کشمیر کی خودمختاری کی کہانی - اے جی نورانی

1951ء میں جن سنگھ کے قیام کے بعد سے ہی اٹل بہاری واجپائی آئین ہندکی دفعہ 370 کے خاتمے کے لیے مسلسل سعی و کوشش کرتے رہے ہیں، بالکل ایسے ہی، جیسے کہ اُن کی سرپرست تنظیم راشٹریہ سوئم سیوک (RSS)، جسے وہ "میری روح" کہہ کر اعزاز دیتے ہیں، اس کارِ خیر کے لیے کمربستہ رہی ہے۔ اس کے باوجود کشمیرکی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا "واجپائی ...واجپائی" کاراگ الاپنا کوئی غیر متوقع چیزنہیں ہے۔ بوجہ یہ کہ واجپائی اپنے دورِ حکمرانی میں نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ اور ان کے اچھوتے ہتھکنڈوں سے تنگ آچکے تھے، اور ان سے نجات پانے کے لیے انہوں نے کشمیر میں پی ڈی پی کا بیج بونے کے ساتھ ہی اس کی زمامِ اقتدار اُن کے والد مرحوم مفتی محمد سعید کے ہاتھ میں تھما دی۔ یہ ایک ایسی مشق تھی جو مختلف پیچیدگیوں سے عبارت تھی۔ اس کے سہارے واجپائی کی اُن کاوشوں میں کسی قسم کی رکاوٹ ختم ہوگئی جو وہ کشمیرکی خودمختاری پر ضرب لگانے کے لیے عملانا چاہتے تھے۔ دفعہ 370 کی پے درپے بے حرمتی کر کے اسے محض ایک ڈھکوسلے کی شکل میں باقی رکھاگیا جس کے اندر سے سارا مواد اور متن خالی کیا جا چکا تھا۔ اسی طرح کشمیر کی اٹانومی کوایک ایسے خوبصورت جھلاوے کے طوراستعمال کیا گیا جس سے کہ سادہ لوح کشمیری اطمینانِ قلب کا سامان تو حاصل کر سکتے ہیں، لیکن کوئی مادّی فائدہ فراہم کرنے کے لیے اس کے اندر سے مردانہ قوت کو پوری طرح ختم کر دیا گیا ہے۔ 1947ء سے لے کر1964ء کے درمیانی عرصے میں دفاع، امورخارجہ اور مواصلات سے 97 میں سے 94 موضوعات تک مرکزی لسٹ (Union List) کا اطلاق کیاگیا؛ کنکورنٹ لسٹ (Concurrent List) سے 47 میں سے 26 اور آئین کی 395 میں سے 260 دفعات میں اس کا اطلاق عمل میں لایاگیا۔ اور یہ سب صدر ہند کے انتظامی حکماناموں سے کیاگیا۔

1996ء میں وزارت اعلیٰ کی کرسی پر براجمان ہوتے ہی ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے ریاست کی اٹانومی کے حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ اگرچہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے انہوں نے کچھ نامعلوم بندوق برداروں کی مدد بھی لی تھی، جس کے لیے انہوں نے 11/اگست 1996ء کو ایک عوامی حلقے میں پوری ڈھٹائی کے ساتھ اُن کا شکریہ بھی ادا کیا۔ بہرحال مذکورہ کمیٹی نے محنت شاقہ کے بعد اپنی رپورٹ ترتیب دی جسے 26 جون 2000ء کو ریاستی اسمبلی میں با اتفاق رائے تسلیم کیا گیا (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:"The Autonomy Demand", Frontline, July 21, 2000)۔ رپورٹ میں مزید اس کے اور کوئی بھی مطالبہ نہیں کیاگیا تھا کہ ریاست کی اٹانومی کو واپس اسی حیثیت میں بحال کیا جائے جیسے کہ وہ 1953ء میں شیخ عبداللہ کی معزولی اور بعدازاں گیارہ سال کی نظربندی ٗ کے وقت تھی۔ لیکن بڑی محنت اور وقت کھپا کے تیارکردہ اس رپورٹ کو واجپائی کی کابینہ نے انتہائی غیر معتبر اور کسی منطقی استدلال کے بغیر رَد کر دیا۔ بعدازاں کابینہ کی طرف سے ایک قرارداد شائع کی گئی جس میں مندرج تھا:
"یہ کابینہ جموں و کشمیر کی ریاستی اسمبلی کی طرف سے پاس کی گئی اُس قرارداد کو ناقابل قبول قراردیتی ہے جس میں کہ ریاست جموں وکشمیر کو اٹانومی واپس بحال کرنے کی سفارش سامنے رکھی گئی ہے۔ کابینہ کوخدشہ ہے کہ اس قرارداد کو منظور کر لینے سے اب تک کا طے کیا ہوا سفر دوبارہ سے طے کرنا پڑے گا۔ مزید برآں جموں و کشمیر کے عوام کی امنگوں اور ان کے خواہشات کا احترام کرتے ہوئے ہم یہ قرارداد اس لیے بھی قبول نہیں کرسکتے کہ اس کے ذریعے جموں و کشمیر کا بھارت کے ساتھ مکمل انضمام بھی خطر ے میں پڑ جائے گا۔ رپورٹ میں شامل اکثر سفارشات کی نوعیت کچھ اس طرح کی ہے کہ جن کو عملانے سے بہت سی آئینی دفعات کا ریاست پر اطلاق ناممکن بن جائے گا، جو نہ صرف ریاست کی عوام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا بلکہ ہمارے آئین کو تاحال میسّر حفاظتی حصار بھی ٹوٹ پھوٹ جائے گا۔ یہ کابینہ ریاست جموں و کشمیر کی حکومت اور اس کے لوگوں سے درخواست کرتی ہے کہ وہ مرکزی حکومت کو اپنا تعاون پیش کرے تاکہ ریاست کو درپیش بنیادی چیلنجز کا مقابلہ کر کے مقامی شورش اور سرحدپار سے سلگائی جانے والی عسکریت کا مقابلہ کیا جا سکے۔ مرکز اس عہد پر وعدہ بند ہے کہ مذکورہ اہداف حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن سہولت اور مدد بہم پہنچائی جائے گی۔ لہٰذا یہ کابینہ ریاستی اسمبلی کی طرف سے اٹانومی کے حوالے سے پاس کی گئی قرارداد کو نامنظور کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کرانا چاہتی ہے کہ قومی یکجہتی اور ریاستوں کو اختیارات کی فراہمی، یہ دونوں چیزیں آپس میں ہم آہنگ ہونی چاہییں"۔ (بحوالہ : The Hindu, July 5, 2000)

16 جولائی 2001ء کو واجپائی نے اس وقت آگرہ اجلاس کی دھجیاں اُڑا دیں جب انہوں نے باوجود اس کے کہ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ جسونت سنگھ اور عبدالستار معاہدے پر دستخط کر چکے تھے، معاہدے کی پہلی ہی شِق، جس کی نوعیت سراسر تدریجی تھی، کی خلاف ورزی کر ڈالی۔ راقم الحروف نے مذکورہ دستاویز کو فی الفور "Frontiline" میں شائع کیا کیونکہ واجپائی اور اُن کے ایلچی عوام کے سامنے بغیر کسی تردّد کے اس بات سے انکاری ہو رہے تھے کہ حقیقت میں ایسا کوئی معاہدہ ہوا بھی تھا ("The Truth about Agra", Frontline, July 29, 2005)۔ اس کے بعد 2001ء کے اختتام پر فوج کو کشمیر کی حدمتارکہ اور بین الاقوامی سرحد پر جمع کیاگیا، جو کہ سراسر ایک لایعنی عمل ثابت ہوا۔ اس تناؤ کو ختم کرنے کا بیڑا ہمیشہ کی طرح امریکہ اور برطانیہ نے اُٹھایا، نا کہ خود واجپائی نے۔ واشنگٹن میں منعقدہ بش بلئیراجلاس (Bush-Blair summit) کے مابعد امریکہ کے ریاستی سکریٹری کولن پاولؔ اور برطانیہ کے خارجہ سکریٹری جیک سٹراؔ نے 27 مارچ 2003ء کو ایک مشترکہ بیان میں اُن نقوش کی نشاندہی اور وضاحت کی جس پر کہ آئندہ چل کر ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کو عمل کرنا تھا۔ فطری طور پر نئی دہلی اور اسلام آباد میں سفارتی کوششوں کا تناسب کافی حد تک بڑھ گیا۔ تجویز شدہ لائحہ عمل میں صراحت کی گئی تھی:
"دونوں ملکوں کو چاہیے کہ وہ جنگ بندی کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ سارک (SAARC) ایسوسی ایشن کی وساطت سے اعتماد سازی پر مبنی اقدامات کریں تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان پیدا شدہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ پرامن مذاکرات اور باہمی تعاون کے ذریعے ہی ہندوستان اور پاکستان اپنے بیچ کے تنازعات کو حل کرسکتے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہیں جس سے کہ دونوں ملکوں کا آپس میں اعتماد بحال ہو اور سبھی دیرینہ تنازعات کو، بشمول کشمیر کے، حل کیا جا سکے"۔

مندرجہ بالا لائحہ عمل میں چونکہ سارک (SAARC) کے زیراہتمام جنگ بندی اور بات چیت پر زور دیا گیا تھا، اس لیے فی الفور دونوں ہدایات پر عمل کیا گیا۔ لیکن واجپائی کی عجلت پسندی نے اُن کے دل میں مخفی ارادوں کو عوام پر عیاں کر دیا۔ سارک (SAARC) کے پلیٹ فارم کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے 18/اپریل 2003ء کو، وزیراعظم کی حیثیت میں، واجپائی نے سرینگر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
"ہمارے سارے تنازعات، چاہے اندرون خانہ ہوں یا بیرون خانہ، صرف مذاکرات سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ مذاکرات انصاف اور انسانیت کے دائرہ کار میں ہی منعقد ہونے چاہیے." (The Indian Express, April 19, 2003)۔
23/اپریل کو واجپائی نے لوک سبھا میں اسی بیان کی صراحت کرتے ہوئے کہا:
"میں ریاست جموں وکشمیر کے لوگوں کویقین دلانا چاہتا ہوں کہ حکومت سبھی طرح کے تنازعات، اندرون ویبرون، کو بات چیت کے ذریعے حل کر نے کا ارادہ رکھتی ہے۔ میں پوری شدومد سے اس بات کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ گولی سے کوئی بھی مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے، جبکہ بھائی چارے سے یہ کام ہوسکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم تین بنیادی اصولوں کی پاسداری یقینی بنائیں، ’انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت‘۔ اس راستے پر چلنے سے ہی مسائل ہو سکتے ہیں"۔

"انسانیت" کے اس دائرہ کار کو اتنا زیادہ وسیع کیاگیا کہ اس کے حدود دفعہ 370 کو ہی نگل گئے۔ وقت نے ثابت کر دکھایا کہ انسانیت کی راگ الاپنے کے پیچھے کوئی بھی مخلصانہ جذبہ کارفرما نہیں تھا۔ واجپائی بات چیت کی پیشکش کر رہے تھے اور ساتھ میں جنگ بندی کا اعلان کر کے اپنے دعوے کو تقویت بھی بخش رہے تھے: "میں ہرایک مدعے پہ، بشمول جموں و کشمیر کے، بات کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اور میں پاکستان کی طرف سے بھی ایک موافقانہ کردار کی توقع رکھتاہوں." (The Indian Express, April 20, 2003)۔ نتیجے کے طورپر 28/اپریل کو پاکستان کے وزیراعظم میرظفراللہ خان جمالی نے واجپائی کو بات چیت شروع کرنے کے لیے لائحہ عمل مرتّب کرنے کی غرض سے پیغام بھیجا اور 23 نومبر کو پاکستان نے جنگ بندی کا اعلان کردیا۔ دو دن بعد ہندوستان اور پاکستان نے بین الاقوامی سرحد، حدمتارکہ اور سیاچن کی زمینی صورتحال کے لحاظ سے جنگ بندی کے معاہدے کو تسلیم کیا۔ اس کے فوراً بعد واجپائی سارک کے اجلاس میں شمولیت کی غرض سے اسلام آباد تشریف لے گئے۔ صدرپرویزمشرف اور واجپائی کی طرف سے 6 جنوری 2004ء کو ایک مشترکہ بیان شائع ہونے کے ساتھ ہی مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

ادھر 22 جنوری اور 27 مارچ 2004ء کو نائب وزیراعظم لال کرشن ایڈوانی حریت کے ایک وفد سے ملاقات کر رہے تھے۔ اس ملاقات کے پیش نظر صرف اور صرف دکھاوے کا کھیل تھا، بوجہ یہ کہ اس سے قبل وزارت داخلہ کی طرف سے پے درپے شائع کی گئی رپورٹوں میں بی جے پی نے حریت پر صرف کانٹوں کی بارش کی تھی۔ 2003ء تا 2004ء کی سالانہ رپورٹ میں مذکور تھا: "حریت کے دونوں دھڑوں میں سے کسی کوبھی عوامی حمایت حاصل نہیں ہے. "(Ministry of Home Affairs 2004 : 17)، اور اس بات کی بھی صراحت موجودتھی کہ: "ریاست جموں و کشمیر کو پہلے سے ہی اٹانومی حاصل ہے." (ایضاً :20)۔ اس سے پہلے والے سال کی رپورٹ کا لہجہ تو اور بھی زیادہ کرخت تھا۔ حقیقت دراصل یہی ہے کہ بی جے پی، بہ نسبت پاکستان کے، کشمیر کے لوگوں کو کوئی جاذب نظر پیشکش فراہم کرنے کی پوزیشن میں تھی ہی نہیں۔

قیام امن کی مخالفت:

2004ء کے انتخابات میں شکست کا سامنا کرنے کے بعد بی جے پی پوری جاں فشانی کے ساتھ حکومت کی طرف سے شروع کی گئی قیام امن کی کوششوں پر خطِ تنسیخ پھیرنے میں لگ گئی۔ ساتھ ہی پاکستان کے نمائندوں کو بار بار اصرارکرتی رہی کہ وہ کانگریس کی سربراہی والی UPA حکومت کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ طے نہ کرے، کیونکہ بی جے پی پاکستان کے سامنے کانگریس کی بہ نسبت زیادہ پُرکشش پیشکش رکھ سکتی ہے۔ اپنی اس مانگ کو منوانے کے لیے بی جے پی فرقہ وارانہ بیانات دینے پر بھی اُترآئی۔ 14 مارچ 2004ء کو نائب وزیراعظم لال کرشن ایڈوانی نے ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "بی جے پی ایک واحدایسی جماعت ہے جو پاکستان کے ساتھ ہمارے تنازعات حل کرنے کی اہلیت رکھتی ہے کیونکہ ہندو قوم ہمارے متعلق کبھی بھی دھوکہ دہی کا گمان نہیں کرے گی."("The Indian Express, March 15,2004")۔ 20 فروری 2007ء کو ایڈوانی نے نئی دہلی میں پاکستانی وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری کو کسی بھی قسم کی "جلدبازی"سے پرہیز برتنے کی تاکید کی۔ دوسرے دن واجپائی نے بھی یہی راگ الاپا اور قصوری کو تاکید کی گئی: "انتظار کیجیے، تاوقتیکہ اقتدار تک ہماری رسائی ہوجائے"، کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے پاس کانگریس کی بہ نسبت زیادہ بہتر پیشکش ہے۔ اس سب کے باوجود روایتی حریف کانگریس کی طرف سے بی جے پی پر اس طرح کے اقدام کے لیے کوئی بھی تنقید دیکھنے کو نہیں ملی۔ یہاں تک کہ 24 جولائی کو حزب المجاہدین کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان کرنے کے بعد اگست 2000ء میں بی جے پی نے حزب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔ یہی نہیں، جولائی2001ء میں جنرل پرویزمشرف کو ایک طرف اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی اور دوسری طرف اسی اجلاس کو انتہائی غیرمہذّبانہ طریقے سے سبوتاژ بھی کیاگیا۔ اس کے بعد ناقابل فہم طریقے سے 18 دسمبر 2001ء کو آپریشن پراکرم لانچ کیاگیا اور قریب آٹھ ہزار کروڑ روپے کا چونا خزانۂ آمرہ کو لگانے کے بعد 16 اکتوبر 2002ء کو یہ آپریشن منسوخ کرنے کا اعلان کر دیاگیا۔ پھر وہی کچھ دیکھنے کو ملا جس کی نشاندہی اور وضاحت 27 مارچ 2003ء کو کولن پاولؔ اور جیک سٹراؔ اپنے مرتب کردہ لائحہ عمل میں کرچکے تھے۔ یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ جنوری 2004ء میں اسلام آباد کے اجلاس میں بھی شرکت کی گئی۔

سنگھ پریوار کی موقع پرستی:

کشمیر کے حوالے سے سنگھ پریوار کا احتساب خاصا طویل ہے، کیونکہ قریب نصف صدی تک یہ موقع پرست جماعت قومی مفادات کے ساتھ کھلواڑ کرتی رہی ہے۔ شیخ عبداللہ کا 4 فروری 1953ء کو شامہ پرساد مکھر جی کویہ یاد دہانی دلانا بروقت اور برمحل تھا: "ایسا نہیں ہے کہ اس معاہدے (دفعہ 370) پر اتفاق کوئی اب کی چیز ہے، بلکہ اس پر مہر تصدیق 1949ء میں اسی وقت ثبت ہوچکی تھی، جب آپ حکومت کاحصہ تھے." (Bharatiya Jan Sangh 1953 : 37)۔ یعنی اکتوبر 1949ء میں دفعہ 370 کی آئین ہند میں شمولیت کے متعلق شامہ پرساد پوری طرح سے واقف تھے۔

2002ء میں پی ڈی پی نے کانگریس کے ساتھ مل کر مخلوط سرکار بنائی، یہاں تک کہ 2008ء میں غلام نبی آزاد نے زمامِ اقتدار سنبھالی۔ اگرچہ حالات میں کسی حد تک بہتری دیکھنے کوملی لیکن جس "Healing Touch" کا وعدہ کشمیر کی عوام کے ساتھ کیا گیا تھا، وہ ہنوز ناپید تھا۔ اکتوبر 2008ء میں اسمبلی انتخابات کی رات کو پی ڈی پی نے چالیس صفحات پر مشتمل ـ"The Self-Rule Framework for Resolution" کے عنوان سے ایک دستاویز شائع کی۔ اس دستاویز میں پی ڈی پی نے بڑے فخر سے دعویٰ کیا تھا کہ ہمارا یہ فریم ورک نیشنل کانفرنس کی آٹونامی قرارداد سے نہ صرف ایک قدم آگے ہے، بلکہ اس میں پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے طریقے بھی وضع کیے گئے ہیں۔ پیراگراف نمبر 132 میں منموہن سنگھ اور جنرل مشرف کی تائید شدہ چارنکاتی فارمولہ پر اطمینان اور حمایت کا تذکرہ بھی موجود تھا۔ لیکن 2004ء کے انتخابات میں پی ڈی پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مفتی محمد سعید اس احساس سے بوجھل ہونے لگے کہ اقتدار کے بغیر زندگی بےلذت اور بےمعنی ہیں، لہٰذا انھوں نے 2014ء میں "An Aspirational Agenda" کے عنوان سے ایک منشور شائع کیا، جس میں نہایت صریح الفاظ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ: "دفعہ 370 کی مددسے ریاست کی اصل حیثیت کو دوبارہ بحال کیاجائے گا"۔ مزید برآں: "صحیفہ ٔسیلف رول کی نگرانی میں سرحد پار تعلقات میں بہتری اور مکمل روابط کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی"۔

چند دنوں کے اندر ہی مفتی محمد سعید نے حسیب درابو کو بی جے پی کے جنرل سکریٹری رام مادھو کے ساتھ معاہدہ طے کرنے کے لیے مامور کیا۔ دراصل مفتی سعید نے انتخابی مہم کے دوران ہی کانگریس کے بجائے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ کر لیا تھا۔ لہٰذا مارچ 2015ء میں حسیب درابو نے "Agenda of Alliance" ترتیب دے کر رام مادھو کو پیش کیا۔ اس ایجنڈے میں مزے کی بات یہ تھی کہ اس سے قبل شائع شدہ منشور میں جہاں دفعہ 370 کی از سرنو بحالی پر زور دیا گیا تھا، اس میں status quo کو بچشم سر تسلیم کیا گیا۔ نظام العمل میں مذکور تھا: "ریاست جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت کے متعلق بی جے پی اور پی ڈی پی کے زاویوں میں اختلاف کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کا احترام کرتی ہیں۔ سیاسی اور قانونی حقائق کو مدّنظر رکھتے ہوئے موجودہ صورت حال کو، بشمول جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے، حسبِ حال برقرار رکھا جائے گا"۔ اقتباس کا آخری جملہ سب سے بڑا فریب ثابت ہوا۔

سبھی فریقین سے بات چیت کا ذکر بھی محض الفاظ کا کھیل تھا، اور کچھ بھی نہیں۔ اقتباس ملاحظہ ہو: "اٹل بہاری واجپائی کی زیرقیادت سابقہ NDA کی حکومت نے انسانیت، کشمیریت اور جمہوریت کے دائرے میں مذاکرات کا ایک سنہری سلسلہ شروع کیا جس میں حریت کانفرنس بھی شامل تھی۔ اسی اصول کی تقلید میں یہ مخلوط سرکار ایک بامعنی اور دیرپا مذاکرات کاسلسلہ شروع کرنے کے لیے راستہ ہموار کرے گی، جس میں تمام مقامی فریقین کو شامل کیا جائے گا۔ اس مذاکراتی عمل میں تمام سیاسی جماعتوں کو، ان کے مختلف نظریات اور عقائد کے باوجود، شامل کیاجائے گا۔ اس مذاکراتی عمل کے پیش نظر ایک عمومی فضا قائم کرنا ہوگی جس سے کہ ریاست جموں و کشمیر کے تمام دیرینہ مسائل کو حل کیا جا سکے گا"۔ لائق توجہ ہے کہ پہلے پیراگراف میں حریت کا ذکر نام لے کر کیا گیا تھا جبکہ دوسرے پیراگراف میں "تمام مقامی فریقین " کے اضافے کی مدد سے اس کو حذف کیاگیا۔ یہ تینوں دستاویز ات "Self-Rule (2008)", "Aspirational Agenda (2014)" اور "Agenda of Alliance" صرف ایک ہی شخص ڈاکٹر حسیب درابو کے دماغ کی تخلیق تھیں۔

یکم مئی کو پی ڈی پی کے ایک وزیر الطاف بخاری نے بیان دیا کہ پارٹی کو لوگوں کی طرف سے سخت غصّے اور ناراضگی کا سامنا ہے کیونکہ نظام العمل میں جووعدے کیے گئے تھے، اُن کو پورا نہیں کیاگیا۔ یہ بیان اگرچہ حقیقت کا اعتراف ہے لیکن صرف جزوی طور سے۔ عوامی غیض و غضب کی اصل وجہ دراصل یہ ہے کہ لوگوں نے انتخابات میں پی ڈی پی کو محض اس نیت سے کامیاب کرایا تاکہ بی جے پی کو وادی میں داخل ہونے کے لیے راہداری فراہم نہ ہوسکے۔ لیکن اس کے باوجود پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرکے اپنے ہی عوام کی پیٹھ میں چھراگھونپا۔ لیکن حاصل تو انہیں بھی کچھ نہیں ہوا کیونکہ ان کی وزیراعلیٰ اور وزیر حضرات ہر آئے دن مرکز کی طرف سے آڑے ہاتھوں لیے جاتے ہیں، کبھی چھرے والی بندوق کے سلسلے میں، کبھی افسپا کے مسئلے پر یا کبھی کسی اور مسئلے پر۔ غرض ہر طرح کے مدعوں پر پی ڈی پی مرکز کے سامنے بے بس ہوچکی ہیں۔ نریندر مودی کی حکومت نے تو کشمیریوں کے ساتھ کسی بھی طرح کی بات چیت کو بیک جنبش قلم مسترد کر دیا ہے اور آئے روز ہو رہی انسانی حقوق کی پامالیوں پر بھی یہ حکومت کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ تبھی 20 اپریل کو رام مادھو نے فوج کی طرف سے ایک نوجوان کوگاڑی کے سامنے باندھنے پر جواز بخشتے ہوئے کہا: "جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے"۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ نریندرمودی کی حکومت اپنے ہی عوام کے ساتھ برسرِ جنگ ہے۔ اسی مؤقف کا ردعمل ہے کہ لوگوں کے اندر احساس بیگانگی پروان چڑھ رہی ہے۔ اسکول یونیفارم میں ملبوس طالبات بھی ہاتھوں میں پتھر لیے فوج اور پولیس کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ الغرض! کشمیر بغاوت کر چکا ہے۔

نہرو کی تنبیہ:

فی الوقت جو بیانیہ حکومت کی طرف سے مستعمل ہے، اس کے چلتے کشمیریوں کو یا تو "دہشت گرد" قرار دیا جا سکتا ہے، یا پھر "پاکستانی"۔ یہی خدشہ جواہرلال نہرو کو پہلے سے ستا رہا تھا، جس کا اظہار انھوں نے 1952ء میں نئے سال کی تقریب کے موقع پر دو مرتبہ کیا۔ اس کے علاوہ مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ بی سی رائے کے نام ایک خط میں انہوں نے راشٹریہ سوئم سیوک کو اقتدار ملنے کے ضمن میں اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ وہ تمام خدشات من و عن حقیقت میں بدل چکے ہیں۔ انہوں نے لکھا تھا: "بلاشبہ جموں و کشمیر میں پیدا شدہ اس تنازع کی ایک بنیادی وجہ پرجا پریشد اور جن سنگھ کی قائم کردہ شورش کا ردّعمل ہے۔ جموں میں اس کے اثرات چاہے جو بھی رہے ہوں، لیکن کشمیر اور بھارت کے دیگر علاقوں میں اس کا نتیجہ بہت بھیانک شکل میں سامنے آ رہا ہے۔ کشمیر کے باشندگان نے، جن میں90 فیصد سے زیادہ مسلمان ہیں، ہندوستان کا فرقہ پرست چہرہ دیکھ لیا ہے، اور وہ اس سے خوف زدہ ہوگئے ہیں۔ ان کی ہندوستان کے ساتھ جڑے رہنے کی خواہش کافی حدتک گر چکی ہیں اور اکثریت کا تو اب یہ ماننا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ مکمل انضمام کی صورت میں ان کے حقوق پامال کیے جائیں گے۔ لوگوں کے اندر ابھر رہے، ان جذبات کا مقابلہ کرنا کافی مشکل ہیں۔ کوئی دو رائے نہیں کہ کشمیر کو ہم صرف طاقت کے بل بوتے پر قابو میں نہیں رکھ سکتے۔ اگر ہمیں محسوس ہوا کہ وہاں کے لوگ ہمارے ساتھ نہیں رہناچاہتے تو ہمارے پاس بجائے انخلاء کے اور کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا"۔ اگر کشمیر کو سنگھ پریوار سے کچھ ملا ہے توبس یہی کچھ۔

(مضمون ہذا "Frontline" کے 13 تا 26 مئی 2017ء کے شمارے میں "Kashmir's Autonomy" کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔ وسیم یوسف مکائی)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com