفت کی، اور یقیناً بِلا شک و شبہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے رضا کے مُطابق کی، اور اب سب ہی حجاج کرام وہی سب کچھ کرتے ہیں، اور ہم سب مُسلمان انہیں وہ سب کچھ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں اوُر ان کی مددگاری کی کوشش کرتے ہیں، لیکن شاید ہی کسی کو یہ احساس ہوتا ہو کہ اِن مناسک کو ادا کرنا صرف حج کی تکمیل کے لیے لازم نہیں ہیں بلکہ ان میں پوشیدہ یہ تربیت بھی حاصل کرنا مقصود و مطلوب ہے کہ بحیثیت مُسلمان ہمیں کفار و مُشرکین کے تمام اعمال و عادات خواہ وہ عِبادات کے زُمرے میں آتی ہوں یا عادات کے ز ُمرے میں، کی مخالفت کرنا ہے اور اپنا منفرد اِسلامی تشخص برقرار رکھنا ہے، اگر ہم اپنے اس اِسلامی تشخص کو برقرار نہیں رکھیں گے تو اُس ذہنی، رُوحانی، معاشی، معاشرتی اور معاذ اللہ مادی غلامی، اور ذلت و رُسوائی میں اضافہ ہی ہوتا جائے گا جِس کا ہم اس وقت شِکار ہیں اور صِرف اور صِرف اپنے دِین کی تعلیمات کو پس پُشت ڈال کر ہر دُرست و نا دُرست کام میں کفار و مُشرکین کی پیروی کرنے کے نتیجے میں شِکار ہیں۔

(4) دِلوں کے لیے تقویٰ کے حصول کی تربیت

حج کے احکام سے متعلقہ آیات مبارکہ میں اللہ سُبحانہ ُ وتعالی نے اِرشاد فرمایا ذَلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ یہ ہے اصل معاملہ(جو سابقہ آیات میں بیان ہوا ہے)اور جو کوئی بھی اللہ کی مقرر کردہ ادب والی چیزوں کی تعظیم کرتا ہے تو اُس کا ایسا کرنا دِلوں کے تقویٰ میں سے ہے (سُورت الحج/آیت 32)

اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ فرمان ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ حج کے دوران وہاں یعنی بیت اللہ، مکہ المکرمہ، منیٰ عرفات، مزدلفہ کے مقامات میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامات اور تعلیمات کے مُطابق مشاعر مقدسہ کی پہچان کر کےاُن کی تعظیم کرنا دِلوں میں تقویٰ کے ہونے کی دلیل ہے، پس حجاج کرام میں سے جو کوئی بھی میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامات اور تعلیمات کے مُطابق مشاعر مقدسہ کی تعظیم کرتا ہے اُس کے دِل کےتقوے کا عملی اظہار ہوتا ہے اور وہ اظہار خود اُس کے لیے اور دُوسروں کے لیے اُن میں چھپے ہوئے تقوے کے اظہار اور تقویت کا سبب بنتا ہے، یوں اِس کام میں حجاج اور ساری اُمت کے لیے ایک دُوسرے کے تقوے کوعملی طور پر ظاہر کرنے اور اُسے مضبوط کرنے میں مددگاری کی تربیت دی جاتی ہے۔

(5) خوش اخلاقی اور اچھی صِفات کی تربیت

اگر سمجھنے کی کوشش کی جائے تو بہت اچھی طرح سے سمجھ آتا ہے کہ حج کے دوران حجاج کرام کو اور اُن سے مُتعلق دیگر مُسلمانوں کو اور ان کے ذریعے ساری ہی اُمت کو خوش اخلاقی اور اچھی پسندیدہ صِفات کی تربیت بھی دی جاتی ہے، مثلاً:

(5-1) اللہ تبارک و تعالیٰ کے احکامات کو ماننے کی تربیت

حج کے دوران حاجی اپنی ذاتی پسند نا پسند کو ایک طرف چھوڑتے ہوئے، اللہ کے احکام پر عمل پیرا رہتا ہے، اس کیفیت میں یہ تربیت ہے کہ مُسلمان کو ہمیشہ ہی اپنے رب کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے اپنی پسند یا نا پسند کو چھوڑنا ہی چاہیے۔

(5-2) غصے کو ضبط کرنا

(5-3) لڑائی جھگڑا کرنے سے مکمل پرہیز کرنا، نہ خود لڑائی کرنا اور نہ ہی کسی دُوسرے کو اس طرف مائل کرنا۔

(5-4) جنسی خواہش اور اس خواہش کو متحرک کرنے والے کاموں اور باتوں سے پرہیز کرنا۔

ان سب مذکورہ بالا کاموں سے دُور رہنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان مبارک میں دِیا ہے الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کا اِرادہ کر لے تو اُسے حج کے دوران جنسی عمل اور اس عمل کے محرکات، اور ہر برائی، اور لڑائی جھگڑے اور اس کے ہر سبب سے باز رہنا چاہیے (سُورت البقرہ/آیت 197)

ان کے عِلاوہ خوش اخلاقی اور اچھی صِفات کی تربیت کے ز ُمرے میں درج ذیل صِفات بھی شامل ہیں

(5-5) پسندیدہ، یا آرام دہ لباس اِستعمال کیے بغیر گذارہ کرنا

جس کی تربیت دوران حج اححرام کا لباس پہننے کی صُورت میں ہوتی ہے

(5-6) وقار، اطمینان اور نرم مزاجی کی تربیت

جیسا کہ مناسک حج کی ادائیگی میں اللہ کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے حکم فرمایا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالإِيضَاعِ اے لوگو، تُم لوگوں پر اطمینان اور سکون سے کام کرنا لازم ہے، کیونکہ جلد بازی کرنے میں کوئی نیکی نہیں(صحیح البخاری/حدیث1671/کتاب الحج/باب94)

(5-7) اپنے مُسلمان بھائیوں، بہنوں کے ساتھ برابری اور مَساوات کی تربیت

حج کے تمام تر مناسک میں کسی حاجی کو دُوسرے پر کوئی فضیلت یا فوقیت نہیں، سب ہی کے لیے ایک ہی جیسے مناسک ہیں اور سب ہی کو اپنی نیت کے مُطابق اختیار کردہ حج کے مناسک ایک ہی طرح سے ادا کرنا ہوتے ہیں، جس میں یہ تربیت ہے کہ اللہ کی عِبادت کرنے میں اللہ کے سامنے سب ہی مُسلمان ایک جیسے ہیں، جی عِبادت کے معیار اور قبولیت کے مُطابق کسی کا رتبہ اللہ کے ہاں کیا مقرر ہوتا ہے یہ اللہ ہی جانتا ہے۔

(5-8) مختلف معاملات میں صبر کرنے کی تربیت

جن میں سے سب سے أہم ترین معاملات اللہ کی عِبادت کرنا، اور اللہ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی تابع فرمانی کرنا ہے کہ حج کے دوران اِن کاموں کی تکمیل میں عام معمولات سے زیادہ مشکلیں اور مُشقت در پیش ہوتی ہیں، جن پر صبر کر کے ہی حاجی اپنے مناسک کو دُرُست انداز میں ادا کر پاتا ہے، اِس کے علاوہ اِرد گِرد کے رش، اور ماحول کی تنگی اور مُشقت پر صبر، اپنی پسند کے خلاف کھانے پینے، رہنے سہنے کے معاملات میں مُشقت پر صبر، اور دیگر بہت سے ایسے ہی تکلیف دہ اور پُر مُشقت معاملات مسلسل صبر کرنا ہوتا ہے، یہ سب امور حجاج کرام کے لیے بالخصوص اور اُن کا مشاہدہ کرنے والوں کے بالعموم صبر کی تربیت ہیں۔

(5-9) اللہ کی رضا کے لیے مال خرچ کرنے کی تربیت

حجاج کرام میں عموماً ایسے بھائی ہوتے ہیں، اور اُن کے علاوہ غیر حاجی لوگوں میں سے ایسے لوگوں کی کثرت ہوتی ہے جو اِس عِبادت کے دوران اپنے حاجی بھائی بہنوں کی مشکلوں اور مُشقتوں کو دیکھ کو اُن کی آسانی اور خدمت کے لیے اپنا مال خرچ کرتے ہیں، اپنے مُسلمان بھائی بہنوں کی لیے نیکی میں آسانی مہیا کرنے کے لیے اُن پر اپنا مال خرچ کرنے کی یہ ہمت ساری اُمت کے لیے ایک تربیتی درس ہے کہ ایسا صرف حج میں ہی مطلوب نہیں بلکہ ہمیشہ ہی ہوتے رہنا چاہیے۔

(5-10) ساری دُنیا کے مُسلمانوں میں، رنگ و نسل، ز ُبان و عادات اور جغرافیائی تقسیموں سے بالا تر ہو کر اِسلامی بھائی چارے اور محبت کو اجاگر کرنے کی تربیت

دوران حج مختلف رنگ و نسل، زبانوں اور علاقوں والے مُسلمان ایک دُوسرے سے ملتے ہیں اور ایک دُوسرے کے احوال جانتے ہیں جس میں ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ ایک دُوسرے کی تکالیف جان کر اُنہیں دُور کرنے میں ایک دُوسرے کے مددگار ہوں، اور ساری ہی دُنیا کے مُسلمانوں میں وہ بھائی چارہ جو اِسلام کی منفرد خصوصیات میں سے ایک تھا اور عین مطلوب ہے لیکن افسوس، صد افسوس کی فی الوقت عملی طور پر یہ مفقود ہے، اپنی پوری قوت اور شان کے ساتھ مُستقل طور پر موجود رہے۔

(5-11) اپنی غلطی کا احساس کرنے اور غلطی کی سزا قبول کرنے کی تربیت

حج کے مناسک میں سے اگر کسی میں کوئی ایسی کمی واقع ہو جائے جس کے خمیازے میں، یا جس کی سزا کے طور پر، یا جس کے جرمانے میں حاجی کو ایک جانور ذبح کرنا پڑتا ہے، اور بسا اوقات وہ عمل بھی پورے کا پورا دُھرانا پڑتا ہے جس میں غلطی ہوئی، یہ عمل حاجی کے لیے اپنے دینی اعمال میں ذمہ داری کی تربیت ہے، اور کسی غلطی کی صُورت میں اُس کی سزا قبول کر کے ُاس سزا کو نافذ کرنے کی تربیت ہے، جو کوئی اُس تربیت کو پا لیتا ہے وہ اپنی زندگی کے ہر شعبے میں اپنا ہر کام بہت احتیاط سے کرنے والا بن جاتا ہے اور اللہ کی رحمت سے ایک کامیاب مُسلمان بن جاتا ہے۔

(5-12) دو چادروں میں خود کو لیپٹے رکھنے، اپنے اہل خاندان اور پیاروں کو چھوڑنے میں آخرت کی فِکر کی تربیت

حاجی ایک لمبے وقت کے لیے اور واپسی کی غیر یقینی کیفیت میں اپنے اہل خانہ و خاندان اور اپنے دیگر پیارے لوگوں اور پسندیدہ چیزوں کو چھوڑ کر ایک اجنبی ماحول میں رہتا ہے اور طرح طرح کی جسمانی اور مالی اور ذہنی مُشقتوں کا سامنا کرتا ہے، اپنے آپ کو دو سُفید چادروں میں لپیٹے رکھتا ہے جس طرح مُردے کو کفن میں لپیٹا جاتا ہے، اِنہی چادروں میں وہ لاکھوں لوگوں کی بِھیڑ میں دھکے کھاتا، گُھٹتے ہوئے سانسوں میں، تکلیفیں اُٹھاتا بھوک و پیاس، گرمی سردی اور موسم کی دیگر سختیاں جھیلتا ہوا اپنے حج کے مناسک ادا کرتا ہے گویا کہ میدانءحشر کا سا سماں عملی طور پر اُس پر وارد ہوتا ہے، اِن سب اعمال میں حجاج کرام اور اُن کے مشاھدین کے لیے آخرت کی فِکر تازہ رکھنے، موت، کفن، دفن کے مُقام سے اُٹھائے جانے، ہمیشہ کے لیے اپنوں کو چھوڑ کے جانے کی سوچ کو زندہ رکھتے ہوئے ہمیشگی والے ٹھکانے میں پیش آسکنے والی مشکلوں اور مُصیبتوں سے بچاؤ والے کام کر لینے کی تربیت ہے۔

(5-13) اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کے ذِکر میں مشغول رہنے کی تربیت

حج کے ایام اللہ کے ذکر میں ہی مشغول رہنے کے دِن ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا اور جب تُم لوگ (حج کے)مناسک ادا کر چکو تو (اُس کے بعد بھی)اللہ کا ذکر کرتے رہو، اُس طرح کہ جِس طرح تُم لوگ اپنے باپ دادؤں کا ذِکر کرتے ہو، یا اُس سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ (اللہ کا ذِکر کرتے رہو)( سُورت البقرہ/آیت200) اور اِرشاد فرمایا وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ اور (حج کےاِن)گنے چنے ایام میں اللہ کا ذِکر کرتے رہو(سُورت البقرہ/آیت203)

پس حج میں اللہ کے ذِکر میں خوب اچھی طرح سے جوش اور ہوش کے ساتھ ذِکر میں مشغول رہنے کی تربیت بھی میسرہے۔

(5-14) نظام اور ترتیب کی پابندی کی تربیت

حج کے تمام مناسک ایک خاص نظام میں مُرتبط ہوتے ہیں، اور ایک خاص ترتیب سے ادا کیے جانے ہوتے ہیں، سوائے دس ذی الحج میں کیے جانے والے تین کاموں کی ترتیب میں تبدیلی ہو جانے کے کسی اور کام کی ترتیب میں تبدیلی دُرُست نہیں، حجاج کرام اپنے نفوس پر جبر کرتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے مقرر کردہ اس نظام اور ترتیب کے مُطابق ہی اپنے حج کے مناسک ادا کرتے ہیں،

اپنے مزاج، اپنی سوچ، اپنی عقل اور پسند وغیرہ کے خِلاف یہ جبر اِس بات کی تربیت ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے مقرر کردہ نظام کو ہی نافذ کیا جانا بہر صُورت مطلوب و مقصود ہے اور اِسی میں دُنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔

(5-15) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تربیت

حج کے دروان کتنے ہی حجاج ایک دُوسرے کی غلطیاں دیکھتے ہیں اور اُن کی فوری اصلاح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اُس وقت اُنہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ میرا یہ بھائی یا بہن ایک غلط کام کر کے اپنی عِبادت خراب کر رہا ہے اِس احساس کا اُس وقت اُجاگر ہونا ایک تربیتی أمر بھی ہے کہ ہر مُسلمان کو اپنی زندگی میں کے ہر ایک مُقام پر اِسی طرح نیکیوں کا حکم کرتے رہنا چاہیے اور اِسی طرح غلطیوں اور گناہوں سے منع کرتے رہنا چاہیے۔

یہ مذکورہ بالا اسباق حج میں سے ملنے والے تربیتی اسباق میں سے کچھ اسباق ہیں نہ کہ سارے، اختصار کے پیش نظر میں نے صِرف ان کو اس لیے چُنا کہ یہ زیادہ أہم اور اساسی اسباق ہیں، دیگر اسباق انہی کے ضمنی اسباق میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔اپنی بات کو اختتام تک پہنچانے سے پہلے میں امام حسن البصری رحمہ ُ اللہ کا ایک قول اور ایک أہم معاملے کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ امام حسن البصری رحمہ ُ اللہ کا کہنا ہے "قبول شُدہ حج یہ ہے کہ حج کرنے والا واپس آئے تو دُنیا سے بیزار ہو اور آخرت کا فکرمند ہو " (بحوالہ تفسیر القرطبی/سورت آل عمران/آیت 96کی تفسیر میں)

اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ سب حجاج کرام کے حج قبول فرمائے اور حج کے بعد وہ ہمیں سچے پکے عملی اِیمان والوں کی صُورت میں ملیں اور ہماری غلطیوں کی بھی اصلاح کرنے والے بنیں، آخرت کی بہتری اور خیر کمانے والے بنیں نہ کہ "حاجی صاحب " کا پھریرہ اُڑا کر دُنیا کمانے والے بنیں۔

آخر میں ایک أہم معاملے کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں، اور وہ یہ ہے کہ حج سے متعلق اعلانات یا خبروں یا بات چیت میں عموماً الفاظ کی زبردستی دکھاتے ہوئے یا انداز بیان کو بوجھل اورعالمانہ بناتے ہوئے ہمارے ہاں اکثر لوگ کچھ حاجیوں کے لیے "فرزندانِ توحید " لکھتے کہتے ہیں، جبکہ یہ الفاظ شدید غلطی پر مشتمل ہیں۔ اِس غلطی کی وضاحت کے لیے کسی لمبے چوڑے بیان کی ضرورت نہیں صِرف اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ "وہ توحید کیسی جس کے فرزند ہوں ؟"

اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق جاننے، ماننے، اپنانے اور اسی پر عمل پیرا رہنے کی ہمت دے۔ آمین

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.