دل کی تونگری اور ایثار - مفتی شاکراللہ چترالی

دل کی تونگری االلہ تعالیٰ کی وہ نعمت ہے جو انھی کے فضل وکرم سے کسی کو نصیب ہوتی ہے۔ یہی چیز ہے جو انسان کو ایثار اور قربانی پر آمادہ کرتی ہے۔ اس کی ضد ’’شُح‘‘ ہے جو بخل سے وسیع مفہوم کا حامل ہے، یہ بخل، تنگ نظری، تنگ دلی، کم حوصلگی، اور دل کے چھوٹے پن سب کا احاطہ کرتا ہے۔ اسی ’’شح‘‘ کی وجہ سے آدمی دوسرے کا حق ماننا اور ادا کرنا تو درکنار اس کی خوبی کا اعتراف تک کرنے سے جی چراتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ دنیا میں سب کچھ اسی کو مل جائے اور کسی کو کچھ نہ ملے۔ دوسروں کو خود دینا تو کجا، کوئی دوسرا بھی اگر کسی کو کچھ دے تو اس کا دل دکھتا ہے۔ اسی بنا پر قرآن کریم میں اس برائی سے بچ جانے کو فلاح کی ضمانت قرار دیا گیا ہے۔ نفس کی تنگی ہی ہے جو حرص اور بخل وغیرہ کی شکل میں ظاہر ہو کر انسان کو طرح طرح کی حرام خوریوں اور حرام کاریوں میں مبتلا کر دیتی ہے۔ یہ ایک خطرناک داعیہ ہے، تو اگر انسان اس کو قابو میں نہ رکھ سکے تو یہ اس کی آخرت کو تباہ و برباد کر دینے والی چیز ہے۔

اسلام نے صرف ایثار کی تعلیم دی ہے، بلکہ پیغمبر اسلام نے عملی تربیت اور تزکیۂ نفس کے ذریعہ صحابۂ کرام کو ایثار مجسم کا نمونہ بنا دیا. ایثار کی ایسی ایسی مثالیں اس مقدس جماعت نے قائم کیں، جن کو اپنی مثال آپ کہا جا سکتا ہے۔

ذیل کی سطور میں اسی صفتِ ایثار کے حوالے سےدس عنوانات قائم کر کے کچھ گزارشات پیش کی جا رہی ہین. اللہ تعالیٰ سب کو یہ صفت نصیب فرمائیں:

1: تعریف
لغوی: کسی چیز کو مقدم کرنا، کسی کو ترجیح دینا۔
اصطلاحی: اپنی ضرورت اورذاتی احتیاج کے باوجود دوسروں پر خرچ کرنا۔
امام قرطبی ؒفرماتے ہیں: کسی اور کو اپنے نفس پر ترجیح دینا اور اس کی خواہشات کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھنا۔

2: قرآن کی روشنی میں
وَالَّذِيْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالْاِيْمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ يُحِبُّوْنَ مَنْ ہَاجَرَ اِلَيْہِمْ وَلَا يَجِدُوْنَ فِيْ صُدُوْرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّآ اُوْتُوْا وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ كَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ۔ۭۣ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰۗئِكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(الحشر:9)
’’جو کوئی ان کے پاس ہجرت کر کے آتا ہے، یہ اس سے محبت کرتے ہیں، اور جو کچھ ان (مہاجرین) کو دیا جاتا ہے، یہ اپنے سینوں میں اس کی کوئی خواہش بھی محسوس نہیں کرتے، اور ان کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، چاہے ان پر تنگ دستی کی حالت گزر رہی ہو۔ اور جو لوگ اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ ہوجائیں، وہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں‘‘

3: ایثار اور احادیث
انھی صحابۂ کرام جن کے ایثار کا ذکرمذکورہ بالا آیت میں تھا، ان کے ایثار کی یہ بھی ایک نہایت عجیب مثال ہے کہ ایک انصاری کے پاس دو بیویاں تھیں تو اس نے ایک بیوی کو اس لیے طلاق دینے کی پیشکش کی کہ عدت گزرنے کے بعد اس سے اس کا دوسرا مہاجر بھائی نکاح کر لے۔ ( صحیح بخاری)۔
صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی فاقہ زدگی کا حال عرض کیا تو آپ نے اپنے گھروں میں پیغام بھیجا کہ اس شخص کو کھانا کھلایا جائے، مگر وہاں سے کچھ نہ ملا، جب کسی گھر سے بھی کچھ نہ مل سکا تو آپ نے اپنے صحابہ ٔ کرام کو مخاطب کرکے فرمایا کہ کون ہے جو آج اس شخص کی مہمانی کرے؟ تو حضرت ابوطلحہ فوراً بولے کہ میں ہوں اے اللہ کے رسول، چنانچہ آپ اس شخص کو اپنے ساتھ لے کر جب گھر پہنچے تو اپنی بیوی سے کہا کہ یہ شخص حضور کا مہمان ہے، اس کی عزت کرنی ہے، مگر اس نے کہا ہمارے پاس تھوڑا سا کھانا ہے جو بمشکل بچوں کو پورا ہوسکے گا، اور بس، تو آپ نے اسے سمجھایا کہ بچوں کو کسی طرح بہلا پھسلا کر سلا دینا، اور اس کے بعد ہم اپنا کھانا مہمان کے سامنے رکھ دیں گے، اور جب وہ کھانا شروع کر دے گا تو میں چراغ ٹھیک کرنے کے بہانے اسے بجھا دوں گا، تاکہ مہمان کو ہماری حالت کا پتہ نہ چلنے پائے، اور وہ سیر ہو کو کر کھانا کھا لے، چنانچہ انہوں نے ایسے ہی کیا، اور خود فاقہ میں رہ کر مہمان کو کھلا دیا، صبح جب وہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کو بتایا کہ تمہارے بارے میں رات کو مجھ پر آیت کریمہ نازل ہوئی۔

4: حقیقتِ ایثار
شیخ محمد بن وفاء الشاذلی فرماتے ہیں: اپنی پوری صلاحیت اورتمام تر قوت کو مخلوق کی خیر خواہی میں لگا دینا۔

5: درجات ایثار
پہلا درجہ: مخلوق کو خواہشات کے معاملے میں اپنی ذات پر ترجیح دینا۔
دوسرا درجہ: مخلوق کو ضروریات کے معاملے میں اپنی ذات پر ترجح دینا۔
تیسرا درجہ: اللہ تعالیٰ کی رضا کو مخلوق کی رضا پر ترجیح دینا۔

6: اقسام ایثار
پہلی قسم: ایثار الاحوال: خیالات اور توجہات کا مرکز ذاتِ واحد کو ٹھہرا کر ماسوا کی طرف التفات کو یکسر ختم کردینا۔
دوسری قسم: ایثار الاخلاق: خصوصی چیزوں اور مخصوص حقوق میں ذاتی ضرورت کے باوجود دوسروں کو ترجیح دینا۔
تیسری قسم: ایثار الاصول: جان و مال کو محبوبِ حقیقی کی راہ اور رضامیں بے دریغ لٹانا۔
چوتھی قسم: ایثار المعاملات: مال خرچ کرنے میں مخلوق کی خوشنودی پر رب کی خوشنودی کو فوقیت اور اہمیت دینا۔
پانچویں قسم: ایثار الحقائق: خالق ِ کون و مکان کے ساتھ لذتِ آشنائی پا کر دوعالم سے دل کابیگانہ ہوجانا۔
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذتِ آشنائی

7: سببِ ایثار
مالکِ حقیقی پر قوتِ یقین، انسانیت پر فرطِ شفقت اور مخلوق کےساتھ غایتِ رحمت ہی کسی انسان کو ایثار پر ہر آن اُبھارتی اورہر وقت آمادہ رکھتی ہے۔

8: علاماتِ ایثار
امام قشیری فرماتے ہیں: خود بھوکا رہ کر دوسروں کو کھلانا ’’ایثار‘‘ کی علامت ہے۔
بعض کہتے ہیں: جس نے بخشش و نوازش میں بندے بندے میں فرق رکھا، وہ ’’صاحبِ ایثار‘‘ نہیں ہے۔ ’’صاحبِ ایثار‘‘ وہ شخص ہے جو بغیر کسی تفریق اور امتیاز کے تمام لوگوں کے ساتھ ایثار سے پیش آئے۔
کسی نےخوب کہا: جو اپنے لیے حق اور ملکیت کا دعویدار ہو تو ایسا مدعی انسان صاحبِ ایثار نہیں ہو سکتا۔

9: حکایات
ایک مرتبہ حضرت عمر رض نے اپنے غلام کو چار سو دینار دے کر حضرت ابو عبیدہ رض کے پاس بھیجا اور اس کو کہا: ان سے کہنا: ’’ان کو اپنی ضروریات میں لگا دینا‘‘، پھر وہاں ٹھہر کر دیکھنا کہ ان کے ساتھ وہ کیا کرتے ہیں۔ اس غلام نے جب پہنچا دیا تو انہوں نے حضرت عمر رض کو دعا دی، پھر اپنی لونڈی کو حکم دیا: یہ سات دینار فلاں کو پہنچا دو! یہ پانچ فلاں کو دے آؤ۔ اس طرح اسی وقت پوری تھیلی کی خالی ہوگئی۔
غلام نے واپس آکر حضرت عمر کو ساری بات دی۔

پھر اسی طرح اتنے ہی دینار دے کر حضرت معاذ بن جبل رض کے پاس بھیجا، ان کے عمل کو بھی دیکھنے کا کہا۔ حضرت معاذبن جبل رض نے بھی وہی کیا جو حضرت ابوعبیدہ نے کیا لیکن ان کی بیوی کہنے لگیں، ہم بھی مساکین ہیں کچھ ہمیں بھی دے دیں! تھیلی میں اس وقت دو ہی دینار رہ گئے تھے چنانچہ وہ دو دینار انہوں نے بیوی کو دے دیے ۔
غلام نے واپس جب واقعہ سنادیا تو حضرت عمر بہت خوش ہوئے اور کہا یہ بھائی ہیں، ان کی آپس میں خوب موافقت ہے۔

مؤطا امام مالک میں حضرت عائشہ رض سے روایت ہے: ایک مسکین نے ان سے سوال کیا، ان کے گھر میں صرف ایک روٹی تھی اور ان کا اس دن روزہ تھا، آپ نے اپنی خادمہ سے فرمایا کہ یہ روٹی اس کو دے دو، خادمہ نے کہا کہ اگر یہ دے دی گئی تو شام کو آپ کے افطار کرنے کے لیے کوئی چیز نہ رہے گی، حضرت صدیقہ نے فرمایا: پھر بھی دے دو، یہ خادمہ کہتی ہیں کہ جب شام ہوئی تو ایک ایسے شخص نے جس کی طرف سے ہدیہ دینے کی کوئی رسم نہ تھی، ایک سالم بکری بھنی ہوئی اور اس کے اوپر آٹے میدے کا خول چڑھا ہوا پختہ، جو عرب میں سب سے بہترین کھانا سمجھا جاتا ہے، ان کے پاس بطور ہدیہ بھیج دیا، حضرت صدیقہ نے خادمہ کو بلایا: آؤ یہ کھاؤ، یہ تمھاری اس روٹی سے بہتر ہے۔

امام نسائی نے حضرت عبداللہ بن عمر رض کا واقعہ نقل کیا ہے کہ وہ بیمار تھے اور انگور کا جی چاہا، چنانچہ ان کے لیے ایک درہم میں ایک خوشہ انگور کا خرید کر لایا گیا، اتفاق سے ایک مسکین آ گیا اور سوال کیا، آپ نے فرمایا کہ یہ خوشہ اس کو دے دو، حاضرین میں سے ایک شخص خفیہ طور پر اس کے پیچھے گیا اور خوشہ اس مسکین سے خرید کر پھر ابن عمر رض کو پیش کر دیا، مگر یہ سائل پھر آیا اور سوال کیا تو حضرت ابن عمر نے پھر اس کو دے دیا، پھر کوئی صاحب خفیہ طور پر گئے اور اس مسکین کو ایک درہم دے کر خوشہ خرید لائے اور حضرت ابن عمر رض کی خدمت میں پیش کر دیا، وہ سائل پھر آنا چاہتا تھا، لوگوں نے منع کر دیا. حضرت ابن عمر رض کو یہ اطلاع ہوتی کہ یہ وہی خوشہ ہے جو انھوں نے صدقہ میں دے دیا تھا، تو ہرگز نہ کھاتے، مگر ان کو یہ خیال ہوا کہ لانے والا بازار سے لایا ہے، اس لیے استعمال فرما لیا۔

10: اقوالِ صوفیاء
امام قشیری فرماتے ہیں: جو لوگوں کے پاس ہے، اس کو ان کی ملکیت سمجھنا، اور جو اپنے پاس ہے اس کواللہ تعالیٰ کی امانت اور ودیعت خیال کرنا ایثار ہے۔

شیخ عبد اللہ الحداد فرماتے ہیں: جو دنیا کو آخرت پر فوقیت دیتا ہے، وہ شک اور ارتیاب کا شکار ہے، جو دنوں کو برابر رکھتا ہے وہ کند ذہن اور بے وقوف ہے اور جو آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتا ہے (یعنی صاحب ایثار ہے) وہی انسان حقیقی معنوں میں مؤمن، عقلمند اور دانا ہے۔

شیخ سری سقطی فرماتے ہیں: اپنے دین کو اپنی خواہشات پر فوقیت دینے والا (یعنی صاحب ایثار) ہی کامل بنتا ہے اور اپنی خواہشات کو اپنے دین پر ترجیح والا ہی ہلاک ہوجاتا ہے۔

اسلام کی اسی تعلیم کا ثمرہ ہے کہ افراد سے قطع نظر، مسلمان بحیثیت قوم دنیا میں آج بھی سب سے بڑھ کر فیاض اور فراخ دل ہیں۔ جو قومیں ساری دنیا میں تنگ دلی اور بخیلی کے اعتبار سے اپنی نظیر نہیں رکھتیں، خود انہی میں سے نکلے ہوئے لاکھوں اور کروڑوں مسلمان اپنے ہم نسل غیر مسلموں کے سایہ بسایہ رہتے ہیں۔ دونوں کے درمیان دل کی فراخی و تنگی کے اعتبار سے جو صریح فرق پایا جاتا ہے، اس کی کوئی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جا سکتی کہ یہ اسلام کی اخلاقی تعلیم کا فیض ہے جس نے مسلمانوں کے دل بڑے کر دیے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com