کیا مرد بھی فحاشی کے مرتکب ہوتے ہیں؟ شمسہ ارشد

پرانی بات ہے، صدیوں نہیں بلکہ دہائیوں پرانی، ہمارے پڑوس میں ایک خاتون رہا کرتی تھیں۔ وہ اپنے سسر کے سامنے بھی گھونگھٹ اوڑھ کر رہا کرتی تھیں۔ دیور اور جیٹھ وغیرہ سے بات کرنا یا ان کو اپنی شکل دکھانا تو دور کی بات ہے، ایک گھر میں رہتے ہوئے ان کا چہرہ ان کے دیور، جیٹھ اور سسر تک نے کبھی نا دیکھا۔ منہ دھونے اور نہانے کے لیے کاسٹک سوڈے والا صابن آتا تھا ان کے گھر۔ جب ان سے پوچھا کہ آپ منہ دھونے والے باتھ سوپ کیوں نہیں منگواتیں؟ تو انہوں نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ "ہااااا۔۔۔ وہ تو آوارہ عورتیں استعمال کرتی ہیں۔ " آج ان کی بیٹیاں دوپٹے گلے میں ڈالے اور کٹ پاجامے پہنے مارکیٹوں میں خریداری کرتی پھرتی ہیں۔

وقت کے ساتھ شاید فحاشی اور بےحیائی کے معنی بھی تبدیل ہو گئے ہیں۔ کل اگر ایک مرد داڑھی رکھ کر اور اسلامی چولا پہن کر چھپ کر بےحیائی کرتا تھا تو آج ایک عورت بھی شرعی پردہ کرکے یہ سب کام کر رہی ہے۔ اب آپ حیا کا کوئی ایک پیمانہ مقرر نہیں کر سکتے۔ میرے نزدیک ہر وہ غلط کام جو دوسروں کو ترغیب دے اور اس سے معاشرہ بگڑے بے حیائی ہے۔

گئے وقتوں میں اگر لڑکا اپنی شادی کی بات کھل کر گھر والوں کے سامنے کر لیتا تھا تو بے حیا کہلاتا تھا۔ آج لڑکے تو دور کی بات لڑکیاں کھل کر اپنی شادی کا اظہار کر دیتی ہیں۔ پہلے لڑکا اگر کھلے عام سگریٹ پیتے پکڑا جاتا تو بے حیا کہلاتا تھا جبکہ آج لڑکیاں شیشہ بار میں دھوئیں اڑاتی بھی پائی جائیں تو انہیں کوئی ٹیڑھی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا۔

آج وہ بھیانک دور ہے جہاں قندیل بلوچ جیسی عورت اگر قتل کر دی جاتی ہے تو اس کی موت کے بعد مظلوم ثابت کرنے کے لیے اس پر ڈرامے اور فلمیں بننا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کے کردار کو سنہری کاغذ میں لپیٹ کر کچھ یوں پیش کیا جاتا ہے گویا وہ ایک 'ڈریم گرل' تھی۔ بڑی بڑی تنظیمیں اس کے قتل کے خلاف احتجاج کرنے کھڑی ہوجاتی ہیں۔

ایک بیوہ عورت نے ایک ٹیلی وژن چینل پر بیٹھے مولوی صاحب سے سوال پوچھا کہ میں ابھی جوان ہوں اور بیوہ ہو گئی ہوں۔ گناہ نہیں کرنا چاہتی لیکن کیا کروں کہ میری خواہشات اس قدر ہیں کہ اب میرا جینا حرام ہوا جا رہا ہے۔ کیا کروں؟ کوئی ایسا حل بتائیں کہ میں عزت کے ساتھ حلال طریقے سے اپنی ان خواہشات کی تکمیل کر سکوں۔ میرے پاس میرے شوہر کا چھوڑا ہوا مکان اور کچھ بینک بیلنس ہے لیکن شکل واجبی سی ہے اور بیوہ ہونے کی وجہ سے میری دوسری شادی ہونا بہت مشکل نظر آتا ہے۔

مولوی صاحب نے ان خاتون کو مشورہ دیا کہ یہ خواہشات چونکہ فطری تقاضہ ہیں، جیسے بھوک، پیاس، نیند، ویسے ہی انسان میں یہ خواہشات بھی قدرت نے ہی رکھی ہیں۔ آپ کسی رشتہ کرانے والی خاتون سے یہ کہہ کر بات چلوائیں کہ آپ اپنے تمام حقوق، مثلاً روٹی، کپڑا اور مکان و کفالت معاف کرتی ہیں اور فقط نکاح کی خواہشمند ہیں۔ بعد میں آپ کا نصیب۔ لیکن یاد رکھیں کہ نکاح کا مقصد جائز طریقے سے شہوانی خواہشات کی تکمیل بھی ہے۔

میں یا کوئی بھی ایک عام شخص کسی بیوہ عورت کے منہ سے ایسی بات اور ایسی خواہش کا اظہار سن کر اس پر بے حیائی کا ٹھپہ لگاتے دیر نہیں لگائیں گے ... لیکن جو لوگ علم رکھتے ہیں وہ اس مسئلے کو یقیناً سنجیدگی سے لیں گے۔

حیا اور فحاشی کے معنی یقیناً اس دور میں بدل گئے ہیں، اب لوگ علم بھی حاصل کرتے ہیں تو شاید اتنی ہی معلومات اپنے پاس محفوظ رکھنا چاہتے ہیں جو ان کے لیے فائدہ مند ہو۔ ہر کوئی اب قرآن و سنت کے حوالے سے بات کرنا سیکھ گیا ہے۔ سورۃ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ " اور قرآن کی آیتوں کو اپنے دنیاوی فائدے کے لیے نہ بیچو"۔ آج جہاں شاہ رخ خان جیسا مشہور بندہ بھی قرآن مجید کی سورت اور آیات کے حوالے دے کر سرعام اپنا الو سیدھا کرتا نظر آتا ہے، تو وہیں ایک عام گھریلو عورت یا مرد بھی، اپنے کام کو سہل کرنے کے لیے یہ کہتا نظر آتا ہے "اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔" مفتي عبد القوی "اللہ خوبصورت ہے اور وہ خوبصورتی کو پسند کرتا ہے،" پر اپنے حساب سے ایسے عمل کرتے ہیں کہ دوران سفر اپنی سیٹ نمبر کو چھوڑ کر جہاز میں موجود سب سے حسین خاتون کے برابر بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔

کھچڑی سی بن کر رہ گئی ہے اب، لوگ اپنے اپنے حساب سے فحاشی کی حدیں مقرر کرنے لگے ہیں۔ ہر کسی کا اپنا انداز فکر اور معیار ہے۔ بات صرف اتنی سی ہی تو ہے کہ کسی خاتون کو اگر زیر جامہ کی خریداری کرتے دیکھ کر اس کی پڑوسن لوگوں کو گال پیٹ پیٹ کر اس کی بے حیائی کے بارے میں بتاتی ہے تو کل کو اگر خود مانع حمل اشیاء کی خریداری کرتی ہوئی بھی پائی جاتی ہے تو یہ کہتی ہے کہ بھلا اس میں کیا بے غیرتی ہے؟ کون سا رنگ سائز یا برانڈ بتانا پڑتا ہے دکاندار کو، بس پیکٹ اٹھاؤ،پے منٹ کرو اور قصہ ختم ! یہ ہے اصل بے حیائی اور کھلی فحاشی کہ تم سب کچھ کرکے بھی دوسرے پر انگلی اٹھاؤ

میں پاکستان سے باہر کسی ملک کی بات نہیں کروں گی کیونکہ فحاشی کے معاملے میں ان کی definition ہی الگ ہے لیکن افسوس تو تب ہوا جب پتا چلا کہ پاکستان کا نام بھی فحاشی میں سر فہرست ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ فحش سائٹس دیکھے جانے میں پاکستان سب سے اوپر ہے۔ شوق ہو یا مجبوری، بہرحال فحاشی اب پاکستان میں بھی رگوں میں خون کی طرح گردش کر رہی ہے۔ ہوٹلز، پارکس، اور دوسرے پبلک مقامات پر ماں بہن کی گالیاں کانوں میں پڑ جانا اب ایک معمول کا حصہ بن چکا ہے۔ کوئی برا بھی نہیں مانتا اب گالی بکنے سے لوگوں کی ٹینشن دور ہوتی جبکہ میرا دین کہتا ہے کہ "مومن کبھی فحش کلامی نہیں کرتا" -

فحاشی، اور کھلی فحاشی یہ ہے کہ آپ کا کوئی عمل اور فعل دوسروں کے لیے بھی راہ مہیا کرے۔ اس موضوع پر ہم میں سے کوئی بھی زیادہ بات کرنا پسند نہیں کرتا، جس کی وجہ جو میری سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ بات کرتے کرتے ہم سب اپنی ہی کسی ایسی بات کا تذکرہ نہ کردیں جو فحاشی کے زمرے میں آ جائے۔ شاید اسی لیے ہم سب اس موضوع پر بات کرنے سے ڈرتے اور کتراتے ہیں۔ فحاشی دراصل کھلے عام ترغیب اور دعوت گناہ کا نام ہے۔

میری والدہ کہتی ہیں کہ عورت فحش ہوتی ہے اور مرد عیاش ... کیونکہ یہ مرد کی عیاشی ہی ہے جو اسے ایک فاحشہ کے دروازے تک لے کر جاتی ہے یا اسے فحاشی پر مجبور کرتی ہے۔ جب فحاشی و عیاشی ایک جگہ یکجا ہوجائیں تو بے حیائی جنم لیتی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */