عید قربان پر ایک لایعنی اعتراض - محمد زاہد صدیق مغل

''ہر سال لاکھوں بےزبان جانوروں کی گردنوں پر مذہب کے نام کی چھریاں چلا کر عقائد کے فریضے ادا کرنے سے تو کہیں بہتر اس رقم سے فاقوں سے مرتی لب دم انسانیت کا پیٹ بھرنا ہے''۔

درج بالا جملہ جدیدیت زدہ مذہب دشمن ذہنیت کی عکاسی ہے، جسے مذہب کا اظہار کرنے والی ہر رسم سے چڑ ہے۔ مگر درج بالا قسم کی باتیں اس جدید ذہنیت کی علمیت نہیں بلکہ عقلی افلاس کا شاخسانہ ہیں۔ گو کہ ہم مسلمان عبادات کے معاشی فوائد دیکھنے کے قائل نہیں کہ یہ ذہنیت عبادت کی روح ہی مجروح کردیتی ہے مگر مخالف ذہنیت کی تسلی کے لیے چند گذارشات پیش خدمت ہیں۔

اگر قربانی کی رسم کو خالصتا معاشی نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو اس پر اعتراض صرف وہی شخص کرسکتا ہے جس نے علم معاشیات کبھی نہ پڑھی ہو۔ مثلا
(1) اس کے نتیجے میں آپ کے ملک میں فارمنگ اور کیٹل انڈسٹری نمو حاصل کرتی ہے جس سے بالعموم چھوٹا کسان، قصائی یا غریب طبقہ ہی منسلک ہوتا ہے اور عید قربان پر اسے اپنی محنت کا اچھا مول مل جاتا ہے جو عام مارکیٹ میں نہیں مل پاتا. یوں یہ رسم تقسیم دولت پر مثبت اثرات ڈالتی ہے.
(2) جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ تمام رقم ویسے ہی غریبوں کو دے دی جائے، وہ یہ جانتے ہی نہیں کہ غربت کا علاج پیسے بانٹنا نہیں بلکہ غریب طبقے کے لیے معاشی عمل کا پہیہ چلانا ہوتا ہے اور قربانی کا عمل اس کا بہترین ذریعہ ہے.
(3) پھر ان جانوروں کا گوشت دنیا بھر کے غریبوں میں بانٹا جاتا ہے اور معاشرے کا وہ طبقہ بھی گوشت کھاتا ہے جو پورا سال صرف اس کا خواب ہی دیکھتا ہے.
(4) پھر ان جانوروں سے جو کھال حاصل ہوتی ہے، اس سے لیدر پراڈکٹس بنتی ہیں، جس سے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہوتا ہے.
(5) پھر ذرائع نقل و حمل سے منسلک لوگ بھی ان دنوں کے دوران جانوروں کی ترسیل کے کاروبار کے ذریعے آمدن حاصل کرتے ہیں۔
الغرض عید قربان چند دنوں کے دوران اربوں روپے کی خطیر مگر بےکار بچتوں کو سیال مادے میں تبدیل کر کے معاشی پہیہ تیز کرنے کا باعث بنتی ہے۔ جو لوگ علم معاشیات میں کینز (Keynes) کے "اصول ضارب" (multiplier) سے واقف ہیں، کم از کم وہ تو عید قربان پر معاشی نقطہ نگاہ سے لب کشائی کی جرات نہیں کرسکتے۔

یہ بھی پڑھیں:   تعلیمی اداروں میں حجاب پر سیکولر طبقے کی چیخ و پکار - محمد عاصم حفیظ

پھر اس جدید ذہن کی حالت یہ ہے کہ اسے غریبوں کا خیال صرف عید قربان پر خرچ ہونے والی رقم کے وقت ہی آتا ہے جو کہ ہر لحاظ سے غریب دوست رسم ہے۔ البتہ اسے ان کھربوں روپے کا ضیاع دکھائی نہیں دیتا جو ہر روز امیر لوگ پیزوں اور مہنگے برگروں پر اڑا دیتے ہیں، ان کھربوں ڈالرز کے ضیاع پر یہ کبھی انگلی نہیں اٹھاتے جو یورپ اور امریکہ میں پیٹس (pets) (کتوں بلوں) کے کھلونے بنانے میں خرچ ہوتے ہیں، ان کھربوں ڈالر کے ضیاع پر کسی کو تکلیف نہیں ہوتی جو ہر سال کاسمیٹکس انڈسٹری میں جھونک دیے جاتے ہیں اور جن کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ میں زیادہ دنوں تک جوان نظر آؤں۔ الغرض آپ اپنے اردگرد غور کیجیے کہ ٹریلین ڈالرز کے ان بیش قیمت ذرائع کے بےدریغ ضیاع پر تو یہ جدید لوگ کبھی اعتراض نہیں کریں گے جو اپنی نوعیت میں غریب کے جذبات کچل دینے والے اخراجات ہیں اور جن کا مقصد امیروں کے چند ''لطیف احساسات'' کی تسکین کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا، مگر عید قربان کے موقع پر یہ غریب کے کچھ ایسے حمایتی بن جاتے ہیں، گویا ان سے بڑا غریب پرور آج تک پیدا ہی نہیں ہوا۔ پھر قربانی کے ان جانوروں کے لیے "بےزبان" کا استعارہ استعمال کرکے قربانی کی رسم ادا کرنے والوں کو بےرحم تو یوں ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے بوفوں اور مہنگے ریستورانوں میں بیٹھ کر جو کڑاہیاں و تکے یہ ہضم کرجاتے ہیں، وہ گوشت قصائیوں کے مذبح خانوں سے نہیں آتا، بلکہ من و سلوی کی طرح آسمانوں سے نازل ہوتا ہے۔ درحقیقت ان لوگوں کا اصل مسئلہ غریب پروری نہیں بلکہ مذہب دشمنی ہے جس کے لیے یہ ہر موقع کا بےموقع استعمال کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.