ہمارا میڈیا اور نوجوان - صالحہ سراج

حالیہ دنوں بیٹھے بٹھائے ہمیں ہم ٹی وی چینل، جو کہ ایک فیملی چینل ہونے کا دعویدار ہے، کے ایک پروگرام ٹونائٹ ودھ ایچ ایس وائی Tonight With HSY دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ پروگرام میں مدعو کردہ مہمان حسبِ معمول و حسبِ عادت شوبز کی دنیا سے ہی متعلق تھے۔ جن میں سے ایک اظفر رحمٰن کے نام سے جانے جاتے ہیں اور دوسری خاتون ماورا حسین اداکاری کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ پروگرام کے دوران کہیں بھی کوئی ایک بھی مستقل گفتگو اخلاق و آداب سے عبارت رہتی تو ممکنہ طور پر تعریفی کلمات ادا ہو ہی جاتے۔ مگر میزبان و مہمان کے مابین مکالمے، اخلاق سے گری ہوئی گفتگو، نازیبا اشارے و کنائے، جس پر میزبان کی جانب سے تحسین و ستائشی انداز، انعامات سے نوازنا،مکمل اعتماد کے ساتھ بےحیائی سے لبریز جوابات، خاتون مہمان کا کسی ہندو اداکار کے لیے نہایت غیر اخلاقی انداز سے نامناسب پیغام اور مرد مہمان کا ایک پڑوسی ملک کی ہندو اداکارہ کے لیے اخلاق باختہ کلمات نے پروگرام کے سرسری طور پر دیکھنے کے عمل کو روک ڈالا۔

امرِ واقع یہی ہے کہ کسی بھی معاشرے اور قوم کی ترقی و تعمیر، اخلاقی تربیت و استحکام میں مروّجہ میڈیا اور ذرائع ابلاغ و نشریات نہایت مؤثر و دور رس کردار ادا کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ انسان ماضی پرست واقع ہوا ہے، شاید ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ گزر جانے والے لمحے اپنی معنویت اور نتائج کے اعتبار سے معتبر ہوا کرتے ہیں۔

اسّی اور نوّے کی دہائی میں پروان چڑھنے والی نسل آج بھی پاکستان ٹیلی ویژن کے عمدہ تفریحی و تعلیمی و اخلاقی اقدار سے مربوط نشریات اور ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے علمی و ادبی، نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کے حامل پروگرامات کو فراموش نہیں کرپائی۔ اُس وقت کے ذرائع ابلاغ و نشریاتی اداروں سے ترتیب پانے والے برامج خواہ وہ ڈرامائی تشکیل کی صورت ہوں یا ادبی و دینی پیشکش۔ آج بھی اس عہد کی پروردہ نسل اپنی شخصیت کے نہاں خانوں میں اس کے اثرات بخوبی محسوس کرتی ہے اور عصر حاضر میں اس زرّیں و قابلِ قدر دور کو یاد کرتے ٹھنڈی آہیں بھرتی ہے۔

یہ ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے ہی رہینِ منت تھا کہ جس نے اردو ادب کے اوجِ کمال کو چھونے والے ادیب، شعراء، ڈرامہ نگار، دانشور، سیّاح و مصنفین کو عوام الناس میں مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچایا۔ وقار و شائستگی، تحمل و تدبر، صبر و برداشت اور بردباری سے معمور ان نفوس میں کہیں ہمیں اشفاق احمد تلقین شاہ کی صورت اک عجب دلپذیر آہنگ میں سنائی دیتے ہیں تو کہیں بانو قدسیہ اپنے لازوال ڈراموں کی روشنی میں ہر گھر کے فرد کے دل میں اترتی چلی جاتی ہیں۔۔تو ایک جانب حسینہ معین شستہ و شائستہ انداز میں سماجی ناہمواری کو ڈراموں میں اس طرح پیش کرتی ہیں کہ مریض سے نفرت کے بجائے ہمدردی کا جزبہ اجاگر ہوتا ہے۔ بنا کسی دینی مبادیات و احکامات کو تشکیک و تضحیک کا نشانہ بنائے ڈرامہ بڑی خوبی کے ساتھ ایک اچھے نتیجہ کو دکھاتے ہوئے اختتام پذیر ہوجاتا۔ ایک جانب صبح کی نشریات میں ہمیں تلاوتِ قرآن کریم کی تدریس کے ذریعے قرآن سے قربت کا درس ملتا تو کہیں چچا جی مستنصر حسین تارڑ نہایت عمدہ، پُرمزاح، علمی و معلوماتی انداز لیے پردہ اسکرین پر جلوہ افروز ہوتے۔ شام کی نشریات میں نیلام گھر میں طارق عزیز ایک الگ ہی سماں باندھے موجود ہوتے تو کہیں زاویہ کی صورت اشفاق احمد متین و خوبصورت محفل سجائے محو گفتگو نظر آتے۔ دوسری جانب اسکول و کالج کے طلباء روشنی پروگرام میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے۔ تو کہیں شب آٹھ بجے نشر ہونے والے کھیل سڑکیں سنسان کردینے کا باعث بنتے۔ سماجی اقدار کے دلکش نمائندہ ڈرامے کہ پڑوسی ممالک تک جن کے معترف و منتظر رہا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   میڈیا بازاری بن گیا ہے - حبیب الرحمن

اُس معاشرے میں ہم رواداری، برداشت، اخلاقیات اور دینی و ثقافتی روایات سے مزین افراد اپنے ارد گرد با آسانی محسوس کرتے تھے۔ باہمی محبت و اپنائیت، تہذیب و تمدن کی قدروں سے آشنا کشادہ و وسیع القلب معاشرہ یوں اچانک کیسے معدوم ہوتا چلا گیا؟

عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

معاشرے کی اس اندوہناک تنزلی میں جہاں اور بہت سے عوامل (Factors) کار فرما ہیں وہیں ایک بنیادی سبب ذرائع ابلاغ کا مادر پدر آزاد ہوجانا ہے۔

یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ حدود و قیود، اصول و ضوابط، اوامر و نواہی انسانی معاشرے کو اپنی بنیادوں سے جڑا رہنے، تعمیر و ترقی میں آگے بڑھنے اور اخلاقیات و سماجیات میں توازن قائم رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ کوئی بھی ادارہ آزادیء اظہارِ خیال کے عنوان سے حدود و قیود کی پائمالی کو اپنی شان سمجھنے لگے، اخلاقیات کو گزرے زمانے کی بوسیدہ و دقیانوسی روایت گردانیں، شرم و حیا، لحاظ و مروت، صبر و برداشت، گفتگو میں ادب و آداب کو ملحوظ خاطر رکھنے کو پرانے وقتوں کی باقیات متصور کرے تو معاشرہ ایسے ہی نتائج سے ہمکنار ہوا کرتا ہے جس سے آج ہم اور ہماری نسل برسرِ پیکار ہے۔

بہت ہی دکھ و الم کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب ہم اپنے قومی نشریاتی اداروں کا جائزہ لیں تو ہمیں ہر جا بےحیائی و عریانیت موج در موج مست خرام نظر آتی ہے۔ Boldness کو صاف گوئی و خود اعتمادی کا لبادہ پہنا کر لچرپن، ذو معنی الفاظ، اخلاق سے عاری نازیبا ترین فحش اشارے کنائے،بےادبی و بدتہذیبی کا ایک محیط سیلاب ٹھاٹھیں مارتا دکھائی دیتا ہے۔

ہر وہ چیز جو ذرائع ابلاغ سے ہم تک پہنچتی ہے چاہے وہ خبر ہو، ڈرامہ ہو کہ اشتہارات یا دستاویزی پروگرام حتی کہ موسیقی ہو سب چیزیں کسی نہ کسی نظریہ یا احساس کی حامل ہوتی ہیں۔ اگر ذرائع ابلاغ ان کی تطہیر اور تلخیص میں بے احتیاطی کرے تو نہ جانے کس کس طرح کے رویے دیکھنے والوں کی زندگی میں سرائیت کر جاتے ہیں اور اُنہیں احساس بھی نہیں ہو پاتا۔

ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے ایسے تمام مناظرقلب و روح کو تادیر جکڑے رکھتے ہیں ۔ ذہن کا بوجھل پن کرید کرید کر سوال کرتا ہے کہ ہماری شخصیت، حرکات و سکنات، شعور و خیال کن مدارج میں گردش کر رہے ہیں؟ ہمارا قبلہ و کعبہ کون سا رُخ اختیار کرگیا ہے؟ ہماری قیمتی نسلوں کو کس جانب دھکیلا جارہا ہے؟ وہ ابلیس شیطان کہ جس کا سب سے زہرخند تیر فحاشی و عریانی ہے۔ انہی زہر میں بجھے تیروں سے معصوم بچوں کے تعمیری و تخلیقی اذہان کو آلودہ و ناپاک کیا جارہا ہے۔ انہیں حیا و ایمان کے رستے سے اُچک کر ہَوا و ہَوس اور نفس کی راہوں میں ڈالا جارہا ہے۔ کیاٹی وی پروگرامات میں مدعو کئے جانے والے ایسےتمام افراد کسی طور بھی نوجوان نسل کے رول ماڈل یا آئیڈیل کہلانے کے مستحق ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   میڈیا کی زمہ داری - بشریٰ نواز

آج چہار جانب ہر ایک نوجوانوں سے شکوہ کناں نظر آتا ہے۔ والدین ہوں کہ اساتذہ، دانشور ہوں کہ مدیران ادارہ، ہر سو ایک ہی نالہ ایک ہی فغاں، ایک ہی سوال رقص کر رہا ہے کہ ہماری نوجوان نسل جو اس ملک کا سرمایہ ہے۔ وہ کس سمت جارہی ہے؟ وہ اخلاقی تنزلی اور فکری انحطاط کا افسوسناک حد تک شکار ہے۔ وہ منتشر الخیال اور کنفیوزڈ ہے۔ ڈپریشن اور عدم برداشت کا چلتا پھرتا نمونہ ہے،وہ علم و آگہی، ادب و اخلاق سے عاری و خالی ہوتی چلی جارہی ہے۔۔۔۔۔ آخر کیوں؟

میرا آپ سے یہ سوال ہے، اس ملک کے اربابِ اختیار، دانشوارانِ مملکت، مفکر ملت، سربراہان ریاست، با اختیار حلقوں، نشریاتی اداروں کے مالکان سے بہت واضح سوال ہے کہ اکیسویں صدی کی پروان چڑھتی اس نسل کی ترویج و ترقی، علمی و اخلاقی و فکری آبیاری میں آپ کا کیا، کیسا اور کتنا حصہ ہے؟ اس سوال کے جواب میں ہی آپ کے ہر شکوہ، گلہ، اشک و فغاں کا نتیجہ پوشیدہ ہے۔

الیکٹرانک میڈیا انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ایک مؤثر ترین میڈیم ہے۔ اس حقیقت سے بھلا کون انکاری ہے۔۔احتیاج ہے تو فقط اس کی درست سمت رہنمائی اور مؤثر نگرانی کی۔ باصلاحیت، مخلص اور صالح افراد کا اس شعبہ کی جانب رخ کرنا وقت کی اشد ترین ضرورت ہے۔ معیاری تفریحی پروگرامات، ادبی و تعلیمی سرگرمیوں پر مشتمل دلچسپ محافل، مختلف درس گاہوں کے طلباء کے مابین مقابلہ جات، ادیبوں، شاعروں اور معاشرے کے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے مؤثر افراد کے ہمراہ تعارفی بزم میڈیا کے اثرات کو بہت حد تک مثبت اور تعمیری رنگ دینے کا باعث بن سکتے ہیں۔

مسائل و مشکلات ہر معاشرے میں ظہور پذیر ہوا کرتے ہیں، زندہ معاشرہ وہی ہے جو بروقت مکمل حساسیت، اخلاص اور منصوبہ بندی کے تحت مناسب حکمت عملی کے ساتھ ان مسائل کے تدارک کے لیے کمر بستہ ہو جائے۔ ان شاء اللہ وہ وقت دور نہیں کہ جب یہی ذرائع ابلاغ بپھرتے ٹھاٹھیں مارتے سمندر میں موجود بادبانی کشتیوں کو لائٹ ہاؤس کی مانند روشنی فراہم کرتے نظر آئیں گے اور گم کردہ راہ اپنی منزلوں کی جانب نئے عزم کے ساتھ محوِ سفر ہوں گے ۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بہت عمدہ اور مد لل
    صالحہ نے بہت اہم مسئلہ کی طرف متوجہ کیا ہے
    اپنی نوجوان نسل کو بچانے کے لئے ہم سب کو مل کر بے لگام میڈیا کے سامنے بند باندھنے ہیں

    • سعدیہ نعمان..... بہت بہت شکریہ...
      أن شاء اللہ
      یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی

  • بہت اعلی۔۔۔
    اللہ تعالٰی ہم سب کو اس میڈیا کے ناپاک عزائم سے محفوظ رکھے ۔۔۔ آمین ثم آمین ۔۔