ابراہیم ؑ کی چڑیا - افشاں نوید

بات تو بڑی ہے۔ بات تو سوچے جانے کی ہے۔ آگ تو تب بھی دہکائی گئی تھی اور اب بھی دہک رہی ہے۔ فتنے تو جب بھی تھے اور فتنے اب بھی ہیں۔ حق تب بھی تنہا تھا، حق اب بھی تنہا ہے۔ تب کے نمرود نے اس حق کا گلا گھونٹنے کے لیے الائو روشن کیا کہ اس وقت ٹیکنالوجی بس یہیں تک محدود تھی۔ یہی طریق کار مناسب ترین تھا۔ آج اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑ کر پھر مسلمانوں کے لیے اسی طرح زمین تنگ کی جا رہی ہے۔ تب بھی اس نمرودی تماشے کو دیکھنے اور واہ واہ کرنے کے لیے پورا شہر جمع تھا، آج بھی مسلمانوں کے خلاف دشمن کا اتحاد نیٹو فورسز کی شکل میں ہے۔

وہ سب کچھ مشیت ایزدی اور حکم خداوندی کے تحت تھا ورنہ ایک نوجوان لڑکا کیسے سماج سے ٹکر لے سکتا ہے۔ بت تراش باپ کی گود میں پرورش پانے والا ایک بچہ کیسے بتوں سے نفرت کا اظہار کرسکتا ہے اور اس نفرت کو اس نے دل میں چھپا کر نہیں رکھا بلکہ ببانگ دہل معاشرے کو للکارا کہ چھوڑ دو ان جھوٹے خداؤں کی پرستش۔ اور ان کے معبودوں کی خبر لے کر، انھیں تہس نہس کر کے کہیں غار میں چھپ نہیں گیا، شہر سے فرار نہیں ہوگیا بلکہ دلیل پیش کی کہ اگر یہ معبود ہیں، اس قدر اختیارات رکھتے ہیں کہ تم ان کے آگے جھکتے ہو، منتیں مانتے ہو، چڑھاوے چڑھاتے ہو تو تمھارے یہ خدا تمھیں بتادیں گے کس نے ان کو نقصان پہنچایا ہے اور اگر یہ منہ کے بل پڑے خدا کچھ نہ بول سکیں تو افسوس ہے تم پر کہ کیسے کمزور خدا تم نے تراش رکھے ہیں۔

سارے سماج کے پاس کوئی بھی دلیل نہ تھی ابراہیم ؑ کی دلیل کے جواب میں۔ بھلا مشرکین حق کیسے سورج کو مغرب سے نکال سکتے تھے۔ وہ کیسے کسی کو مارنے اور جلانے پر قادر ہوسکتے تھے؟ بس ہر دلیل کا جواب ایک ہی تھا کہ دہکاؤ الاؤ اور ابراہیم ؑ کو اس میں پھینک دو، پھر دیکھتے ہیں کہ جس اَن دیکھے رب کی خاطر اس نے سارے سماج کو للکارا ہے، وہ رب کیسے بچانے آتا ہے اس کو۔

یہ بھی پڑھیں:   محبت کی تاریخ - صائمہ راحت

بات اہم تھی، تماشہ لگ گیا حضرت ابراہیم ؑ کو الاؤ میں پھینکے جانے کا منظر دیکھنے کے لیے۔ ایک بڑا الاؤ تیار کیا گیا تھا، بہت اہتمام سے۔ سرخ لپکتے ہوئے شعلے گویا آسمان کو مخاطب کر رہے تھے۔ سارا زمانہ خوش تھا کہ آج ہمارے معبودوں کو للکارنے والا جل کر خاک ہوجائے گا۔ (معاذ اللہ)

کیا تھا اگر الاؤ کی دہشت سے ابراہیم ؑ انکار کر دیتے کہ منکر تو سارا سماج ہی تھا حق کا اور سیلاب کے رخ پر بہنے کے لیے کب حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ جن پتوں کو ہوائیں اڑائے پھرتی ہیں، وہ کب قوت مزاحمت کا اظہار کرتے ہیں۔ دریا کا رخ بدلنے کے لیے حوصلہ درکار ہوتا ہے اور کیس تھا وہ حوصلہ کہ تن تنہا پورے معاشرے کو للکار دیا کہ جھوٹے ہیں تمھارے یہ معبود۔ ممکن ہے تماش بینوں میں سے کچھ کو ابراہیم ؑ کے ساتھ ہمدردی بھی ہو کہ آگ میں پھینکنا کہاں کا انصاف ہے؟ بات کرلی جاتی، بات سن لی جاتی، کوئی اور سزا تجویز کر دی جاتی، ممکن ہے کس سخت سزا کے بعد ابراہیم ؑ پلٹ جاتے ان تراشے ہوئے پتھر کے خداؤں کی جانب۔ اپنے باپ کا ہاتھ بٹا کر وہ بھی سنگ تراشی میں نام پیدا کر لیتے اور معاشرے میں اکرام پاتے۔ مگر نمرود نے اتنی سخت سزا کا اہتمام بہت سوچ سمجھ کر کیا تھا کہ آئندہ کوئی ایسی جرأت نہ کر سکے۔

یہ الاؤ ابراہیم ؑ کی آتشِ عشق کو ٹھنڈا نہ کرسکا، وہ آگ میں کودنے کو تیار تھے کہ آسمان نے ایک منظر دیکھا۔ ایک گرگٹ آگ کے قریب آیا اور اپنی پھونکوں سے ان شعلوں کو بجھانے کی کوشش کرنے لگا۔

اسی وقت ایک ننھی چڑیا چونج میں پانی کا ایک قطرہ سنبھالے چلی آتی ہے اور بڑے اہتمام اور ایقان کے ساتھ شعلوں پر گرادیتی ہے کہ اس کے قطرے سے آگ ٹھنڈی ہوجائے گی۔ کوئی ہنس پڑتا ہے کہ نادان دہکتا ہوا الاؤ آسمان سے باتیں کرتے شعلے اور تیرا ایک قطرہ۔ کہتی ہے روزِ قیامت میرا شمار آگ بجھانے کی کوشش کرنے والوں میں تو ہوجائے گا۔
اس ننھی چڑیا کے فہم کو اگر ساری انسانیت پر بانٹ دیا جائے تو سب فتنے ہی ختم ہو جائیں۔ معاشرے میں اعلیٰ اقدار کی پامالی دیکھ کر ہم سب کے دل دکھتے ہیں۔ ٹی وی اسکرین ہے تو معاشرتی اقدار کا نوحہ اخباروں کے کالم بھرے پڑے ہیں، اس دکھ سے ہم کہاں کھڑے ہیں اور کہاں ہونا چاہیے تھا؟ سب ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ ہر ایک اپنے پاکی داماں کی حکایت بیان کرنے میں لگا ہوا ہے، اور جب سے عشرۂ ذی الحج شروع ہوا ہے، روز سویرے چڑیوں کی چہچہاہٹ مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ لگتا ہے سب چڑیاں ایک ہی بات دہرا رہی ہیں کہ گائے اور بکرے خریدنے والو! ایک چڑیا کا حوصلہ تو پیدا کرو۔ تم سب کے پاس قطرہ ہے اور تم پھر بھی تماش بینوں میں شامل ہو۔ ضرورت ہے پیش قدمی کی، اپنا قطرہ لے کر آگے بڑھنے کی۔

یہ بھی پڑھیں:   محبت کی تاریخ - صائمہ راحت

حالیہ مردم شماری کے مطابق یہ بیس کروڑ سے زائد لوگوں کا وطن ہے۔ اگر دس فیصد لوگ بھی اپنی ذمہ داری ادا کریں، مثلا دو کروڑ لوگ بھی کوئی ایک خیر کا پیغام اپنی زبان، قلم یا سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائیں تو فضا کتنی پاکیزہ ہوجائے۔ اتنے ہی لوگ اس بات کے پابند ہوجائیں کہ شر کو شر کہیں گے اور اس کا تدارک کریں گے تو معاشرے میں شر پنپنے نہ پائے۔

اپنی زبان سے کسی کو دکھ نہ پہنچائیں گے، روز خیر کا کوئی ایک چھوٹا سا سہی کا ضرور کریں گے، کم از کم اپنی ذات اور زبان سے کسی کو دکھ نہ پہنچائیں گے۔ کسی برائی کو دیکھ کر، فتنہ یا فساد کو دیکھ کر ریت میں سر نہیں چھپائیں گے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں۔ خرابی اتنی بڑی ہے تنہا میری کوششوں سے کیا بدل سکتا ہے؟ یہ تکبیر اور تلبیہ کا عشرہ ہے، رب کی بڑائی بیان کرتے ہوئے، جانوروں کے گلے پر چھری پھیرتے ہوئے چڑیا کی فریاد پر بھی غور کیجیے گا کہ
آتشِ نمرود تو اب بھی دہک رہی ہے، ایمان کا دعویٰ کرنے والوں پر پانی کا کوئی قطرہ ہے تمہارے پاس…!