کس سے منصفی چاہیں؟ - صائمہ تسمیر

امت مسلمہ کا لہو رنگ خطہ 'وادیٔ اراکان ' ایک بار پھرآتش وآہن کی لپیٹ میں ہے۔ مظلوموں کی آہ وبکا زمین و آسمان کا کلیجہ چیر رہی ہے۔ روہنگیا مسلمانوں پر گویا قیامت سے قبل قیامت برپا کردی گئی ہے۔

میانمار کے صوبہ اراکان میں بسنے والے روہنگیا مسلمانوں کا شمار دنیا کی مظلوم ترین اقلیت میں ہوتا ہے،جو پچھلے 70 سالوں سے بدترین ریاستی جبر کا شکار ہیں،ان کی اپنی ہی زمین ان پر تنگ کردی گئی ہے۔ عام حالات میں بھی روہنگیا مسلمان بنیادی انسانی حقوق اور شہریت سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،نہ حصولِ تعلیم کے مواقع میسرہیں نہ ہی روزگار کے،بیماری کی صورت میں مناسب علاج کی سہولت بھی میسر نہیں۔ آزادانہ نقل وحرکت پر بھی پابندی ہے۔ وقتاََ فوقتاََ فوجی آپریشن کے نام پر مسلم نسل کشی کا آغاز کردیا جاتا ہے،گزشتہ ایک ماہ سے ظالمانہ کارروائیوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ دوبارہ جاری ہے۔ صوبہ اراکان کے ٹاؤن راتھی دونگ کے کئی علاقوں میں حکومتی فورسز نے مکمل کرفیو نافذکرکے مسلمانوں کو زندہ درگور کرنے کی مکمل تیاری کررکھی ہے،مختلف بہانوں سے مسلم آبادی پر چھاپے،املاک کی لوٹ مار،مدار س ومساجداور گھروں کونذرآتش کرنے،خو اتین کی عصمت دری،مردوں کی ظالمانہ گرفتاری اوربہیمانہ قتل کا سلسلہ اپنے عروج پر ہے۔ برمی نام نہاد جمہوری حکومت حالات سے پوری طرح باخبر ہونے کے باوجود بجائے مظلوموں کی دادرسی کے،اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔ حکومت کرفیو ختم کرنے اور حالات میں بہتری پیدا کرنے کے بجائے ملٹری، پولیس اور مقامی بدھسٹ کی مکمل پشت پناہی کر رہی ہے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق راتھی دونگ کی طرح منگڈو اور بوتھی دونگ کی بربادی کے مکمل پلان کے ساتھ ۲۴ اور ۲۵ اگست کی درمیانی شب بیک وقت کم و بیش 25 علاقوں کو گھیرے میں لیکر برمی ملٹری نے حملہ کردیا۔ راکٹ لانچر اور دیگربڑ ے ہتھیاروں کے ساتھ وہ نہتے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے۔ ماؤں بہنوں کی عزت کی حفاظت اور اپنے دین و وطن کی دفاع کی خاطر اراکان روہنگیا سیلویشن آرمی (ARSA)کے تحت چند سرفروش ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور ظالموں کادلیری سے مقابلہ کررہے ہیں۔ تاحال شدید خون ریز جھڑپ جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس جھڑپ میں ملٹری کی ایک بڑی تعداد بھی جہنم واصل ہوئی ہے البتہ دونوں جانب سے نقصانات کا صحیح تعین کرنا فی الحال مشکل نظر آتا ہے۔ (ARSA) نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کردہ بیانات میں بارہا اس بات کو واضح کیا ہے کہ ہماری جنگ ظالم برمی ملٹری اور حکومت سے ہے باقی دیگر گروہ سے ہمیں کوئی دشمنی نہیں، ہم غاصبوں سے اپناحق لینے نکلے ہیں، برمی حکومت کے لامتناہی ظلم وستم نے ہمیں مجبور کردیا ہے کہ ہم اپنے دفاع کے لیے اٹھ کھڑے ہو۔

25 اگست کی تما م صورت حال کی رپورٹنگ بی بی سی اردو نے کچھ اس طرح کی:

میانمار میں روہنگیا شدت پسندوں کا حملہ، سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 70 ہلاک

یہ خبر یکطرفہ رپورٹنگ، جانب داری اور دوہرے معیارکی زندہ مثال ہے۔ اپنے دفاع میں اٹھنے والوں کو کتنی ڈھٹائی سے شدت پسند قرار دیاگیا ہے۔ کوئی بعید نہیں کہ دہائیوں سے ظلم سہنے والوں کو دہشت گرد بھی قرار دیا جانے لگے۔ واضح رہے کہ اراکان روہنگیا سیلویشن آرمی عمل کے ردعمل میں وجود میں آئی ہے،انہیں شدت پسند اور دہشت گرد قرار دینے سے پہلے اس کا تعین کرنا ضروری ہے کہ آخر کیوں وہ اتنے مجبور کردیے گئے کہ ڈنڈے،چاقو،چھری جو بھی میسر ہوا لیکر نکل پڑے؟ تاریخ گواہ ہے کہ روہنگیا مسلمان امن پسند قوم ہے۔ عشروں پر محیط برمی فوج کے وحشیانہ مظالم کو اپنی قسمت کا لکھا سمجھ کر برداشت کرتے آئے ہیں کبھی اقدامی طور پر حملہ آور نہیں ہوئے،انہیں کس نے دفاعی قدم اٹھانے پرمجبور کیا؟ کون ہے ان حالات کا ذمہ دار ؟

اپنا دفاع کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے اسے شدت پسندی یا دہشت گردی سے تعبیر کرنا ظلم ہے۔ عالمی میڈیا اس وقت کہاں ہوتا ہے جب نہتے، بے بس اور لاچار لوگوں پر برمی ملٹری،پولیس اور بدھسٹ مل کر ظلم کے پہاڑ توڑتے ہیں ؟ ماؤں کی گود سے بچوں کو چھین کر سپرد آتش یا سمندر برد کردیا جاتاہے، مگر کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی، ماؤں بہنوں کی عزت تارتارکردی جاتی ہے،جوانوں اور بوڑھوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا جاتا ہے، ان کے آشیانوں کو نذرآتش کرکے علاقہ بدرکردیاجاتا ہے مگر نہ زمین پھٹتی ہے نہ آسمان ؟ نہ ہی ظلم ڈھانے والے دہشت گرد قرار پاتے ہیں؟ گویا بزبان حال اہل اراکان پکار رہے ہیں کہ:

بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی، منصف بھی

کسے وکیل کریں،کس سے منصفی چاہیں

Comments

صائمہ تسمیر

صائمہ تسمیر

صائمہ تسمیر کا آبائی تعلق برما کے مسلم اکثریتی صوبے اراکان سے ہے۔ ان کے آبا و اجداد نے 70ء کی دہائی میں اراکان سے کراچی ہجرت کی، جہاں آپ پیدا ہوئیں اور تعلیم حاصل کی۔ آپ کا تعلق شعبہ تدریس و طب سے ہے۔ آجکل ملائیشیا میں مقیم ہیں۔ ایک کالم نگار اور معلمہ ہیں اور اراکان کے موجودہ حالات کو دنیا تک پہنچانے کے لیے پرنٹ اور سوشل میڈیا پر فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.