کیا قربانی ہر مسلمان پر فرض ہے؟ عظیم الرحمن عثمانی

سوال:
کیا قربانی ہر مسلم پر فرض ہے جس کی انکم ہے یا صرف حج پر جانے والوں کے لیے؟ میں ہر سنّت تو پوری نہیں کرتی، امی کا کہنا ہے کہ اپنی الگ قربانی کرو کیونکہ تم خود کماتی ہو. میں کہتی ہوں کہ جب میں دوسری سنتیں پوری نہیں کر رہی تو صرف جانور قربان کرنے والی کیوں کروں؟ سوال یہ ہے کہ وہ لوگ جو حج پر نہیں جاتے لیکن قربانی کرتے ہیں، کیا وہ اور بھی ساری سنتیں پوری کرتے ہیں؟ آخر عید کے موقع پر قربانی پہ اتنا زور کیوں؟ قرآن و سنت میں اس کا کیا حوالہ ہے؟ دوسرا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم تھا کہ اپنی سب سے پیاری چیز قربان کریں، کیا یہ بکرے ہم کو سب سے زیادہ پیارے ہوتے ہیں جو ان کی قربانی کریں؟

جواب:
السلام علیکم بہن!
قربانی کرنا بعض فقہاء کے نزدیک اہم سنت اور بعض کے نزدیک واجب ہے. قربانی کرنے کے لیے حج پر جانا لازم نہیں ہے، بلکہ ہر وہ انسان جو اتنی سکت رکھتا ہو کہ قربانی کر سکے، اسے اس شعار اسلامی کو انجام دینے کی اجازت ہے. اس کا واضح ثبوت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مدینہ میں رہتے ہوئے ہر سال قربانی کرنا ہے. حدیث کا متن کچھ یوں ہے کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال مدینہ میں قیام فرمایا، اس عرصہ قیام آپ مسلسل قربانی فرماتے رہے" (ترمذی ). میں چونکہ قربانی کو سنت سمجھتا ہوں واجب نہیں، اس لیے 'اجازت ہے' کا لفظ کا استعمال کیا ہے. گویا اگر کوئی شخص قربانی کرتا ہے تو یہ بہت اجر کی بات ہے، مگر اگر کوئی کسی وجہ سے نہیں کر پاتا تو وہ ان شاء للہ گنہگار نہیں.

آپ کی یہ سوچ درست نہیں کہ میں جب دوسری سنتوں کا پوری طرح اہتمام نہیں کرتی تو اس سنت کا اہتمام کیوں کروں؟ یہ سچ ہے کہ ہمیں ہر سنت پر عمل کی کوشش کرنی چاہیے، لیکن امت میں شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ہر سنت کا اہتمام کر پاتا ہو، تو کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ وہ بقیہ سنتوں کا بھی تارک ہوجائے جنہیں وہ انجام دیتا آیا ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں. پھر بےشمار ایسی سنتیں موجود ہیں جن کی وہ فضیلت بیان نہیں ہوئی جو قربانی کی سنت کی ہے. اس کا شمار بجا طور پر اہم ترین سنتوں میں سے ہے، اور یہ اپنی حقیقت میں صرف رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نہیں بلکہ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے اور اسی رعایت سے حضرت اسماعیل، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ علیھم السلام اجمعین سمیت تمام پیغمبروں کی سنت رہی ہے. گویا یہ کوئی خوشبو لگانے یا ہر وضو کے وقت مسواک کرنے والی سنتوں جیسی نہیں ہے، بلکہ بہت بہت اہم سنت ہے. اس کی اسی اہمیت کی وجہ سے کچھ فقہاء اس کے وجوب یعنی واجب ہونے کے قائل ہیں. یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ کوئی اتنی قیمتی سنت کو یہ سوچ کر قربان کر دے کہ بقیہ سنتوں کا مکمل اہتمام بھی تو نہیں کرتا. اس کی اہمیت کا ایک اور نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ قربانی کی سنت کا اثر رمضان کے روزوں کی طرح فرد کے ساتھ ساتھ پورے مسلم معاشرے پر مرتب ہوتا ہے.
.
قران حکیم میں بنی اسرائیل کو بچھڑے کی قربانی دینے کا حکم ہو، ہابیل کا اپنے رب کو قربانی پیش کرنا ہو یا پھر حضرت اسمعیل علیہ السلام کی جگہ مینڈھے کی قربانی ہو. یہ سب قربانی کے اسی عمل کی اہمیت کے غماز ہیں. پھر قران مجید میں دیگر مقامات پر قربانی کا ذکر ملتا ہے جیسے سورہ الکوثر میں ارشاد ہوا
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔)
اسی طرح سورہ الانعام میں ارشاد پاک ہوتا ہے
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (کہہ دو کہ میری نماز اور میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا، سب اللہ پروردگارعالم کے لیے ہے۔)
اسی طرح ہم جانتے ہیں کہ مؤمن رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کو قرآن کی عملی تفسیر مانتے ہیں. چنانچہ جب ہم رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے عمل پر نظر ڈالتے ہیں تو احقر درجے میں بھی قربانی کی اہمیت کے ضمن میں کوئی احتمال باقی نہیں رہتا. سنن ابن ماجہ کی اس حدیث ٣١٢٣ کو ہی پڑھ لیجیے. "جس کے پاس گنجائش ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو اسے چاہیے کہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے" . کیا اس سب کے بعد بھی کسی کو گوارا ہوگا کہ وہ قربانی کی سنت کو سکت رکھنے کے باوجود نہ کرے؟
.
یہ جملہ کہ کئی صاحب حیثیت افراد اپنے مال سے قربانی تو کرتے ہیں مگر حج نہیں کرتے. یہ اس زاویے سے تو درست ہے کہ لوگوں کو حج کی فرضیت کو زندگی میں ایک بار انجام دینے کی جانب توجہ دلائی جائے، اور انہیں بتایا جائے کہ جہاں تم ایک واجب یا سنت پر مال خرچ کرتے ہوں، وہاں ضروری ہے کہ تم حج کے فرض پر بھی مال خرچ کرو. مگر اسے بنیاد بنا کر یہ کہنا کہ کیونکہ حج نہیں کرتے، اس لیے قربانی بھی نہ کرو؟ یہ کہاں کی دانشمندی ہے؟ گویا اگر ایک صاحب نصاب زکوۃ کا سالانہ اہتمام نہیں کرتا مگر کسی دوسرے وقت مال سے صدقہ دیتا ہے تو میں کہنے لگوں کہ کیونکہ زکوۃ کا فرض ادا نہیں کرتے، اس لیے یہ نفلی صدقہ بھی نہ دو؟ زکوۃ نہ دینے کا وبال اس پر الگ ہے، مگر صدقہ دینے کا ثواب اپنی جگہ ہے. اسی طرح ایک مالدار انسان کا حج نہ کرنے کا گناہ الگ ہے، اور قربانی کی سنت کو پورا کرنے کا ثواب جدا ہے. یہ نفس کا وسوسہ ہے کہ وہ اس وقت تو آپ کو کبھی نہ ٹوکے جب آپ اپنا مال گاڑی، زیورات، مہنگے کپڑوں اور دنیاوی تقریبات پر خرچ کریں، مگر جیسے ہی آپ اپنے مال سے قربانی میں حصے کے تھوڑے سے پیسے دیں تو شور مچانے لگے کہ اسی پیسے سے حج کیوں نہ کیا؟ اسی طرح وہ دوسرے افراد کو یہ دھوکہ بھی دیتا ہے کہ یہ جو حج پر پیسہ خرچ کرتے ہو، اسے کسی اسکول بنانے پر خرچ کیوں نہیں کر دیتے؟ حالانکہ یہی لوگ شادی بیاہ یا سالگرہ پر لاکھوں لگاتے ہوئے بھی نہیں جھجھکتے.
.
آپ کا یہ استفسار کہ ابراہیم علیہ السلام کو سب سے پیاری چیز قربان کرنے کا حکم تھا، تو کیا ہمیں بکرے سب سے پیارے ہیں؟ اللہ کی اس نعمت پر شکر ادا کیجیے کہ اس نے آپ سے ابراہیم علیہ السلام کی طرح آپ کی اولاد یا کسی اور رشتے کی قربانی نہیں مانگی، بلکہ اس قربانی کا ایک سمبل بکرے، دنبے وغیرہ کی صورت میں پیدا کردیا. یہ بکرے کی قربانی ایک 'سمبولک ایکسپریشن' ہے جو ہماری تربیت کرتا ہے. آج ہماری جیب سے قربانی کے لیے کچھ پیسہ نکالنا مشکل ہو رہا ہے، کیا ہوتا جو شریعت میں فی الواقع ہم سے کسی بہت قریبی چیز کو قربان کرنے کا تقاضا کیا گیا ہوتا؟ لہٰذا یہ مقام شکر ہے کہ رب نے ہمیں ایسے امتحان میں نہ ڈالا جس میں کامیاب ہونا ہم میں سے اکثر کے لیے ممکن ہی نہ ہوتا. الحمدللہ
.
امید ہے کہ کچھ تشفی ہوئی ہوگی. ان شاء للہ

Comments

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمن عثمانی

کے خیال میں وہ عالم ہیں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ ان کا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ ’طالب علم‘. خود کو کتاب اللہ قرآن کا اور دین اللہ اسلام کا معمولی طالب علم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • متوازن تحریر ہے۔۔۔ہابیل کی قربانی اس قربانی کی ابتدا تھی کم از کم غامدی صاحب کا یہی خیال ہے اور یہ قربانی کی سنت سب انبیا علیہ سے منسوب ہے اس لیے اس سنت کا مقام اس قدر بلند ہے۔۔۔۔ جزاک اللہ