قربانی اور غریبوں کا غم - ارشد زمان

چند نام نہاد "مذہبی جدت پسندوں" اور لبرل سیکولروں کی جانب سے ان بابرکت ایام میں ایک مرتبہ پھر فریضہ حج اور قربانی جیسی اسلامی عبادات پر سوالات کھڑے کردیے گئے ہیں۔ ان کی حیثیت کو متنازع یا مشکوک ٹھہرانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں کہ اتنی بڑی رقم کو "ضائع" کیوں کیا جاتا ہے؟ اسے غریبوں پر کیوں خرچ نہیں کیا جاتا؟

مسلمان کا جواب تو یہی ہے کہ اسلام کے احکامات، ائمہ، فقہا اور علماء کے فتوے اور جن پر تواتر کے ساتھ بلاشک و شبہ اور بلاتردّد عمل ہوتا چلا آ رہا ہے، اس پر کسی کو ہلکان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس لیے ایسے تمام "دانشور" اور "مفتیان" اپنے اپنے "قبیلے" کے پیروکاروں کو ہی فتوے جاری فرمائیں کہ وہ کم از کم ایک ماہ کے لیے اپنے ان اخراجات میں "کفایت شعاری" سے کام لیں:

کتے پالنے کے

شراب و کباب کے

بنکاک،سنگاپور اور یورپ کے "مخصوص"دوروں و مشاغل

شادی بیاہ ودیگرتقریبات میں فضولیات

مہنگےہوٹلوں کے قیام و طعام

فالتو و غیر ضروری ملبوسات ز يورات

خواتین و حضرات کے میک اپ و "پینٹنگ" کے اخراجات

ہمیں یقین ہے کہ اگر اپنے معاشرتی سٹیٹس کو کچھ وقت کے لیے ہی سہی، نیچے رکھا جائے تو بڑی بچت ہو سکتی ہے اور یقینی ہے کہ اس سے غرباء کی تشفی ممکن ہوگی، چاہے عارضی ہی سہی۔

درحقیقت غربت کا خاتمہ خیرات کی تقسیم سے نہیں ہوگا بلکہ یہ انصاف کے قیام سے ہی ختم ہو سکتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ انصاف کے قیام میں ہمارا سیکولر طبقہ بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔

یہ وقت ہے ملک پاکستان میں اسلامی اصولوں کو اپنانے، آزمانے اور اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کا۔ اگر مذہب کا لبادہ اوڑھے سیکولر اور لبرل واقعی غریبوں اور انسانیت کے خیر خواہ ہیں تو آئيں جڑ سے ان مسائل کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے الہامی ہدایات، احکامات اور تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کا تجربہ بھی کر لیں اور اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لیے جدوجہد نہ سہی لیکن کم از کم اس کی ضرورت اور اہمیت کو تسلیم کرلیں۔