سیدنا صدیق اور فرنگن ڈاکٹر: محمد مبین امجد

اب وعدے کے مطابق میں الیاس کے گھر تھا...
میں نے ورنیکلر فائنل کا امتحان پاس کیا تو شومئی قسمت سے سرکاری مدرس کی نوکری مل گئی. پہلے میں ایک دور دراز کے دیہات میں تعینات رہا. پھر کچھ ہی عرصے بعد تعلیم کے محکمے میں ایک کلرک کی ہمشیرہ سے میری شادی ہوگئی. جس کی کوششوں سے جلد ہی میری اس قصبے میں تعیناتی ہو گئی. یہاں اس قصبے کے بڑے سکول میں آس پاس کے کئی دیہاتوں سے لڑکے پڑھنے آتے تھے.
الیاس بھی ایک پاس کے گاؤں سے آنیوالا لڑکا تھا جو پڑھائی میں بہت اچھا تھا. ہاں ایک بار وہ فیل ہوا تو اس کے سخت طبیعت باپ مولوی محمد بخش نے اسے مار مار کر کھنہ سجا دیا تھا. اس کے بعد سے وہ ہر جماعت میں اول آتا تھا.وہ میرا بہت اچھا شاگرد تھا اور مجھے کافی دنوں سے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ انجانی کشمکش میں ہے.. میں اس سے پوچھنا چاہتا تھا مگر جانےکیوں میں پوچھ نہ پایا.مگر آج جب اس نے خود ہی بتایا تو ...
میں پریشان ہو گیا
***
اس نے بتایا منشی جی میری اماں کو ایک عجیب مرض ہو گیا ہے اور روزانہ ایک فرنگن ہمارے گھر آتی ہے جو اماں کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتی ہے تاکہ اس کا علاج کرے اور اس کی دیکھ بھال کرے.. پر ابا نئیں مانتا وہ اس فرنگن کو اونچی اونچی گالیاں نکالتا ہے اور اماں کو مار پیٹ بھی کرتا ہے. کہتا میں خود اپنے دم سے تمہارا علاج کروں گا.. مگر اس فرنگن کو تجھے اپنے ساتھ نہیں لے جانے دوں گا ہرگز نہیں.. وہ کافر ہے جو تمہارے ایمان کے پیچھے پڑی ہے.
منشی جی اس بات پہ ہمارے گھر روز لڑائی ہوتی ہے. میری ماں کی حالت دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے اور اب تو اس کے جسم سے بدبو بھی آنے لگی ہے. میرا گھر میں اور پڑھائی میں جی نہیں لگتا سوچتا ہوں چاچے دتے کے گیراج میں کام پہ لگ جاؤں تاکہ پیسے کما کر اماں کا دوا دارو کر سکوں.
منشی جی آپ ہی ابا کو سمجھاؤ نا... کہ وہ اماں کے علاج پہ راضی ہو جائے اور اسے اس فرنگن کے ہمراہ جانے دے کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ ایسے مریض کو عام انسانوں کے ساتھ نہیں رہنا چاہیے کیونکہ یہ بیماری ایک سے دوسرے کو لگتی ہے.
منشی جی آپ ہمارے گھر آکر ابا کو سمجھاؤ نا...
میں نے اس کے گھر جانے کا وعدہ کر لیا.
***
شام کو میں الیاس کے گھر جانے کیلیے نکلا...
الیاس کا گھر ایک تنگ و تاریک گلی کے آخر پہ تھا. پوری گلی میں گٹر ابلنے کی وجہ سے بدبو کے بھبھوکے اٹھ رہے تھے اور میں میونسپلٹی کے پیلے بلب کی ملگجی روشنی میں گٹر کی تیرتی ہوئی گندگی سے پاؤں بچاتا ہوا الیاس کے مکان کے سامنے تھا.
اس مکان کی ڈیوڑھی میں محرابی دروازہ تھا. اندر اندھیرا تھا. میں ذرا آگے بڑھا اور میری آنکھیں اندھیرے سے آشنا ہوئیں تو میں نے دیکھا کہ آگے مولوی صاحب کی بھوری بندھی ہوئی تھی. اور اس کے ساتھ ہی مکان کا دروازہ ایستادہ تھا. میں نے ہلکی سی دستک دی اور چند ثانیوں بعد الیاس کے ابے نے دروازہ کھول دیا.
میں اب وعدے کے مطابق الیاس کے گھر تھا اور الیاس کا ابا مولوی محمد بخش میرے سامنے بیٹھا تھا...
***
الیاس کا ابا محمد بخش ایک مسجد میں پیش امام تھا اور اس کی دنیاوی تعلیم بس واجبی سی تھی جبکہ دینی تعلیم اس نے ایک بڑے مشہور مدرسے سے حاصل کی تھی. طبیعت کا وہ انتہائی سخت تھا اور بات بات پہ لوگوں کو سخت سست کہنے سے بھی دریغ نہیں کرتا تھا.
اس کی گذر بسر نذرانوں پر تھی. گوکہ مسجد میں بجلی آچکی تھی مگر مولوی صاحب نے ابھی تک مسجد میں تیل والے پیپے رکھ چھوڑے تھے جس میں ہر جمعرات کی جمعرات لوگ تیل ڈال جاتے تھے جسے بیچ کر مولوی صاحب کو اچھی خاصی آمدنی ہوجاتی تھی. اس کے علاوہ ہر جمعرات کو گاؤں کے ہر گھر سے روٹیاں بھی آجاتیں جنہیں مولوی صاحب جمع کر لیتے اور پھر اپنی بھوری کو ہفتہ بھر کھلاتے رہتے.
الیاس مولوی صاحب کی اکلوتی نرینہ اولاد تھی جبکہ اس کے علاوہ کوئی نصف درجن کے قریب بچیاں بھی تھیں جو نرینہ اولاد کی چاہ میں یکے بعد دیگرے مولوی صاحب کے آنگن میں اتری تھیں.
***
الیاس کا ابا میرے سامنے بیٹھا تھا اور مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ بات کیسے شروع کروں..؟
خاموشی کے لمبے وقفے کے بعد میں نے گلا کھنکھار کر بات شروع کر ہی دی.
میں: الیاس نے بتایا تھا کہ اس کی والدہ بیمار ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی پڑھائی پہ توجہ نہیں دے پا رہا.
مولوی صاحب: ارے نہیں ماسٹر جی بس معمولی بخار ہے اور عورتوں کو تو بس بہانہ چاہیے ہوتا ہے لم لیٹ ہو کر ہائے ہائے کرنے کا..
میں: مگر مولوی صاحب بخار معمولی ہی کیوں نہ ہو دوا دارو تو کرنا پڑتا ہے نا.
مولوی صاحب: ارے صاحب جانے دیجیے .. صبح شام دم کرتا ہوں جس سے جلد ہی بھلی چنگی ہوجائے گی.
مجھے پتہ چل گیا کہ اس طرح مولوی صاحب شاید سمجھ نہیں رہے تو میں نے دو ٹوک بات کرنے کا سوچا.
میں: سنا ہے آپ کے ہاں ایک ڈاکٹر آتی ہے جو الیاس کی اماں کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتی ہے تاکہ اس کا علاج کرسکے. اور وہ تو یہ بھی کہتی ہے کہ ایسے مریض کو عام انسانوں کے ساتھ نہیں رکھنا چاہیے اس سے بیماری پھیلتی ہے.
مولوی صاحب: ارے وہ فرنگن ڈاکٹر نہیں ڈاکو ہے جو علاج کی آڑ میں نیک بخت کا ایمان لوٹنا چاہتی ہے.
غرض کافی لمبی چوڑی بحث کے بعد بھی وہ مولوی صاحب تو نہ مانے مگر میں نے انہیں اگلے دن اپنے ساتھ اس فرنگن ڈاکٹر کے ہسپتال جانے پہ راضی کر لیا. تاکہ وہ وہاں اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں کہ وہ فرنگن کسی کو اس کے ایمان کے خلاف نہیں کرتی.
***
اگلے دن ہم وہاں پہنچے تو ہمیں مریضوں کی وارڈ میں جانے کی اجازت تو نہ ملی مگر ایک آراستہ کمرے میں لے جایا گیا. وہاں ہم دونوں ہی تھے ابھی وہ فرنگن ڈاکٹر راؤنڈ پہ تھی. چند لمحے گذرے تو میری نظر ایک پوسٹر پہ پڑی...
میں نے وہ پوسٹر مولوی صاحب کو دکھایا تو وہ حیران رہ گئے اور کہنے لگے چلو چلیں. ہم گوکہ اس فرنگن ڈاکٹر کو ملے بغیر ہی اٹھ آئے تھے مگر میں نے مولوی صاحب کے چہرے پہ ایک بالکل مختلف تاثرات دیکھے.. ابھی ہم نے تھوڑا ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ وہ بولے ماسٹر جی میں اس فرنگن ڈاکٹر کو کہوں گا کہ وہ الیاس کی اماں کو لے جائے اور اس کا علاج کرے. جانتے ہیں اس پوسٹر پہ کیا لکھا تھا ..؟
***
اس پہ لکھا تھا...
تب کوڑھی نے آپ کے ہاتھوں کی سختی محسوس کی اور پوچھا:
آج صدیق رضی اللہ عنہ نہیں آئے..؟
امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
صدیق رضی اللہ عنہ وفات پاگئے, مگر یہ تم کو کیسے معلوم ہوا کہ وہ آج نہیں آئے..؟
کوڑھی نے کہا وہ مجھے اپنے ہونٹوں سے کھانا کھلاتے تھے اور مجھے تکلیف نہیں ہونے دیتے تھے.
اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے.

Comments

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ مختلف اخبارات میں ہفتہ وار کالم اور فیچر لکھتے ہیں۔اسلامی و معاشرتی موضوعات میں خاص دلچسپی ہے۔ کہانی و افسانہ نگاری کا شوق رکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.