یہ بابے کچھ نہیں کرنے دیں گے - زبیر منصوری

"ابے یار یہ بابے ہمیں کچھ نہیں کرنے دیں گے، ہر بات میں پنگا، یہ غلط وہ غلط،
یار ان کو کون سمجھائے؟ آپ اب پرانے وقتوں کے ہوگئے بھئی! اب نیا زمانہ نئے حالات ہیں، معاف کردو ہمیں کچھ کرنے دو۔"
وہ دونوں نوجوان غصہ میں بھرے بیٹھے تھے.

میں ان کی گفتگو سن کر قریب چلا گیا، ایک کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ساتھ بیٹھ گیا.
اس نے مڑ کر دیکھا اور بولا
"ارے زبیر بھائی آپ؟
آئیں نا بیٹھیں.''
میں نے کہا، بیٹا! بیٹھ تو چکا ہوں، اب پوچھنا ہی ہے تو چائے وائے پوچھو.
ارے کیوں نہیں؟ آپ کے لیے سب حاضر.
میں نے پوچھا، کیا چل رہا ہے؟
وہ بولا، بس ایک یوتھ ایونٹ کی تیاری ہے، بھائی آپ بھی ٹائم دیں نا؟
میں نے مسکرا کر بازو اس کی گردن کے گرد حمائل کرتے ہوئے کہا،
تمھارے لیے ٹائم ہی ٹائم پیارے، اپنے پاس تو کوئی اور دھندہ ہی نہیں، سب کچھ فی سبیل اللہ تمھارے لیے حاضر.
وہ بولا بھائی یہ سارے بڑے آپ جیسے کیوں نہیں ہو جاتے؟
میں نے فورا کہا
توبہ کرو، اللہ نہ کرے ہمارے جیسے ہوں.
ارے نہیں بھائی! آپ اتنے اچھے ہیں.
میں نے کہا، پیارے یہ بس سب ایسے ہی ہے، نہ علم نہ تقوی، کچھ بھی تو نہیں ہم جیسوں کے پاس.
دوسرا بولا
بھائی ہم ان بابوں سے تنگ ہیں، یار بہت مسئلہ کرتے ہیں.
میں سنجیدہ ہو گیا، ہاتھ اس کی گردن کے گرد سے ہٹایا اور سیدھا ہوکر خاموش بیٹھ گیا.

وہ بولا، سوری بھائی! اگر کچھ غلط بول دیا.
اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا، میں نے شفقت سے دوسرے ہاتھ سے اس کا ہاتھ تھاما اور کہا
میرے بچے!
یہ بزرگ وہ لوگ ہیں جن کی کالی داڑھیاں اس راہ میں سفید ہو گئیں، ان کے قدم اس راہ میں گرد آلود ہوئے، انھوں نے دہائیوں اس کام کے لیے طعنے سنے، اپنے وقت، توانائی، صلاحیت کا بڑا حصہ یہاں کھپا دیا، مشکلات سہیں، اس راہ کے شہیدوں کو کندھےدیے، دکھ سہے،گھاٹیاں عبور کیں، شکستوں کے درد سہے، اپنوں اور پرائیوں سے دھوکے کھائے، مگر یہ چلتے رہے، انہوں نے امانتیں سنبھالیں، ذمہ داریاں نبھائیں، آج جب اس کٹھن راہ میں ان کے بال سفید ہوگئے، ان کی توانائیں کم پڑ گئیں، انھیں کمزوری نے آ لیا تو کالے بالوں والے نو واردوں کی نظر میں یہ بوجھ ٹھہرے؟ بے کار بابے قرار پائے؟

یہ بھی پڑھیں:   خدارا سٹریٹ کرائم کو روکیے - راجہ احسان

میں نے بھیگی پلکوں کے ساتھ اس کی طرف دیکھا، اس کی خوبصورت سیاہ داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور کہا
میرے بچے!
یہ بزرگ اللہ سے اپنا عہد پورا کر چکے، اب اختتام پر ہیں، مگر تمھیں ابھی اس نظریے کے ساتھ اپنی وفاداری زندگی کے آخری لمحے تک ثابت کرنی باقی ہے اور شیطان بڑا شاطر اور چال باز ہے.
میرے پیارے!
بزرگ غلط ہو سکتے ہیں، ان کے مزاج کی سختی مسئلہ بن سکتی ہے، وہ ناکامی کا شکار ہو سکتے ہیں، ان میں سے کسی سے معاملات کی خرابی کی توقع کی جا سکتی ہے مگر یاد رکھنا! اللہ نیت کے اخلاص پر فیصلہ کرے گا اور مجھے یقین ہے ان کی اکثریت کو یہ حاصل ہے۔

میں نے ان نوجوانوں کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو ان کی نظریں
جھکی ہوئی بھی تھیں
اور
بھیگی ہوئی بھی۔

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.