غضب کی بہادر عورت - ابوبکر قدوسی

ڈیرہ سچا سودا؛
ایک ہمارے ہاں شیخوپورہ سے آگے فاروق آباد (سابقہ چوہڑ کانا) نامی قصبے سے متصل گاؤں ہے، جہاں ایک گردوارہ بھی ہے، میں دو بار اسے دیکھنے بھی جا چکا ہوں. شاندار عمارت ہے. بابا گرونانک کو ماں نے روپے دیے کہ کچھ کام کاج کریں، بابا جی نے اسی مقام پر خیرات کیے اور گھر کو آ گئے.
ماں نے پوچھا: "روپے کیا ہوئے؟"
بولے: "سچا سودا کر آیا، خیرات کر دیے "
اس جگہ گردوارہ بنا اور سچا سودا کہلایا. یہ ہے اصلی گردوارہ سچا سودا.

ایک "ڈیرہ سچا سودا" بھارتی صوبے ہریانہ میں بنا ہے جو ریاست پنجاب سے کاٹ کے الگ صوبہ بنایا گیا ہے. وہاں کے "گرو رام رحیم" نے دو عورتوں کے ساتھ "بلاتکار" کیا. زیادتی ہوئی تو ایک عورت چپ نہ رہی، ظلم کے خلاف کھڑی ہوگئی. اس نے ایک خط اخبارات کو لکھا، تب کے وزیراعظم واجپائی کو بھی لکھا. ایک خط عدالت کے چیف جسٹس صاحب کو بھی گیا جنھوں نے اس کا نوٹس لیا اور تحقیقات کا حکم جاری کر دیا، گواہان طلب کر لیے گئے.

سیاست دان کی مجبوری ووٹ ہوتے ہیں سو یہ مجبوری ان کی زبان، ضمیر سب کو خرید لیتی ہے، لیکن ایک عورت بہادر تھی، پنجاب کی بہادر بیٹی گواہی کے لیے کھڑی ہوگئی.

یہی گمنام خط ایک اخبار والے کو بھی لکھا گیا. صحافی رام چندر چھتر پتی، انہوں نے یہ خط اپنے اخبار میں چھاپ دیا، اور ساتھ ہی ساتھ میں اس عورت کے سامنے چٹان بن کر کھڑے ہو گئے. ان کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں لیکن جوان ڈٹا رہا. اندازہ کیجیے کہ بیس اگست کو رام چندر نے ایک بڑی مجلس میں دوستوں کو کہا کہ مجھے قتل کی دھکمیاں دی جا رہی ہیں، اور چوبیس اگست کو وہ قتل ہو گئے، لیکن اس عورت کی مدد سے باز نہ آئے. جی ہاں کردار اس کو کہتے ہیں، جرات و بہادری اسی کا نام ہے.

اسی بیچ چار وکلاء بھی ہمت کر کے میدان میں آئے. اور ان عورتوں کا کیس مفت لڑا. ہمارے لیے بھی فخر کی بات ہے کہ ان میں ایک وکیل حارث چیمہ مسلمان تھے اور بنیادی کام انھوں نے کیا. ایک پولیس افسر بھی اس معاملے میں چٹان کی مانند کھڑے رہے، حتی کہ عدالت نے "گرو رام" کو مجرم قرار دے دیا.

گرو رام کی طاقت کا اندازہ یوں کیجیے کہ ہر الیکشن سے پہلے وزراء تک اس کے ڈیرے پر آ کر اس کے پاؤں کو ہاتھ لگاتے اور حمایت طلب کرتے. فیصلے کے وقت عدالت سے باہر تقریبا دو لاکھ افراد اس کی حمایت میں جمع تھے. اس کو مجرم قرار دینے پر ہنگامے پھوٹ پڑے، جس میں پہلے دن ہی کروڑوں کی املاک اور چھتیس افراد جان کی بازی ہار گئے. پولیس میں اس کے اثرات کا اندازہ اس سے کیجیے کہ بہت وقت تک اس کے مریدوں کو سب کچھ کرنے کی کھلی چھٹی دی گئی. معصوم کشمیریوں پر برسنے والی پیلٹ گنیں اب کی بار خاموش رہیں، اور قاتل مزے سے اپنا کام کرتے رہے اور تین درجن افراد مارے گئے. حد یہ ہے کہ انڈین حکومت کے بعض افراد نے عدالت سے فیصلہ واپس لینے کی بات تک کر دی.

"مجرم بابا" کو عدالت سے جیل لے جانے کے لیے ایک نہایت آرام دہ ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا گیا. قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کی بیٹی اس کے ساتھ بیٹھ کر گئی. "بابا " اس بیچ مزے سے چاکلیٹ کھا رہے تھے.

اس خوف کے ماحول میں یہ "معمولی" سی عورت چٹان بن کر کھڑی رہی.
ممکن ہے وہ ہار جاتی اگر
وہ صحافی اپنا خون نہ بہاتا،
یا وہ چار وکیل ڈر جاتے،
یا جج صاحب کو اپنے بچے یاد آ جاتے،
یا ڈی ایس پی کو اپنی جان عزیز ہو جاتی.

لیکن اس بار موسم خراب تھا.
ڈیرہ سچا سودا اب کے سچا نہیں، جھوٹا سودا تھا ..