شب برات کا پٹاخہ نہیں، خلیل اللہ کی سنت ہے - یوسف ابوالخیر

آج کل تیس لاکھ کے جانور کی قربانی کی بحث زوروں پر ہے۔ یوں تو پہلے یہ صرف لبرل دوستوں کا مشغلہ رہا ہے لیکن چونکہ بات کسی نہ کسی اینگل سے مذہب کے خلاف جاتی نظر آتی ہے تو ایسی پوسٹس پر خلاف معمول اچھی دکانداری ہو جاتی ہے اور رونق میلہ لگا رہتا ہے، تو مذہب بیزار لوگوں کے ساتھ ساتھ اب دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والے احباب بھی اس رو میں بہنے لگے ہیں۔

اس ضمن میں چند گزارشات پیش خدمت ہیں۔
پہلے تو یہ بتائیں کہ آپ نے جو تیس لاکھ کے جانور کی گردان لگا رکھی ہے، آیا آپ نے خود کبھی اپنی آنکھوں سے تیس لاکھ کا زندہ بیل ٹی وی سے باہر دیکھا بھی ہے؟

دوسرا آپ کی باتوں سے تو یوں لگ رہا ہے کہ جیسے ہر گلی محلے میں، ہر دوسرے تیسرے گھر کے باہر ایک تیس لاکھ کا جانور بندھا کھڑا ہے۔ اگر ہم صرف شہر کراچی کی بات بھی کر لیں تو یہاں ماشاء اللہ ارب پتی لوگوں کی قابل ذکر تعداد رہتی ہے، آپ نے کس کس علاقے میں کتنے گھروں کے باہر تیس لاکھ یا اس کے قریب قیمتوں کا جانور بندھے دیکھا ہے؟

تیسرا اگر کوئی اللہ کا بندہ اپنی جائز اور حلال آمدن سے تیس لاکھ کے جانور کی قربانی کر بھی رہا ہے تو آپ کو کیسے پتہ کہ اس نے اپنی آمدنی سے انفاق فی سبیل اللہ کی مد میں جو کروڑ روپے نکالے تھے، اس میں سے تیس لاکھ کے جانور کی قربانی کے علاوہ 70 لاکھ روپے سے مستحقین کی مدد کی ہے، کسی غریب کی بیٹی کی شادی کروائی ہے، کسی کا علاج کروایا ہے، کسی کو کاروبار کے لیے قرض حسنہ دیا ہے، کسی کے تعلیم کی فیس ادا کی ہے، کسی کی ضمانت ادا کر کے رہائی دلوائی ہے اور اسی طرح کی بےشمار نیکیاں کی ہیں۔ تیس لاکھ کا جانور تو چلیں آپ کی شکاری نگاہوں میں آگیا، باقی کے 70 لاکھ کی نیکیوں کی کیا وہ رسیدیں لا کر جمع کرائے آپ کے پاس۔ یا آپ کی طرح نیکیاں کر کے فیس بک پر ڈالتا پھرے؟

چوتھا اگر کسی صاحب خیر نے اپنی استطاعت کے مطابق تیس لاکھ کا بیل کاٹا اور اس میں سے تھوڑا سا گوشت گھر رکھ کے باقی گوشت تقسیم کروا دیا تو یہ کار ثواب ہے کہ موجبِ عذاب؟

پانچواں آپ کو لگتا ہے کہ جس کی حیثیت تیس لاکھ کا جانور کاٹنے کی ہے، وہ سال بھر بکرے کا گوشت چھوڑ کے بڑا گوشت، وہ بھی فریش نہیں، فریج میں اسٹور کیا ہوا، یعنی باسی گوشت کھاتا رہتا ہوگا؟ (جس سے اکثر پیسے والے لوگ پرہیز کرتے ہیں۔)

آپ کے طنز و تنقید اور طعنوں سے تو یوں لگ رہا ہے جیسے یہ دینی لوگوں کا عمومی رویہ اور شیوہ ہے کہ وہ محض نمود و نمائش کے لیے مہنگا جانور کاٹتے ہیں، جبکہ دیگر نیکیوں سے راہ فرار اختیار کرتے ہیں، حالانکہ یہ بات آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کوئی دینی نظریاتی فرد جو قربانی جیسے عظیم عمل اور جذبے کی روح سے واقف ہوگا، وہ ایسا کر ہی نہیں سکتا۔ ایسی بےوقوفی یا تو کوئی نو دولتیا کرتا ہوا دکھائی دے گا یا وہ جو ریاکاری کے مرض میں مبتلا ہوگا۔ ان چند فیصد نادانوں کا دوش آپ سارے صاحبانِ خیر پر ڈال کر کس کی خدمت کر رہے ہیں؟ آپ یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ ہمارے مخیر حضرات اپنی حلال آمدن سے وہ وہ کارِ خیر تک انجام دیتے ہیں جو سرکار تک نہیں کر پاتی۔ شمالی علاقہ جات کا زلزلہ ہو یا سندھ و پنجاب میں سیلاب و طوفان، کیا آپ عینی شاہد نہیں ہیں کہ کس طرح لوگوں نے اپنے مصیبت زدہ بھاَئیوں بہنوں کے لیے دیدہ و دل فرشِ راہ کیے؟ کس طرح بہن بیٹیوں نے اپنے کانوں سے بالیاں اور ہاتھوں سے کڑے اور دیگر مہنگے زیورات بخوشی عطیات جمع کرنے والوں کی جھولیوں میں ڈال دیے؟

کچھ خدا کا خوف کریں۔ محض چند نو دولتیوں کے نوٹنکیوں کا بوجھ سارے مخیر حضرات پر ڈالنا عقل مندی ہے نہ دین کی خدمت۔ ذرا دماغ کو ہاتھ لگائیے، عقل کو آواز دیجیے اور ہوش کے ناخن لیجیے حضور۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی یہ مہم کل قیامت میں ان سوالوں کی صورت میں آپ کے پیروں کی بیڑی بن جائے جس سے چھٹکارا آپ کے لیے مشکل ہو رہا ہو۔ کیونکہ یہ جو قربانی کا فریضہ ہے نا، یہ شب برات کے پٹاخوں کی طرح کا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ یہ خالقِ کائنات کے دوست ابراہیم خلیل اللہ اور ان کے فرزندِ عظیم اسماعیل ذبیح اللہ کی سنت ہے۔ جانے انجانے کہیں آپ کی مہم اس سنت کو نقصان تو نہیں پہنچا رہے؟ فیس بک لاگ آؤٹ کر کے تنہائی میں ذرا سنجیدگی سے سوچیے گا۔

Comments

یوسف ابوالخیر

یوسف ابوالخیر

یوسف ابوالخیر فیڈرل اردو یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کے طالب علم ہیں۔ اخبارات اور چینلز کے ساتھ کام کا تجربہ ہے۔ حالات حاضرہ پر نظر رکھتے ہیں اور گاہے لب کشائی کرتے رہتے ہیں۔ روایتی اور مروجہ انداز و اصالیب سے ہٹ کر کچھ منفرد لکھنے کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.