یومِ عرفہ کا روزہ کب ہوگا؟ - محمد رضی الاسلام ندوی

احادیث میں یومِ عرفہ کے روزے کی غیر معمولی فضیلت بیان کی گئی ہے. حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ ". (مسلم:1162،ابوداؤد:2425،ترمذی:749،ابن ماجہ: 1730، احمد:22530)
"مجھے اللہ تعالی کی ذات سے امید ہے کہ وہ یوم عرفہ کے روزے رکھنے کی صورت میں گزشتہ سال اور اگلے سال کے گناہ بخش دے گا."

کتبِ حدیث میں مختلف دنوں کے مخصوص نام ملتے ہیں، مثلاً
یومِ عرفہ = وہ دن جس میں حاجی میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں، یعنی 9 ذی الحجہ
یوم النحر = وہ دن جس میں حاجی جانوروں کی قربانی کرتے ہیں، یعنی 10 ذی الحجہ
یوم عاشوراء = محرم کی دسویں تاریخ، وغیرہ

یومِ عرفہ کا روزہ غیر حاجیوں کے لیے مشروع ہے. حاجی میدان عرفات میں روزہ نہیں رکھيں گے، بلکہ، جیسا کہ احادیث میں صراحت ہے، یہ ان کے کھانے پینے کا دن ہے. (دارمی: 1805)

چوں کہ حاجی میدانِ عرفات میں 9 ذی الحجۃ کو جمع ہوتے ہیں، اس لیے پوری دنیا کے مسلمان چودہ سو برس سے اُس دن روزہ رکھتے آئے ہیں، جس دن ان کے ملک میں 9 ذی الحجۃ کی تاریخ ہوتی ہے، لیکن اب بعض حضرات اسے نادرست قرار دینے لگے ہیں. وہ کہتے ہیں کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو اُس دن روزہ رکھنا چاہیے جس دن حاجی عرفات میں ہوتے ہیں، خواہ ان کے اپنے ملک میں اس دن کی تاریخ کچھ بھی ہو.

اس کی وہ یہ دلیلیں دیتے ہیں:
1 - احادیث میں جو فضیلت آئی ہے وہ عرفہ کے دن کے روزے کی ہے، 9 ذوالحجہ کی نہیں ہے. کسی حدیث میں 9 ذوالحجہ کا روزہ رکھنے کے الفاظ نہیں آئے ہیں، یعنی اس روزے کا تعلق رمضان کی طرح چاند سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق عرفہ کے دن سے ہے، اور عرفہ اس دن کو کہتے ہیں جب حاجی عرفات میں اکھٹے ہوتے ہیں.

2 - کسی بھی ملک سے آنے والا حاجی اپنے ملک کی تاریخ کے حساب سے حج نہیں کرسکتا. حج کا آغاز اہل مکہ کی رؤیتِ ہلال کے مطابق ہوتا ہے اور عرفات میں بھی حاجی وہاں کی رؤیتِ ہلال کے حساب سے حاضر ہوتے ہیں. پس جس طرح حج کسی دوسرے ملک کی تاریخ کے اعتبار سے نہیں کیا جاسکتا ہے، اسی طرح یوم عرفہ بھی کسی دوسرے ملک کی تاریخ کے مطابق متعین نہیں ہوسکتا.

یہ بھی پڑھیں:   سعودی عرب کی حالیہ پالیسیاں اور ان کے مضمرات - محمد طیب سکھیرا

3 _ پہلے میڈیا، فون اور انٹرنیٹ جیسی سہولتیں نہیں تھیں، جس کی وجہ سے ایک جگہ کے حالات کا علم دوسری جگہوں پر کئی ہفتوں اور مہینوں بعد ہو پاتا تھا. اب یہ اضطراری کیفیت ختم ہوچکی ہے اور بروقت اطلاع پوری دنیا میں چند سکینڈوں میں ہو جاتی ہے، اس لیے اب کوئی شرعی عذر باقی نہیں رہا، اب عرفہ کے دن پوری دنیا کے مسلمان بہ یک وقت روزہ رکھ سکتے ہیں.

ان دلائل کا جائزہ لینے اور ان کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے:

1 - یہ بات صحیح نہیں ہے کہ کسی حدیث میں 9 ذوالحجہ کے الفاظ نہیں آئے ہیں، اگرچہ زیادہ تر احادیث میں یوم عرفہ کا تذکرہ ہے، لیکن بعض احادیث میں 9 ذی الحجۃ کے الفاظ مذکور ہیں. مثلاً بعض امہات المؤمنين بیان کرتی ہیں:
کَانَ رَسُولُ اللّہِ صلی اللہ علیہ و سلم یَصُومُ تِسْعَ ذِی الحِجَّۃِ وَیَومَ عَاشُورَاء (ابوداؤد :2437، نسائی :2372،2417، احمد: 22334،27376)
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ذی الحجہ کے 9 دن اور عاشوراء کے روزے رکھا کرتے تھے."

2 - حج کا تعلق زمان و مکان دونوں سے ہے. حج صرف مخصوص مقامات پر مخصوص دنوں میں ہوسکتا ہے، اس لیے اس کی ادائیگی کے لیے ان مقامات کی تاریخوں کا اعتبار کرنا لازمی ہے، جبکہ نماز و روزہ کا تعلق صرف زمانہ و اوقات سے ہے، اس لیے ان کی ادائیگی مسلمان اپنے اپنے علاقوں کی تاریخوں اور اوقات سے کرنے کے پابند ہیں.

3 - صوم یوم عرفہ کے لیے سعودی عرب کے 9 ذی الحجۃ کی متابعت سے ایک پیچیدگی اور لازم آئے گی. دنیا کے بعض ممالک کی تاریخیں سعودی عرب سے ایک دن پہلے کی ہوتی ہیں، مثلاً جس دن سعودی عرب میں 9 ذی الحجۃ ہے، اس دن بعض ممالک میں 10 ذی الحجۃ ہوگا. 10 ذی الحجۃ کو اس ملک کے مسلمان عید الاضحٰی منائیں گے اور اس دن ان کے لیے روزہ رکھنا حرام ہوگا، پھر وہ اس دن کو سعودی عرب کی متابعت میں 'یوم عرفہ' مان کر اس میں روزہ کیسے رکھ سکتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   سعودی داخلہ امور کی خبریں، دوسرا رخ اور روشن پہلو - بلال شوکت آزاد

4 - اسلام صرف اکیسویں صدی کا مذہب نہیں ہے، جدید ذرائع ابلاغ سے آج کل معلوم ہوجاتا ہے کہ سعودی عرب میں کس دن یوم عرفہ ہے. پہلے کی صدیوں میں، جب یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، اس وقت بھی لوگ یوم عرفہ کا روزہ اپنے یہاں کی تاریخ کے حساب سے رکھتے تھے. آج کل بھی دنیا کے تمام خطوں میں ہر شخص کو جدید ترین سہولیات حاصل نہیں ہیں، تمام لوگوں کے لیے اب بھی دوسرے علاقوں کے بارے میں بروقت معلومات حاصل کرنا آسان نہیں ہے، اس لیے اب بھی مناسب، آسان اور قابلِ عمل یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر ملک کے لوگ اس دن عرفہ کا روزہ رکھیں جس دن ان کے یہاں 9 ذی الحجۃ ہو.

5 - 'یوم' (دن) کا اطلاق طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک کے وقت پر ہوتا ہے اور 'صوم' (روزہ) طلوعِ فجر سے شروع ہوتا اور غروبِ آفتاب پر مکمل ہوتا ہے. اگر 'صومُ یومِ العرفۃ' (یوم عرفہ کا روزہ) اس دن رکھنے کی بات کہی جا رہی ہے جب سعودی عرب میں 9 ذی الحجہ ہو تو ساتھ ہی روزہ کے آغاز و اختتام کے سلسلے میں بھی سعودی عرب کے اوقات کی پابندی کی بات کیوں نہیں کہی جا رہی ہے؟ پھر تو عرفہ کا روزہ دنیا کے ہر خطے میں اس وقت شروع کیا جائے جب سعودی عرب میں 9 ذی الحجۃ کو طلوعِ فجر کا وقت ہو اور اُس دن اُس وقت افطار کر لیا جائے جب سعودی عرب میں 9 ذی الحجہ کو غروبِ آفتاب کا وقت ہو، حالاں کہ یہ بات غیر منطقی اور غیر معقول ہوگی، اس لیے کہ روزے کے اوقات کے معاملے میں لوگ اپنے اپنے علاقے کے پابند ہیں.

اس لیے معقول بات اب بھی یہی معلوم ہوتی ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کے مسلمانوں کو عرفہ کا روزہ سعودی عرب کی تاریخ کے حساب سے رکھنے کا پابند نہ کیا جائے. سعودی عرب کے مسلمان اس دن روزہ رکھیں جب ان کے یہاں 9 ذی الحجۃ ہو، اور دوسرے ممالک کے مسلمان اس دن روزہ رکھیں جب ان کے یہاں 9 ذی الحجہ ہو.

واللہ أعلم و علمہ أتمّ و أکمل

Comments

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی نے ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے BUMS اورMD کیا. ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ہند کے رفیق رہے. سہ ماہی تحقیقات اسلامی کے معاون مدیر اور جماعت اسلامی ہند کی تصنیفی اکیڈمی کے سکریٹری ہیں. قرآنیات اور سماجیات ان کی دل چسپی کے خاص موضوعات ہیں. عرب مصنفین کی متعدد اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں