اللہ کا فضل ہے - صادق رضا مصباحی

ایک دولت مند تاجر نے اپنے خزانے کے دروازے پر لکھوایا ہذا من فضل ربی۔ چور آیا اور سارا خزانہ لوٹ کر لے گیا مگر جاتے جاتے اسی جگہ یہ بھی لکھ گیا ان اللہ مع الصابرین

یہ لطیفہ آپ نے ہزاروں بار سنا اور پڑھا ہوگا مگر اس لطیفے میں ایک بہت بڑا سبق پنہاں ہے اور ایک بہت بڑی عبرت، بس تیسری آنکھ کھلی رکھنی ضروری ہے۔ ہم جھوٹ اورظلم پرکھڑے ہو کر دولت کماتے ہیں اور پھر اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے نہیں تھکتے۔ ہم جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے میں طاق ہیں اور منافقت اور چاپلوسی کرنے میں ماہر، مگر پھر بھی ہم ''مذہب'' سے اپنے گہرے لگاؤ کے دعوی دار ہیں۔ چوری، فریب کاری اوردھوکہ دہی سے کمائی ہوئی دولت کو ہم ''اللہ کے فضل'' سے منسوب کردیتے ہیں اور دوسرے کے سامنے اس کا فخریہ طور پر اظہار بھی کرتے ہیں۔ ایساکرتے ہوئے ہم پر ایک لمحے کے لیے بھی خوف خدا طاری نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ احساس کہ اللہ نے اپنی رسی ڈھیلی کردی ہے اور وہ ہم کو آزما رہاہے۔

ترقی اور کامیابی کے حصول کے لیے سرپٹ دوڑنے والے ہم جیسے لوگوں کو اس طرح کی باتیں سوچنےکی فرصت ہی کہاں ہے؟ لیکن یہا ں ایک بات بالکل طے ہے کہ مادّیت کی کیچڑ میں گلے گلے تک ڈوبے ہونے کے باوجود آج بھی ہمارے معاشرے میں للہیت اور اخلاص کی بوباس باقی ہے۔ اس سے اندازہ لگتا ہے کہ اللہ کے فضل سے ہماری مذہبی جڑیں ابھی تک صحیح سالم حالت میں ہیں، یہ الگ بات ہے کہ وہ انہدام کی شکار ہیں اور ہم انحطاط کے اسیر، مگر آج بھی ہم کہیں نہ کہیں مذہبی ہیں گوکہ یہ مذہبیت شعور سے خالی ہے، بے جان ہے، بے روح ہے، کھوکھلی ہےاور روایت کےدھاگے میں بندھی ہوئی ہمارے ہاتھوں میں آپہنچی ہے۔

روایت اور اقدار کی ایک بڑی اور سامنے کی مثال یہی ہے جس کا تذکرہ اوپر ہوچکا ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ کے فضل سے کسے انکار ہوسکتا ہے مگر کیا اللہ کا فضل ایسی دولت پر بھی ہو سکتا ہے جو دو نمبر ذرائع سے کمائی گئی ہو اور بھائیوں، رشتے داروں اور کمزوروں کا حق مار کرکے حاصل کی گئی ہو؟ ہماری بہت زیادہ شہرت ہوجائےاور ہمارے تعلقات بڑے بڑے لوگوں سے ہوجائیں اگرچہ یہ تعلقات چاپلوسی اورابن الوقتی پرمنحصر ہوں مگر اس میں بھی ہمیں ''اللہ کا فضل'' نظر آتا ہے اور بڑے ''فخریہ'' طور پر نظر آتا ہے۔

اس کے برخلاف وہ لوگ جو صحیح معنوں میں اللہ کے بندے ہیں، مخلص ہیں، کھرے ہیں، نکھرے ہیں، سچے اور پکے مسلمان ہیں، عام طور پر ایسے حضرات دولت اور شہرت و عظمت کی بلندیوں پر نہیں جا پاتے کیونکہ ان کے پاس وہ ''ہنر'' اور ''صلاحیت'' نہیں ہوتی جو دولت مندوں کے پاس ہوتی ہے۔

یہاں سوال یہ ہے کہ ''اللہ کا فضل ہے'' کے مصداق دولت مند، شہرت کے حریص اور عظمت کے لالچی ہیں یا اچھے اور سچے لوگ ہیں؟ اس کاجواب بالکل بدیہی ہے مگر یہ کیسی اندھیر نگری چوپٹ راج ہے کہ ہم اللہ کے فضل کا مستحق دولت مندوں اور مشہور لوگوں کوسمجھتے ہیں اور ان کی طرف منہ کرکے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجانے میں فخر بھی محسوس کرتے ہیں؟ لاحول ولاقوۃ۔

ہمارے معاشرے کی مذہبیت چوں کہ اس قدر کند ہو چکی ہے کہ اسے اللہ کا فضل دولت مندوں اورشہرت و عظمت کے حریصوں میں نظر آتا ہے، اسی لیے قدریں بدل چکی ہیں اور اسی تبدیلی کانتیجہ ہے کہ ''اچھے'' آدمی پر ہمیں اللہ کا فضل نظرنہیں آتا، ''بڑے'' میں نظر آتا ہے۔ دولت اور شہرت بالعموم ہمیں برائیوں کی طرف لے جاتی ہے، اس اعتبارسے دیکھا جائے تو اللہ کا فضل درحقیقت ایسے سچے اور کھرے لوگوں پر ہے جو اللہ کے مخلص بندے ہیں، جو رزق حلال کماتے ہیں، جو اپنے اہل خانہ اور پڑوسیوں کا حسب بساط خیال رکھتے ہیں اور جو کبھی بھی غیر قانونی، غیر شرعی اور غیر فطری کام نہیں کرتے مگر ہمارے معاشرے میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے اور ہم اس ''گنگا'' میں ''ہاتھ دھونے'' کو ہی سب سے بڑا کمال، سب سے بڑی عظمت اور ''اللہ کا فضل'' سمجھتے ہیں اور جھوٹوں، مکاروں، دغا بازوں، فریبیوں، کور باطنوں اورستم گروں کو اللہ کے فضل کا مستحق گردانتے ہیں۔

معاشرے کے اس ''مذہبی'' منظرنامے میں اب ہمارے کرنے کام یہ ہے کہ ہم اپنے عوام کی فکری اصلاح کریں اور انہیں بتائیں کہ اللہ کے فضل کا مطلب کیا ہوتا ہے اور اس کا حقیقی اطلاق کن لوگوں پر ہوتا ہے؟ یہ بھی بتاناچاہیے کہ دور حاضر الفاظ کی توہین کازمانہ ہے، الفاظ کی ذلت کازمانہ ہے اور الفاظ کے اغوا کا زمانہ ہے، اس لیے لمبے چوڑے دعووں، لحیم وشحیم وعدوں اور بھاری بھرکم لفظوں سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

ٹیگز