رب قریب تر ہے - سعدیہ نعمان

آج پھر سے عبداللہ کی فرمائش تھی کہ اسے حضرت یونس علیہ السلام کی کہانی سننی ہے، جب وہ مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے تھے۔
یہ کہانی تب سے اس کی پسندیدہ ہے جب وہ ڈیڑھ سال کا تھا، محض چند بےمعنی لفظوں اور اشاروں سے بات سمجھاتا تھا۔
تب بھی اس کہانی کو وہ دلچسپی سے سنتا، اور ہاتھ کے اشاروں سے پوری اسٹوری سناتا۔
اب چھ سال کے قریب عمر میں بھی اس کہانی کی دلچسپی اسی طرح برقرار ہے۔

فرق یہ ہے کہ اب وہ کہانی سننے کے ساتھ ساتھ اس کو سمجھنا بھی چاہتا ہے، سوال اٹھاتا ہے۔
حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی نے کیوں نگل لیا تھا؟
وہ اتنے دن اور راتیں وہاں کیسے زندہ رہے؟
پھر باہر کیسے آئے؟

"بس ان سے ایک بھول ہوگئی تھی
پھر انھیں فوری احساس ہو گیا تھا
اور انھوں نے اللہ سے معافی مانگ لی تھی۔"

آج بھی وہ کہانی سن کے سو چکا تھا، لیکن میری نیند کھو چکی تھی۔
اک بے چینی تھی اور اداسی تھی۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم مچھلی کے پیٹ میں بند ہو جاتے ہیں، ہر طرف اندھیرا چھا جاتا ہے، کہیں سے کوئی رستہ نکلتا نظر نہیں آتا، منظرنامہ ایسا بن جاتا ہے کہ کوئی تدبیر کارگر ہوتی دکھائی نہیں دیتی، بےبسی انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔
پھر اپنی خطائیں یاد آتی ہیں،
سارے بلنڈر،
بے وقوفیاں،
خدا فراموشی اور خود فراموشیاں،
آن کی آن میں دل موم ہوتا ہے اور
وہ یاد آتا ہے جسے بھلا دیا تھا۔

بار بار وہ آیت ذہن میں گردش کرتی ہے
"تم نے تو قدر ہی نہ کی اللہ کی
جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔ (الحج 74)

آہ!
بے وقوف انسان تو نے قدر ہی نہ جانی اپنے رحمان و رحیم رب کی،
جو غالب بھی ہے اور حکمت والا بھی،
جو مالک بھی ہے اور غفور بھی،
وہی ہے جو رب ہے مالک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
سب سوتے ہیں تو وہ جاگتا ہے۔
جب سب اسباب ختم ہو جاتے ہیں، کچھ سجھائی نہیں دیتا تو وہ بچا لیتا ہے۔
جب کوئی نہیں ہوتا تو وہ ہوتا ہے،
جب سب ساتھ چھوڑ جاتے ہیں تو وہ ساتھ نبھاتا ہے،
جب سب کچھ ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے تو وہ تھام لیتا ہے جوڑ دیتا ہے۔
طوفانوں میں کشتی گھر جاتی ہے تو مت بھولو کہ وہی ہے جو نکال لاتا ہے۔
پھر بے وفا کیوں بنیں؟ وفادار کیوں نہ بنیں؟
ناشکری کیوں کریں؟ شکرگزار کیوں نہ بنیں؟
ناقدری کر نے والے کیوں بنیں؟ قدر دان کیوں نہ بنیں؟
اس سے محبت کا تقاضا ہے کہ وہ پکارے تو لبیک کہیں اور دیوانہ وار کہیں،
کہ وہی ہے جو مایوس نہیں کرتا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا تو ایسے شخص کو دنیا میں بھیجے گا جو قتل و غارت گری کرے گا؟ - ڈاکٹر محمد عقیل

پھر ندامت میں ڈوبا دل جھک جاتا ہے،
اے اللہ!
میں نے خود پہ ظلم کیا اور تیری ذات پاک ہے، تیرے سوا کوئی نہیں،
جو اس بند کمرے سے، اس اندھیرے غار سے، اس مچھلی کے پیٹ سے نکال سکے
آسانیاں عطا کر سکے

لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین

پھر محسوس ہوتا ہے وہ قریب ہی ہے،
سن رہا ہے دیکھ رہا ہے،
تھپکی دے رہا ہے، تسلی اور دلاسا دے رہا ہے،
ہاتھ تھام رہا ہے، رستے سجھا رہا ہے، الجھی ڈور سلجھا رہا ہے۔

"سنو میرا بندہ جب میرے بارے میں تم سے سوال کرے تو
میں قریب ہی ہوں
پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں
جب بھی مجھے بلاتا ہے مجھ سے دعا کرتا ہے
میں قبول کرتا ہوں
(لیکن دیکھو)
میرے بندے وہ ہیں کہ پھر میر ی اطاعت کریں
مجھ پہ ایمان لائیں
تاکہ میں انھیں ہدایت کے سیدھے اور سچے راستہ پہ رکھوں۔''
مفہوم آیت البقرہ 186

Comments

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان سعودی عرب میں مقیم ہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا، طالبات کے نمائندہ رسالہ ماہنامہ پکار ملت کی سابقہ مدیرہ اور ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں خواتین کی ملک گیر اصلاحی و ادبی انجمن حریم ادب کی ممبر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.