انجینئرنگ میڈیکل کالجز میں انٹری ٹیسٹ کا بزنس - پروفیسر سجاد حیدر

انجینئرنگ اور میڈیکل کالجز میں انٹری ٹیسٹ کے نام پر جو بزنس ہو رہا ہے، کیا آپ کو اس حوالے سے کوئی خبر ہے۔ آئیے دیکھیں کہ ہمارے بچوں اور والدین کے ساتھ کس طرح کی ڈاکہ زنی کی جا رہی ہے۔

جس وقت یہ ٹیسٹ شروع ہوئے تھے، تب ایف ایس سی کا پرچہ زیادہ تر subjective type یعنی انشائیہ طرز کا ہوتا تھا۔ لیکن اب تقریبا %70 پرچہ objective type معروضی طرز کا ہو چکا ہے، لہذا انٹری ٹیسٹ کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ صرف میڈیکل کالجز کے ٹیسٹ میں 65 ہزار طلبہ شامل ہوئے، ان میں سے کم از کم 60 ہزار بچوں نے کسی نہ کسی ادارے سے ٹیسٹ تیاری کلاسز لی ہیں، جن کی فیس 20 ہزار سے 40 ہزار تک ہے، اب اگر اوسط بھی لیں تو 30 ہزار بنتی ہے۔ یہ ٹوٹل ایک ارب 80 کروڑ روپے بنیں گے۔ یعنی صرف پری میڈیکل کے طلبہ سے پونے دو ارب نکلوا لیے گئے۔ پری انجینئرنگ کے طلبہ کا حساب بھی شامل کیا جائے تو یہ رقم چار ارب کے لگ بھگ ہو جاتی ہے۔

کیا آپ یقین کریں گے کہ ان چار ارب میں سے کم از کم تین ارب صرف ایک ادارہ کما رہا ہے، جس کی برانچز آپ کو ہر شہر اور بڑے شہروں کے ہر علاقے میں نظر آتی ہیں۔ اس ادارے کی وجہ شہرت یہ تھی کہ ابتدا میں اس کے کرتا دھرتاؤں نے یہ تاثر پھیلایا تھا کہ ان کے پاس پیپر ہوتا ہے جو وہ بچوں کو مہیا کرتے ہیں۔ نتیجہ حسب توقع نکلا اور ساری قوم کا رخ ادھر ہوگیا۔ یہی واردات اس بار سٹار والوں نے آزمائی اور امید ہے کہ نتیجہ بھی ان کے حسب توقع نکلے گا۔ اگلے سال دیکھیے گا سٹار والوں کو نائٹ شفٹ بھی لگانی پڑے گی۔ یاد رہے کہ ان تین ارب میں سے حکومتی کرتا دھرتا بھی حصہ بقدر جثہ وصولتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   جنوبی ایشیا کا پہلا انسداد تشدد مرکز - رانا اعجازحسین چوہان

دو سال پہلے اس ٹیسٹ کو ختم کرنے کا غلغلہ اٹھا اور تمام ماہرین نے اسے ختم کرنے کا مشورہ دیا، لیکن ایک طاقتور شخصیت کے چونکہ مفادات وابستہ ہیں، وہی اس مافیا کی سرپرستی کرتے ہیں لہذا بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ یہ وہی صاحب ہیں جن کی ویڈیوز بہت مشہور ہوئی تھیں۔

میرا موقف یہ ہے کہ امتحانات کے موجودہ پیٹرن کو سامنے رکھتے ہوئے انٹری ٹیسٹ ایک بے مقصد پریکٹس ہے، جس کا میرٹ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس ضمن میں ایک حلقے نے انٹری ٹیسٹ کو ختم کرنے کے اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دوردراز کے علاقوں میں چونکہ امتحانی نظام کی شفافیت مشکوک ہوتی ہے، لہذا ان بچوں کا دوبارہ امتحان لینا بہت ضروری ہے۔ اس ضمن میں عرض ہے کہ میاں شہباز شریف کے چند اچھے اقدامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے پہلے دور حکومت میں امتحانی نظام کو شفاف بنانے کے لیے اپنے مخصوص انداز میں کافی کام کیا، اس سے امتحانی مراکز کے اندر نقل کے رحجان کی حوصلہ شکنی ہوئی اور پیپر مارکنگ کو زیادہ سے زیادہ شفاف بنانے پر بہت زور دیا گیا۔

اب پیپر سیٹنگ کے لیے ایک question bank قائم ہو چکا ہے۔ کسی بھی بورڈ کے پیپر اسی بورڈ میں چیک نہیں ہوتے بلکہ دوسرے بورڈز میں بھیجے جاتے ہیں، یعنی لاہو کے پرچے پنڈی، پنڈی کے ڈیرہ غازی خان اور ڈیرہ کے بہاولپور۔ اس طرح کوئی بھی پورڈ اجتماعی طور پر اپنے طلبہ کی ناجائز مدد نہیں کر سکتا۔ کسی ممتحن کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ اس کے پاس کس بچے کا پیپر ہے کیونکہ پہلے سے موجود رول نمبر کو پیپر سے الگ کر کے اسے ایک خفیہ رول نمبر لگایا جاتا ہے جس کا پتہ کمپیوٹر کے علاوہ کسی کو نہیں ہوتا۔

پیپرز کی سنٹرل مارکنگ کی جاتی ہے اور ایک ممتحن کو 35 پیپرز کا ایک بنڈل ایک وقت میں ایشو ہوتا ہے، جو چیک کر کے اسی دن واپس کرنا ہوتا ہے۔ اس عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے ایگزامنر اور ہیڈ ایگزامنر کے درمیان ایک سپروائزر کو پچھلے سال سے مقرر کیا جاتا ہے تاکہ مارکنگ زیادہ سے زیادہ شفاف ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کی ناکامی، اصل وجہ کیا ہے؟ محمد عامر خاکوانی

ایک ہی کمرہ میں معروضی سوالات کے ایک سے زیادہ پرچہ جات تقسیم کیے جاتے ہیں جن کی پہچان کمپیوٹر کوڈز کے ذریعے کی جاتی ہے اور چیک بھی کمپوٹرز پر کیے جاتے ہیں۔ ان سوالات کے جوابات bubbles sheets پر bubbles کو فل کر کے حاصل کیے جاتے ہیں۔

ایک مسئلہ جس پر ابھی تک 100% قابو نہیں پایا جا سکا ہے، وہ کمرہ امتحان کے اندر نقل کا رحجان ہے لیکن اگر نیت درست ہو، اور ماہر عملہ کی تعداد بڑھا کر زیادہ سے زیادہ چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دی جائیں تو اس عمل کی شفافیت مزید بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

ایک اور بات جو بتانی رہ گئی تھی کہ انٹری ٹیسٹ تیاری سنٹرز صرف ایک بار فیس وصول نہیں کرتے بلکہ تیاری کے بعد ٹیسٹ سیشن اور کرش پروگرام کے تحت مزید 20/30 ہزار والدین کی جیبوں سے نکلوایا جاتا ہے، اس طرح تقریبا 70 ہزار ایک بچے سے وصول کیا جاتا ہے۔ یوں آمدنی کی رقم میں دگنا اضافہ ہو جاتا ہے.

ان ڈکیتیوں کی وارداتیں پڑھ کر آپ ان وجوہات کا اندازہ بھی لگا سکتے ہیں کہ کیوں ینگ ڈاکٹرز اپنی تنخواہوں اور مراعات کو لے اس قدر حساس اور مشتعل ہیں۔

ہم سب کو مل کر اس انٹری ٹیسٹ سسٹم کے خلاف کھڑا ہونا پڑے گا، ورنہ ہمارے بچے اسی طرح محنت کرنے کے بعد بھی ناکام ہوتے رہیں گے۔ خدارا اس ڈکیتی کے خلاف اکٹھے ہو کر اپنی قوم کے ساتھ ہونے والی اس واردات کا سدباب کیجیے۔ پنجاب حکومت سے پر زور مطالبہ اور احتجاج کرکے اس اضافی بوجھ سے نجات حاصل کیجیے.

Comments

پروفیسر سجاد حیدر

پروفیسر سجاد حیدر

پروفیسر سجاد حیدر پیشہ تدریس سے وابستہ ہیں. اپنےاپ کو لیفٹ کے نظریات سے زیادہ قریب پاتے ہیں. اپنے لوگوں کے درد کو محسوس کرتے ہیں. ایمان کی حد تک یقین کامل کہ ان تمام دکهوں کا مداوا، تمام مسائل کا حل بامقصد علم کے حصول میں مضمر ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.