کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پر رضا مند - اسماعیل احمد

فرانسیسی فلسفی والٹیئر نے کہا تھا" لوگوں کے اندر مذہبی جذبات پیدا کرتے رہو تاکہ ان کے اندر بغاوت پیدا نہ ہو"۔ قرنوں پر پھیلی تاریخ عالم اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ حکمران اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لیے مذہب کا سہارا لیتے ہیں۔حکمران طبقات کو اس مقصد کے حصول کے لیے علما بھی باآسانی دستیاب ہوتے ہیں۔ضروری نہیں کہ حکمرانوں کو حاکمیت کے لیے لازمی سمجھنے کا علما کا نقطہ نظر ہر بار بدنیتی پر مبنی ہو۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ حکمران کو مسندِ اقتدار کے لیے لازم و ملزوم سمجھنے والے مقتدارنِ مذہب نیک نیتی سے اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔

آج کل ایک انتہائی یک رخہ موقف اہل حکومت کے باب میں قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور بدقسمتی سے اس پر نہایت ہوشیاری سے مذہبی فکر کارنگ بھی چڑھایا جاتا ہے۔ اور سب سے زیادہ یہ کوشش ان ملکوں میں ہو رہی ہے جو مسلمانوں کی اکثریت پر مشتمل ہیں اور جہاں کئی صدیوں سے اسلام پر عمل نہیں ہو رہا، اسلام کا استعما ل ہو رہا ہے۔ پاکستان میں اس فکر کا اظہار جس پیرایہ بیان میں کیا جا رہا ہے وہ کچھ اس طرح ہے کہ "قیام پاکستان سے لیکر آج تک بیشمار صدر اور وزیراعظم آئے اور گئے لیکن کوئی خاطر خواہ تبدیل نہیں آئی بلکہ حالات مزید خراب ہوتے چلے گئےاس کی وجہ یہ ہے کہ قوم سیاسی معاملات میں دلچسپی لینے کی بجائے اپنی اصلاح پر توجہ دے۔ جب فرد اپنے آپ کو ٹھیک کرے گا تو معاشرہ ٹھیک ہو گا۔ معاشرہ ٹھیک ہو گا تو بالآخر اچھے حکمران بھی نصیب ہوں گے۔ "

بظاہر مندرجہ بالا استدلال نہایت وزنی محسوس ہوتا ہے، لیکن سماعتوں میں رس گھولنے والی یہ دلیل یکسر حقائق کے منافی ہے، یہ طرز فکر اگر پیدا ہو جائے تو معاشروں پر جمود طاری ہو جائے، خوب سے خوب تر کی جستجو ختم ہو جائے، نسل در نسل موروثیت جائز ٹھہرے، بڑے بڑے ظالم اور جابر باد شاہ اور شہنشاہ اس دلیل کی رو سے تاحیات "ظلِ الہٰی " ٹھہریں اور قومیں اپنے آپ کو ایک نہ ختم ہونے والی غلامی کے حوالے کر دیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کشتی کے محافظ ہی کشتی کو ڈبوتے ہیں ۔ شبیر بونیری

کوئی بھی قوم اور معاشرہ کسی بھی دور میں دو طرح کے افراد پر مشتمل رہا ہے، اچھے اور برے۔ اچھا آدمی اپنی ذمہ داریاں بطریق ِ احسن پوری کرتا ہے۔ اسلام کی رو سے بات کریں تو اچھا آدمی خوف ِ خدا اور فکر آخرت رکھنے والا ہوتا ہے۔ یہ عقائد اس کے اعمال پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ وہ اپنے اور اپنے بچوں کے لیے رزقِ حلال کماتا ہے، کسی کا حق نہیں مارتا، دوسرے لوگوں کے ساتھ اس کا رویہ نہایت اچھا ہوتا ہے۔ الغرض مجموعی طور پر وہ شخص اعلیٰ انسانی اوصاف سے لبریز، اپنے معاشرے کے لیے سراپا خیر ہوتا ہے۔ یہی شخص جب اپنے ملک کے حالات کے پیشِ نظر کسی تبدیلی کی خواہش کرے، اس کے لیے تگ و دو کرے،اس کی یہ خواہش ہو کہ اس کا حاکم بھی اچھا آدمی ہو، سچا ہو، دیانتدار ہو، تو اس" اچھے آدمی" کا یہ مطالبہ کس لحاظ سے غلط ہے؟ پاکستان کے تناظر میں بات کی جائے تو یہاں جو بھی سربراہانِ مملکت آئے ان کی خرابیوں پر نقطہ چینی کیوں نہ کی جائے، ان سے زیادہ بہتر حکمرانوں اور طرزِ حکمرانی کا مطالبہ کیوں نہ ہو، صرف اس لیے کہ ابھی سارا معاشرہ پوری طرح ٹھیک نہیں ہے؟ بہتر حکمران کو معاشرہ کے اخلاقی لحاظ سے اچھا ہونے کے ساتھ مشروط کر دیا جائے۔کسی معاشرے کے اچھے افراد، اس معاشرے میں موجود برے افراد کی وجہ سے برے حاکموں کو برداشت کرتے رہیں؟ اسلامی لحاظ سے اس استدلال کی کوئی گنجائش ہوتی، تونواسہ رسولﷺ کبھی بھی کربلا میں اپنی اور اپنے خاندان کی قربانی پیش نہ کرتے۔

معاشرے میں پائے جانے والے دیگر افراد جو برے لوگ ہیں۔ اخلاقی لحاظ سے خرابیوں کا شکار ہیں ان سے بھی بہتر حکمران کی خواہش اور برے حکمران کی خرابیوں پر نقطہ چینی کاحق نہیں چھینا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   کرکٹ کی فضا، سیاست کی وبا - اسماء طارق

پہلے خلیفہ راشد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے منصب خلافت سنبھالنے کے بعد جو پہلا خطبہ ارشاد فرمایا، اس میں ہر نیک و بد کو یہ حکم دیا تھا:" اگر میں ٹھیک کام کروں میری مدد کیجیے اور اگر غلط کام کروں مجھے سیدھا کردیجیے۔ سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت "۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مالِ غنیمت میں ملنے والے کپڑوں کے حوالے سے سوال کرنے والاشخص، کیا ایمان اور اخلاق میں حق اور باطل میں فرق کرنے والےعمر کی برابری کا تھا، مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو بھی اطمینان بخش جواب دیا۔آنحضرتﷺ کا یہ فرمانِ عالیشان ہم تما م انسانوں کی رہنمائی کے لیے کافی ہونا چاہیے، "سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنےانصاف کی بات کہنا ہے۔"

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.