انا کا بچھڑا - ڈاکٹر عزیزہ انجم

آخر میں ہی کیوں؟ ہر بار میں ہی جھکوں، میں ہی پہل کروں بات کرنے میں، جھگڑا ختم کرنے میں، غلطی کسی کی ہو ہم دونوں میں سے گھر کا ماحول ٹھیک رکھنے کے لیے کہ بچوں پر برا اثر نہ پڑے، یہی سوچ کر میں تناؤ ختم کر دیتی ہوں۔ سوچتی ہوں بات بڑھانے سے کیا فائدہ؟ ہمارے درمیان لہجوں کی اونچ نیچ ہو یاخفگی بھری خاموشی، بچے فوراً پہچان لیتے ہیں۔ "امی کوئی بات ہو گئی؟ آپ پاپا سے ناراض ہیں؟ پاپا ہر وقت غصہ کرتے رہتے ہیں۔" دس سال کا عامر چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے بولتا ہے۔

"نہیں بیٹے! کوئی بات نہیں۔ بس تھکن سی ہو رہی ہے، پاپا تو باہر سے آئے تھے نا۔راستے میں گاڑی خراب ہو گئی، دھوپ الگ تیز تھی، پانی کی بوتل بھی رکھنا بھول گئے تھے اس لیے انہیں غصّہ آگیا تھا۔ "

"امی پھر بھی انہیں اس طرح تو نہیں کرنا چاہیے تھا، آپ کا اس میں کیا قصور تھا؟ وہ اتنا زور زور سے چیخ رہے تھے۔ "

"کبھی کبھی شیطان کچھ زیادہ ہی بہکا دیتا ہے انسان کو، دیکھو پاپا رات کو آئسکریم لائے تھے، وہ تم نے نہیں کھائی۔ چلو اب کھاتے ہیں"

ہر بار یہ منظر یا اس سے ملتا جلتا منظر زندگی کا حصہ بن گیا تھا۔ ردا اور احسن کے درمیان جھڑپ ہو جاتی۔ احسن کبھی یہ تکلیف نہیں کرتا کہ آگے بڑھ کر صرف اتنا کہہ دے "سوری، مجھے اس طرح نہیں بات کرنے چاہیے تھی۔" یہ کہنے میں تو احسن کےاندر نہ جانے کیا کچھ ہونے لگتا۔ ردا اگر ناراضگی میں خاموش ہو جاتی بات نہ کرتی یا تکیہ لےکر دوسری طرف منہ کر کے سو جاتی تو احسن کی شان کے خلاف تھا کہ اس کا تکیہ ہی منہ پر سے ہٹا دیتا یا گفتگو کی ابتدا کرتا۔ باوجود بہت ساری خوبیوں کے بیوی کو منانا یا آگے بڑھ کر کوئی میٹھی بات کر لینا اس کی انا کے خلاف تھا۔ انا جو اسے بہت پیاری تھی۔ ردا دو دن بھی خاموشی سے گھر کے کاموں میں مصروف گزار دیتی تو اس کی صحت پر کوئی فرق نہ پڑتا۔

بچے اس خاموشی کو نہ صرف محسوس کرتے بلکہ ماحول کی گرانباری انہیں اداس کردیتی۔ وہ ماں اور باپ کو ایک ساتھ ہنستا بات کرتا دیکھنا چاہتے تھے اور ماں باپ کے درمیان اشاروں میں گفتگو، منہ پھیرے رہنا، گھر کا سنجیدہ ماحول انہیں پریشان کر دیتا۔

"کیا میری کوئی عزت نہیں، کوئی انا نہیں؟ میں ہی اپنے آپ کو قربان کروں؟ اب کی بار میں بالکل نہیں جھکوں گی۔ صبح سے رات گھر کاسارا کام کروں اپنے آرام کو نہ دیکھوں۔ اچھا کھانا، صاف ستھرا سلیقے سے چمکتا گھر، وقت پر کیا ہوا ہر کام، اس پر ذرا سی بات پر احسن کچھ نہیں دیکھتے۔ بچوں کے سامنے شروع ہو جاتے ہیں۔" غم اور غصّے سے اس کا برا حال تھا جی چاہ رہا تھا یا تو خوب زور زور روئے یاچلّا چلّا کر لڑے، جھگڑا کرے لیکن دونوں کام مشکل تھے۔ زندگی کی نزاکتیں انسان کو بہت کچھ کرنے سے روک دیتی ہیں اس نے کرسی گھسیٹی اور غصّہ کم کرنے کے لیے گھونٹ گھونٹ پانی پیتی کھڑکی کےساتھ بیٹھ گئی۔

باہر کا منظر عجب خوشگوار اورمصروف تھا۔ اچھا بقرعید، اوہ، جبھی ہر طرف گائے بکریاں نظر آرہی ہیں۔ سامنے والوں کے گیٹ پر سیاہ چتکبری خوبصورت گائے بندھی تھی۔ پڑوس کے دروازے کےسامنے بچے بکروں کی رسیاں پکڑے خوش دکھائی دے رہے تھے، ہنس رہے تھے، باتیں کر رہے تھے۔

اللہ نے انسان کے دل میں جانور کی کیسی محبت ڈالی ہے؟ خرید کر گھر لاتا ہے، کھلاتا پلاتا ہے، سجاتا ہے، پیار سے ہاتھ پھیرتا ہے، ان پر اپنا مال خرچ کرتا ہے اور پھر۔۔۔۔؟ ردا سوچنے لگی۔۔۔ انسان ہی اپنے رب کے حکم سے اسے قربان کر دیتا ہے، رب کا حکم اور قربانی؟ واقعی کتنی خوشی سے انسان اپنے پسندیدہ جانور کے گلے پر چھری پھیرتا ہے۔ بقرعید پر کی گئی کتنی ہی قربانیاں اسے یاد آگئیں۔

یہ بچھڑا کچھ زیادہ ہی پیارا نہیں انسان کو؟ اس نے اپنے آپ سے کہا۔ کتنا پیارا ہے یہ کہ انسان اسے پوجنے لگتا ہے۔جبھی تو کہا گیا فی قلوبھم العجل کہ ان کے دلوں میں گائے تھی۔ انسان کے دل کے اندر تو ایک اور بچھڑا بھی بیٹھا ہے خودپسندی تکبر اور خودپرستی کا بچھڑا جو کسی طرح نکلتا ہی نہیں۔ ہر وقت میں، میں کرتا رہتا ہے۔ اس کی 'میں' انسان کو کیسا نشہ دیتی ہے، سرور دیتی ہے، تسلی دیتی ہے، تھپکی دیتی ہے۔ گھروں کے دروازے پر بندھا بچھڑا قربان ہو جاتا ہے لیکن دل کے اندر بیٹھا صحتمند، تنومند، موٹا تازہ انا کا بچھڑا قربان کرنے کے لیے اس کے ہاتھ کبھی نہیں بڑھتے۔ گھر بگڑ جائیں، تعلقات خراب ہو جائیں، ختم ہو جائیں، رشتے ٹوٹ جائیں لیکن یہ انا کا بچھڑا یونہی آوازیں نکلتا رہتا ہے۔

سوچتے سوچتے ردا کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ کتنے ہی واقعات اس کی نظروں میں گھوم گئے۔
اس کے اپنے عزیزوں میں نعمان اور عدنان کے دلوں کے بیچ بیٹھا انا کا بچھڑا یاد آ گیا۔ دونوں سگے بھائی تھے اور ان کی محبت مثالی تھے۔ لیکن پھر وقت آیا کہ چھوٹا کہے بڑے نے میرے بچوں سے سخت لہجے میں بات کیوں کی؟ مجھے دیکھنے پوچھنے کیوں نہیں آئے؟ بڑے نے کہا میں بڑا ہوں چھوٹے کو چاہیے تھا پہل کرتا ہاتھ آگے بڑھا تا۔اب میرے گھر سے کوئی نہیں جائے گا بات ختم! انا کا بچھڑا زور زور سے میں کرتا رہا۔

آمنہ کے بیٹے کا عقیقہ تھا۔ اس کے بہنوئی کو شدید سردرد، بہت کوشش کے باوجود نہ جاسکا۔بہن بےچاری کسی طرح دیر سے پہنچ گئی۔ آمنہ کے شوہر نے کہا آئندہ تم مجھے اس کے گھر جانے کو ہرگز نہیں کہنا وہ بہت بڑا آدمی ہے میں کم ہوں۔ آمنہ نے لاکھ سمجھایا لیکن انا کا بچھڑا کچھ کم پیارا تو نہیں۔

"بہو تمہارے فلاں رشتے دار نہیں آئے بیٹے کی شادی کا کارڈ دینے، اب تم بھی نہیں جاؤگی۔ ہم کیا گرے پڑے ہیں؟" انا کا بچھڑا ہر موقع پر جگالی کرنے بیٹھ جاتا ہے۔

"یہ زندگی، یہ تعلقات، رشتے محبتیں کتنی قیمتی ہیں لیکن انا کے بچھڑے کی محبت سب کچھ داؤ پر لگا دیتی ہے ردا بیگم! " یہ میرا دل ہر بار مجھے کیوں سمجھانے بیٹھ جاتا ہے؟ کیوں اتنی دلیلیں رکھ دیتا ہے میرے سامنے؟

"ردا بیگم! بچھڑے پر چھری پھیرتے ہوئے ذرا سی تکلیف ہوتی ہے، بچھڑا تڑپتا ہے اور خاموش ہو جاتا ہے اور رب کو کیا پہنچتا ہے۔ تقویٰ، تقویٰ! جو مقصود ہے، مطلوب ہے، محبوب ہے، جو ہر تعلق کے لیے ضروری ہے، تعلقات کو معاملات کو ٹھیک رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ کشمکش تو چھری پھیرنے سے پہلے کی ہے۔ اسی کشمکش سے نکلنے کے لیے تو شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ سنو! قربانی قرب دیتی ہے، رب کا قرب، جانور کی ہو یا انا کی!

جن عورتوں نے اپنی اناکی قربانی دی، اپنی ذات مٹادی، ان کی حکمت اور عقلمندی نے انہیں ہنستے بستے کنبوں کی لہلہاتی فصل بھی دکھائی۔

آؤ اس انا کے بچھڑے کے گلے پر چھری پھیردیں

اسی میں مالک کی رضا ہے

اسی میں زندگی کی رشتوں کی محبتوں کی بقا ہے

ان صلاتی و نسکی و محیایی و مماتی للہ رب العالمین

Comments

Avatar

ڈاکٹر عزیزہ انجم

ڈاکٹر عزیزہ انجم 30 سال سے بطور فیملی فزیشن پریکٹس کر رہی ہیں۔ شاعری کا مجموعہ زیرِ طباعت ہے۔ سماجی اور معاشرتی موضوعات پر طویل عرصے سے لکھ رہی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.