نئی مردم شماری کے نتائج اور چند پرانی بحثیں - محمد زاہد صدیق مغل

مردم شماری 2017ء کے پروویژنل نتائج سامنے آنے سے جہاں کچھ دلچسپ حقائق سامنے آئے ہیں، ساتھ ہی ساتھ کچھ پرانی بحثیں پھر سے شروع ہوگئی ہیں۔ یہاں نئے اعداد و شمار کی روشنی میں کچھ پہلوؤں پر گفتگو کی جاتی ہے۔

مردم شماریوں کے مطابق پاکستان، اس کے صوبوں اور چند بڑے شہروں کی آبادی سے متعلق چند اعداد و شمار

درج بالا اعداد و شمار سے کئی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ مثلا یہ کہ شرح نمو کے حساب سے دیگر صوبوں میں آبادی کا پھیلاؤ اوسطا پنجاب سے زیادہ رہا ہے۔ کل آبادی میں شہری آبادی کے تناسب میں اضافہ ہوا۔ کراچی و لاہور کی آبادیوں کا تناسب ظاہر کرتا ہے کہ دونوں شہروں کا فرق پچھلی دو دہائیوں میں سکڑ رہا ہے، یعنی 1951ء میں کراچی کی آبادی لاہور کی آبادی سے پچیس فیصد زیادہ تھی، 1998ء میں یہ فرق 71 فیصد تھا جبکہ 2017ء میں کم ہوکر 48 فیصد رہ گیا ہے۔ چنانچہ نفوس میں اضافے کے حساب سے پچھلی دو دہائیوں میں کراچی کا پھیلاؤ (55لاکھ 77 ہزار نفوس کا اضافہ) لاہور (47 لاکھ 15 ہزار نفوس کے اضافہ) کے مقابلے میں زیادہ رہا، جبکہ شرح نمو کے حساب سےلاہور کا پھیلاؤ کراچی کے مقابلے میں زیادہ رہا۔

کراچی کی آبادی پر اشکال اور وضاحت
کراچی والے بھائیوں کو لگتا ہے کہ مردم شماری میں جان بوجھ کر کراچی شہر کی آبادی کم دکھائی گئی ہے اور اس کی وجہ ملکی وسائل میں کراچی کا حصہ کم جبکہ لاہور کا حصہ زیادہ رکھنا ہے۔ مگر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ کراچی کی آبادی لاہور کے مقابلے میں کم دکھانے سے کراچی کو کیا نقصان ہوسکتا ہے؟ وسائل کی تقسیم تو صوبائی سطح پر ہوتی ہے نہ کہ شہروں کی سطح پر۔ ایک مرتبہ جب وسائل صوبے کو مل گئے تو اس کے بعد صوبے نے اسے کیسے تقسیم کرنا ہے؟ یہ اس کا اندرونی معاملہ ہے، وفاق اس میں کیسے مداخلت کرسکتا ہے، خصوصا 18ویں ترمیم کے بعد؟ اگر کسی چھوٹے صوبے کے خلاف سازش کرنا مقصود تھا تو پنجاب کی آبادی ملکی آبادی میں نسبتا کم کیسے ہوگئی؟ وسائل کی تقسیم کے لحاظ سے پنجاب اور نتیجتا لاہور کو فائدہ تو تب ہوتا کہ اگر پنجاب کی آبادی کا تناسب بڑھ جاتا۔ نیز وسائل کو آبادی کے لحاظ سے تقسیم کرنے کا اصول کہاں روا رکھا جاتا ہے؟ مثلا لاہور پر خرچ ہونے والا پنجاب کا بجٹ اس کی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں سندھ میں کراچی کے معاملے میں شاید برعکس صورت حال ہے۔ مگر یہ تو ہر صوبائی حکومت کی اپنی داخلی ترجیح ہے کہ اس نے بجٹ کہاں خرچ کرنا ہے، اس میں وفاق کو سازش کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

کراچی کے بعض احباب کا گلہ ہے کہ بھلا کراچی کے لانڈھی کے برابر ایک شہر (لاہور) میں اتنی آبادی کیسے ہوسکتی ہے؟ اس قسم کی طنزیہ باتیں حقیقت حال سے ناواقفیت کی علامت کے سوا اور کچھ نہیں۔ لاہور کو چھوٹا سمجھنے والے احباب کسی غلط فہمی کا شکار نہ رہیں۔ اس شہر میں 27 کلومیٹر طویل میٹرو بس سروس چل رہی ہے جبکہ 27 ہی کلومیٹر طویل اورنج ٹرین بھی زیر تعمیر ہے، جو میٹرو بس کو شاید صرف ایک مقام پر کراس کرے گی۔ دھیان رہے، یہ دونوں مل کر بھی شاید لاہور کے نصف علاقوں کا احاطہ کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک خط - ڈاکٹر صفدر محمود

کراچی کا اصل مسئلہ دو جہتی (two layered) سیاست کا شکار رہنا ہے۔ یعنی جو پارٹی صوبہ سندھ میں عموما حکومت بناتی ہے اسے کراچی شہر سے ووٹ ملنے کی امید نہیں ہوتی، لہذا وہ اسے توجہ نہیں دیتی۔ اور جو پارٹی کراچی سے ووٹ لیتی ہے، وہ صوبے میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں آپاتی۔ اس کے برعکس عین یہی چیز لاہور کے حق میں جاتی ہے۔

پھر آبادی کی گنتی کو سمجھنے کے لیے دو باتیں مد نظر رکھنا ضروری ہیں:
- بڑے شہروں میں رہنے والے سب لوگ اپنا اندراج اس شہر میں نہیں کرواتے، بہت سے لوگ اپنا اندراج آبائی علاقوں میں کرواتے ہیں۔ ظاہر ہے مردم شماری والے ہر گھر میں داخل ہوکر افراد کی "فزیکل گنتی" تو نہیں کرتے، اور نہ ہی یہ ممکن ہے۔ یہ چیز صرف کراچی کے ساتھ نہیں بلکہ ہر بڑے شہر کے ساتھ ہے کہ کام کاج کرنے آئے ہوئے بہت سے لوگوں کا اندراج آبائی علاقوں میں ہوجاتا ہے۔ اسلام آباد ایسے بلیو کالر ورکرز سے بھرا پڑا ہے جن کی فیملی کسی آبائی علاقے میں ہے اور وہ یہاں کام کے لیے رہائش رکھے ہوئے ہیں، اور عید وغیرہ کے موقع پر یہاں کلیتا دکھائی نہیں دیتے۔ چند سال قبل تک اسلام آباد میں عید کے دنوں میں بالکل سناٹا چھا جاتا تھا گویا سارا شہر خالی ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہر میں رہنے والے ہر شخص کا رہائشی شہر میں ووٹ نہیں ہوتا.

- دوسری بات یہ کہ شہر سے مراد وہ قانونی علاقہ ہوتا ہے جو کسی سرکاری ریگولیٹری یا انتظامی اتھارٹی وغیرہ کے تحت آتا ہو۔ یہ جو شہروں کے ارد گرد غیر قانونی کچی آبادیاں بن جاتی ہیں تو انہیں شہر کی آبادی میں شامل نہیں کیا جاتا۔ اسلام آباد میں آئی 12 سیکٹر افغان آبادی سے بھرا ہوا ہے، مگر یہ اسلام آباد کے رہائشی تو شمار نہیں ہوتے۔

اس اعتراض کو پنجاب بمقابلہ دیگر صوبوں کی آبادی کے تناسب کی روشنی میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ چنانچہ:
- 1951ء کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی سندھ سے 3.4 گنا زیادہ تھی اور یہ تناسب 2017ء میں کم ہوکر2.3 گنا رہ گیا.
- 1951ء کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی خیبر پختون خواہ سے 4.5 گنا زیادہ تھی اور یہ تناسب 2017ء میں کم ہوکر3.6 گنا رہ گیا.
- 1951ء کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی بلوچستان سے 17.6 گنا زیادہ تھی اور یہ تناسب 2017ء میں کم ہوکر 8.9 گنا رہ گیا.
- 1951ء کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی پاکستان کی کل آبادی کا 60 فیصد تھی جو بدستور کم ہوتے ہوتے 2017ء میں 53 فیصد رہ گئی۔
تو گویا اب یہ سمجھا جائے کہ وسائل اور اسمبلی میں پنجاب کا حصہ کم رکھنے کے لیے اس کے خلاف مسلسل سازش ہو رہی ہے!

یہ بھی پڑھیں:   ایک کشمیری والد کا سکول میں داخلہ کے منتظر ننھے بیٹے کے نام خط - ابو لقمان

کچھ وفاقی دارالحکومت کے بارے میں
اسلام آباد میں آبادی کا پھیلاؤ تیز ہو رہا ہے اور اس کی وجہ یہاں آبادی کو سمو سکنے کا فی الوقت موجود پوٹینشل اور بدرجہا بہتر کوالٹی آف لائف ہے۔ دھیان رہے، اسلام آباد کے پانچ پلانڈ زونز ہیں جن میں سے ایک زون تقریبا مکمل آباد جبکہ دیگر دو زونز میں آبادی آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔ یہ بات اس لیے یاد دلائی کیونکہ اکثر لوگ بس چند نامی گرامی سیکٹرز (ایف، جی، آئی وغیرہ) ہی کو کل اسلام آباد سمجھتے ہیں جبکہ یہ صرف اس کا ایک زون ہے۔ پنڈی و اسلام آباد کی آبادی کل ملا کر 30 لاکھ ہوچکی ہے۔ ملک کے معاشی و معاشرتی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آبادی میں یہ اضافہ قرین قیاس ہے کیونکہ کراچی و لاہور کے بعد راول پنڈی اسلام آباد ہی تعلیم اور روزگار کے بڑے مراکز ہیں، اور اسی لیے لوگ پنجاب بھر سے اور خیبرپختونخوا سے ان شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ صرف یہیں سے نہیں بلکہ بہت سی فیملیز کراچی کے حالات اور اس کی living کنڈیشنز کی وجہ سے لاہور، راولپنڈی اور بالخصوص اسلام آباد شفٹ ہوئیں۔

کچھ عرصہ قبل تک سی ڈی اے کا قانون تھا کہ ایک پلاٹ پر تعمیر کیے جانے والے گھر میں اوپری منزل پر صرف 60 فیصد علاقے کو کور کیا جاسکتا ہے جبکہ باقی کو ٹیرس چھوڑنا ہوگا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بڑے بڑے پلاٹس پر بھی ون یونٹ گھر ہی بنا کرتے تھے اور آبادی کی گنجانی کم تھی۔ جب سے سی ڈی اے نے قانون تبدیل کرکے دو مکمل یونٹس بنانے کی اجازت دی ہے، تب سے چھوٹے سے چھوٹے پلاٹ (چار مرلے یعنی 100 گز) پر بھی دو یونٹس بنا کر کرائے پر دے دیے گئے ہیں جس سے آبادی کی گنجانی بڑھ گئی ہے اور نتیجتا نئے سیکٹرز میں گرمیوں کے دنوں میں پانی کے بے تحاشا مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ اسلام آباد کو پانی سپلائی کرنے کے لیے نئے ریزر وائرز بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

پاکستان میں آبادی کے پھیلاؤ کو مینیج کرنے کا نظام کس قدر ناقص رہا ہے، اس کا اندازہ اس امر سے لگائیے کہ کراچی شہر سے نکلنے کے بعد کسی معقول و معیاری اعلی تعلیمی سینٹر تک رسائی حاصل کرنے کے لئے آپ کو لگ بھگ بارہ سو کلومیٹر سفر طے کرکے لاہور آنا ہوگا! پچھلے ستر سالوں میں ہم صرف ایک حقیقی آپشن پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور وہ ہے اسلام آباد، وہ بھی لاہور سے 300 کلو میٹر دور واقع ہے، جس سے اب خیبر پختونخوا اور پنجاب کے لوگ خاطر خواہ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور نتیجتا کراچی کی طرف ہجرت کا رجحان کم ہوا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس طرف توجہ دی جائے۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.