کس رنگ کا خدا چاہیے؟ یوسف سراج

یہ راز انسانوں نے کم ہی جانا، مایوس مارے گئے، اہلِ معرفت نے مگر جھولیاں بھرلیں۔

حجاج بن یوسف مسلمانوں کی تاریخ کے ہٹلر ثابت ہوئے۔ مخلوقِ خدا پر وہ ظلم ڈھائے کہ الاماں والحفیظ ! بیت اللہ پر حملہ کر ڈالا۔ کئی صحابہ ان کی حکومت میں قتل ہوئے۔ سخت گیر ایسے کہ شہر پناہوں سے رات کو باہر رہ جانے والے بھی گاہ اڑا دیے جاتے۔ کوئی عذر پیش کرتا تو یہ کہتا، بےگناہ بھی ہو تو کوئی حرج نہیں، چھوڑ دنیا کی اذیت بھری زندگی، میں تمھیں جنت پہنچانے کا انتظام کرتا ہوں۔ کوفہ جیسا شورش پسند شہر اس کی ایک تقریر نے سیدھا کر دیا۔ یہاں پہلی ہی تقریر میں اس نے کہا، میں دیکھ رہا ہوں کہ سروں کی فصل پک چکی ہے اور اسے کاٹنے وقت آپہنچا ہے۔ نیکیاں بھی اس نے کیں۔ قرآن ِمجید پر اعراب لگا کر پوری امت کو ممنونِ احسان کر دیا۔ ظالم ہی نہیں، ذہین بھی بلا کا تھا۔ لوگ خلافتِ عمر یاد دلاتے تو کہتا، تم ابوہریرہؓ جیسی رعایا بن کے دکھا دو، میں تمھیں عمرؓ جیسا حکمران بن کے دکھا دیتا ہوں۔ نصف النہار پر چڑھے سورج پر بھی وقتِ غروب آتا ہے۔ زندگی پر شام اتر آئی۔ حجاج بسترِ مرگ پر تھا اور حسن بصری اس کے پہلو میں۔ دارالعمل کی ڈور کٹ رہی تھی اور دارالجزا کی دنیا کا دروازہ کھل رہاتھا۔ ساری زندگی کا کیا دھرا حجاج کی آنکھوں اور بدن پر خوف بن کے اتر رہا تھا۔ حسن بصری سے پوچھا، خدا میرے ساتھ کیا معاملہ کرے گا؟ بےخوف آدمی نے کہا، بہت ستم تم نے ڈھائے اور ظلم کی حد کر دی۔ حجاج نے نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور لرزتے لبوں سے صرف ایک جملہ کہا: ’’مولا! گو تیرے بندے مجھے تیری رحمت سے مایوس کرنا چاہ رہے ہیں، میں مگر تیری رحمت سے قطعا مایوس نہیں۔‘‘ حسن بصری باہر نکلے تو لوگوں نے انھیں یہ کہتے سنا۔ ''میرا احساس یہ ہے کہ حجاج بخش دیاجائے گا۔''

خدا قہار ہے اور ایسا کہ بھلا بیان بھی کیسے ہو؟ معصوم انبیاء بھی اس کے حضور حشر میں کانپ رہے ہوں گے، اور ایسے کہ تاب ِسخن نہ دارد۔ خلیل اللہ کا لقب پانے والے ابراہیم بھی، کلیم اللہ کہلانے والے موسیٰ بھی اور ساری انسانیت کے باپ آدم بھی لرزیدہ ہوں گے۔ کبریا کے قہر کا عالم یہ ہوگا کہ ساری زمیں اپنے ہاتھ میں لپیٹ کر ڈپٹ کے وہ پوچھ رہا ہوگا، کہاں ہیں دنیا کے متکبر بادشاہ؟ آج وہ دیکھیں کہ شاہی کس کی ہے؟ ایسے میں کوئی کیا اور کیسے بولے؟ اسی جبار و قہار رب نے مگر فرمایا کہ اس کے غصے پر اس کا رحم غالب آچکا۔ یہ جملہ عرش پر تحریر ہے۔ میرے غصے کو میری رحمت نے ڈھانپ رکھا ہے۔ اس کی رحمت کا آسرا نہ ہوتا تو یہ کائنات اس جبار کی ہیبت ایک لمحہ بھی سہار نہ سکتی۔ ا سی کی رحمت سے حجاج سے سفاک بھی امید کا چراغ روشن رکھتے ہیں۔ ساری رات گزر گئی اور تہجد میں کھڑے سیدالمرسلین ایک ہی آیت، ایک ہی جملہ بار بار تلاوت کرتے رہے، اور سرخ رخساروں پر گرم آنسو موتیوں کی طرح گرتے رہے: ’’اگر تو انھیں عذاب دے تو کون تیرا بازو پکڑ سکتا ہے؟ کہ سب تیرے عبید، سب تیرے غلام! لیکن اگر تو انھیں چھوڑ دے تو کون تجھ سے پوچھنے والا ہے؟ کہ تو ہی سب پر غالب تو ہی سب کا مدبر!‘‘

یہ بھی پڑھیں:   خدائی مسکراہٹیں - عمر بن عبد العزیز

قرآن نے اس کا ذکر کیا۔ اسی کی ادا پر سورت کا نام رکھ دیا۔ جانے یہ کون سا وقت تھا کہ غصے میں آئے اس کے خاوند نے اسے ماں کہہ ڈالا، عرب دستور کے مطابق یہ قرینہ تھا، میاں بیوی کے تعلق میں رکاوٹ کا، کچھ دیر بعد خاوند مگر بیوی کا طلبگار بھی ہونے لگا۔ پچھاڑ کے اس نے اسے پرے پھینک دیا کہ شریعت کا حکم جانے بغیر اب خولہ تمھاری نہیں۔ بوڑھے خاوند کی مگر انھیں پریشانی بھی بہت تھی۔ اسی وقت سرکار کی چوکھٹ پر جا پہنچیں۔ مشفق مگر پابندِ شریعت رسول کے ہاں اس کا اب کوئی حل نہ تھا۔ شوہر کی ہمدردی میں یہ رسول سے جھگڑ پڑیں کہ اس بوڑھے کو میں یوں تو چھوڑ نہیں سکتی، کوئی حل تو آپ سے لے کر ہی ٹلوں گی۔ خدا کی بندی کا خدا کے رسول سے مکالمہ جاری تھا کہ خدا کا پیغام سنانے خدا کا فرستادہ زمیں پر اتر آیا، کہا، وہ جو رسول سے جھگڑ رہی ہے، بالتحقیق! اس کے خدا نے اس کی بات سن لی!

اللہ تیری شان! اس کے کہے اور بولے بغیر ہی سن لی! یقینا یہی خدا ہے۔ رحیم اور رحمٰن خدا۔ بہت عرصہ بعد ایک دن خلیفہ عمر کو راہ میں ایک بڑھیا روک کے کھڑی ہوگئی۔ وقت بیتتا چلا گیا اور ہمرکاب اکتا گئے۔ پلٹے تو خلیفہ عمر سے انھوں نے شکوہ کیا۔ اتنا وقت ایک بڑھیا نے آپ کا ضائع کر دیا۔ کیوں اتنی دراز بات آپ اس کی سنتے رہے؟ تیزی سے عمر نے انھیں بتایا، کیسے میں اس کی بات نہ سنتا کہ خدا نے جس کی بات سات آسمانوں کے او پر سے سن لی تھی۔ پوری رات بھی وہ مجھے کھڑا رکھتیں تو عمر کی کیا مجال تھی کہ وہ وہاں سے ہل سکتا؟ یہ خولہ تھیں، خولہ بنتِ ثعلبہ۔ اوس بن صامت کی بیوی اور خدا کی بندی!

سیدہ عائشہ پر تہمت لگی تو کتنا عرصہ دل ِعائشہ اور روح ِرسول کے ساتھ ساتھ خاندانِ نبوت، خاندانِ ابوبکر اور پورا مدینہ امتحان میں پڑ ے رہے۔ بالآخر، عائشہ کی پاک دامنی کی آیات اتریں۔ رسول اتنے عرصے کے بعد پہلی دفعہ عائشہ کے پاس آئے، والدہ نے کہا، اٹھو! رسول کا شکریہ ادا کرو۔ عائشہ نے کہا، ان کا کیوں؟ شکریہ تو اس رب کا کہ جس نے آسمان سے میری پاکدامنی کا پروانہ بھیجا۔

موسیٰ ؑکی قوم کو قحط نے آن گھیرا۔ انسان وحیوان، چرندپرند، تمام ذی روح اور ذی جسم، نباتات اور صحرا پانی کی بوند بوند کو ترس گئے۔ زندگی کی زبان سوکھ گئی اور روح پر کانٹے اگ آئے۔ موسیٰ قوم کو لے کے بارش کی دعا کے لیے میدان میں نکلے تو خدا کی طرف سے بتایاگیا۔ ایک بدبخت کی وجہ سے قوم پر یہ نحوست اتری ہے۔ وہ اگر الگ نہیں ہوتا تو اپنے نبی موسیٰ کی بھی بات آج رب سننے کا نہیں۔ اعلان ہوا کہ وہ خدا سے بھاگا غلام مجمع سے الگ ہو جائے۔ ایک لمحہ اس نے سوچا اور شرم سے زمیں میں گڑ گیا کہ آج اگر نظروں میں آگیا، تو معاشرے میں کیسے جی سکے گا؟ وہیں کھڑے کھڑے دل ہی دل میں کہا، دیکھ! مولا معاف کر دے نا! کیا ملے گا تجھے اپنے ایک غلام کو یوں رسوا کر کے۔ یاحیرت! نہ لب پر کوئی حرف اور نہ آنکھ میں کوئی اشک، اپنی عزت کے لیے ایک غلام کی اپنے مالک سے صرف ایک خفیہ ڈیل۔ آدمی نکلا نہ تھا اور دعا ابھی مانگی نہ گئی تھی کہ یکایک آسمان کے بند کھل گئے اور بارش ٹوٹ کے برسنے لگی۔ عرض کی مولا، ایک وہ بات کہ اس گنہگار کے نکلے بنا دعا بھی قبول نہ ہوگی اور ایک یہ اس کے نکلے اور بن دعا کے یہ برسات۔ کہا بس وہ مان گیا۔ پوچھا، مگر مولا وہ ہے کون ؟ فرمایا، موسیٰ اپنے بندے کا یہ راز تو ہم نے تب نہ کھولا تھا، جب وہ ہماری مانتا ہی نہ تھا، اب تو وہ مان چکا، اب کیسے اسے آشکار کر دوں؟ آپ جانتے نہ ہوں، یہی خدا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خدائی مسکراہٹیں - عمر بن عبد العزیز

والدہ کو عمرہ کروا کے نواز صاحب کا خیال تھا کہ شاید انھوں نے ماں کے ماں ہونے کا حق ادا کر دیا۔ واپسی پر جدہ انھوں نے بات چھیڑی، ماں اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے آپ کی خدمت کی یہ سعادت بخشی۔ خیال تھا والدہ ان کی خدمت کا اقرار اور اعتراف کریں گی۔ لاپرواہی سے والدہ نے مگر یہ کہا، ہاں بیٹا! وہ تو ہو ہی جانا تھا، اللہ نے کروانا جو تھا۔ غصے سے بیٹے کا وجود بھر گیا مگر شائستگی سے اس نے کہا، مگرماں میں نے بھی تو۔ تم نے کیا بیٹا؟ کروانے والے نے کروانا تھا سو کروا دیا، تم نہ بنتے تو کوئی اور وسیلہ بن جاتا۔ اب بات بیٹے کے بس سے باہر ہوگئی۔ کہنے لگا، اچھا ماں جی! اگر یہی بات ہے تو پھر اپنے رب سے کہو، وہ تمھیں ایک اور عمرہ کروا کے دکھائے۔ ماں خاموش رہی۔ ائیرپورٹ کے اندر کاؤنٹر پر پہنچے تو انکشاف ہوا کہ پاسپورٹ غائب ہے۔ واپس مکہ بھیجے گئے، کاغذات کی نقول وہیں سے بننا تھیں۔ دن بھر رکنا پڑا۔ اس دوران والدہ نے اور انھوں نے ایک اور عمرہ کر لیا۔

لوگوں نے مگر اس مہربان رب کو کب رب سمجھا، نہیں سمجھا، چنانچہ فیض کہنے لگے ؎
اک فرصتِ گناہ ملی اور وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے
دوسرے نے مگریہ کہا؎
عصیاں سے کبھی ہم نے کنارہ نہ کیا
پر تو نے دل آزردہ ہمارا نہ کیا
ہم نے تو جہنم کی بہت کی تدبیر
لیکن تیری رحمت نے گوارا نہ کیا

فرمان یہ ہے: ’’اپنے بندے سے میں اس کے گمان کے مطابق سلوک کرتاہوں۔‘‘
یہ راز انسانوں نے کم ہی جانا، مایوس مارے گئے، اہلِ معرفت نے مگر جھولیاں بھرلیں ۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.