کیا فیس بک آلہ تبلیغ ہے؟ حافظ محمد زبیر

جدید ذرائع اور وسائل (modern techniques and tools of communications) کو تبلیغ کا ذریعہ بنانے کے بارے ہمیشہ اختلاف رہا ہے۔ امت کی اکثریت اس کی قائل رہی ہے کہ جدید ذرائع ابلاع کو دعوتی اور تبلیغی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے جبکہ امت کا ایک طبقہ ہر دور میں کسی نہ کسی پہلو سے اس رویے پر تنقید کرتا رہا ہے۔ یہ بحث لاؤڈ اسپیکر سے شروع ہوئی، پھر تصویر، کیمرہ، ٹیلی ویژن سے ہوتی ہوئی فیس بک تک بھی پہنچ چکی ہے۔

"انصاری" مکتب فکر کی سوچ کا خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ یہ ذرائع ابلاغ مغربی فکر وفلسفہ کی پیداوار ہیں لہذا ان سے کسی بھی قسم کی خیر کی توقع رکھنا عبث اور بے کار ہے، یہ شر محض ہیں۔ ہمیں اس بحث میں ابھی نہیں جانا کہ یہ ذرائع ابلاغ مغربی فکر وفلسفہ کی پیداوار ہیں یا انسانی جبلتوں اور ضرورتوں کے تقاضوں کے نتائج تھے۔ ہمیں اس وقت صرف ان وسائل ابلاغ کے ذرائع تبلیغ ہونے کے امکانات پر بحث کرنی ہے۔

دیکھیں، ہمیں اس سے انکار نہیں ہے کہ فیس بک کے استعمال کے بہت نقصانات ہیں اور جو لوگ ہماری ٹائم لائن کو روزانہ وزٹ کرتے ہیں تو انہیں اس بارے کچھ نہ کچھ پڑھنے کو ملتا ہی رہتا ہے۔ لیکن یہی تمام نقصانات علماء ٹیلی ویژن میں بھی گنواتے رہے اور اس سے بہت پہلے لاؤڈ اسپیکر میں بھی۔ بھئی، سادہ سی بات ہے کہ لاؤڈ اسپیکر لگا کر آپ پورے محلے میں اپنی تقریر کی آواز کیوں پہنچانا چاہتے ہیں؟ یہ ریاکاری نہ بھی ہو تو اس کی بنیاد تو اس کے استعمال سے پڑ ہی جاتی ہے۔

علماء کی اکثریت کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی میں استعمال ہونے والے ذرائع ابلاغ "ویلیو نیوٹرل" ہیں۔ "ویلیو نیوٹرل" کا آسان سا مطلب یہ ہے کہ آپ اس کو مثبت استعمال کر لیں تو اس میں خیر ہے اور منفی استعمال کر لیں تو اس میں شر ہے۔ اب یہاں ایک لایعنی بحث یہ چھیڑ دی جاتی ہے کہ یہ ذرائع ابلاغ "ویلیو ںیوٹرل" کیسے ہو سکتے ہیں جبکہ ان کے بنانے والوں کے مقاصد منفی تھے؟ تو بھئی جس نے "تلوار" بنائی تھی تو کیا اس کا مقصد بہت نیک تھا؟ ظاہری بات ہے کہ قتل کرنے کے لیے ہی بنائی تھی۔ آپ نے اس کا استعمال مثبت کر لیا تو ٹھیک ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   فیس بک نقصان دہ اور واٹس ایپ صحت کے لیےمفید کیسے ؟

پھر ایک بحث یہ کی جاتی ہے کہ اگر کسی چیز کا غالب استعمال شر کے لیے ہو جائے تو اسے خیر کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ تو کلاشنکوف اور میشن گن سے لے کر میزائل اور جنگی جہازوں تک بلکہ تمام آلات جنگ وجدال کا غالب استعمال دنیا میں شر کے لیے ہو رہا ہے یا خیر کے لیے؟ تو سب کو آگ لگا دیں کیا؟ مجھے "انصاری" مکتب فکر کی کچھ باتوں سے اتفاق ہے کہ تنقید ہمیشہ سو فی صد غلط نہیں ہوتی لیکن مجھے جس بات پر غصہ آتا ہے، وہ یہ کہ اس مکتب فکر نے بہت ہی سطحی ذہن اور ردی دلیلوں کے ساتھ ٹیکنالوجی کے رد میں ایک موقف اپنانے اور پھیلانے کا فریضہ اپنے سر اٹھا رکھا ہے۔ چلیں، یہ اپنا موقف ایک رائے کے طور بیان کرتے رہتے تو بھی غنیمت تھی لیکن اب تو اپنی رائے میں قطعیت اس قدر غالب ہے کہ ان فریق مخالف باقاعدہ گناہ گار نظر آنے لگا ہے۔

پھر یہ ہے کہ تبلیغ صرف خیر کو پھیلانے کا نام نہیں ہے بلکہ شر کی روک تھام بھی تبلیغ میں شامل ہے۔ تو تبلیغ کی ایک صورت تو یہ ہے کہ آپ لوگوں کو دین پر لائیں اور دوسری صورت یہ ہے کہ آپ لوگوں کو دین سے دور جانے سے روکیں۔ پہلی صورت میں آپ لوگوں کو مسلمان کریں گے اور دوسری صورت میں الحاد اور فتنوں کی طرف جانے سے روکنے کا سبب بن جائیں گے۔ دوسری قسم کی تبلیغ ان جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعہ ہی سے ممکن ہے۔ ایک شخص فیس بک پر بیٹھ کر الحاد کے فتنے کا شکار ہوا اور ہم اسے مسجد میں بیٹھ کر اس فتنے سے بچانا چاہتے ہیں؟

تو چلیں ٹیلی ویژن کو اس معنی میں آلہ تبلیغ نہ بھی مانیں کہ اس سے کوئی خیر پھیلے گا، اگرچہ بہت خیر پھیلتا ہے، لیکن اس معنی میں ٹیلی ویژن کو آلہ تبلیغ مانے بغیر چارہ نہیں ہے کہ اسے شر کا مقابلہ کر کے اس کے اثر کو کم کرنے کے لیے ایک ذریعے کے طور استعمال کر لیا جائے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک، ڈاکٹر اسرار احمد، مولانا طارق جمیل صاحب وغیرہ کے ویڈیو بیانات سے خیر کے پھیلنے کا انکار کوئی ایسا شخص ہی کرے گا جو ضدی اور ہٹ دھرم ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   تضحیک ، تمسخر حرام ہے - یمین الدین احمد

باقی یہ بات درست ہے کہ لاؤڈ اسپیکر پر کھڑے جاہل مولوی، چینل پر آنے والے اکثر مداری اور فیس بک کے اکثر لکھاری ان ذرائع ابلاغ کے ذریعے دین کے نام پر خیر سے زیادہ شر پھیلا رہے ہیں، اپنے نفس میں بھی اور ارد گرد کے ماحول میں بھی۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ان تمام ذرائع ابلاغ کو شر محض ہی قرار دے دیا جائے اور یہ دعوی کیا جائے کہ تبلیغ کا ایک ہی طریقہ مسنون ہے کہ ذاتی ملاقات کی جائے تو پھر ہی کوئی اثر ہو گا۔ جن لوگوں کو فیس بک کے استعمال سے کوئی خیر پہنچا ہو تو وہ ضرور کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔

باقی میں فیس بک کے مفاسد کا انکار نہیں کرتا، لیکن یہ مفاسد کہاں نہیں ہیں، مصلے پر بیٹھ جاؤ گے تو وہاں بھی ہیں، یہی وجہ ہے کہ تبلیغ والے جب مسجد سے گشت کے لیے نکلتے ہیں تو ان مفاسد سے بچنے کے لیے ہدایات جاری کرتے ہیں کہ بدنظری نہیں کرنی، دعوت دیتے وقت اگر کوئی الجھے تو اس سے بحث مباحثہ نہیں کرنا، صرف ایک بھائی نے گفتگو کرنی ہے وغیرہ وغیرہ۔ تو مفاسد تو لائیو میں بھی ہیں لہذا اصل چیز تربیت ہے۔ بس لوگوں کی تربیت کریں کہ وہ ان ذرائع کے استعمال میں ان کے نقصانات سے بچ سکیں۔
مثلا یہ کہ کبھی دو چار دن کے لیے فیس بک چھوڑ دیں اور یہ بہت ضروری ہے بلکہ فرض ہے۔ کبھی کوئی پوسٹ شیئر کر کے اب اگلے دن ہی اس کو دیکھیں، کبھی دو دن تک نوٹیفکیشن نہ دیکھیں، کبھی ایک دو دن انباکس میسنجر نہ دیکھیں، کبھی ایک دو دن لائکس اور شیئرز کی طرف توجہ نہ دیں جو آپ کی پوسٹ کو ملیں اور یہ کام وقفے وقفے سے کرتے رہیں گے تو ہی اس کے نقصانات سے بچ پائیں گے۔ اور کبھی دو نفل اس مقصد سے پڑھ لیں کہ اللہ عزوجل اس کے نقصانات سے بچائے، وغیرہ وغیرہ

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.