دوسرا نمبر - حنا نرجس

سر سیف اللہ اور سر خرم نواں پیریڈ لے کر اکٹھے ہی نیچے آئے تھے. سر سیف تو اپنی صحن میں پڑی کرسی کی جانب بڑھ گئے مگر سر خرم یہ کہتے ہوئے سٹاف روم میں داخل ہو گئے، "ایک منٹ یار، میں ابھی آیا."

غالباً انہیں کچھ یاد آ گیا تھا. سر سیف دوسرے اساتذہ کے ساتھ باتوں میں مصروف ہو چکے تھے جب انہوں نے سر خرم کو پریشان زرد پڑتے چہرے کے ساتھ سٹاف روم سے نکل کر آفس کی طرف جاتے دیکھا. حتی کہ ان کی پیشانی بھی نم آلود محسوس ہو رہی تھی. سر سیف بھی قدرے فکر مند ان کے پیچھے جانے کے لیے اٹھے مگر جب تک وہ آفس کے دروازے پر پہنچے، دروازہ اندر سے مقفل ہو چکا تھا. سو وہ خاموشی سے واپس آ گئے. چھٹی کا وقت ہونے میں تقریباً بیس منٹ باقی تھے.
بمشکل دس منٹ گزرے ہوں گے جب آفس بوائے ارحم دفتری احکامات والا مخصوص رجسٹر اٹھائے فرداً فرداً تمام اساتذہ کے دستخط لینے لگا. رجسٹر پر تحریر تھا،
"سر خرم کی دراز سے تفریح کے وقفے میں یا اس کے بعد پچاس ہزار کی رقم چوری ہوگئی ہے. تمام اساتذہ سے درخواست ہے کہ چھٹی کے بعد سٹاف روم میں اکٹھے ہو جائیں. پرنسپل صاحب آپ سے بات کریں گے."
یہ تحریر پڑھ کر سب حیران رہ گئے، پھر سبھی آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے، اور دبی دبی زبان میں جتنے منہ اتنی باتیں ہونے لگیں. چھٹی ہوئی تو سکول طلبہ سے خالی ہو گیا اور تمام اساتذہ سٹاف روم میں جمع ہو گئے. غیر تدریسی عملے کو بھی وہیں بلا لیا گیا تھا. اب پرنسپل صاحب سب سے مخاطب تھے.

"سر، یہ آخری سوچ ہو سکتی ہے کہ رشید علی بھی چور ہو سکتا ہے. توبہ توبہ کیا زمانہ آ گیا ہے. قیامت اب زیادہ دور نہیں. دس سال کا ساتھ ہے میرا اور رشید علی کا. اس کے نماز روزے، پرہیز گاری، رزقِ حلال، خود داری اور شرافت کی تو ہم مثالیں دیا کرتے ہیں

"جیسا کہ آپ کے علم میں آ چکا ہے، سکول میں چوری کا انتہائی قابل مذمت واقعہ ہوا ہے. آپ سب میرے لیے قابلِ احترام ہیں مگر مجرم بھی یقیناً ہم میں سے ہی کوئی ایک ہے. آفس کے برابر والے کمرہ جماعت ایک مقفل منی باکس رکھا گیا ہے اور طے یہ ہوا ہے کہ باری باری تمام اساتذہ اور پھر غیر تدریسی عملہ کمرے میں جائے گا اور اس طرح مجرم کو ایک موقع دیا جائے گا کہ وہ رقم اس باکس میں ڈال دے. اس کام کا آغاز ٹھیک دس منٹ بعد کر دیا جائے گا. آپ ذہناً تیار رہیں. اگر اس باعزت طریقے سے بھی رقم بازیاب نہ ہوئی تو پھر فرداً فرداً سب لوگوں کی تلاشی لی جائے گی. تمام درازوں، سامان بلکہ پوری عمارت کی تلاشی لی جائے گی."
پرنسپل صاحب یہاں تک کہہ کر خاموش ہو گئے. انہوں نے میز پر موجود پانی کا گلاس اٹھایا اور منہ سے لگا لیا. پانی پینے کے دوران وہ سب کا جائزہ لے رہے تھے. پانی پی کر دوبارہ گویا ہوئے:
"یہ دس منٹ کا وقفہ بھی ڈپٹی ہیڈ سر آفاق کی تجویز پر دیا گیا ہے. میٹنگ میں ان کا مؤقف تھا کہ مجرم رقم اپنے ساتھ لے کر تو نہیں پھر رہا. یقیناً وہ اسے کسی عارضی محفوظ مقام پر رکھ چکا ہے. لہذا اب اگر پکڑے جانے کے خوف سے وہ رقم باکس میں ڈالنا چاہتا ہے تو اسے یہ رقم وہاں سے اٹھانے کے لیے کچھ مہلت درکار ہوگی."

دس منٹ بعد طے شدہ کارروائی شروع ہوئی. ایک ایک کر کے تمام اساتذہ سٹاف روم میں واپس آ گئے. اب غیر تدریسی عملے کی باری تھی. سر سیف کچھ یاد آنے پر اچانک اٹھے اور پرنسپل آفس میں پہنچ گئے مگر پرنسپل صاحب یہ معاملہ ڈپٹی ہیڈ سر آفاق کو سونپ کر کسی ضروری کام کی وجہ سے تشریف لے جا چکے تھے. انہوں نے اپنے ذہن کی سکرین پر نمودار ہونے والے کچھ دیر پہلے کے منظر کو مِن و عَن سر آفاق کے گوش گزار کر دیا. یہ سب بتاتے ہوئے سر سیف جتنی ہچکچاہٹ کا شکار تھے، سر آفاق اتنے ہی بےیقین نظر آتے تھے. ایک خیال کے تحت انہوں نے آفس سے کچن کی اضافی چابی اٹھائی اور سر سیف کو ساتھ لیے دبے پاؤں کچن کا رخ کیا. جلد ہی انہیں وہ مخصوص تھیلا نظر آ گیا جس کی انہیں تلاش تھی. اکثر ملازمین گھر سے اپنے گھریلو لباس میں ہی آتے اور صفائی ستھرائی کرنے کے بعد سکول ٹائم سے پہلے یونیفارم پہن لیتے. سٹاف روم کی صفائی اور کچن میں چائے وغیرہ بنانے پر مامور رشید علی کا بھی یہی معمول تھا.

اس کے تھیلے کی تلاشی کے دوران اس کے اتارے ہوئے پرانے لباس میں لفافے میں لپٹے ہوئے نوٹ ملے، جو پورے پچاس ہزار تھے. سر سیف نے بے ساختہ لا حول ولا قوۃ پڑھا.

"سر، یہ آخری سوچ ہو سکتی ہے کہ رشید علی بھی چور ہو سکتا ہے. توبہ توبہ کیا زمانہ آ گیا ہے. قیامت اب زیادہ دور نہیں. دس سال کا ساتھ ہے میرا اور رشید علی کا. اس کے نماز روزے، پرہیز گاری، رزقِ حلال، خود داری اور شرافت کی تو ہم مثالیں دیا کرتے ہیں، میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ..." وہ کہتے چلے جا رہے تھے مگر سر آفاق کسی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے. انھیں اس ادارے میں آئے صرف پانچ ماہ ہوئے تھے اور جتنا وہ رشید علی کو جانتے تھے، انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا. بالکل ویسے ہی جیسے انہوں نے کچھ دیر پہلے آفس میں سر سیف کی بات سنتے ہی یکدم نفی کر دی تھی، جب انہوں نے بتایا کہ،
"میں آٹھویں پیریڈ میں باقی اساتذہ کے ساتھ، جن کا پیریڈ فری تھا، باہر دھوپ میں بیٹھا تھا. میں اپنی عینک سٹاف روم میں ہی بھول آیا تھا. عینک اٹھانے جب میں سٹاف روم میں واپس گیا تو رشید صفائی اور جھاڑ پونچھ میں مصروف تھا. مجھے یوں لگا جیسے اس نے ابھی ابھی سر خرم کی میز کی دراز بند کی ہو اور اب وہ جھک کر میز کے نیچے سے ڈسٹ بن نکال رہا تھا. اس وقت تو میں نے اسے اپنا وہم جانا اور عینک اٹھا کر باہر آ گیا. مگر اب میں سوچ رہا ہوں کہ وہ وہم نہیں تھا. ضرور رشید علی نے سر خرم کو صبح سر الیاس سے کمیٹی کی رقم وصول کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا. مجھے اس سے ایسی گری ہوئی حرکت کی ہرگز توقع نہیں تھی. آپ مناسب سمجھیں تو اس کے سامان کی تلاشی لے لیں."

مگر اب سر آفاق کے لیے آنکھوں دیکھی چیز کو جھٹلانا بھی ممکن نہ تھا. چند لمحوں کے وقفے کے بعد وہ رندھے ہوئے گلے سے سر سیف سے مخاطب تھے،
"سیف اللہ! آپ مجھ سے وعدہ کریں کہ جتنا معاملہ بھی اب تک آپ کے علم میں آ چکا ہے، آپ اسے یوں بھول جائیں گے جیسے کچھ جانتے ہی نہیں. اس رقم کو اسی تھیلے میں رہنا ہے. ابھی کچھ دیر تک میں اعلان کر دوں گا کہ رقم باکس میں آ چکی ہے اور کل پرنسپل صاحب کی موجودگی میں خرم صاحب کو ادا کر دی جائے گی. میرا دل اس وقت بے پناہ دکھ کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبا ہے. پتہ نہیں رشید علی کی مجبوری کتنی شدید ہوگی کہ اس نے رقم کی باعزت واپسی والا آپشن بھی اختیار نہیں کیا اور اپنی سالہا سال کی نیک نامی کو داؤ پر لگا دیا. اس کا ایسا کرنا "چور" کے ناتجربہ کار ہونے کا ثبوت بھی ہے." سر آفاق بے حد دکھی ہو رہے تھے.

"رقم باکس میں واپس آ چکی ہے." سر آفاق کے اس اعلان پر سب کے تنے ہوئے اعصاب سکون کی حالت میں آ گئے اور وہ اپنے اپنے گھروں کو چل دیے.

ہم جو بھاری بینک بیلنس کے مالک ہیں.. اور ملازمت محض مصروفیت کا بہانہ... کیوں بے خبر رہتے ہیں... اپنے ارد گرد کے ان ضرورت مندوں کو ان کی پیشانیوں سے کیوں نہیں پہچان لیتے

دن ڈھلے اپنے معمول کے حلیے سے یکسر مختلف حلیے میں منہ پر مفلر لپیٹے، بیٹے کی موٹر سائیکل پر سوار سر آفاق رفیق آباد کے لیے روانہ ہوئے اور مطلوبہ گھر سے کچھ پہلے ایک گلی کے کونے پر بنے کریانہ سٹور کے مالک سے رشید علی کے گھر کے متعلق پوچھنے لگے، حالانکہ وہ مکمل پتہ سکول کے ریکارڈ سے لے چکے تھے. اب ان کا مقصد کچھ معلومات لینا تھا. دکاندار باتونی دکھتا تھا.
"جی صاحب یہ گلی جہاں ختم ہوتی ہے، وہاں سے بائیں طرف مڑ جائیں. سیدھے ہاتھ پر چوتھا گھر اس کا ہے. نیک بندوں پر آزمائشیں بھی زیادہ آتی ہیں، صاحب. آجکل ڈاکٹروں نے پھر اس کے بیٹے کے آپریشن کا کہہ رکھا ہے. یہ تیسری بار ہے جی. اب اگر وقت پر آپریشن نہ ہوا تو اس کی جان بھی جا سکتی ہے. بہت پریشان ہے بیچارا. چھ مہینے پہلے جب اس نے دوسرے آپریشن کے لیے سکول سے بھاری قرضہ لیا، تب سے دکان سے سارا سودا ادھار ہی جاتا ہے. ہم خود غریب ہیں، اتنا ہی کر سکتے ہیں. بس اللہ بچائے جی. وہ بیچارا بھی کیا کرے. آدھی تنخواہ تو قرض اتارنے میں کٹ جاتی ہے. بس جی اللہ بیماری و محتاجی سے بچائے سب کو. ہم بھی بچوں والے ہیں.."
سر آفاق کی ہمت جواب دے گئی. گہرے صدمے میں مبتلا وہ دکاندار سے اجازت لیتے ہوئے رشید علی کے گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے مین روڈ پر آ چکے تھے. ان کی موٹر سائیکل کا رخ جیسے خود بخود اللہ کے گھر کی جانب ہو گیا تھا.

نمازی نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد سے جا چکے تھے. مگر دو ہاتھ ابھی تک اللہ کے حضور اٹھے تھے. آنسو وقفے وقفے سے ہتھیلیوں کو بھگو رہے تھے.
"میرے مالک! معاف کر دے... گناہ اس سے نہیں ہوا.. مجھ سے ہوا ہے... ہم سے ہوا ہے... کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا، قریب ہے کہ فقر انسان کو کفر تک لے جائے... اور تُو نے مال و اولاد کو آزمائش قرار دیا ہے... پتہ نہیں باپ کا کلیجہ بیٹے کی تکلیف پر کتنا پھٹتا ہوگا کہ وہ اس کمزور لمحے کی زد میں آ گیا... ہم جو بھاری بینک بیلنس کے مالک ہیں.. اور ملازمت محض مصروفیت کا بہانہ... کیوں بے خبر رہتے ہیں... اپنے ارد گرد کے ان ضرورت مندوں کو ان کی پیشانیوں سے کیوں نہیں پہچان لیتے... شاید ایمان کی کمزوری کی بنا پر ہم بصیرت سے ہی بے بہرہ ہیں... معاف کر دے مولا... میں اب نہ صرف خود آگاہ رہنے کی کوشش کروں گا بلکہ اپنے آسودہ حال ساتھیوں کو بھی توجہ دلاؤں گا... مالک رشید علی کے بیٹے کو صحت و عافیت اور ایمان والی طویل عمر سے نواز دے..."

اگلی نماز کے لیے نمازی جمع ہو رہے تھے جب وہ چونکے. رب سے راز و نیاز میں کافی وقت گزر چکا تھا. نماز کی ادائیگی کے بعد اے ٹی ایم مشین سے رقم اور فوٹو کاپی و پرنٹنگ شاپ سے ایک پرنٹ نکلوا کر ایک بار پھر وہ منہ لپیٹے اسی راستے پر چل دیے. دروازہ کھٹکھٹایا. کھولنے والا رشید علی ہی تھا.

"جی یہ لیجیے." آواز بدل کر کہا گیا.
اس سے پہلے کہ وہ کوئی سوال کرتا، آنے والا لمبے لمبے ڈگ بھرتا گلی کی تاریکی کا حصہ بن چکا تھا. لفافے میں پچاس ہزار کی رقم اور ایک ٹائپ شدہ رقعہ موجود تھا.

"رشید علی، ہم سب کو معاف کر دینا. کل خرم صاحب کو پچاس ہزار روپے ادا کر دیے جائیں گے. آپ کوئی مجرمانہ احساس دل میں لائے بغیر اُس رقم کو استعمال کر لو اور جس بات کا اللہ نے پردہ رکھا ہے اس سے کبھی پردہ نہ اٹھانا. یہ مزید پچاس ہزار روپے ہیں. اللہ تمھارے بیٹے کو صحت و زندگی سے نوازے. اس کی ادویات کے لیے ماہانہ رقم تمہارے گھر پہنچ جایا کرے گی. پھر بھی اگر کوئی ایمرجنسی ہو تو نیچے درج نمبر پر رابطہ کرنا."
فقط ایک مخلص

نیچے سر آفاق کا دوسرا نمبر درج تھا جو آفس ریکارڈ میں نہیں تھا.
رشید علی حیرت بھری نظروں سے اس دوسرے نمبر کو دیکھ رہا تھا!

Comments

حنا نرجس

حنا نرجس

اللّٰہ رب العزت سے شدید محبت کرتی ہیں. ہر ایک کے ساتھ مخلص ہیں. مسلسل پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے پر یقین رکھتی ہیں. سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، طب اور گھر داری میں دلچسپی ہے. ذہین اور با حیا لوگوں سے بہت جلد متاثر ہوتی ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.