کیا خواتین واقعی مردوں سے زیادہ ہیں؟ محمد فیصل شہزاد

مردم شماری کے ابتدائی نتائج کے مطابق ملک عزیز میں مرد زیادہ ہیں اور خواتین ان سے تقریبا پچاس لاکھ کم۔

یہ اعداد و شمار دیکھ کر ہمیں پانچ برس پرانی ایک بات یاد آ گئی۔ ہمارے ہفت روزہ خواتین کے میگزین میں چند سال پہلے ایک تحریر فورم بعنوان ’دوسری شادی‘ کئی ماہ تک چلتا رہا. موافقت اور مخالفت میں کئی مضامین شائع ہوئے. مخالفت اس معنی میں کہ آج کے معاشرے میں جب افراد میں تحمل، صبر، ایثار کی صفات بہت کم رہ گئی ہیں، تو آج ایک عام مسلمان کے لیے دوسری تیسری چوتھی شادی کر کے انصاف کے تقاضے پورے کرنا مشکل ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سے زائد شادی کے لیے شرط ہے.
(یہاں یہ بات دھیان میں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے چار شادیوں کی صرف اجازت دی ہے، یہ کوئی حکم نہیں ہے، اور یہ اجازت بھی مطلق نہیں بلکہ مقید ہے کہ شوہر انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے)
اس کے برعکس مردوں کی دوسری شادی کے حق میں جو مضامین آئے، ان میں زور بس ایک ہی بات پر تھا کہ آج مردوں کی دوسری شادی کی بہت ہی زیادہ ضرورت ہے، کیوں کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کہ عورتیں زیادہ ہو جائیں گی، مرد کم ہو جائیں گے، پوری ہوگئی ہے اور جب عورتیں زیادہ ہیں، مرد کم، تو لامحالہ مردوں کو زیادہ شادیاں کرکے اس فرق کو ختم کرنا چاہیے ورنہ ان سے آخرت میں پوچھ ہوگی وغیرہ وغیرہ۔

یہ دوسرا نقطہ نظر آج کل دینی حلقوں میں بہت پاپولر ہے۔ کراچی کے ایک عالم تو اس پر ایک ضخیم کتاب بھی تصنیف کر چکے ہیں، اور انہوں نے گویا اسے بھی دین کا ایک میدان فرض کر کے اپنی ساری صلاحیتیں اسی پر جھونک دی ہیں کہ چوں کہ عورتوں کی تعداد ہر زمانے میں مردوں سے زیادہ ہوتی ہے، اور یہ ایک فطری قانون ہے، اس لیے مردوں کو دوسری تیسری شادی کرنا آج گویا فرض عین ہوچکا ہے، مگربات یہ ہے کہ ہم بغیر دلیل کے کوئی بات ہو، نہیں مانتے.

سچی بات تو یہ ہے کہ آج کل لوگ دین کی ہر بات کی طرح اس معاملے میں بھی نہایت افراط و تفریط کا شکار ہیں. ایک طرف تو تعددِ ازدواج کی ایسی مخالفت کہ اگر کوئی شریعت کی اس رخصت سے مستفید ہونا چاہے تو معاشرہ اس کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ جائے. دوسری طرف تعددِ ازدواج پر اتنا اصرار ہو رہا ہے کہ اس کے لیے خلافِ حقیقت فلسفے گھڑے جا رہے ہیں۔ عورتوں کی شرح پیدائش زیادہ ہونے کو فطرت کا تقاضا کہنا بھی ایسا ہی ایک خود ساختہ فلسفہ ہے جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں.
اگر یہ فطرت کا اصول ہوتا تو ہر دور میں ہرعلاقے میں عورتیں زیادہ اور مرد کم پیدا ہوتے رہتے، اور اگر ایسا ہوتا تو تخلیق آدم سے لے کراب تک ہزاروں برس گزرنے کے بعد عورتیں مردوں کے مقابلے میں دوگنا چوگنا ہوچکی ہوتیں، لیکن حقیقتاً ایسا نہیں.

یہ بھی پڑھیں:   "شادی روز روز نہیں ہوتی" - محمد طاہر مرسلین

یہ بات بھی قابل غورہے کہ اگر مشیت الٰہیہ خود ہی عورتوں کو مردوں سے زیادہ پیداکرتی آ رہی ہے تو پھر شرعی قانون میں بھی مرد کو ایک نکاح پر اکتفا کرنے کی "اجازت" نہ ہوتی، بلکہ یہ لازم قرار دیا جاتا کہ ہر مرد کئی کئی شادیاں کرے تاکہ اللہ کی تمام بندیوں کے فطری و ازدواجی تقاضے پورے ہوسکیں۔ لیکن شریعت نے تعددِ ازدواج تو درکنار ایک نکاح کو بھی واجب قرار نہیں دیا، استثنائی حالات کو چھوڑ کر نکاح کی حیثیت سنتِ مؤکدہ کی رکھی. تعددِ ازدواج کوعام حالات میں مستحسن اور بعض حالات میں (جبکہ زائد بیویوں کے حقوق پورے کرنے پرقدرت نہ ہو) ممنوع قرار دیا۔ اگر اللہ کی مشیت و قدرت خود ہی عورتوں کو ہمیشہ زیادہ پیدا کرتی چلی آرہی ہے تو یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ اس کی شریعت ان کروڑوں نفوس کے فطری حقوق کی پامالی گوارا کر لیتی جو تعددِ ازدواج کے بغیر بےنکاحی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہوں۔ اس لیے عقل اور مشاہدے کی رو سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ خواتین زیادہ ہونے کے مفروضے کے پیچھےنری جذباتی باتیں ہیں، حقیقت نہیں ہے.

بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے کی جاہلی روایت کو اس زمانے میں الٹرا ساؤنڈ مشین کا سہارا ملنے کی وجہ سے صورتحال کچھ اس کے برعکس ضرور نظر آ رہی ہے. جی ہاں الٹراساؤنڈ کے ذریعے بچے کی جنس معلوم کرنے کی سہولت کی وجہ سے پوری دنیا میں جس طرح بچیوں کو ماں کے پیٹ میں قتل کیا گیا، اس کی وجہ سے پوری دنیا میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کا تناسب حیرت انگیز حد تک کم ہو گیا ہے. چائنا اور انڈیا میں صورت حال نہایت دگرگوں ہے اور چائنا میں تو ہر چار لڑکوں کے مقابلے میں صرف ایک لڑکی ہے، سو ہم جنس پرستی عروج پر ہے.

بے شک یہ بات درست ہے کہ بعض علاقوں اور خاندانوں میں لڑکیاں زیادہ پیدا ہوتی ہیں مگر قدرت ِخداوندی بھی بعض اوقات بعض علاقوں میں لڑکوں کی شرح پیدائش بھی بڑھا کر تناسب بحال کردیتی ہے. (دیکھیے نیچے مضمون کے ساتھ دی گئی تصویر جو عالمی سروے ہے)

وَیُمدِدکم بِاَموَالٍ وَبَنِین (سورۃ النوح) اور وَاَمَدَد ناکُم بِاَمَوالٍ وَبَنِین (سورۃ بنی اسرائیل) کی تفسیرسامنے رکھیں.
کبھی اللہ کسی قوم کو لڑکیاں زیادہ دیتا ہے، کبھی لڑکوں کی تعداد بڑھا کے اسے مضبوط کرتاہے.

ہم نے چند برس پہلے جب یہ مضمون لکھا تو ہمارا مقصد صرف اس مفروضے کو رد کرنا تھا کہ لڑکیاں لڑکوں سے بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ ہماری رائے تھی کہ بس انیس بیس کا تناسب ہوگا، مگر اس مضمون کی اشاعت کے بعد ہم نے ایک سروے شروع کیا تاکہ حقیقی صورت حال مزید واضح ہو جائے۔ ہم نے اپنے ہر ملاقاتی سے اس کے خاندان کی صورت حال معلوم کرنا شروع کر دی۔ یہ سروے بےحد دلچسپ ثابت ہوا، جس نے خود ہمیں حیران کردیا کہ لڑکے کچھ کم تو کیا برابر بھی نہیں ہیں، بلکہ معاملہ الٹ ہے۔ لڑکے زیادہ ہیں اور لڑکیاں کم.

یہ بھی پڑھیں:   احساس نے سوکن کو سہیلی بنا دیا - امّ محمد سلمان

سب سے پہلے ہم نے اپنے خاندان میں دیکھا تو وہاں بھی لڑکوں کا تناسب زیادہ تھا۔ تین گھروں میں لڑکوں کا تناسب زیادہ، دو گھروں میں برابر اور صرف ایک گھر میں بچیاں زیادہ تھیں. پھر دوستوں میں ایک بار بحث ہوئی تو سب نے اپنے بہن بھائیوں کی تعداد بتائی، زیادہ تر یہی بات سامنے آئی. ہم اپنا بتائیں تو ہم 5 بھائی اور 2 بہنیں ہیں. آگے ہم بہن بھائیوں کے بچے اب تک ہیں، اس میں بچوں اور بچیوں کی تعداد ان سطور کے لکھتے وقت برابر ہے۔

اس کے بعد ہم نے تین سال قبل فیس بک پر پوسٹ لکھی اور یہی بات اپنے دوستوں سے بھی معلوم کی۔ یہ پوسٹ ابھی بھی پبلک ہے، اور اس پوسٹ کے کمنٹس میں بھی آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ کم و بیش ساٹھ فیصد دوستوں نے اپنے خاندان کی جو صورت حال رکھی، ان کے مطابق لڑکے زیادہ تھے۔ بیس فیصد میں تعداد برابر تھی جبکہ محض بیس فیصد دوستوں کے خاندانوں میں بچیوں کی تعداد نہایت معمولی تناسب کے ساتھ زیادہ تھی۔ یہ دلچسپ تجربہ آپ بھی کر سکتے ہیں. اپنے اردگرد کم ازکم پندرہ گھرانوں سے معلومات لیں۔ آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ لڑکوں کی تعداد زیادہ نکلے گی یا کم ازکم برابر ہوگی۔

حالیہ مردم شماری کے نتائج سے بھی یہی بات ثابت ہوئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وکی پیڈیا کے مطابق بھی پوری دنیا میں مردوں کی تعداد خواتین سے زیادہ ہے۔ آخر میں دیے گئے وکی پیڈیا کا لنک ملاحظہ فرمائیے اور ساتھ دی گئی تصویر بھی۔
اس تصویر کی مختصر تشریح یہ ہے کہ
تصویر میں دیے گئے سرخ نشان زدہ علاقوں میں مرد زیادہ ہیں۔
نیلے نشان زدہ علاقوں میں خواتین زیادہ ہیں۔
سبز نشان زدہ علاقوں میں دونوں کی تعداد تقریبا برابر ہے۔

یاد رہے کہ سرخ نشان زدہ علاقے جن میں مرد زیادہ ہیں، دنیا کی نہایت گنجان ترین آبادی ہے۔ یعنی چائنا، انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش، مشرق وسطیٰ مکمل اور انڈونیشیا و ملائشیا۔
آخر میں عرض ہے کہ اس مفروضے کے حق میں جو کچھ دوسرے دلائل بھی دیے جاتے ہیں کہ دیکھ لیں کہ کتنی بچیاں بغیر رشتے کے گھر بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں. یہ دلیل دینے والے مگر یہ نہیں دیکھتے کہ کتنے ہی لڑکے بھی تو ایسے ہیں جو کنوارے ہی بوڑھے ہو رہے ہیں. ان شاء اللہ اگلے مضمون میں اس المیے کی اصل وجوہ کو بھی بیان کریں گے۔
وکی پیڈیا کا لنک: https://en.m.wikipedia.org/wiki/Human_sex_ratio

Comments

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد کو شوق 10 سال قبل کوچہ صحافت میں لے گیا۔ روزنامہ اسلام اور روزنامہ ایکسپریس میں کالم لکھتے رہے، طبی میگزین جہان صحت، ہفت روزہ خواتین کا اسلام، ہفت روزہ بچوں کا اسلام اور پیام حق کے مدیر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں