ملّی مسلم لیگ: وجوہات، خدشات اور امکانات - فاروق اعظم

پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر "ملّی مسلم لیگ" کے نام سے نئی سیاسی جماعت کا اضافہ ہوا ہے، جس کے صدر سیف اللہ خالد الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن کے لیے درخواست جمع کراچکے ہیں، جو تاحال پروسس میں ہے۔ ملّی مسلم لیگ کے قیام پر سیاسی و صحافتی حلقوں میں ملا جلا ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بعض اس کا خیر مقدم کر رہے ہیں اور کچھ تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ملّی مسلم لیگ کے قیام کے بعد اس کے تین مختلف پہلو زیر بحث ہیں۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ وہ کیا وجوہات تھیں، جن کی بنا پر ایم ایم ایل کا قیام ضروری سمجھا گیا۔ دوسرا پہلو نومولود جماعت سے متعلق خدشات پر مبنی ہے اور تیسرا پہلو اس کے امکانی نتائج سے بحث کر رہا ہے۔

جہاں تک ملّی مسلم لیگ کے قیام کا معاملہ ہے تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ سیاسی جماعت کی تشکیل یا سیاسی جدوجہد کرنا ہر شہری کا حق ہے۔ الیکشن کمیشن میں اس وقت 345 سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں۔ دراصل ملّی مسلم لیگ کے قیام کی وجوہات اس لیے زیادہ زیر بحث ہیں کہ اسے جماعة الدعوة کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے اور یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ کشمیر کے معاملے پر توانا آواز رکھنے کی وجہ سے یہ جماعت بین الاقوامی سطح پر معتوب ٹھہری ہے۔ جماعة الدعوة کا تحریک آزادی کشمیر یا رفاہ عامہ کے لیے کردار سبھی سراہتے ہیں، تاہم سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ ماضی میں پارلیمانی سیاست سے دور رہنے والی جماعت اپنی پالیسی بدلنے پر مجبور کیوں ہوئی؟ یہ بات درست ہے کہ ملّی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد اپنی پریس کانفرنسز اور انٹرویوز میں اس بات کا اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ نظریہ پاکستان کی بنیاد پر ایک نئے سیاسی اتحاد کی تشکیل کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے حافظ محمد سعید کی نظر بندی کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا ہے کہ ان کی نظر بندی کے خاتمے پر دیگر سیاسی و مذہبی رہنماﺅں کی طرح ان سے بھی مشاورت جاری رکھیں گے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملّی مسلم لیگ اپنے معاملات اور فیصلوں میں مکمل آزاد ہے، اس کا اپنا نظم اور منشور ہے، جس پر قواعد و ضوابط کے مطابق عمل پیرا رہیں گے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جماعة الدعوة تحلیل نہیں ہوئی، اس کی علیحدہ شناخت برقرار ہے اور وہ حسب سابق اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ جہاں تک پارلیمانی سیاست میں کردار ادا کرنے کا تعلق ہے تو وہ ملّی مسلم لیگ کی قیادت کرے گی۔ پالیسی بدلنے کے ضمن میں سیف اللہ خالد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے نظریات نہیں بدلے بلکہ نئی حکمت عملی اپنائی ہے۔

خیر یہ ایک فکری بحث ہے، جب تک دلائل رہیں گے اس پر بحث جاری رہے گی۔ ہمارے پیش نظر ایک اور پہلو توجہ طلب ہے۔ یہ بات بڑے زور و شور سے بیان کی جا رہی ہے کہ ملّی مسلم لیگ کے قیام میں اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ کارفرما ہے۔ یہ ایک مفروضہ تو ہوسکتا ہے حتمی بات نہیں۔ پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر اس طرح کے خیالات پہلے بھی جگہ پاتے رہے ہیں۔ اس سے قبل متعدد بار محض مفروضوں اور اندازوں کی بنیاد پر شخصیات، تنظیموں اور اداروں کو مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ پاکستان کے نامور بیوروکریٹ و ادیب قدرت اللہ شہاب، شہاب نامے کے پہلے باب "اقبال جرم" میں لکھتے ہیں کہ: "بعض غلط فہمیوں اور مفروضوں کی بنا پر میرے ماتھے پر کچھ ایسے کلنک کے ٹیکے لگ چکے ہیں' جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ مثلاََ میرے محترم اور مہربان بزرگ ابوالاثر حفیظ جالندھری نے کسی شاعرانہ موڈ میں یہ کہہ دیا: جب کبھی انقلاب ہوتا ہے، قدرت اللہ شہاب ہوتا ہے۔ اس شعر کا بہت چرچا ہوا اور یہ تاثر دے گیا کہ وطن عزیز میں "انقلاب" کی آڑ میں جتنی غیر جمہوری کارروائیاں ہوتی رہی ہیں، ان سب میں میرا کچھ نہ کچھ ہاتھ تھا"۔ لہٰذا مفروضوں کی بنیاد پر مشہور کی گئی بات کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ تحقیق کے بعد ہی کسی مفروضے کے درست یا غلط ہونے کا نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔

اب ایک نظر ان خدشات پر ڈالتے ہیں، جو ملّی مسلم لیگ کے قیام کے بعد بڑی شدومد سے بیان کیے جارہے ہیں۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ جب نیشنل ایکشن پلان کے تحت یہ طے کیا جاچکا کہ کوئی کالعدم تنظیم نام بدل کر کام نہیں کرسکتی تو پھر جماعة الدعوة ملّی مسلم لیگ کے نام سے متحرک کیسے ہو رہی ہے؟ مذکورہ رائے رکھنے والوں کو اپنا ریکارڈ درست کرلینا چاہیے۔ جماعة الدعوة نیکٹا کی مرتب کردہ فہرست کے مطابق واچ لسٹ پر ضرور ہے، کالعدم ہرگز نہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس سے قبل یہ کہا جاتا تھا کہ پاکستان میں "غیر ریاستی عناصر" کھلے عام جلسے کر رہے ہیں اور ہر آفت یا حادثے کی جگہ پر کام کرتے نظر آتے ہیں۔ اب جبکہ وہ پارلیمانی سیاست کی طرف قدم بڑھا چکے، باالفاظ دیگر "ریاستی عناصر" بن رہے ہیں، تب بھی پریشانی کم نہیں ہوئی۔

دراصل ہمارے دانش ور دو متضاد رویے اپنا چکے ہیں۔ وہ افراد جنہوں نے ماضی میں ریاست کے خلاف اقدامات کیے یا اس کی رٹ کو چیلنج کیے رکھا، وہ قومی دھارے میں شامل ہوسکتے ہیں، لیکن وہ لوگ جنہوں نے ریاست کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا، صرف بیرونی دباﺅ پر قصور وار ٹھہرے ہیں، وہ مرکزی دھارے میں شامل نہیں ہوسکتے۔ اگر بلوچستان کے فراری، کراچی کے امن کو نقصان پہنچانے والے یا فاٹا میں ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے قومی دھارے میں شامل ہوسکتے ہیں، تو پھر ریاست میں فلاح عامہ کے لیے فعال رہنے والوں کو مرکزی دھارے میں کردار ادا کرنے سے کیوں کر روکا جاسکتا ہے؟ لہٰذا کالعدم یا غیر ریاستی عناصر کے مذکورہ راگ کو ہرگز درخور اعتنا نہیں سمجھنا چاہیے۔

اب تیسرے پہلو کی جانب بڑھتے ہیں کہ ملّی مسلم لیگ' پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر کیا اثرات مرتب کرسکتی ہے؟ نتائج یا اس کے ممکنہ اثرات پر بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔ ویسے بھی سیاست میں اپ سیٹ کے امکانات ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ اس لیے اس ضمن میں صرف اندازے ہی لگائے جاسکتے ہیں اور اندازوں کی عمر کا بھی کوئی تعین نہیں کیا جاسکتا۔ کسی بھی وقت کوئی اندازہ زمین بوس ہوسکتا ہے۔ تاہم یہ بات مبنی برحقیقت ہے کہ پاکستان میں مذہبی جماعتوں نے انتخابی سیاست میں کبھی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کی، الا یہ کہ انہیں انتخابی اتحاد میں پرو دیا جائے۔ ملّی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ نظریہ پاکستان کی بنیاد پر نئے سیاسی اتحاد کے لیے کوشاں ہیں، اگر عام انتخابات سے قبل وہ اس میں کامیاب ہوگئے تو یہ ان کی بڑی کامیابی ہوگی۔ اس تناظر میں ملّی مسلم لیگ کے لیے ووٹرز کی ذہن سازی بھی کسی بڑے چیلنج سے کم نہ ہوگا۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ووٹ دینے کے قابل افراد کی کل تعداد 11کروڑ، 43لاکھ 9ہزار 516 ہے، جن میں سے 8کروڑ 61لاکھ 89ہزار 802 ووٹ رجسٹرڈ ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ قریباََ 3کروڑ افراد کے ووٹ رجسٹرڈ کیوں نہیں ہیں؟ اس کی وجوہات متعدد ہوسکتی ہیں، جن میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک بڑی تعداد انتخابی سیاست کو اپنے مسائل کا حل نہیں سمجھتی، اس لیے وہ اس پروسس کے قریب نہیں آئے۔ واضح رہے کہ 2013ءکے عام انتخابات میں ووٹ کا حق استعمال کرنے والوں کی کل تعداد 4کروڑ 62لاکھ 17ہزار 482 تھی۔ باالفاظ دیگر الیکشن میں ٹرن آﺅٹ 53 فیصد تھا۔ اس طرح 47 فیصد ووٹرز جنہوں نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا، ان کے عدم دلچسپی کی وجوہات بھی متعدد ہوسکتی ہیں، جن میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مذکورہ افراد انتخابی سیاست پر یقین نہیں رکھتے تھے، اس لیے وہ ووٹ دینے بھی نہیں آئے۔

اس لیے یہ کہنا درست ہوگا کہ ملّی مسلم لیگ کو انتخابی جدوجہد میں متعدد مشکلات درپیش ہوسکتی ہیں۔ اس کا اندازہ لاہور کے حلقہ این اے 120 میں ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ جہاں تک مذکورہ حلقے میں ملّی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ امیداوار محمد یعقوب شیخ کی کامیابی کی بات ہے، یہ تو 17 ستمبر کی شام ہی معلوم ہوسکے گا۔ این اے 120 کا معرکہ ملّی مسلم لیگ کے لیے فی الحال ٹیسٹ کیس ہی ہے۔ اصل مقابلہ 2018ءکے عام انتخابات میں ہوگا۔ اگر ایم ایم ایل اپنے اہداف اور مقاصد میں کامیاب ہوگئی تو یہ پاکستان میں موروثی سیاسی جماعتوں کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ملّی مسلم لیگ آئندہ 8 ماہ میں صرف ن لیگ کو پنجاب میں ٹف ٹائم دے گی یا پھر سندھ میں پیپلز پارٹی کے ووٹ بنک پر بھی اثر انداز ہوگی؟