جبر و قدر، تقدیر اور لوحِ محفوظ کے سائنسی رخ - مجیب الحق حقی

کیا انسان اپنے فیصلوں اور عمل میں مکمّل آزاد ہے؟
کیا انسان کے اعمال پہلے سے متعیّن ہیں؟
کیا ہر انسان کے سارے اعمال لوح ِ محفوظ میں پہلے سے لکھے ہوئے ہیں؟
یہ سوال اکثر سوچنے والوں کو بے چین کرتا ہے کہ تقدیر کیا ہے؟ کیونکہ اگر تقدیر تحریر شدہ ہے اور ہر عمل لوح محفوظ میں پہلے سے لکھا ہے تو انسان تو مجبور ِمحض ہوا کہ وہی کرے گا، پھر جزا اور سزا تو بےمعنی ہوئے! سائنس تقدیر کو نہیں مانتی جبکہ یہ عقیدہ مذہب کا ایک اہم جز ہے۔ آئیں اس پر جدید علمی پیش رفت کی روشنی میں غور کرتے ہیں کہ تقدیر کے حوالے سے حقیقت کیا ہوسکتی ہے اور جزا اور سزا کا اسکوپ یعنی دائرۂ کار کیا ہے؟

حقیقت آشنائی کی اساس اگر صرف حواس اور اس کے تجربات ہیں تو جدید سائنس سے زیادہ حقیقت پسند کوئی نہیں لیکن اگر حقیقت آشنائی کی بنیاد عقل ہے تو جدید سائنس ادھوری سچّائی ہے۔ کائنات کی سچّائیاں جاننے کے لیے انسان کو اپنے حواس سے ایک درجہ اوپر ہو کر حقائق کا تجزیہ کرنا ہوتا ہے۔ کسی بھی مظہر کا ٹھوس عقلی جواز ہی اس کی سچّائی کی دلیل ہوتا ہے۔ تقدیر کا تعلّق مستقبل سے ہے یعنی تقدیر وہی جان سکے گا اور لکھ سکے گا جس میں مستقبل میں دیکھنے کی قوّت ہو۔ یہاں ہم بنیادی موضوع سے منسلک موضوعات کا طائرانہ جائزہ لیتے ہوئے مرحلہ وار ہی تقدیر اور لوح ِمحفوظ کے موضوع کی طرف بڑھیں گے۔

آزاد ارادہ یا مرضی: Free-Will
جزا اور سزا کی بنیاد عمل پر ہے مگر عمل سے پہلے ارادہ ہوتا ہے، یہ بنیادی عنصر ہے جس پر عمل کی بنیاد پڑتی ہے۔ ہمیں جاننا ہے کہ شعور ,consciousness ارادہ intent، اور خواہش desire کیا ہیں؟ خواہش خیالات thought سے ابھرتی ہے یا خیال خواہش سے پیدا ہوتا ہے؟ یہاں مذہب ان تمام کا منبع روح کو بتاتا ہے جبکہ سائنس اس کی نفی کرتی ہے۔ لیکن اس کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سائنس شعور، ارادہ، خواہش، کو تو جھٹلا نہیں سکتی کہ سائنسدان خود اس کا تجربہ کر تا ہے، اس لیے ان سب کو مائنڈ mind کا نام دیا گیا۔ مگر مائنڈ کہاں ہوتا ہے، اس کا بھی سائنس کو نہیں پتہ! ارادے اور عمل کے حوالے سے سائنس کے اس مخمصے کو یہیں چھوڑ کر ہم آگے بڑھتے ہیں۔ جدید سائنسی اور تحقیقی نظریۂ یہ ہے کہ انسانی خیالات بھی طبعی قوانین کا نتیجہ ہیں، گویا ہم جو کچھ سوچتے ہیں یا جو خیال آتا ہے وہ طبعی یا کیمیائی قوانین کی وجہ سے ہوتا ہے یعنی کیمیائی عمل خیالات کو جنم دیتے ہیں جو عمل پر منتج ہوتا ہے۔ اب اگر ہمارے خیالات اور اعمال ان معیّن قوانین کی وجہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں تو پھر سائنسی سوال یہ ہے کہ ہم اپنے عمل میں کتنا آزاد ہیں؟ اس موضوع پر موجودہ دور کے تسلیم شدہ عظیم سائنسدان اسٹیون ہاکنگ، (ان کے اقوال کا خاص طور پر اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کہ یہ ایک مستند ملحد ہیں) اپنی حالیہ کتاب دی گرینڈ ڈیزائن میں لکھتے ہیں کہ: "گو کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے عمل کو چُن سکتے ہیں لیکن سالمے molecule کی بنیاد پر حیاتیات کا ہمارا فہم یہ بتاتا ہے کہ تمام حیاتیاتی عمل کیمیائی اور طبعی قوانین کے طابع ہوتے ہیں اور یہ ایسے ہی یقینی ہیں جیسے کہ کسی سیّارے کا گردشی مدار۔ دماغی سائنس کے حالیہ تجربات اس خیال کی تائید کرتے ہیں کہ ہمارا طبعی دماغ سائنسی قوانین کی پیروی کرتا ہے اور یہی ہمارے رویّوں کا تعیّن کرتا ہے بجائے باہر کی کسی ایجنسی کے"۔
یہیں پر یہ آگے رقم طراز ہیں:
It is hard to imagine how free will can operate if our behaviour is determined by physical law, so it seems that we are no more than biological machines and that free will is just an illusion.
(The Grand Design, Pg 45,Stephen Hawking.)
ـ"یہ تصّور بہت دشوار ہے کہ ہماری مرضی کس طرح آزادنہ طور پر کام کرسکتی ہے جبکہ ہمارے رویّے طبعی قانون سے ہی متعین ہیں۔ گویا بظاہر ہم سب حیاتی روبوٹ سے زیادہ کچھ نہیں، اور آزاد مرضی محض ایک دھوکہ ہے۔"

اسی سائنسداں کی انسانی رویّے کی پیشگوئی سے متعلّق ایک اور تشریح کا مطالعہ کریں جو بذاتِ خود ایک عظیم تر اور ہمارے شعور کی پہنچ سے ماورا سپر سائنس کا بالواسطہ اعتراف ہے۔
" While conceding that human behaviour is indeed determined by laws of nature, it is also seems reasonable to conclude that the outcome is determined in such a complicated way and with so many variables as to make it impossible in practice to predict. For that one would need a knowledge of initial state of each of the thousand trillion trillion molecules in the human body and to solve something like that number of equations. That would take a few billion years.
(The Grand Design, page,45-46, by Stephen Hawking.)
" یہ نتیجہ اخذ کرنے کے باوجود کہ انسانی رویّے فطری قوانین کے طابع ہوتے ہیں، یہ بات بھی معقول لگتی ہے کہ اس کو سمجھنے کا عمل اتنا پیچیدہ اور اتنی زیادہ جہتوں پر مشتمل ہوگا کہ کوئی بھی پیشگوئی تقریباً ناممکن ہوگی، اس کے لیے انسانی جسم میں موجود ہزار کھرب کھرب خلیات thousand-trillion-trillion-molecules میں ہر ایک کی ابتدائی کیفیت کی معلومات درکار ہوں گی، پھر اتنی بڑی تعداد کی مساوات equations کو حل کرنے کے لیے چند ارب سال درکار ہوں گے!"

آگے اسی صفحہ 46 پر وہ لکھتے ہیں کہ کیونکہ طبعی قوانین کے ذریعے انسانی رویّوں کی تشریح انتہائی ناقابل عمل ہے، لہٰذا ہم effective-theory کا اطلاق کرتے ہیں کہ انسان کے پاس آزاد مرضی یا ارادہ free-will ہے، جس کی ذیل میں نفسیات اور معاشیات وغیرہ آتے ہیں، جہاں اس حوالے سے انسانی طرز عمل کی مزید تفصیل ہوتی ہے۔

ہمارے موضوع کے حوالے سے جناب اسٹیون ہاکنگ کا یہ اعتراف بہت اہم ہے کہ سائنس اگلے لمحے کی پیشگوئی سے بھی قاصر ہے، لہٰذا اگر کچھ احباب سائنس پر ہی بھروسہ کرتے ہیں اور اسی کو اپنا رہبر تسلیم کرتے ہیں تو یہ جان لیں کہ اگلے لمحے یا آئندہ کی پیش گوئی سائنس کے نزدیک ایک ناممکن کام ہے۔ اب دوسری طرف آسمانی کتاب، خالق کائنات کے پیغمبران اور ولی اللہ کی پیشگوئیوں پر غور کریں۔ یہ تو سامنے کی حقیقت ہے جو کتابوں اور اب انٹرنیٹ پر بکھری ہوئی ہیں، جس میں مستقبل قریب کے بلکہ ہزار سال آگے کے واقعات کے اشارے دیے گئے جو درست ثابت ہوتے چلے آ رہے ہیں، کہ جس کی گواہی تاریخ کے صفحات بھی دے رہے ہیں۔ اُس علم کی قوّت اور وسعت کا ادراک انسان تو نہیں کر سکتا، جس نے ڈیڑھ ہزار سال آگے کی پیشگوئی کردی۔ وہ علم کیا ہوگا؟ اس علم کی قوّت کیا ہوگی؟ کیا سائنس اس علم کے پیرایوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ صرف یہی پیشگوئی کی حقیقت الحادی اور ڈاروینی سائنس کی فرضی برتری کی بنیاد کو ہلا دیتی ہے۔

لیکن بہت محدود پیش گوئی تو سائنس بھی کر سکتی ہے۔ ایک مصنوعی دانش artificial-intelligence کے حامل انسان نما سپر روبوٹ humanoid کے کسی مخصوص ماحول میں ممکنہ ردّ عمل کی پیش گوئی اس کا پروگرامر اپنی علمی پیمائش کی بنیاد پر کر سکتا ہے، کیونکہ روبوٹ ہر صورت میں اس کے مقرّر کردہ دائرۂ کار میں ہی حرکت کرتا ہے۔ ان متعیّن حدود کا علم ہی پروگرامر کو وہ قوّت دیتا ہے کہ وہ آئندہ کے ممکنہ عمل اور ردّ عمل کی تشریح کر سکتا ہے۔ یہاں اصل نکتہ علم کی وسعت اور اس پر کسی کے غلبے کا ہے۔ اس سے یہی بات سامنے آتی ہے کہ انسان جس علم کے تحت کوئی حرکت پذیر شے یا مصنوعی زندگی تخلیق کرتا ہے تو اپنی تخلیق کے ممکنہ عمل کے حوالے سے اس کی پیش گوئی کی دسترس اس کی وسعت ِ علم، قوّت فکر اور اپنی تخلیق کی ساخت اور کارکردگی کے پیرایوں پر پختہ عبور پر منحصر ہو جاتی ہے۔ لیکن جیسا ہم نے جانا انسان کے رویّے کی پیش گوئی سے سائنس قاصر ہے، لیکن اس کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ قابل احترام سائنسدان مسٹر اسٹیون ہاکنگ انسانی رویّے کے حوالے سے سائنسی پیش گوئی کو کُلّی مسترد نہیں کر رہے بلکہ پیش گوئی کا ایک سائنسی اور حسابی طریقہ کار بتاتے ہیں کہ یہ کس طرح ممکن ہو سکتی ہے، لیکن ساتھ ہی اعتراف کرتے ہیں کہ انسان کے پاس اس کی محدود دماغی صلاحیت کی وجہ سے اتنی علمی سکت نہیں کہ اس کو انجام دے سکے۔ دوسرے الفاظ میں اگر کوئی انسان ایسی کسی صلاحیت کا حامل ہو تو پیش گوئی کر سکتا تھا یا کر سکتا ہے۔ یہاں سائنس کی اپنی تشریح ہی یہ ظاہر کرتی ہے کہ پیش گوئی کوئی غیر سائنسی عمل نہیں بلکہ اس کو انسانی عقل کی محدودیت کی بنا پر ناقابل عمل ہونے کی بنا پر مسترد کیا جاتا ہے۔ مگر کچھ احباب کسی ضد میں ایک قدم آگے بڑھ کر پیغمبرانہ اور دوسری پیش گوئیوں کو غیر سائنسی، ناممکن، دقیانوسیت، قیافہ اور حماقت قرار دے دیتے ہیں جبکہ یہ نقطہ نظر کتنا عقلی اور سائنسی ہے، وہ ظاہر ہوگیا ہے۔ خیر یہ تو جملۂ معترضہ تھا۔ اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں اور اسلام کے حوالے سے تقدیر پر غور کرتے ہیں۔

جبر و قدر اور تقدیر کا سائنس سے کوئی تعلّق نہیں کیونکہ یہ سائنس کی فیلڈ نہیں ہے، لیکن مذہب اس بارے میں دعویٰ کرتا ہے کہ نہ صرف انسان کی تقدیر بلکہ کائنات کے رموز بھی تحریر شدہ ہیں۔گویا تقدیر تو ہمارا آئندہ کل ہے، ایک انجانا مستقبل۔ لیکن ہمارا دین اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ یہ انجانا صرف انسان کے لیے ہے، انسان کے خالق کے لیے نہیں۔ بس یہیں پر آ کر کچھ احباب کنفیوز ہوجاتے ہیں اور اپنے آپ کو بےبس سمجھتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہم کر رہے ہیں، وہ ایک جبر ہے کیونکہ ہم پہلے سے متعیّن کیے اور لکھے ہوئے پر عمل کرنے پر مجبور ہیں۔ کیا یہ گمان صحیح ہے؟

اس سلسلے میں ایک واقعہ کا تذکرہ اہم ہے جس کے مطابق کچھ ایسا ہوا کہ ایک یہودی ایک کٹورے میں پانی لیکر ہمارے نبی ﷺ سے اس طرح پوچھتا ہے کہ اے محمّد ﷺ بتائیے کہ میری تقدیر میں کیا ہے؟ میں یہ پانی پیوں گا یا پھینک دوں گا؟ اب اگر آنحضرت ﷺ فرماتے کہ تو پانی پیے گا تو وہ پھینک دیتا یا اس کے معکوس، لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو تو کرے، وہ تیری تقدیر! بس یہی نکتہ سمجھنے کا ہے۔

انسانی تقدیر کے حوالے سے دو مختلف مظاہر phenomena ہیں جن کو ہم خلط ملط کرتے اور پھر اس کی وجہ سے وسوسوں میں گھرتے ہیں۔ ایک مظہر وہ ہے کہ جس میں انسان کا قیام ہے یعنی یہ دنیا جو کہ ذیلی یا کمتر مظہر ہے اور جس کے پیرائے ہمیں معلوم ہیں، جبکہ دوسرا وہ کہ جس میں انسان کے خالق کا قیام ہے وہ مظہر phenomenon برتر و غالب ہے، اور اس کے پیرائے نامعلوم ہیں۔ درحقیقت انسان اپنے حواس کے اعتبار سے ایک انتہائی محدود ماحول کا باشندہ ہے، جس میں اسے اپنے تخیّل اور قوّت عمل کے تئیں کسی بھی کام کی مکمّل آزادی ہے، لیکن جب ہم دونوں مظاہر یعنی عدم اور دنیا کے پیرایوں کی تفریق سمجھے بغیر اور اپنے ماحول کا مناسب ادراک و تجزیہ کیے بغیر "لکھی تقدیر" کے تصوّر کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو کنفیوز ہوتے ہیں۔ آئیں، ہم اس جبر و قدر اور تقدیر کے ساتھ اپنے اور خالق کے ماحول، یعنی دنیا اور عدم، کے تعلّق کو عام فہم طریقے سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جس میں جدید سائنسی پیش رفت سے مدد لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ماحول - ریاض علی خٹک

اس بات کو مشہور ویڈیوگیم کاؤنٹر اسٹرائک Counter-Strike کی مثال سے سمجھتے ہیں۔ یہ ایک محدود کھیل کا سوفٹ وئیر ہے جو کہ ظاہر ہے تحریر شدہ ہے اور نوجوانوں میں بہت مقبول ہے۔ اس کھیل میں دو مخالف گروہ ایک دوسرے کو فنا کرنے یا زیر کرنے پر کمربستہ ہوتے ہیں۔ یہاں تین ماحول ہوتے ہیں:
پہلا ایک نادیدہ پس ِاسکرین مظہر جس میں پورا پروگرام تمام باریکیوں کے ساتھ تحریر شدہ ہوتا ہے، یعنی گیم کا سوفٹ وئیر،
دوسرا مظہر کمپیوٹر اسکرین یعنی میدان عمل،
جبکہ تیسرا کمپیوٹرسے باہر یعنی کھلاڑی۔
لیکن ایک اور مظہر بھی ہے، وہ اس پروگرام یعنی سوفٹ وئیر کا خالق ہے۔ جو اس کھیل کے تمام رموز سے واقف بھی ہے اور کھیل کے پیرامیٹرز تبدیل کرنے پر قادر بھی۔

کھیل شروع ہونے پر باہر موجود کھلاڑی اندر کے کردار کا کنٹرول لیکر درحقیقت گیم کا حصّہ بن جاتا ہے اور اندر کے ماحول سے منسلک ہوجاتا ہے۔ اس طرح اب بظاہر دو ماحول رہ جاتے ہیں ایک ظاہر میں جبکہ دوسرا پیچھے چھپا ہوا۔ ظاہری ماحول میں کھیل کا میدان اور کھلاڑی یکجا ہوجاتے ہیں۔ یہ دونوں مظاہر یعنی پس پردہ پروگرام اور اسکرین پر رواں کھیل آپس میں ان دیکھے الیکٹرانک واسطوں سے منسلک ہیں جو سوفٹ وئیر کے طابع ہے یعنی پروگرام کی تحریر کے مطابق یہ دوڑتی الیکٹرک لہریں ہیں جو اسکرین پر ایک جنگ کا سماں باندھتی ہیں۔ سوفٹ وئیر میں کھیل کے دوران کھلاڑی کے ہر ایکشن پر عمل اور ردّعمل کے پیرائے فعّال رہتے ہیں۔ اس میں ایکشن کے حوالے سے کامیابی اور ناکامی، خوشی و غم، فتح و شکست کے پیرائے بڑی تفصیل سے موجود ہوتے ہیں۔ وہ اس طرح کہ گیم کے سوفٹ وئیر میں ہزاروں صحیح و غلط true/false کی لوجک یا منطق کی گرہیں یا پھندے Loop لگے ہوتے ہیں جو یہ طے کرتے ہیں کہ ہر ہر مرحلے پر کوئی کردار یا کھلاڑی کیا کیا کر سکتا ہے تو پھر اس کا کیا کیا نتیجہ نکلنا ہے۔ کھلاڑی ان مہیّا آپشنز میں سے اپنی مرضی سے کوئی چنتا ہے اور اگلے مرحلے کے منطقی اقدامات اور منسلک پھندوں میں جا پہنچتا ہے۔ اس پراسس کو ہم لکھی ہوئی مگر سیّال "قسمت" کہہ سکتے ہیں جہاں ہر کھلاڑی کا مستقبل اس کے فیصلے اور عمل کے تئیں جزوی ڈیفائن ہوتا ہے اور اب یہ کھلاڑی پر منحصر ہے کہ اپنے آئندہ وقت یا مستقبل کو کیا رخ دیتا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہی کھیل کا ماحول کسی کھلاڑی کی حتمی تقدیر کے تعیّن کرنے کا پلیٹ فارم ہے۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ اس کھیل کے دوران کوئی یہ شکوہ نہیں کرتا کہ یہ سب تو پہلے سے لکھا ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر کھلاڑی کو معلوم ہے کہ وہ تحریر یا سوفٹ وئیر محض کھیل کے پیرائے اور قواعد و ضوابط ہیں جو کسی کی فتح اور شکست پر اثرانداز نہیں ہو سکتے، یہ نتائج بہم پہنچانے کے ذرائع ہیں جو کھیل کے عملی ماحول میں غیر متعلق اور غیر مؤثر ہیں۔ یہاں کھلاڑی کی "قسمت" تحریر تو ہوتی ہے لیکن ایک لچکدار یا خام شکل میں جس کو اچھی یا بری شکل کھلاڑی اپنے عمل کے محدود اختیار سے دیتا ہے۔ عمل کی محدودیت کی وضاحت یہ ہے کہ کھلاڑی کھڑا ہونے کے لیے دو یا ایک ٹانگ پر کھڑا ہو سکتا ہے، دونوں ٹانگیں نہیں اٹھا سکتا۔ یہ بھی واضح رہے کہ کسی بھی آن لائن کھیل کا پروگرامر اگر چاہے تو اس کھیل میں مداخلت کر کے اس کے پیرائے تبدیل کرنے کی صلاحیت اور قوّت رکھتا ہے، کیونکہ وہ اس کے رموز کا خالق ہے۔ یہ اہم نکتہ ہے۔

اب آگے جو کچھ لکھا جا رہا ہے، وہ ایک حسّاس مسئلے پر ایک مفروضے کے تحت تفکّر کا حاصل ہے جس کا مقصد مثال کے ذریعے کسی پیچیدہ مظہر (لوح محفوظ) کی تشریح ہے۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ہم کو خالق کے ماحول یعنی عدم کا، جو کائنات اور ہماری عقل سے ماوراء ہے، نہ علم ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔ یہاں ہمارا محدود موضوع اور مقصد انسانی عمل کے تئیں تقدیر اور لوح ِمحفوظ کے ممکنہ پیرائے کی تفہیم ہے تاکہ شیطانی وسوسوں کا رَد ہو۔
اس مفروضے کے سو فیصد درست ہونے کا دعویٰ نہیں۔
ابتدا ہم قرآن کے ایک ارشاد سے کرتے ہیں۔
"دنیا کی زندگی کچھ نہیں مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا ہے۔" (57:20)
اس فرمان کی روشنی میں ہم آگے بڑھیں گے ۔
قلم اور تحریر کی اہمیت دیکھیے کہ خالق کہتا ہے:
"قسم ہے قلم کی اور اس کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں۔" (قرآن: 68:1)۔
یہ بھی یاد کریں کہ العلیم نے عالَم سے پہلے قلم تخلیق کیا اور کائنات کی ابتدا سے اختتام تک کے امور لکھ دیے۔ (ترمذی)
قلم، جس نے خالق کے اِذن سے وہ سب کچھ لکھا جو کہ اس کائناتی نظام کا مقدّر ہونا تھا۔
ہماری دلچسپی اس امر میں ہے کہ اس تحریر کی ماہیت کیا ہو سکتی ہے؟

قرین قیاس یہی ہے کہ عالم ِعدم کی یہ تحریر بہت سی جہتوں میں معیّن اور بہت سے پیرائیوں میں نرم و لچکدار قواعد و ضوابط کا عظیم الشاّن سوفٹ وئیر طرز کا پروگرام ہے، جس کی جہتیں لامحدود ہیں اور جو لوح ِمحفوظ میں مرقوم و مندرج ہوا۔ اگر ہم لوحِ محفوظ میں مرقوم اُن اندراجات کو جو انسانی عمل اور اس کی قسمت کے حوالے سے ہیں، اوپر مذکورہ گیم کے سوفٹ وئیر کے پیرائے کے تئیں سمجھنے کی کوشش کریں تو جبر و قدر اور تقدیر کے حوالے سے ہمارے بہت سے ابہام، مغالطے اور مخمصے حل ہوسکتے ہیں۔

بس سمجھ لیں کہ یہ غالباً ایسا ہی کچھ "سوفٹ وئیر" پروگرام ہے جو انسانی تصوّر سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ یہ کائناتی ماحول کے بموجب لامحدود پیرایوں، جہتوں اور زاویوں میں ہماری فہم سے بالا ایک پروگرام ہے جس میں انسانی خواہشات، اعمال، جذبات اور گمان سے منسلک لاتعداد مرئی اور غیر مرئی مظاہر ہیں جو ردّعمل کی بے پایاں جہتیں لیے ہوتے ہیں، جن کے حوالے سے لوح محفوظ میں درج قوانین فعّال ہو کر ہمارے اعمال پر لاگو ہوتے ہیں۔ اسی کی بنیاد پر یہ کائناتی سسٹم رواں دواں ہے۔ یعنی ہمارے ویڈیوگیم کے تناظر میں یہ دنیا بھی ایک گیم کا میدان عمل ہے، اس گیم کا مینوئل انسان کو مہیّا کر دیا گیا ہے، اور اس کی تشریح کرنے والے بھیج کر اس "کھیل" کے سارے اصول و ضوابط کھول کر بیان کر دیےگئے ہیں۔ دنیا میں انسان ایک "کھلاڑی" کی حیثیت سے متحرّک اور مصروف ہے، اس کھیل کا غیر مرئی یا پسِ پردہ حصّہ لوح محفوظ میں درج پروگرام ہے، جو اس دنیا اور انسان سے ان دیکھے واسطوں سے منسلک ہے۔ یہ ان دیکھے واسطے ہمارے اعمال، جذبات، گمان اور ان کے ممکنہ اثرات کی پس پردہ غیر مرئی طنابیں ہیں، (جیسا ہمارا وائی فائی WiFi سسٹم)، جو لوح میں تحریر شدہ اُلوہی گرہوں یا انجانی منطقوں کے تئیں ہمار ے موجودہ اور آگے کے معاملات کو کوئی شکل دیتی رہتی ہیں۔ انسان کے اطراف موجود تمام طبعی، سائنسی، فطری قوانین، یا جو نام آپ دیں، یہ سب بھی خام شکل میں لکھی ہماری تقدیروں کے پیرائے ہیں جن پر انسان کو تصرّف ہے کہ حالات کو من مانی شکل دے۔ انسان اپنی عقل و دانش اور تجربات سے ان قوانین کے نتائج کو دریافت کرکے فوائد اٹھاتا ہے۔ یہ قوانین روزمرّہ کے کسی مخصوص یا متعیّن عمل سے منسلک خام تقدیر کے کسی محدود پیرائے کو ٹھوس شکل دیتے رہتے ہیں۔ راحت، شہرت، شہوت، عیش و طرب، ذمّہ داری، اور غلبے کے حصول کے نو بہ نو پیرایوں میں خواہشات کی بیداری کے ساتھ صحیح غلط، جائز ناجائز عمل کے آپشن کھل جاتے ہیں۔ خواہشات کی تکمیل میں یہ عمل ہی ہے جو نتائج کی مثبت یا منفی گرہوں کو کھولتا ہے، وہی خیر اور شر کے پیرائے بناتا ہے۔ گویا خالق کے عطا کردہ پیرایوں میں ہم اپنی قسمت خود بناتے ہیں۔ یعنی ہر انسان اس کائنات میں عمل اور ردّ عمل کی نقش نگاری کر رہا ہوتا ہے، اور اسی لیے اس کے اعمال اور ان کے نتائج کو ہی کو محفوظ کیا جا رہا ہے۔ یعنی لوح محفوظ کی خالی لائنیں fill-the-blanks جن کو ہمیں بھرنا ہے۔

گمان یہ ہے کہ صحیح اور غلط اعمال کی ماہیت اور قوانین کے طابع ان کے نتائج بھی لکھے ہوئے ہیں، مگر غالباً اس طرح جیسے کہ "اگر ہوا، روشنی موجود اور زمین زرخیز ہے تو، بیج بونے سے، اور بعد میں پانی دینے سے، کونپل نکلے گی، پودا بنے گا، پھر درخت بنے گا اور پھل دے گا،" یہاں عمل اور نتیجہ درج ہے مگر شرائط کی گرہوں کے ساتھ۔ گویا اِس عالم (دنیا) میں کوئی بیج بوتا ہے، (عمل) تو اُس عالم (لوح محفوظ) میں اس کے کونپل بننے کے عوامل فعّال تو ہوجاتے ہیں لیکن اس میں باقی لوازمات کے پورا ہونے کی گرہیں لگی رہتی ہیں یعنی ہوا، روشنی اور زمین کا زرخیز ہونا اور پانی دینا۔ لہٰذا جو بھی بیج بوئے گا، پانی دے گا وہی پھل پائے گا مگر بنجر زمین پر یہ عمل اکارت جائے گا! لیکن اگر اللہ کی مشیّت یہ ہو کہ مخلوق کو پھل ملنا ہے تو بارش سے پانی مل جائے گا۔ اب جب تک درخت ہے تو اس کے سائے اور پھل سے ملنے والے اجر کا حساب لکھا جا رہا ہے۔ مگر کوئی دوسرا شخص اس درخت کو کاٹتا ہے تو اس کی لکڑی سے متعلق خیر اور شر کے پیرائے فعّال ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح ہمارے جذبات کہ کسی کی طرف ایک غصیلی نظر اس کے اندر خوف، سرنڈر یا انتقام کے جذبات پیدا کر تی ہے، تو باس کی مسکراہٹ کی تھپکی کسی میں اعتماد کی روح پھونک دیتی ہے۔ شفقت، عفو و درگزر، محبت، نفرت، کینہ، عداوت، سخاوت وغیرہ کی جذباتی لہریں اطراف کے اذہان پر اور خیالات میں سرایت کرکے بطور ردّعمل افراد کی افتاد طبع کے تئیں خیالات اور خواہشات کو جنم دیتی ہیں جو کمزور اور طاقتور ردّعمل کا سبب بنتے ہیں۔ غرض یہ عمل اور ردّعمل کی لامتناہی لہریں ہیں جو انسان کے اطراف ایک غیر مرئی خاموش سمندر موجزن کیے رہتی ہیں، لیکن ہر عمل کی ہر لہر انسان کی تخلیق ہے جو لوح محفوظ میں خالق کی چھوڑی جگہوں کو پُر کر رہی ہے۔

یہ کائناتی سسٹم غیر جانبدار ی کے ساتھ ہر بشر کے لیے کھلا ہے۔ خالق نے فرما دیا کہ:
"انسان کے لیے وہی ہے کہ جس کی کوشش کرتا ہے." ( قرآن: 53:39)۔
جولوگ معیّن تقدیر کے حوالے سے مخمصوں میں گھرے ہیں، وہ صرف اس پر غور کریں کہ اگر انسان کے اعمال بھی لوح محفوظ میں درج ہوتے تو اللہ قرآن میں یہ کیوں فرماتا؟
قرآن: (سورۃ 50، آیات17-18) "دو کاتب اس کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہر چیز ثبت کر رہے ہیں۔ کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لیے حاضر باش نگران موجود نہ ہو۔"
یہاں سوال یہ ہے کہ اگر سب کچھ لوح محفوظ میں لکھا ہے تو یہ ہمارے دائیں بائیں بیٹھے نیکی اور بدی کے فرشتے کیا کر رہے ہیں۔ یہی ثابت ہوتا ہے کہ شعوری دنیا میں انسان کو عمل کی آزادی دے کر اس کو ریکارڈ کرنے والے متعیّن کردیے۔ گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہر انسان کی تقدیر لکھی تو ہے، لیکن ویسی نہیں جیسی کہ ہماری عام تفہیم ہے، بلکہ اس میں انسان سے متعلّق بہت سے عوامل سیّال شکل میں ہیں جن کی حتمی ٹھوس شکل ہم اپنے عمل سے بناتے ہیں۔ انسان جان لے کہ انسانوں سے باہمی معاملات اور رشتوں میں اس کا ہر ہر عمل ایک ردّعمل رکھتا ہے جو اس کا مثبت یا منفی اکاؤنٹ ہے۔ انسان کے اچھے برے اعمال اپنا اثر چھوڑتے ہیں، اسی طرح انسان کے منفی و مثبت جذبات اور اچھے برے گمان بھی قوّت رکھتے ہیں، اسی لیے اپنے ردّعمل بھی۔ یعنی ہمارے اعمال اس نظامِ حیات میں سرایت کرکے اس کے مختلف گوشوں کی اچھی یا بری شکل ترتیب دیتے رہتے ہیں، جن کے اثرات کے تئیں ماحول میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں، جس سے ہمیں اور دوسروں کو خوشی، غم، ترقّی و تنزّلی، راحت اور تکلیف وغیرہ ملتی رہتی ہے۔گویا انسان کو یوم حساب کے حوالے سے اپنے معاملات کے بموجب فیصلہ کرنا اور کسی عمل کو اختیار کرنا ہے، جس کے اچھّے اور برے پیرائے اور نتائج بتا دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ماحول اور ہوائی آلودگی - ریاض علی خٹک

اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوشش اور محنت کا مناسب پھل نہیں ملتا،ا بلکہ غیر متوقع حالات اور ناگہانی آفات کا سامنا ہو جاتا ہے۔ اس حوالے سے انسان تذبذب میں مایوس ہوکر شکوہ کرتا ہے کہ میرے ساتھ ایسا نہیں ہونا تھا، میں نے تو کوئی غلط نہیں کیا، میں نے تو کسی کا برا کبھی نہیں چاہا، تو میرے ساتھ ہی بُرا کیوں ہوا یا برا ہوتا ہے؟ why-me?۔ وجہ یہی ہے کہ ہم اس نظم کی پیچیدگیوں کو جان نہیں پاتے۔ سمجھنے کا نکتہ یہی ہے کہ یہ قدرتی حوادث اورگزرے ہوئے اور موجود انسانوں کے ہر اچھے اور برے اعمال کے ردّعمل اور اثرات بھی ہیں جو اپنی نوعیّت کے حساب سے کسی نہ کسی طرح اچھے یا برے حالات کی شکل میں ظاہر ہو رہے ہوتے ہیں۔ یہ رکاوٹیں، غیر متوقع بُرا اور کٹھن وقت بھی شاید ہم سے پہلے یا ساتھ موجود کسی نہ کسی انسان یا انسانوں کے گروہ کے عمل کے اثرات کا پرتو ہوتا ہے یا ہوسکتا ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ غالباً اسی کے بارے میں خالق کائنات نے فرمایا کہ :
(الشوریٰ:30): ’’اور تم کو جو کچھ مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمھارے ہی ہاتھوں کے کیے کاموں سے (پہنچتی ہے) اور بہت سارے (گناہوں) سے تو وہ (اللہ تعالیٰ) درگزر کر دیتا ہے‘‘۔،
مزید یہ بھی کہ
(الروم:36) "اور جب ان کے اپنے کرتوتوں سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یکایک مایوس ہونے لگتے ہیں۔"
(الروم:41) ''خشکی اور تری میں لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی (اعمال) کے سبب خرابی پھیل رہی ہے۔"
قرآن کے مذکورہ بالا فرمان لوح محفوظ کے پیرایوں کے بارے میں ہماری تشریح کو تقویت دیتے ہیں۔

یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ مقدّر کی اس پس پردہ تحریر کا انسان کے شعوری اعمال کے اچھے برے انجام پر براہ ِراست کوئی اثر نہیں، آپ چاہیں تو پانی پی لیں یا چاہیں تو پھینک دیں، چاہیں تو انتقام لیں یاچاہیں تو معاف کردیں، چاہیں تو بوئے ہوئے بیج کی دیکھ بھال کریں یا نہ کریں وغیرہ وغیرہ۔

یہ جملہ ہم اکثر سنتے ہیں کہ جو قسمت میں لکھا ہے وہ تو ہونا ہے۔ قسمت کے متعلّق دھندلے عقائد کی وجہ سے اکثر لوگ کوشش نہیں کرتے بلکہ سب قسمت پر چھوڑ دیتے ہیں کہ جو لکھا ہے وہ ہوجائے گا۔ اس سوچ نے نقصان پہنچا کر اکثر مسلمانوں کو بےعمل بنایا۔ ہمارا مشیّت یعنی اللہ کی مرضی کا تصور ابہام لیے ہوئے ہے۔ اللہ ہر وقت ہمارے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا بلکہ اپنی مشیّت کو ایک مربوط پروگرام کی شکل دیکر لوح میں محفوظ فرما دیا۔ اب سب کچھ انھی قوانین کے تحت ہی ہونا ہے بلکہ ہوتا ہے۔ جو کچھ ہو رہا ہے، بےشک اللہ کی مشیّت ہے لیکن اس مشیّت کا حصول ہمارے ارادے اور عمل سے منسلک ہے۔ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنے والوں کے لیے اس دنیا میں کچھ نہیں، خواہ وہ کتنا اچھا مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ اس دنیا کی تخلیق اور انسان کی نیابت کا منطقی مطلب حصول ِعلم اور عمل ہے۔

کسی فرد کے ساتھ ہونے والے غم و اندوہ اور ناگہانی حالات پر یہ کہا جانا کہ یہ قسمت میں لکھا تھا، یا یہی مشیّت الٰہی تھی، یا اس میں کوئی بہتری ہوگی، effective-theory کے بموجب ہی درست ہے کیونکہ ہمارا علم ان واقعات کی اصل وجہ جاننے سے قاصر ہوتا ہے۔ ہاں، مگر یہ ایک مؤثر نفسیاتی سیفٹی والو ضرور بنتا ہے، جو ایک انسان کے اندر کے جذباتی تلاطم، مایوسی اور بے چینی کے غبار کو خارج کر دیتا ہے۔ لیکن اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ ہم اللہ سے نیک گمان ہو جاتے ہیں اور اللہ اپنے فرمان کے بموجب حالات کو بدلنے کی طرف توجہ کرتا ہے۔ اس کا یہ فرمان یاد کریں جو کچھ ایسا ہے کہ: میرا سلوک بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق ہوتا ہے۔

جیسا کہ ہم نے جانا کہ ایک گیم پروگرامر جاری و ساری گیم میں نفوذ کر سکتا ہے اور پروگرام کے پیرائے بدل سکتا ہے، ویسا ہی کائنات کا خالق کرتا ہے کہ مرضی سے عنایت بھی کرتا ہے۔ اس نے کمال مہربانی سے اپنے بندوں کو برے اعمال کے نتائج و عواقب سے بچنے کے ٹول tool بھی دے دیے ہیں اور وہ ہیں توبہ، دعا، خیرات، استخارہ جوانسان کے اپنے اور گزر جانے والے انسانوں کے غلط اعمال کے تئیں ایک سسٹم کے تحت آنے والے انجانے حوادث کے آگے ڈھال بن جاتے ہیں۔ اسی لیے صدقے کو ڈھال ہی کہا گیا ہے۔

دنیا میں یہ بھی ہوتا ہے کہ مثبت اور منفی رجحان کے اولوالعزم لوگ ایسے نقش چھوڑ جاتے ہیں جو بہت دیر تک حالات اور دوسرے انسانوں کی زندگیوں پر اثر انداز رہتے ہیں، اور ان کی یاد دلاتے ہیں۔ مثلاً انسان کی فلاح اور بربادی کے کام جیسے غریبوں کے لیے ہسپتال کی تعمیر یا ایٹم بم گرانا۔ ایک غریب بچّے کو دلائی ہوئی اعلیٰ تعلیم یا کسی گھر کے کفالت کرنے والے کا قتل۔ کسی یتیم خانے یا پھر کسی شراب خانے کی تعمیر، کسی پریشان حال کی کایا پلٹ مؤثر مدد اور جیسے صدقات جاریہ اور گناہ ِجاریہ وغیرہ۔ یہ دور رس نتائج کے حامل ایسے اعمال ہیں جن کے مثبت و منفی اثرات کا شمار ہمارے پاس نہیں لیکن رب کے پاس ہے۔ عدم میں ہر انسان کے اعمال کا فرداً فرداً ریکارڈ روم ہے۔ موت کے ساتھ انسان اپنے اپنے اعمال کے حوالے سے بہت سے نامکمل نتائج لیکر یہاں سے رخصت ہوتے ہیں اس جگہ کے لیئے کہ جہاں ہمارے تمام اعمال کی منصفانہ جانچ ہوگی اور ادھورے حاصل کردہ نتائج کو اجر سے مکمّل کر دیا جائے گا کہ انصاف ہوجائے۔ یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ ایک بےسینگ کی بکری کو زندہ کر کے اسے سینگ عطا کیے جائیں گے کہ اپنا بدلہ لے لے، یہ ہے اس عالیشان انصاف کی ایک جھلک۔ یہاں پر مسلم اور غیر مسلم کی بحث میں نہ پڑا جائے کیونکہ سب مخلوق تو اُسی کی ہیں، اور اللہ کے انصاف کے پیرائے ہم سے مخفی ہیں۔ بس یہ سمجھ لیں کہ اللہ شاید منکر کی سزا کی ماہیت تبدیل کر دے گا کہ وہ مطمئن ہوجائیں گے یا جو اس کی مرضی۔

اب ایک دوسرے پہلو کو سمجھنا ہے کہ جب خالق جانتا ہے کہ ہم کیا اعمال کریں گے تو پھر جزا اور سزا کیسی؟
خالق کا علم برتر ہی نہیں لا محدود ہے، جس کے باوصف اسے قدرت حاصل ہے کہ اپنی تخلیق کے آئندہ کام کو جان سکے: اللہ نے اپنی قدرت بتا دی کہ وہ قلب میں ابھرنے والے وسوسوں کو بھی جانتا ہے، لیکن اس کا تعلّق عدم کے جدا اور مخفی ماحول سے ہے۔ مگر ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ تو اللہ کی مرضی ہے کہ وہ انسان کے فوری یا کسی بھی ردّعمل کو جاننا چاہتا ہے یا نہیں۔ ہمارا امتحان تو ہمارے شعور اور عمل کے حوالے سے ہے، خالق کے علم کے حوالے سے نہیں، جو ایسا علم ہے کہ مخلوق کے اختیارِ عمل پر کوئی قدغن نہیں لگاتا۔ لہٰذا یہ مسئلہ یا سوال بھی ہمارے لیے غیر متعلّق irrelevent ہوجاتا ہے کیونکہ اس کا تعلّق عدم کے ماحول سے ہے۔

جزا اور سزا کے حوالے سے اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ اللہ کی مرضی یا اس کا مربوط پروگرام یہی ہے کہ انسان کو عقل، آزاد ارادہ اور عمل کی قوّت دے کر آزمائے، پھر جزا اور سزا دے۔ یہ ہماری مجبوری ہے کہ ہم کو انسان پیدا کیا گیا، اس حد تک اسے فطرت کا ایک جبر ہی سمجھ لیں کہ ہم خواہ چاہیں یا نہ چاہیں، اس سسٹم کا حصّہ ہیں۔ اسے خالق کا ایک سنجیدہ کھیل سمجھیں یا کچھ اور، اب انسان کو ان قواعد کی پابندی کرنی ہی ہے جو پہلے ہی بتا دیے گئے ہیں۔ اہم تر نکتہ یہ ہے کہ اگر بے لباسی اور برہنگی خالق کو ناراض کرتی ہے اور لباس پہننا اس کی خوشی کی نوید ہے کہ جس کا ہمیں علم بھی ہے تو یہ تو ہمارے اختیار میں ہوا کہ اسے ناراض کریں یا خوش! یہی ہمارا امتحان ہے جس پر ہمارے دائمی مستقبل کا انحصار ہے۔

مختصراً اس جَبر و قَدر کے مسئلے میں مذہب ہی ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ پیش کرتا ہے۔ یہاں تک تو سائنس کی بات درست ہے کہ کائنات میں وقوع پذیر ہر عمل اور تبدیلی فطری یا طبعی قوانین کی پابند ہے۔ لیکن انسانی ارادے اور عمل کے تعلّق کے حوالے سے معلّق سائنسی مخمصہ مذہب یوں سلجھاتا ہے کہ: "انسان بہ حیثیت ایک روح، ایک ذہن یا ایک شخصیت کے، ان خواہشات میں سے، جو کہ اطراف کے ماحول کی اثرانگیزی سے ذہن میں خیالات کی شکل میں ابھرتی ہیں، جب کسی کو اختیار کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو پھر طبعی قوانین ان خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حرکت میں آتے ہیں۔ گویا ماحول یا دوسرے عوامل کے اثر سے صحیح یا غلط دونوں طرح کے خیالات کاظہور پذیر ہونا فطری قوانین کے تحت ہی ہوتا ہے، لیکن ان کی حیثیت محض سیّال اور غیر فعّال ہوتی ہے، جو انسانی ارادے کے زیرِنگیں ہوتے ہیں۔ پھر انسان اس میں سے کسی کو اپنی خواہش سے پسند کرتا ہے تو دماغ اور جسم کو اس کام کا حکم دیتا ہے، اور پھر وہ ارادہ ایک آزادانہ عمل کی شکل میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ "یہ تشریح نہایت عملی ہے، یہ حقیقی تنبیہ بھی ہے جو انسان کو مطّلع کرتی ہے کہ اس کے اعمال اس کے ارادے کے طابع ہیں اور ہر غلط عمل کا جوابدہ انسان ہے کیونکہ معاملات میں وہی فیصلہ کرنے والا ہے ۔ اس طرح یہ عقلی منطقی اور مبنی بر انصاف تشریح ہوئی۔

لوحِ محفوظ ایک پزل puzzle ہے جس میں انسان کے عمل کے حوالے سے خالی جگہیں ہیں، جن کو انسان اپنی مرضی سے پُر کرتا ہے۔ لیکن عمل کے انجان راستوں کا پرُ خطر سفر عافیت والا ہوسکتا ہے کہ جب انسان اللہ سے تعلّق کو عبادت سے مضبوط کرے اور ناگہانی سے بچنے کے لیے سب سے بڑھ کر قرآن و اسوہ ٔرسول اکرم ﷺ سے مدد لے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں؟ مزید مدد لے دعا، استغفار،استخارہ ، صدقات و خیرات سے، اور نیک گمان بن کر۔

ان گزارشات سے یہ ظاہر ہوا کہ ہم اپنے عمل کے اختیار کے حوالے سے بجا طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اپنے ارادے اور عمل میں آزاد ہیں اور ایسے اعمال جو کُلّی طور پر ہم پر منحصر ہوتے ہیں، ان کے تئیں اپنی قسمت کے پیرائے خود متعیّن کرتے ہیں۔ مگر یہ بھی واضح رہے کہ مشیّت ِالٰہی بھی ایک اہم عنصر ہے، کیونکہ خالق فعّال ہے۔ اور وہ تقدیر کے بہت سے رخ خود بھی مقرّر کرتا ہے مثلاً پیدائش، عمر اور موت کے پیرائے وغیرہ۔
(واللہ اعلم)

(خدائی سرگوشیاں اور جدید نظریاتی اشکال سے ایک باب)

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں